مذہبی مضامین

لقمان حکیم

 ویسے تو اس دار فانی میں بے شمار لوگوں نے آنکھیں کھولیں  لیکن صرف انگشت شمار افراد ہی امر رہے ہیں ۔ جن میں جنا ب لقمان کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ آپ کون تھے اور کس زمانہ میں زندگی بسر کی ہے۔اس سلسلے میں  اصحاب سیرا ور علمائے سیر نے اختلاف نظر کیا ہے۔

صاحب روح المعانی نے لکھاہے کہ آپ جناب ایوب کی بہن کے بیٹے تھے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کی خالہ کے بیٹے تھے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ آزر کی اولاد میں  سے تھے۔ آپ کے والد کانام ’’باعوراء اور عنقا ‘‘لکھاگیاہے۔ آپ ایک ہزار سال تک زندہ رہے۔ حضرت دائود کازمانہ پایااور ان سے علم بھی حاصل کیا۔واقدی سے نقل ہے کہ آپ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد مصطفی کے درمیانی زمانہ گزرے۔ (تفسیر انوار البیان، محقق، محمد عاشق الٰہی جلد4 صفحہ 338طبع دارالاشاعت اردو بازار، ایم اے جناح روڈ، کراچی پاکستان )

  ذیشان حیدر جواد ی نے اپنے قرآن حاشیہ میں تحریر کرتے ہیں  کہ آپ حضرت ابراہیم کے بھائی کے پوتے، حضرت ایوب کے بھانجے تھے اور حضرت یونس کے زمانہ تک زندہ رہے۔ (انوارالقرآن صفحہ ۸۵۶ناشر انصاریان پبلیکیشنز، قم، ایران)

 بعض لوگوں  نے آپ کا سلسلہ نسب انبیاء سے ملایاہیکہ آپ حضرت حضرت ابراہیم کے بھائی راخورابن تارخ کے پوتے اور جناب ایوب کے بھانجے تھے۔ (سورہ لقمان حاشیہ فرمان علی )

 آپ کا وطن

 بعض تواریخ میں ہے کہ آپ مصر اورسوڈان کے لوگوں  میں سیاہ رنگ کے غلام تھے۔ باوجودیکہ ان کا چہرہ خوبصورت نہیں تھا لیکن روشن د ل اور مصفا روح کے مالک تھے۔ (تفسیر نمونہ زیر نظر آیۃ۔۔۔ناصر مکارم شیرازی جلد ۹صفحہ 431ناشر مصباح القرآن ٹرسٹ )

 بعض حضرات نے انہیں  قوم عاد اورثمود کی ایک فرداور یمن کا بادشاہ قرار دیاہے۔ مگر جو کچھ فریقین کی زیادہ تر روایات سے ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ حبشہ کے رہنے والے ایک سیاہ فام غلام تھے جو بعد میں  آزاد کردئے گئے تھے اور جناب دائود کے ہم عصرتھے۔ ان کا وطن ’’نوبہ‘‘تھاجو کہ مصر کے جنوب اور سوڈان کے شمال کے واقع ہے مگر مدین وار یلہ (موجودہ نام عقبہ )میں  رہتے تھے۔(تفسیر فیضان الرحمٰن مفسر الشیخ محمد حسین نجفی جلد7صفحہ 331طبع ثناء پریس سر گودھا)

 تاریخ قدیم میں  لقمان نام کی ایک اور شخصیت کا پتہ چلتا ہے جو عاد ثانی (قوم ثمود )میں  ایک نیک بادشاہ ہوکر گزراہے اورخالص عرب نژاد ہے۔ابن جریر، ابن کثیر اور سیہلی جیسے مورخین کی رائے یہ ہے کہ مشہور لقمان افریقی النسل تھااور عرب میں  ایک غلام کی حیثت سے آیاتھا۔ چنانچہ یہ لوگ ان کے نسب نامہ کویوں بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ سوڈان کے ’’نوبی ‘‘قبیلہ سے تھااور پستہ قد، بھاری بدن اورسیاہ رنگ تھا۔ہونٹ موٹے، ہاتھ اورپیر بھدے تھے۔ مگر نہایت نیک، عابدو زاہد، صاحب حکمت اور داناتھا۔ اللہ نے اس کو حکمت سے حصہ وافر عطاکیاتھا۔اور بعض یہ بھی کہتے ہیں  کہ وہ حضرت دائود کے زمانہ میں عہدہ قضاوت پر مامور ہوگیاتھا۔(قصص القرآن، تالیف محمد حفظ الرحمان، جلد ۳اور۴ صفحہ ۳۶طبع دارالاشاعت اردو بازار، ایم اے جناح روڈ، کراچی پاکستان)

آ پ کاشغل

آپ کے شغل کے سلسلے میں متعدد اقوال ہیں جنہیں  مندرجہ ذیل پیش کیاجارہا ہے۔

(1)آپ نجار تھے یعنی بڑھی گیری کا کام کرتے تھے۔

(2)گدے اورتکیہ بناتے تھے۔

(3)درزی کاکام کرتے تھے۔

(4)بکریاں  چرایا کرتے تھے۔ (تفسیر انوار البیان، محقق، محمد عاشق الٰہی جلد4 صفحہ 338طبع دارالاشاعت اردو بازار، ایم اے جناح روڈ، کراچی پاکستان )

ابن عباس فرماتے ہیں کہ آپ حبشی غلام تھے اورنجاری کاپیشہ کرتے تھے۔(قصص القرآن، تالیف محمد حفظ الرحمان، جلد 3 اور4 صفحہ37طبع دارالاشاعت اردو بازار، ایم اے جناح روڈ، کراچی پاکستان)

لفظ حکمت کی وضاحت

حکمت کالفظ قرآن مجید میں  متعدد معانی کے لئے استعمال ہواہے جیسے علم، عقل،حلم و بردباری، نبوت اور اصابت رائے۔ابوحیان کاقول ہے کہ حکمت سے مراد وہ کلام ہے جس سے لوگ نصیحت حاصل کریں اور ان کے دلوں  پر مو ثر بھی ہو اور جس کو لوگ محظوظ ہوکر دوسروں  تک پہونچائیں ۔ابن عباس نے فرمایا:حکمت سے مراد عقل و فہم اور ذہانت ہے۔بعض دیگر حضرات نے فرمایا:علم کے مطابق عمل کرناحکمت ہے۔ (معارف القرآن، مفتی محمد شفیع جلد 7  صفحہ 35  تا 34 طبع ادارۃ المعارف، کراچی، پاکستان )

نوٹ :ترجمہ کی تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ یہ روایت تفسیر انوارالبیان میں بھی موجود ہے اور ذہانت کے لفظ کی جگہ سمجھداری کا استعمال ہواہے۔علامہ راغب اصفہانی نے روح المعانی میں تحریر کیاہے کہ اس سے مراد موجودات کی معرفت اور اچھے کام کرناہے۔ رازی نے کہاکہ علم کے مطابق عمل کرنا مراد ہے اور بعض دیگر حضرات کا کہناہے کہ علم او ر عمل دونوں کی پختگی مراد ہے۔ (تفسیر انوار البیان، محقق، محمد عاشق الٰہی جلد4 صفحہ 339طبع دارالاشاعت اردو بازار، ایم اے جناح روڈ، کراچی پاکستان )

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close