فقہمذہبی مضامین

عورت ومرد کو ایک دوسرے کا جوٹھا کھانا

مقبول احمد سلفی

مجھ سے ایک بہن نے سوال کیا ہے لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ  عورت کے لئے غیر محرم کا جوٹھا جائز نہیں ہے کیا مرد کو بھی غیرمحرم عورت کا جوٹھا کھانا جائز نہیں ؟

اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمان کا جوٹھا پاک ہے خواہ مرد ہو یا عورت ۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا:

كنتُ أشربُ وأنا حائضٌ ، ثم أُنَاوِلُه النبيَّ- صلى الله عليه وسلم ،فيَضَعُ فاه على موضِعِ فيَّ، فيشرب، وأَتَعَرَّقُ العَرَقَ وأنا حائضٌ ، ثم أُنَاوِلُه النبيَّ صلى الله عليه وسلم ، فيَضَعُ فاه على مَوضِعِ فيَّ . ولم يَذْكُرْ زُهَيْرٌ :فيَشْرَبُ.(صحيح مسلم:300)

ترجمہ:میں ایام مخصوصہ کے دوران میں پانی پی کر نبی اکرمﷺ کو پکڑا دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ پر رکھ کر پانی پی لیتے ، اور میں دانتوں کےساتھ ہڈی سےگوشت نوچتی جبکہ میرے مخصوص ایام ہوتے ، پھر وہ ہڈی نبی ﷺ کو دیتی تو آپ میرے منہ والی جگہ پر اپنا منہ رکھتے اور بوٹی توڑتے۔

نبی ﷺ اور صحابہ کرام نے مشرکہ عورت کا مشکیزہ اور پانی استعمال کیا ، بخاری کی لمبی سی روایت میں مذکور ہے مشرکہ عورت کے پانی سے کسی نے پیا، کسی نے وضو کیا ، کسی نے غسل کیا۔ اس روایت کا ایک ٹکڑا ہے :

وهي قائمةٌ تنظرُ إلى ما يفعلُ بمائِها، وايمُ اللهِ، لقد أُقلِعَ عنها، وإنه لَيُخَيَّلُ إلينا أنها أشدُّ مِلأةً منها حين ابتدأ فيها(صحیح البخاری :344)

ترجمہ: وہ عورت کھڑی دیکھ رہی تھی کہ اس کے پانی سے کیا کیا کام لیے جا رہے ہیں اور خدا کی قسم! جب پانی لیا جانا ان سے بند ہوا، تو ہم دیکھ رہے تھے کہ اب مشکیزوں میں پانی پہلے سے بھی زیادہ موجود تھا۔

اس لئے عورت کو مرد کا بچا ہوا، یا مرد کو عورت کا بچا ہوا یا جوٹھا کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ ایک دوسرے کے محرم ہوں یا غیر محرم کیونکہ اسلام نے ہمیں اس سے نہیں روکا ہے  ۔کھانے پینے کی چیزوں میں اصل اباحت ہے اس وجہ ہے ایک دوسرے کا جوٹھا کھانا جائز ہے ۔ جو لوگ سعودی عرب  رہتے ہیں انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ یہاں دعوتوں میں ایک ہی برتن میں پہلے مرد حضرات کھاتے ہیں جب وہ کھاکر چلے جاتے ہیں تو ان کا بچا ہوا کھانا عورتیں آکر کھاتی ہیں ،بہرکیف! شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ۔

ہاں برصغیر میں عام طور سے لوگ ایک ساتھ زندگی گزارتے ہیں جن میں ساس ،سسر،بہو،بیٹا، نند،دیورسب ہوتے ہیں ۔جہاں ان لوگوں کا  ایک ساتھ رہنا سہنا بہت ساری مشکلات کا سبب بنانا ہوا ہے وہیں شرعی اعتبار سے بھی بہت ساری خرابیاں پائی جاتی ہیں ۔ خاص طور سے حجاب  کی کمی ہے ۔ دیور سے تو حجاب کا کوئی تصور ہی نہیں بلکہ دیور وبھابھی کابات کرنا ، ایک ساتھ کھاناپینا ، اٹھنابیٹھنا، ہنسی مذاق کرنا کوئی عیب کی بات نہیں ۔ نہ گھر والے کو اعتراض ،نہ ہی شوہر محترم کو کوئی گلہ ہےالبتہ جیٹھ سے پردہ کااکثر جگہ رواج ہے ۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ  جیسے جیٹھ سے پردہ ہے ویسے ہی دیور سے بھی پردہ ہے جب جیٹھ کا جوٹھا مکروہ ہے  تو دیور کا کیوں نہیں ؟ یہ دراصل جوائنٹ فیملی کا کرشمہ ہے ۔

اسلامی نقطہ نظر سے کسی کا جوٹھا کسی کے لئے مکروہ نہیں ہے عورت ومرد ایک دوسرے کا جوٹھا کھاسکتے ہیں ۔ ہاں اگر کہیں جوٹھا کھانے سے فتنے میں واقع ہونے کا سبب بن سکتا ہے تو پھر وہ جوٹھا نہ کھائے ۔ جیسے جوائنٹ فیملی کی ہی مثال لے لیں کہ آپ کو معلوم ہے یہ جوٹھا فلاں عورت کاہے جو آپ کے لئے اجنبی یا غیرمحرم ہے تو اس سے پرہیز کریں کیونکہ یہ فتنے کا باعث ہے ۔ اسی طرح عورت کو بھی معلوم ہوجائے کہ جوٹھا فلاں مرد کا ہے جو اس کے لئے غیرمحرم ہے تو اس کے جوٹھے سے پرہیز کرے کیونکہ اس سے بھی فتنے کا اندیشہ ہے ۔  اپنے سماج میں یہ بات مشہور ہونے کے سبب کہ غیرم محرم کا جوٹھا   ناجائز ہے ، اگر کسی لوٹے سے عورت نے پانی پی لیا اوراس سے جیٹھ پانی پینے لگے جبکہ اس کو پتہ نہیں اس سے عورت نے پیا ہے ایک دوسری عورت یا اس کی ماں ہی بولے گی اس سے مت پیو فلانی نے پیا ہے ۔ یہ بات کہہ کر ایک تو ذہن میں عورت کا تصور ڈال دیتے ہیں پھر اس سے منع کرتے ہیں ،ہاں وہی جوٹھا پانی دیور پئے تو کوئی حرج نہیں  اور کوئی منع کرنے والی نہیں ۔

خلاصہ کلام یہ ہوا کہ مسلمان کا جوٹھا پاک ہے اس لئے جہاں مرد ،عورت کا جوٹھا کھاسکتا ہے وہیں عورت بھی ،مرد کا جوٹھا کھاسکتی ہے لیکن اگر کہیں جوٹھا کھانے سے فتنہ پیدا ہونے کا سبب ہو تو وہاں جوٹھا کھانے سے پرہیز کرے اور فتنے کا اندیشہ نوجوانی میں اکثر ہوتا ہے اس لئے بوڑھوں کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Back to top button
Close