مذہبی مضامین

قرآنی آیات کی روشنی میں دعا کی اہمیت

  جس سے دعا مانگی جا رہی ہو وہ اس کو سن بھی سکتا ہواور جانتا بھی ہو کہ کیا مانگا جا رہا ہے۔ اس لیے ایسی ذات سے دعا مانگنے کا حکم ہے جو سنتی بھی اور جانتی بھی ہے۔ سننے کے مفہوم میں بہت زیادہ وسعت ہے ہر کسی کی ہر وقت سنے اور علم کے مفہوم میں بھی بہت وسعت ہے کہ ہر کسی کی ہر زبان کی ہر  بات کو جانے بلکہ اس میں بھی مزید وسعت ہے کہ وہ یہ بھی جانتا ہو کہ کسے، کس وقت ،کیا اور کیسے دینا ہے ؟ اور کسے، کب ،کیا اور کون سی چیز نہیں دینی ؟

مزید پڑھیں >>

مزاح ومذاق: حدود وآداب

بہرحال شریعت نے مزاح ومذاق کی اجازت تو ضرور دی ہے، پر اس کے لئے ان شرائط اور حدود کا لحاظ کرنا ضروری ہے، ورنہ ہم اس کو مذاق ہی سمجھتے رہتے ہیں ، حالانکہ ہمارا یہ مذاق شریعت کے سرحدوں کو پار کرچکا ہوتا ہے، ہمیں اس کا پاس ولحاظ بھی نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں >>

رزق کے معاملے میں اللہ پر بھروسہ

 حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ آیت پڑھ کر سنائی اور پھر ان سے فرمایا ’’تمام کے تمام لوگ اس آیت کریمہ کو اپنا شعار بنالیں۔ اگر اپنے اندر پورے طور پر تقویٰ اور توکل پیدا کرلیں تویہ ان کے دینی و دنیوی سبھی قسم کے معاملات و ضروریات کیلئے کافی ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں >>

غرور کا انجام !

انسان کو ہمیشہ اس با ت کا ذہن نشین رکھنا چاہئے  کہ ہم کیاتھااور ہمارا حشر کیا ہونے والا ہے اور اس بات کو کبھی بھی فراموش نہ کرے کہ ہم سے بھی طاقت ور کوئی ذات ہے جسے غرور تکبر بالکل نہیں پسند ہے۔ لہٰذا!ہمیں غرورو تکبر سے پنا ہ مانگنی چاہئے۔ چونکہ جب فرعون و نمرود اس کی گرفت سے نہ بچے تو ہم اورآپ کجا؟

مزید پڑھیں >>

ہم جنس کی شادی یا ہم جنس پرستی

اسلام کی طرح بدکاری کی سزا سابقہ آسمانی مذاہب میں بھی یہی تھی کہ بدکاری کے مرتکب شادی شدہ افراد کو سنگسار کر دیا جاتا تھا۔ جناب نبی اکرمؐ نے جہاں زنا کی سزا بیان کی ہے وہاں لواطت کے اس عمل قبیح کی سزا یہ بیان فرمائی ہے کہ ’’فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دیا جائے‘‘۔ امت کے تمام فقہی مکاتب فکر میں یہ فعل حرام سمجھا گیا ہے اور اس کی سزا موت بیان کی گئی ہے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ احناف کے نزدیک موت کی یہ سزا شرعی حد کے طور پر نہیں بلکہ تعزیر کے طور پر ہے، جبکہ باقی فقہاء نے اسے حد شرعی قرار دیا ہے۔ لیکن اس فعل کے حرام اور قبیح ہونے اور اس کے مرتکب افراد کو سخت سزا دینے پر سب فقہاء کا اتفاق ہے۔

مزید پڑھیں >>

وقت کی قدر و قیمت اور اہمیت

  دورانِ مطالعہ میں نے دیکھا کہ قرونِ اولیٰ کے مسلمان اپنے اوقات کے سلسلے میں اتنے حریص تھے کہ ان کی یہ حرص ان کے بعد کے لوگوں کی درہم و دینار کی حرص سے بھی بڑھی ہوئی تھی۔ اسی حرص کے سبب ان کیلئے علم نافع، عمل صالح، جہاد اور فتح مبین کا حصول ممکن ہوا، اور اسی کے نتیجے میں وہ تہذیب وجود میں آئی جس کی جڑیں انتہائی گہری ہیں اور جس کی شاخیں ہر چہار جانب پھیلی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں >>

درسِ اخلاق

اخلاق کا پوری زندگی پر اثر پڑتاہے۔ اس کی اہمیت کے مختلف پہلوہیں۔ قرآن وحدیث میں ان کی نشان دہی کی گئی ہے۔ اعلیٰ اخلاق و کردار کی فضیلت بیان ہوئی ہے اور اہل ایمان کو ان پر عمل کی ترغیب دی گئی ہے اور بتایاگیاہے کہ مومن انتہائی مہذب اور شائستہ ہوتاہے، دیانت دار اور امانت دار ہوتا ہے،کذب بیانی اور دروغ گوئی سے اس کی زبان آلودہ نہیں ہوتی۔ وہ کسی کے ساتھ مکر و فریب اور دغابازی نہیں کرتا،متوضع اور خاک سار ہوتاہے، نخوت اور گھمنڈ کا مظاہرہ نہیں کرتا، چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں سے احترام سے پیش آتاہے، مظلوموں کی داد رسی کرتاہے۔ بیوی، بچوں، قرابت داروں اور پڑوسیوں کے حقوق اداکرتاہے۔

مزید پڑھیں >>

جشن عید میلاد نہ منانے والوں پر بے جا اعتراض

اللہ تعالی سے ہم ہر گناہ سے معافی طلب کرتے ہیں اور ہر قسم کی برائی سے بچنے کی توفیق وسعادت مانگتے ہیں اور اگر بھول سے یا عمدا گناہ سرزد ہوجائے تو نیکیوں کا وسیلہ لگاکر اللہ سے عفو کے طلب گار ہوتے ہیں مگر دین کے نام پر بدعت ایجاد کرنا کسی طور ہمیں گوارہ نہیں ، نہ ہی ایسے شخص کو برادشت کریں گے جو من مانی اور گھڑی ہوئی باتوں کو دین الہی کا نام دے اور اس پر عمل کرے بلکہ شدت کے ساتھ اس کی مذمت کریں گے۔ شرک وبدعت کے خلاف جنگ کی نوبت آئی تواس سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

مزید پڑھیں >>

سالِ نو: عبرت وموعظت کے چند پہلو

تو وقت کی اس اہمیت اور ہمارے وقت کے ساتھ اس سلوک کے نتیجے میں ہمارے لئے سالِ نو یومِ احتساب ہونا چاہئے، یایو م جشن، جو یومِ جشن کہ خود بے شمار برائیوں، بے حیائیوں، مرد وعورت کے آزادانہ اختلاط اور اخلاق وعز ت وناموس کی دھجیاں اڑادیتا ہے، سالِ نو کی آمد کا حقیقی اور واقعی پیغام تو یہ ہے کہ ہم گذرے ہوئے زندگی کے لمحات میں جس وقت کو ہم نے صحیح استعمال نہیں کیا ہے، ا ب سے یہ عزم کریں کہ یہاں سے زندگی کا ہر لمحہ خدا کی رضا اور فکر معاد ومعاش میں گذرے گا، ہر کام خواہ وہ دینی یا دنیوی رب ذوالجلال کی کے احکام کے پس منظر میں انجام دوں گا، اس طرح اس کی دین ودنیا دونوں صلاح وفلاح سے ہم کنار ہوں گے۔

مزید پڑھیں >>

کَسبِ کمال کُن کہ عزیزِ جہاں شَوِی !

یعنی انسان اسلام کا اعلان کرے یہ یہ زبان اور ’قول کا کمال ‘ہے۔ پھر عمل صالح کرے کہ یہ اعضا و جوارح اور ’کردار کا کمال ‘ہے اور پھر(ان دونوں انفرادی کمالات کے حصول کے بعد )  دوسروں کو بھی اللہ کی طرف دعوت دے کہ یہ ’اجتماعیت کا کمال ‘ہے۔ تنہا انفرادی اعمال کسی انسان کے ’’کمالِ کردار ‘‘ کا ذریعہ نہیں بن سکتے تا وقتیکہ کہ اجتماعی اور سماجی حالات پر نگاہ نہ رکھی جائے اور بندگان خدا کو اللہ سبحانہ کی طرف دعوت نہ دی جائے۔ اللہ ہر شخص پر دوسروں کی ہدایت کرنے کی ذمہ داری عائد کرتا ہے اور ہر شخص سے اس کے معاشرے کے بارے میں بھی سوال کیے جانے کا اعلان کرتا ہے۔

مزید پڑھیں >>