سائنس و ٹکنالوجی

اسٹیفن ہاکنگ اور وجود خدا

ڈاکٹر احید حسن

سٹیفن ہاکنگ  کیمرج یونیورسٹی میں شعبہ ’علم ریاضی‘ کے سربراہ رہے تھے یہ عہدہ اس سے پہلے سر ائزک نیوٹن کے پاس تھا۔اپنی کتاب The Grand design میں سٹیفن ہاکنگ نے دعویٰ کیا کہ تخلیق کائنات کے لیے کسی خالق کائنات کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ ہاکنگ نے یہ کتاب امریکہ کے ماہر طبعیات لیونارڈ ملاڈینو کے ساتھ مل کر لکھی۔یہ کتاب قسط وار ’ٹائمز` روزنامے میں میں شائع ہوتی رہی۔ انھوں نے کہا  کہ کائنات کی تخلیق میں خدا کے کردار کے بارے میں انھوں نے اپنا نظریہ تبدیل کرلیا ہے۔ اوراب وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’بگ بینگ‘ محض ایک حادثہ یا پہلے سے پائے جانے والے سائنسی یا مذہبی عقائد کے مطابق خدا کے حکم کا نتیجہ نہیں بلکہ کائنات میں موجود طبعی قوانین کا ناگزیر نتیجہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ کائنات کا از خود بننا یعنی بلا ارادہ وجود میں آنا ہی یہ دلیل ہے کہ پہلے سے کچھ نہ کچھ موجود تھا۔ اور دوسری ہاکنگ خود ہی طرف خدا کے وجود کے امکانات کو مسترد بھی نہیں کرتے گو کہ اس  کتاب میں دنیا کے وجود میں آنے کے بارے میں ان کا نظریہ تبدیل ہوا  تاہم ہا کنگ خدا کے وجود کے امکانات سے انکاری نہیں بلکہ خدا کے خالق کائنات ہونے کے تصور کو مسترد کرتے ہیں۔

تو جناب اگر پہلے ہی کچھ نہ کچھ موجود تھا تو وہ کون تھا جس نے اس تخلیق کو تحریک دی۔ آپ خود ہی کہتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ موجود تھا۔ آپ ایک سائنسی مفروضہ پیش کرتے ہوئے یہ کہ رہے ہیں کہ کچھ نہ کچھ موجود تھا لیکن جب یہی بات مذاہب کرتے ہیں کہ کائنات کی تخلیق سے پہلے خدا موجود تھا تو آپ اس تصور کی تردید کر دیتے ہیں ۔یعنی آپ نے دیکھے بنا دنیا کی ہر چیز پہ یقین کرنا ہے لیکن خدا پہ نہیں ۔ یہ آپ کا تعصب اور غیر سائنسی پن نہیں تو اور کیا ہے جس میں آپ تخلیق کی ایک پوری وجہ کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

سٹیفن ہاکنگ اپنی  کتاب ’ دی گرینڈ ڈیزائین` میں اپنے نظریے کی دلالت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آفاق میں موجود کشش ثقل کے قانون کے مطابق دنیا بغیر کسی مصمم ارادے یا منصوبے کے وجود میں آسکتی ہے۔اس پہ سوال یہ اٹھتا ہے کہ بذات خود کشش ثقل یا گریویٹی مادے کی پابند ہے تو جب بگ بینگ سے پہلے یہ مادہ ہی موجود نہیں تھا تو یہ کشش ثقل یا گریویٹی کس طرح کائنات کی تخلیق کرسکتی ہے اور دوسری بات یہ کہ بگ بینگ کے دوران جب سارا مادہ منتشر ہوا تو خود اسی گریویٹی نے یہ مادہ مرتکز رکھنے کی بجائے منتشر کیوں ہونے دیا جس سے ستاروں سیاروں اور کہکشاؤں کی تخلیق ہوئی۔

ہاکنگ کے مطابق دنیا طبعی قوانین کے ناگزیر قوانین کا نتیجہ ہے۔ ہاکنگ کے مطابق آپ سا ئنس کے قوانین کو ’خدا‘ کہہ سکتے ہیں ہاں مگر یہ آپ کا کوئی ایسا خدا نہیں ہوگا جس سے آپ مل سکیں اور سوال کرسکیں ۔‘جب یہ سائنسی قوانین بگ بینگ سے پہلے موجود ہی نہیں تھے تو یہ خود خدا کیسے ہوئے اور جب یہ سائنسی قوانین اپنے اطلاق کے لیے مادے اور توانائی کی محتاج ہیں تو یہ کیونکر خدا ہوئے جب کہ خدا کسی کا محتاج نہیں ہوتا۔

سچ یہ ہے کہ ہا کنگ کا یہ  نظریہ نہ صرف ان کے اپنے ہی سابقہ نظریات کی نفی کررہا ہے بلکہ دنیائے طبعیات کے ایک سرکردہ نام سر آئزک نیوٹن کے اس نظریہ کی نفی کرتا دکھائی دیتا ہے کہ کائنا ت لازمی طور پر خدا کی تخلیق تھی کیونکہ یہ کسی بے ترتیب اور منتشر مادے سے وجود میں نہیں آسکتی تھی۔واضح رہے کہ ہاکنگ نے 1988 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’ بریف ہسٹری آف ٹائم‘ میں تخلیق کائنا ت میں خدا کے وجود کو مسترد نہیں کیا تھا بلکہ لکھا تھا کہ دنیا کی وجودیت کو سمجھنے کے لیے ایک ان دیکھے تخلیق کار کا تصور سا ئنسی قوانین سے مطابقت رکھتا ہے۔ یہ کتاب اس برس میں سب سے زیادہ بکنے والی کتاب تھی۔

کیا خدائے پاک نے دنیا کا نظام ایک خود کار طریقے پر نہیں چھوڑ رکھا ہے؟

جیسے کھانا نہیں کھاو گے تو بھوک لگے گی۔ کھاو گے توہضم ہوگا۔بغیر دیواروں ستوں کے چھت کھڑی نہیں کرسکو گے۔ مطلب کیا رب کائنات نے ایک نظام طے نہیں کر رکھا ہے؟ جس کے مطابق تخریب اور تعمیر کا عمل ازخود چل رہا ہے۔؟ جسے سنت الہی کہا جاتا ہے۔اس کے برعکس ہا کنگ  کہتے ہیں کہ دنیا، اس میں ہمارا وجود میں آنا اور ہماری بقا خود ایک ثبوت ہے کہ دنیا حادثتاً نہیں بلکہ کسی شے کے ہونے کا نتیجہ تھی۔

پرانا نظریہ تخلیق کائنات کا غالباً یہ تھا کہ خلا، وقت اور ہیئت بگ بینگ دھماکے کیساتھ وجود میں آئے۔ اور اس دھماکہ کے وجود کے پیچھے کوئی سوپر نیچرل قوت کارفرما تھی۔ جبکہ اب نظریہ تبدیل ہو گیا کہ دھماکہ سے قبل ہی قوانین قدرت یعنی کشش ثقل کام کر رہی تھی، اور یہی اس کی وجہ بنی۔ اب آجاکر سوئی وہیں اٹک گئی کے آخر ان قونین قدرت کا خالق کون ہے؟ہاکنگ اس سوال کو سو فیصد نظر انداز کر گئے۔کائنات میں ہونے والا ہر واقعہ کسی نا کسی طبعی عوامل کے مرہون منت ہوتا ہے۔ ہر واقعہ کی کوئی نہ کوئی توجہیہ ہوتی ہے۔ جب تک یہ توجہیہ معلوم نہیں ہوتی ہم اسے "معجزہ” کہتے ہیں ۔ جب معلوم ہوجائے تو ہم سائنس کہتے ہیں ۔ بگ بینگ کا واقعہ بھی کسی نا کسی فطری قانون اور توجہیہ کا مرہون منت ہوگا۔ اس پر یقین رکھنے سے خدا کا انکار نہیں ہوجاتا۔

اب جبکہ ہاکنگ کی سائنسی تھیوریوں کے مطابق کائنات کے وجود کیلئے کسی خدا کی ضرورت نہیں تو پھر باقی کیارہ گیا؟ قوانین قدرت کا خالق کون ہے؟ یہ قوانین خود کس طرح وجود میں آئے۔ اصول کائنات ہے کہ قوانین کسی شخصیت کی طرف سے مرتب کیے جاتے ہیں اور یہ قوانین خود کو خود تخلیق نہیں کرتے بلکہ ایک صاحب اقتدار کی طرف سے مرتب کیے جاتے ہیں لیکن ہاکنگ اس صاحب اقتدار کا انکار کرکے یہ کہنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان قوانین نے خود کو خود بنا لیا اور پھر ان قوانین نے کائنات کو بھی تخلیق کیا۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کہے کہ دستور پاکستان نے خود کو خود تخلیق کیا اور پھر اسی دستور نے پاکستان کو بھی تخلیق کر لیا۔ایک ذہین انسان صرف خدا کی ذات کے انکار اور تعصب میں کس قدر آخری حد تک جا رہا ہے کہ قوانین مرتب کرنے والی ہستی کی جگہ خود قوانین کو کائنات کا خالق قرار دے رہا ہے۔

کائنات کی سائنسی توجیہہ یقیناّ ممکن ہوگی اس بات میں کلام نہیں ہے لیکن علتِ اولیٰ ہمیشہ ساءنس کی نظر سے اوجھل ہی رہے گی۔ مثلاّ یہ جو گریوٹی اور ویک فورس وغیرہ کی بات کی جاتی ہے انکا منبع آخر کیا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ سائنسدان جو کائنات میں 4 قوتوں کو اصل ِ اصول مانتے ہیں وہ ان چاروں کو ایک ہی قوت کا شاخسانہ قرار دے دیں گے اور دے چکے ہیں غالباّ۔۔ ۔ لیکن دس لاکھ کا سوال یہ ہے کہ وہ قوت کہاں سے پھوٹ پڑی آخر؟یہ مادہ توانائی اور کائنات کے سائنسی قوانین آخر کس طرح پھوٹ پڑے۔ آج تک سائنسدان اور نہ ہی ہاکنگ اس بات کا جواب دے سکے ہیں ۔کئی بار لوگ خدا پر قدرت کے قوانین کا اطلاق کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ قوانینِ قدرت بذاتِ خود اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں ۔سوال یہ ہے کہ بگ بینگ نظریہ کے مطابق وقت اور خلا بگ بینگ دھماکہ کیساتھ ہی وجود میں آئے تھے الغرض کائنات اس دھماکہ سے “پہلے“ کس حالت میں تھی، اصل سوال یہ ہے۔کائنات میں موجود طبعی قوانین کس نے بنائے؟جو پہلے سے کچھ نہ کچھ موجود تھا وہ کس نے بنایا؟آفاق میں موجود کشش ثقل کا قانون کس نے اور کیوں بنایا؟کسی شے کے ہونے کا نتیجہ تھی، یعنی کونسی شے؟ اور اس کا خالق کون ہے؟

ظاہر ہے کسی شے کی موجودگی کیلئے اس سے پہلے کسی شے کا ہونا ضروری ہے۔ اگر ہم یہ کہہ لیں کہ یہ کائنات ہمیشہ سے تھی اور ہمیشہ اسی طرح بنتی، ختم ہوتی رہے گی، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ “پہلی“ بار ایسا کب ہوا، اور کیوں ہوا۔ e=mc2 کے مطابق مادہ اور توانائی ایک ہی شے۔ اور توانائی کو نہ تخلیق کیا جا سکتا اور نہ ہی ختم۔ بلکہ محض اسکو ایک شکل سے دوسری شکل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مثال: گرتا پانی جنریٹر کو پاور کرتا ہے جو آگے سے بجلی اور بعد میں حرارت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ایٹمی ری ایکٹر میں مادے کو توڑ کر اسمیں قائم سدا بہار توانائی کو حاصل کیا جاتا ہے، جو کہ مادے سے حرارت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ہمارا سورج بھی انہی اصولوں پر مسلسل پھٹ کر ہمیں زندگی دئے ہوئے ہے۔جب کہ ہاکنگ بار بار پوچھے جانے کے باوجود ان سب سوالات کا جواب گول کر گئے اور آخری وقت تک انہوں نے ان سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

یعنی آج تک سائنس بھی توانائی یا مادے کے ماخذ کو جاننے سے قاصر ہے۔جب وقت بذاتِ خود اللہ کی تخلیق ہے تو اللہ سے "پہلے” کا مطلب ہی کیا رہ جاتا ہے؟ہاکنگ کثیر الکائناتی نظریہ یا Multiverse theory کے بھی حامی رہے۔کائنات  سے پہلے” کے جواب تک انسان (اپنے طور پر) کبھی نہیں پہنچ سکتا کہ اس کا مشاہدہ اور تخیل اسی کائنات تک محدود ہے۔دوسری دلچسپ بات یہ کہ قدرت کے قوانین نے ایک ایسا نظام تخلیق کیا ہے جوناقابل بیان حد تک fine-tunedہے۔اگر طبعی قوانین کے عمل کے نتیجے میں حیران کن اتفاقات کاایک سلسلہ وقوع پذیر نہ ہوتاجس کا ہم آج کی دنیامیں مشاہدہ کر رہے ہیں تو کسی قسم کی زندگی کا جنم لینا ممکن نہیں تھا۔ یہاں ہاکنگ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ہماری کائنات اور اس کے قوانین زندگی کو جنم دینے کے لئے اس طرح ’’ڈیزائن‘‘ کئے گئے ہیں کہ اگر یہ اس طرح سے نہ ہوتے تو پھر ہم بھی نہ ہوتے۔ ۔۔ ایسا کیوں ہے اور کس وجہ سے ہے ؟ ہاکنگ صرف سوال اٹھا کر رکھ نہیں دیتا بلکہ جواب بھی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ بہت سے لوگوں کے نزدیک زندگی کے ظہور کے لئے حیران کن اتفاقات کا ایک لا متناہی سلسلہ درحقیقت خدا کے وجود کی دلیل ہے کیونکہ خدا کے بغیر اس نوع کے ناقابل یقین اتفاقات وقوع پذیر نہیں ہو سکتے۔ لیکن ہاکنگ کے نزدیک ایسا نہیں ہے تاہم اس ضمن میں جودلیل وہ رکھتا ہے وہ بہت کمزور ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہماری کائنات، ان گنت کائناتوں میں سے ایک ہے، اسی طرح ہمارا نظام شمسی بھی اربوں نظامات شمسی میں سے ایک ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے نظام شمسی کے حیران کن اتفاقات کسی طرح بھی انوکھے نہیں کیونکہ اس طرح کے اربوں نظام نہ صرف چل رہے ہیں بلکہ دوڑ رہے ہیں اور قدرت کے قوانین کی fine-tuningکو ان گنت کائناتوں کے تناظر میں سمجھا جاسکتا ہے۔

اس پہ سوال یہ ہے کہ ایسی کائنات کا تصور کرنا تو شاید آسان ہو جہاں دو اور دو چار نہ ہوتے ہوں ۔ لیکن اگر واقعی ایک سے زائد کائناتیں موجود بھی ہوں ، تو کیا ان کو بنانے والا خدا اتنا سادہ ہوگا کہ اس کی ذات کی کیفیات کو ہم ٹھیک ٹھیک سمجھ پائیں ؟ان سب سوالات کی روشنی میں کس طرح اس بت کی تردید کی جا سکتی ہے کہ یہ کائنات ایک خالق کی تخلیق نہیں ۔اگر کوئی خدا، خلقت اور تخلیق پر عقل اور تخیل کے گھوڑے دوڑاتا ہے۔ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اس کی سوچ محدود ہے، خام ہے۔ اور یہ کہ جو کچھ وہ سوچ پایا ہے اس پر اسے شدومد سے اصرار نہیں ، حرف آخر نہیں ۔۔۔۔اندھا اعتقاد نہیں تو اس پر مذکورہ حد نہیں لگتی۔

خالق کہ پہچاننے کا ایک طریقہ اس کی تخلیق پر غور کرنا ہے۔ ایک پتھر، ایک پتہ، ایک چونٹی کی حقیقت پر غور کرنے بیٹھیں تو وہ بھی آپ کو لامحالہ خالق تک ہی لے جائے گی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہاکنگ کو جو بیماری لاحق تھی اس کا مریض تشخیص کے بعد دس سال سے زیادہ عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ ہاکنگ وہ واحد انسان تھا جو بیماری کی تشخیص کے پچاس سال گزرنے کے باوجود  زندہ رہا۔ خدا کی شان ہے۔کیا یہ سب اتفاقات ہیں ۔بالکل نہیں اتنے سارے اتفاقات کبھی ایک ہی وقت میں اکٹھے رونما نہیں ہوتے اور یہ بات سائنس بھی تسلیم کرتی ہے۔لہذا کئی سائنسدان جن میں نوبل انعام یافتہ سائنسدان بھی شامل ہیں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے پاس خدا کی ذات پہ ایمان کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

اسٹیفن ہاکنگ نے 2010ء میں یہ تسلیم  کیا کہ کائنات میں ایک عظیم ڈیزائن موجود ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس نے یہ دعویٰ کیا کہ اس کا  خدا کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سائنس نظریہ سب کچھ(Theory of everything) کے قریب آ رہی ہے اور جب یہ ہوجائےگا تو ہم بڑے پیمانے پر ڈیزائن جان لیں گے۔اس کی مثال عدالت میں کھڑے اس چورجیسی ہے جس کے خلاف عدالت میں جرم کے سب ثبوت موجود ہوں اور وہ کہے کہ میرے پاس عنقریب ایک ایسا ثبوت آئے گا جس سے میں سب گواہوں کو جھوٹا قرار دے کر خود کو بیگناہ ثابت کرلوں گا۔ہاکنگ کے پاس جب کائنات میں عظیم تخلیق کے انکار کا کوئی ثبوت نہیں تھا تو انہوں نے اسی چور جیسا رویہ اختیار کیا۔ ڈیلی میل میں اس کے جواب میں سائنسدان جان لینکس نے ایک سائنس دان کے طور پر کہا کہ اسٹیفن ہاکنگ اس بارے میں مکمل غلط ہے اور آپ خدا کے بغیر کائنات کی وضاحت نہیں کرسکتے.کئی سائنسدانوں نے ہاکنگ کے اس تصور کی تردید کی اور کہا کہ ہاکنگ کےاس  تصور میں کچھ بھی نیا نہیں ۔سائنسدان جان لینکس نے کہا کہ  ہاکنگ کے دعوے کے برعکس، کائنات کے طبیعیاتی قوانین  کبھی بھی کائنات کی مکمل وضاحت نہیں کر سکتے اور قوانین کائنات یا کچھ اور خود کچھ بھی تخلیق نہیں کرسکتے، قوانین  صرف اس بات کی وضاحت ہیں کہ کائنات میں کچھ شرائط کے تحت کیا ہوتا ہے جب کہ یہ خود ان عوامل کو تخلیق بالکل نہیں کرسکتے جن کی یہ وضاحت کرتے ہیں لیکن ہاکنگ نےقوانین اور ہستی کو ملانے کی غلطی کردی اور سب لوگ جو ہاکنگ کی شخصیت کے زعم میں مبتلا تھے اس کو صحیح سمجھ بیٹھے جب کہ کئی سائنسدانوں نے ہاکنگ کی زندگی میں ہی ہاکنگ کے اس تصور کی تردید کردی۔ جان لیناکس نے کہا کہ نیوٹن کے قوانین حرکت میز پر سنوکر کی گیندیں حرکت میں نہیں لاتے بلکہ یہ صرف ان کی حرکت کی وضاحت کرتے ہیں ۔اسی طرح کائنات کے طبیعیاتی قوانین کائنات کی تخلیق نہیں کرتے بلکہ اس میں وقوع پذیر ہونے والے طبیعیاتی عوامل کی سائنسی وضاحت پیش کرتے ہیں جب کہ ہاکنگ نے ان ساری سائنسی تفاصیل کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ کینٹربری کے ارچ بشپ ڈاکٹر ڈاکٹر رویے ولیمز نے یہ تبصرہ کیا کہ طبیعیات یا فزکس کبھی یہ مسئلہ نہیں حل کرسکے گی کہ  کچھ نہ ہونے کی جگہ کچھ کیوں ہے۔ ,گرینڈ ڈیزائین ایک تھیوری سب کچھ کے بارے میں بھی بحث کرتا ہے، سائنسی نظریات کی ترقی میں ایک اختتام پذیر ہے کیونکہ یہ تمام سائنس میں شامل ہے.  سٹیفن ہاکنگ خدائی تخلیق کے مقابلے میں جس مختلف کائناتوں کی موجودگی کے نظریے کی حمایت کرتا تھا، دیگر بیشمار سائنس دانوں نے اسے ذاتی مفروضوں  پہ مبنی اندھی گلی قرار دیا جس کو کبھی بھی  ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

ٹائمز نے لکھا کہ کئی سائنسدانوں کے مطابق یہ کثیر الکائناتی نظریہ ایک طرح کا سائنسی عقیدہ ہے نہ کہ سائنسی حقیقت جس کی کوئی بھی سائنسی بنیاد نہیں ۔ مشہور برطانوی ریاضیاتی فلکیات دان  روجر پینروز نے کتاب  فائنل ٹائمز کے اپنے جائزہ  میں (جس میں ایک دفعہ خدا کا ذکر نہیں کیا گیا ہے) کہا کہ کوانٹم میکینکس کے برعکس اس ایم تھیوری کی کوئی مشاہداتی گواہی موجود نہیں ( جس کو کائنات کے خدا کی طرف سے گرینڈ ڈیزائن کے مقابلے میں پیش کیا جاتا ہے)  11 ستمبر 2010ء کے اس کے اداریے میں ایم تھیوری کو ہاکنگ کا ذاتی سائنسی عقیدہ قرار دیا گیا جس کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں اور خود  ہاکنگ اور مولودین نے تسلیم کیا کہ وہ گرینڈ ڈیزائن کتاب  میں ان سوالات پر غور کر رہے ہیں جو روایتی سائنس سے باہر جاتے ہیں اور فلسفہ کے میدان میں گھومتے ہیں جب کہ اسی کتاب کے باب ایک میں ہاکنگ یہ بھی کہتا ہے کہ فلسفہ کر چکا ہے۔ اب خود ہاکنگ کے اپنے اصول کے مطابق سائنس کے مستند اور قابل مشاہدہ حقائق کو نظر انداز کرکے اس کے ذاتی فلسفیانہ تصورات کو خدا کی ذات کے انکار کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جب کہ خود ہاکنگ کے اپنے بقول سائنس نے فلسفے کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے؟

ہاکنگ اپنے ان اوپر بیان کردہ تصورات  کے ساتھ چپٹے رہے۔ اس کے بعد 2014ء اور بعد تک ہاکنگ کہتے رہے کہ وہ وجود خدا پہ ایمان نہیں رکھتے لیکن اس کے ایک ہی سال بعد یعنی 2015ء میں سٹیفن ہاکنگ نے  سائنسی کمیونٹی کو حیران کیا جب انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں ایک تقریر کے دوران اعلان کیا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کوئی ذہانت  کائنات کی تخلیق میں کارفرما تھی۔ پیچھے تھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں طالب علموں سے بات  کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ کائنات کی تخلیق پر ان کی تحقیقات نے انہیں ایک عجیب سائنسی عنصر کو الگ کرنے کی راہنمائی کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ وہ طبیعیات کے عالمی قوانین کے برعکس ہے اور ان طبیعیاتی قوانین کا پابند نہیں ۔یہ عجیب رجحان جسے وہ خدائی عنصر یا God factor کا نام دیتا ہے ہاکنگ کے اپنے مطابق تخلیق کے عمل کی اصل میں کارفرما تھا اور اس نے کائنات کی اصل شکل کا تعین کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔اس پہ ملحدین نے ہاکنگ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ کیوں خدا کی ذات پہ ایمان کا اعلان کر رہا ہے۔ اس پہ سٹیفن ہاکنگ نے فوری اپنا بیان تبدیل کیا اور کہا  کہ ذہین ڈیزائن سے  کسی بھی طرح سے ثابت نہیں ہوتا کہ خدا موجود ہے، لیکن صرف یہ ہے کہ خدا کی طرح قوت نے ہماری کائنات کی تخلیق میں تقریبا 13.8  ,ارب سال پہلے اہم کردار ادا کیا۔ لیکن اس کے باوجود ہاکنگ کے اپنے الفاظ اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی خالق موجود ہے۔

2017ء میں سٹیفن ہاکنگ نے اپنے ایک  انٹرویو میں کہا کہ انہیں پتہ ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا…!!!واضح رہے کہ یہ وہ سوال ہے جسکا تسلی بخش جواب آج بھی  کسی سائنسدان کے پاس نہیں ۔ سب یہی کہتے ہیں کہ بگ بینگ کے وقت پوری کائنات ایک ایٹم سے بھی چھوٹے ذرے کے برابر تھی(ویسے کسی عقلمند کیلئے اس بات کو تسلیم کرنا عقلی طور پر خدا کے وجود کو تسلیم کرنے سے لاکھوں گنا زیادہ محال ہے…!!!) اور یہ کہ وقت کی تخلیق بھی بگ بینگ کے بعد ہوئی ہے. لہٰذا چونکہ بگ بینگ سے پہلے وقت کا کوئی تصور نہیں لہٰذا یہ سوال ہی بے بنیاد ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا…!!! سٹیفن ہاکنگ کا کہنا تھا کہ اسکا جواب ہے "نو باؤنڈری تھیوری”…اب یہ نو باؤنڈری تھیوری کیا بلا ہے؟تو ہاکنگ کہتے ہیں کہ کائنات کے آغاز پر کوئی نکتہ آغاز یا سرحد یا باؤنڈری ہے ہی نہیں جسکے پار دیکھا جا سکنا ممکن ہو اور کیونکہ بگ بینگ سے پہلے وقت بھی پیدا نہیں ہوا تھا لہٰذا اس سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ یعنی وہی پرانی شراب نئے لیبل کے ساتھ۔ویسے  ایک اور تھیوری کے مطابق اس کائنات سے پہلے ایک اور کائنات تھی جو روپ بدل کر یہ والی کائنات بن گئی اور یہ والی روپ بدل کر کوئی اور کائنات بن جائے گی… یعنی نکتہ آغاز کوئی نہیں …!!! اسے "سائکلک تھیوری” کہتے ہیں …  بات تو پھر وہیں کی وہیں رہی۔ سوال پھر وہی ہے کہ کچھ(خواہ مادہ تھا یا توانائی) آیا کہاں سے؟” اس سوال کا جواب نہ ہی ہاکنگ نے دیا نہ ہی کسی اور نے۔ ہاکنگ کی پوری زندگی میں ان سے یہ سوال پوچھا جاتا رہا لیکن وہ اس کا جواب ہمیشہ گول کر جاتے۔ یہ ملحدین  توانائی کو تو دیکھے بغیر اسکی نشانیوں سے مان لیتی ہے، پر خدا کو دیکھے بغیر اسکی نشانیوں سے مانتے ہوئے موت پڑتی ہے…!!!

کائنات کی تخلیق کا جو سلسلہ فزکس نے پیش کیا ہے وہ یہ ہے۔ ہگز بوسن انرجی فیلڈ(پوری کائنات میں موجود اور خدا کے وجود کا ایک بہت بڑا ثبوت)۔۔۔ویکیوم انرجی اور ڈارک انرجی، اب ڈارک انرجی بذات خود ویکیوم انرجی کی ایک قسم ہے۔۔۔ویکیوم انرجی سے ورچول پارٹیکلز کی تخلیق۔۔۔ورچول پارٹیکل کا سائز میں اضافہ۔۔۔ہگز بوسن انرجی فیلڈ کا گاڈ پارٹیکل کے ذریعے ان ذرات کو کمیت یا ماس دینا۔۔۔اس ماس یا کمیت کا توانائ حاسل کرنا۔۔۔بنیادی ذرات کا آپس میں جڑنا۔۔۔الیکٹران،پروٹان،نیوٹران کی پیدائش۔۔۔ایٹم کا بننا۔۔۔۔۔مالیکیول کا بننا۔۔۔سیاروں ،ستاروں ،کہکیشاؤں کا بننا۔۔۔پوری کائنات کا وجور میں آنا۔

اس طرح پوری کائنات کی تخلیق میں ہمیں دو چیزیں کارفرما نظر آتی ہیں ۔ایک انرجی فیلڈ جو پوری کائنات میں موجود اور اس نے مادی ذرات کے لیے ویکیوم انرجی میں اپنا کردار ادا کیا اور پھر ویکیوم انرجی سے  مادی ذرات تخلیق کرائے اور پھر ان ذرات کو ویکیوم انرجی سے تخلیق کرا کر ان کو اپنے ایک مادی جزو یعنی گاڈ پارٹیکل یا ہگز بوزون کے ذریعے ان کو وجود دیا اور کائنات کی تخلیق کی بنیاد رکھی۔یہ ویکیوم انرجی اور ہگز بوسن پوری کائنات میں موجود،مادے کی تخلیق کی بنیادی وجہ،کائنات کی پیدائش اور اس کو پھیلانے میں کارفرما،سب مادہ ہگز بوسن انرجی فیلڈ سے جڑی ویکیوم انرجی کے زیر اثر۔ایسی طاقت یعنی خدا کے وجود کا بہت بڑا ثبوت جو پوری کائنات میں موجود اور تمام مادی ذرات کی پیدائش اور اب اپنی ہی ایک طاقت یعنی ویکیوم انرجی کے ذریعے پوری کائنات کے مادے کے کنٹرول و پھیلاؤ کی ذمہ دار۔خدا کے وجود کی کوانٹم فزکس سے وضاحت۔

ہگز بوسن صرف ایک مادی ذرہ ہے۔جو فیلڈ اسے کنٹرول کرتا ہے اصل خفیہ قوت وہ ہے جس کا نام ہگز بوسن انرجی فیلڈ ہے۔
یعنی گاڈ پارٹیکل کے ذریعے ہگز بوسن انرجی فیلڈ مادی دنیا و اس کے ذرات سے رابطے میں رہتا ہے۔اب یہ ہگز بوسن انرجی فیلڈ بذات خود خدا کی نشانی ہے جس سے خدا نے ویکیوم انرجی،پھر اس سے مادی ذرات کی تخلیق پھر ان ذرات کو ہگز بوسن انرجی فیلڈ کے مادی زرے یعنی گاڈ پارٹیکل سے توانائ و کمیت عطا کی۔اس سب کی تہہ میں ایک ہی قوت کارفرما ہے یعنی ہگز بوسن اور اس کی ویکیوم انرجی۔

کائنات کی خود بخود تخلیق کا ڈھنڈھورا پیٹنے والے آج تک اس بات کی وضاحت نہیں کر سکے کہ کائنات خود بخود اگر وجود میں آگئ تو وہ مقرر کردہ سائنسی قوانین کیسے تخلیق ہوئے جن پہ آج تک پوری کائنات چل رہی ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ہگز بوسن یا گاڈ پارٹیکل نے اگر ایٹم کے بنیادی ذرات کو کمیت یا ماس دی تو بذات خود وہ ذرات کہاں سے بنے۔ظاہر نے انہیں خالق نے ویکیوم انرجی سے تخلیق کرایا اور ہگز بوسن سے ا نہیں کمیت یا ماس عطا فرمائ۔یعنی کائنات کی ابتدا ویکیوم انرجی سے ہوئ۔

ہاکنگ خود کہتا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب اس ہگز بوسن  انرجی فیلڈ  میں ہونے والی ایک کوانٹم فلکچویشن یا توانائ کی تبدیلی  ایک ویکیوم ببل کی طرح پیدا ہوگی اور یہ روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہوئ ہماری پوری کائنات کو تباہ کر دے گی۔اس طرح پوری کائنات تباہ ہوجائے گی۔ایسا 100000000000 سال کے اندر ہو سکتا ہے۔اب سائنس خود قیامت کے تصور کی تصدیق کر رہی ہے۔
ہگز بوسن یا گاڈ پارٹیکل 126بلین  الیکٹران وولٹ یا پروٹان کی ماس یا کمیت سے 122 گنا بھاری ایک ذرہ ہے۔

یہ وہ نازک کمیت ہے جس سے ہماری کائنات ایک غیر قیام پذیری کے کنارے پر کھڑی ہے۔سائنس کے مطابق ایک دن یہ نازک ذرہ ہگز بوسن انرجی فیلڈ سے اپنا تعلق کھو بیٹھے گا۔یعنی وہ مادی ذرہ جس سے ہگز بوسن انرجی فیلڈ اپنا رابطہ مادی  دنیا سے رکھتا ہے ختم ہوجائے گا۔اس مادی و غیر مادی دنیا کے آپس ک تعلق کا خاتمہ کائنات کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔یعنی غیر مادی ہگز بوسن  انرجی فیلڈ جو پوری کائنات میں موجود ہے،وہ خود ہی گاڈ پارٹیکل کے ذریعے اس کائنات کی تباہی کی وجہ بن جائے گا۔جو کہ قیامت ہوسکتی ہے۔اس دن کو سائنس میں Universe Doomsday کہتے ہیں ۔یعنی کائنات کی تباہی کا دن۔

ماہر فزکس یا طبیعیات لیکن۔۔۔۔Lykken….کے مطابق ہگز بوسن انرجی فیلڈ کائنات کی ابتدا کے وقت پیدا ہوا۔اس کا مطلب یہ کہ ویکیوم انرجی نے جب virtual  particles سے inflation theory کے مطابق مادی ذرات کو پیدا کیا تو ساتھ ہی ان ذرات کو کمیت اور کشش ثقل دینے کے لیے ہگز بوسن انرجی فیلڈ اورا س کا مادی ذرہ یعنی گاڈ پارٹیکل بھی تخلیق کیا۔جس سے پھر کائنات کو کشش ثقل دی گئ اور حتمی شکل دی گئ۔اس وقت یہ ہگز انرجی فیلڈ ایک کم سے کم مخفی توانائ یا پوٹینشل انرجی کی سطح پر ہے۔توانائ کی وہ وسیع مقدار جو اسے اس کی اس حالت سے دوسری حالت میں لے جائے ایسا ہے جیسے کسی پہاڑ کے اوپر سے کسی میدان کو اٹھاناکے اس پہاڑ کے دوسری طرف لے جانا۔ماہرین طبیعیات یا فزکس کے مطابق اگر ہگز انرجی فیلڈ توانائ کی یہ سح عبور کر لے تو ہماری کائنات کی تباہی صرف اتن ہی دور ہے جتنا ایک پہاڑ کی ایک طرف سے اس کی دوسری طرف۔
گریویٹی مادے کی وجہ سے ہے اور مادے کی کمیت کا وجود ہگز بوسن انرجی فیلڈ کے مادی ذرے گاڈ پارٹیکل سے ہے جب کہ مادے کی پیدائش ویکیوم انرجی سے ہوئ۔

اب دو نظریات ہیں ۔ایک یہ کہ ویکیوم انرجی نے ہگز بوسن انرجی فیلڈ اور پھر اس سے گاڈ پارٹیکل اور تمام مادی ذرات تخلیق کرائے۔دوسرا تصور یہ ہے کہ ڈارک انرجی ہگز بوسن انرجی فیلڈ کی وجہ سے ہے۔خواہ ہگز بوسن انرجی فیلڈ سے ڈارک انرجی جو کہ ویکیوم انرجی کی ایک شکل ہے وجود میں آئے اور پھر اس سے مادی ذرات اور ان سے کائنات کی تخلیق اور اس کا پھیلاؤ یا خود ویکیوم انرجی سے ہگز بوسن انرجی فیلڈ اور گاڈ پارٹیکل اور تمام مادے کی کمیت،دونوں کا اختتام ایک ایسی خفیہ قوت پہ ہے جس نے مادی ذرات اور کائنات کی تخلیق کے لیے ایک انرجی کو استعمال کرایا خواہ وہ انرجی ہگز بوسن انرجی فیلڈ ہو یا ویکیوم انرجی۔انتیا ایک عظیم خفیہ قوت پہ ہورہی ہے جو کہ خدا کے وجود کا بہت بڑا ثبوت ہے۔

لیکن ہگز بوسن انرجی فیلڈ میں ہونے والی توانائ کی یہ تبدیلی یا کوانٹم فلکچویشن ایک ایسا عمل شروع کرا سکتی ہے جسے کوانٹم ٹنلنگ کہتے ہیں ۔جس سے یہ انرجی فیلڈ اچانک ہی ایک انرجی لیول سے دوسرے  انرجی لیول پر چلا جائے گا جس سے غیر قیام پذیر توانائ کا ایک ویکیوم ببل پیدا ہو سکتا یے جو کائنات کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔یہ ویکیوم ببل خلا میں کبھی بھی کسی بھی مقام پر بن سکتا ہے۔اور یہ کب بنے گا اس کا کسی کو نہیں پتہ۔لیکن یہ 100000000000 سال کے اندر ہو سکتا ہے۔ہاکنگ کے مطابق یہ فیلڈ 100 بلین گیگا الیکٹران وولٹ کی سطح تک غیر قیام پذیر ہو سکتا ہے۔جس سے کائنات ایک توانائ غیر قیام پذیری یا Vacuum Decay کی حالت میں جا سکتی ہے۔یہ کبھی بھی ہو سکتا ہے اور ہم۔اسے ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ہگز بوسن انرجی فیلڈ آج اپنی توانائ کی جس سطح پر ہے اگر اس سے تھوڑا بھی زیادہ توانائ کی سطح پر چلا جائے تو تمام ایٹم یا جوہر کے مرکزے یعنی نیوکلیائی سکڑ جائیں گے،یہ انرجی کی تبدیلی روشنی کی رفتار سے سفر کرے گی اور پوری کائنات تباہ ہوجائے گی اور پوری کائنات میں صرف ایک ہائیڈروجن ایٹم بچے گا۔ اس طرح ہم کائنات میں ایک قیام پذیر و غیر قیام پذیر حالت کے درمیان ہیں ۔اور یہ کائنات کبھی بھی تباہ ہو سکتی ہے۔

یہ ساری بحث ایک ایسی قوت کی تصدیق کرتی ہے جس نے پہلے اپنی قوت یعنی ویکیوم انرجی سے مادی ذرات کو تخلیق کرایا،پھر ان کو ہگز بوسن انرجی فیلڈ سے ماس یا کمیت اور کشش ثقل یعنی گریویٹی دی۔پھر اس مادے ست پوری کائنات کو تخلیق کرایا اور اب اس توانائ کی سطح کو توازن میں رکھ کر کائنات کو قائم رکھے ہوئے ہے اور ایک دن اسے تباہ کردے گی۔یہ سارے شواہد ایک خفیہ قوت یعنی خدا کے موجود کی تائید کرتے ہیں اور اس تباہی کی خود ہاکنگ بھی تصدیق کرتے تھے۔وہ اسے خود تسلیم کرتے ہیں ۔لہذا اب اس ساری بحث کی روشنی میں خود ہاکنگ کی ہی اپنی وضاحتوں سے نہ صرف خدا کی ذات کے وجود کی سائنسی تصدیق ہوتی ہے بلکہ روز قیامت کی بھی۔ ہاکنگ اسے تسلیم کرے یا نہ کرے۔
فکر شرط ہے!

ھذا ما عندی۔ واللہ اعلم بالصواب

حوالہ جات:

https://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%AA%D8%AE%D9%84%DB%8C%D9%82-%DA%A9%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%DB%8C%D9%84%D8%A6%DB%92-%DA%A9%D8%B3%DB%8C-%D8%AE%D8%AF%D8%A7-%DA%A9%DB%8C-%D8%B6%D8%B1%D9%88%D8%B1%D8%AA-%D9%86%DB%81%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%D8%B3%D9%B9%DB%8C%D9%81%D9%86-%DB%81%D8%A7%DA%A9%D9%86%DA%AF.31357/
http://hilal.gov.pk/index.php/layouts/item/579-2014-12-29-07-56-48
https://www.bethinking.org/is-there-a-creator/stephen-hawking-and-god
http://worldnewsdailyreport.com/stephen-hawkins-admits-intelligent-design-is-highly-probable/
http://worldnewsdailyreport.com/stephen-hawkins-admits-intelligent-design-is-highly-probable/

پوسٹ کی تیاری میں فیس بک گروپ آپریشن ارتقائے فہم و دانش کے ایک رکن کی ایک سائنسی پوسٹ سے بھی استفادہ کیا گیا ہے لیکن ان کا نام یاد نہیں ۔ حوالے میں اس لیے نہیں لکھ سکا۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close