سائنس و ٹکنالوجی

اور اب کچھ متضاد خبریں!

عالم نقوی

حالیہ دنوں میں مغربی ایشیا سے جو متضاد خبریں آئی ہیں ، ظاہر ہے کہ بیک وقت وہ سب کی سب  درست نہیں ہو سکتیں ۔ خبروں کے اِن متضاد گروپوں میں سے کوئی ایک ہی صحیح اور قابل اعتبار ہو سکتا ہے۔    اِس’’تلبیس ِحق و باطل‘‘ کی وجہ سے لبنان کا معاملہ بھی یمن و سیریا کی طرح  خاصی پیچیدگی اختیار کر تا جا رہا ہے۔

لبنان کے صدر مائکل عون نے نہ صرف وزیر اعظم سعد حریری کے استعفے کو،جو انہوں گزشتہ ہفتے ریاض (سعودی عرب کی راجدھانی) میں بیٹھ کر دیا تھا، نامنظور کر دیا ہے، بلکہ سعودی سفیر متعین  بیروت کو بلا کردو ٹوک الفاظ میں اُن پر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ  سعودی عرب نے سعد حریری کے استعفے سے قبل اور بعد جوحالات پیدا کیے ہیں وہ  لبنان کے لیے قطعاً نا قابل قبول ہیں لہٰذا وزیر اعظم سعد حریری کو فوری طور پر بیروت واپس آجانا چاہئیے۔ در اصل لبنان کو یقین ہے کہ نہ صرف اُن کے وزیر اعظم سے بالجبر استعفےدلوایا گیا ہے بلکہ اُنہیں اُن کی مرضی کے خلاف ریاض میں روک کر رکھا جا رہا ہے جو کہ  جبری نظر بندی یا حراست کے مترادف ہے۔

 سعودی حکام لبنان کے اِن تمام اِلزامات کے مطلق اِنکاری ہیں ۔ فرانس امریکہ اور جرمنی نے سعودی مؤقف کو درست ٹھہرایا ہے جبکہ  روس  نے لبنانی مؤقف کی تائد کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ وہ اس معاملے کو  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھائے گا۔ امریکہ نے پینترا بدل کے  ایک طرف لبنان کی خود مختاری کی حمایت کی ہے تو دوسری طرف سعودی عرب کی تائید  کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعد حریری پوری طرح آزاد ہیں اور اُن کے اوپر کسی طرح کوئی دباؤ نہیں ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے، جو ڈونالڈ ٹرمپ ہی کی طرح اپنی صہیون دوستی اور اسلام دشمنی کے لیے مشہور ہیں ، اپنے ناقبل فہم بیان میں کہا ہے کہ ’’ لبنان میں کسی غیر ملکی فوج یا ملیشیا کی کوئی جگہ نہیں ہے !

 ‘‘کیونکہ لبنان میں سر دست یمن، عراق یا سیریا جیسے حالات کا کوئی شائبہ تک نہیں ہے !امریکہ کا یہ بیان بھی مبہم اور متضاد رویوں کا حامل ہے کہ ’لبنان کو درپردہ جنگ کے لیے استعمال نہ کیا جائے ‘ کیونکہ یہ بیان بادی ا لنظر میں خود سعودی عرب کے خلاف ہے۔ یہ سعودی عرب ہے  جو حزب ا للہ کے خلاف  علانیہ جنگ کی دھمکی دے رہا ہے جبکہ حزب اللہ لبنان کی حکومت کا ایک جزوِ لا یَنفِک ہے جسے لبنانی عوام کے ہر طبقے کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے، جو  بلا تخصیص مذہب و ملت  عرب عوام با لخصوص عرب نوجوانوں کے پسندیدہ ترین اور محبوب ترین شخصیتوں میں سے ایک ہیں ، اپنے ایک  حالیہ ٹی وی نشریے میں کہا ہے کہ’’سعد حریری کا استعفےلبنانی سیاست میں سعودی عرب کی راست مداخلت کے مترادف ہے۔ سعودی حکمراں  نہ صرف لبنانی وزیر اعظم کو ان کی مرضی کے خلاف ریاض میں روکے ہوئے ہیں بلکہ اسرائل کو بھی لبنان کے خلاف اُکسا رہے ہیں !

ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان تو بہانہ ہے فی الواقع ایران نشانہ ہے۔

یمن اور با لخصوص  سیریا میں اسرائلی مفادات کو بھاری نقصان پہنچنے کے بعد اب اسرائل اپنے قدیم اور ’’جدید ‘‘ دوستوں کے ساتھ مل کر حزب ا للہ اور ایران کو بیک وقت سبق سکھانا چاہتا ہے جنہوں نے  سیریا اور لبنان میں ، جو اسرائل کے براہ راست پڑوسی  ملک ہیں ، نام نہاد  گریٹر اسرائل کے قیام کے صدیوں پرانے  ابلیسی  خواب کو چکنا چور کرڈالا ہے !

قطر کی اقتصادی ناکہ بندی، اور سعودیہ میں ایوان اقتدار میں اندرونی مخالفین کا قتل عام اور بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ اور  گرفتاریوں  کے حالیہ واقعات اگر زبان حال سے کچھ کہہ رہے ہیں تو یہی کہ تیسری جنگ عظیم کے نئے  اور فیصلہ کن محاذ ، ابلیس اعظم  کے اشارے پر، شاید لبنان سعودی عرب اور   ایران میں کھولے جانے والے ہیں  !ایران، عراق اور سعودی عرب تینوں کو توڑ کر کم از کم  چھے نئے ملکوں کا قیام صہیونی ایجنڈے پر سر فہرست ہے جس کے بغیر اَب اُن کے خیال میں ’’عظیم تر اسرائل  ‘‘کا قیام، جس کی سرحدیں ’’نیل سے فرات تک ‘‘ہوں، ممکن نہیں !

لیکن سب سے بڑی متضاد خبر وہ ہے جو ’تہلکہ ٹوڈے ڈاٹ کام ‘ نے ۱۱ نومبر ۲۰۱۷  کو اپنے نیوز پورٹل پر  جاری کی ہے۔ اِس خبر کے مطابق سعودی عرب نے اپنے ملک کے شیعوں ، حزب اللہ اور ایران کی طرف دوستی  کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے جنت ا لبقیع کے مُنہدِم رَوضوں کی  دوبارہ تعمیر کی پیشکش کی ہے جو گزشتہ صدی  میں  موجودہ حکمراں خاندان کے سربراہ نے بر سر اقتدار آتے ہی مسمار کر ڈالے تھے ! یہ سانحہ ۲۱ اپریل ۱۹۲۵ مطابق ۸ شوال ۱۳۴۵ ھ کو پیش آیا تھا۔

تہلکہ ٹوڈے کا کہنا ہے اس خبر سے سب سے زیادہ پریشانی  اسرائل  کو ہے جو لبنان سیریا، سعودیہ اور ایران  کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُن پر اپنے  خاص ا لخاص دوستوں ، غلاموں اور چاکروں کو بر سر اقتدار دیکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ مغربی و وسطی ایشیا کی نئی جغرافیائی تقسیم کے اپنے شیطانی منصوبے پر بے روک ٹوک  عمل کر سکے ۔

’سچ‘  ان باہم متضاد اور متصادم خبروں کے درمیان کہیں گم ہے ! جس تک رسائی ہما شما کے بس کی بات نہیں ! ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ دنیا نہایت تیز رفتاری کے ساتھ بد ترین ’’عُسر ‘‘ سے گزرتے ہوئے بہترین ’’‘یُسر‘‘ کی طرف گامزن ہے !

مطلب یہ کہ دنیا بتدریج، ’ظلم سے عدل کی طرف اور فساد سے اصلاح کی طرف ‘بڑھ رہی ہے اور اسے روک پانا ابلیس کے بس میں بھی نہیں ہے۔ وہ اپنے دجال یا دجالوں کی مدد سے بلا شبہ تباہیوں اور بربادیوں کی ایک نئی روح فرسا داستان ضرور رقم کرے گا، لیکن،’ آخری ہنسی‘ انصاف کی ہوگی !اور یہ کوئی ’طلسم ہوشربا ‘ نہیں ! ہمارے اور آپ کے صادق و امین نبی ﷺ کا وعدہ ہے! جس پر قرآن کی یہ مہر ثبت ہے کہ۔ ۔مکرو ا و مکر ا للہ و ا للہ خیر ا لماکرین۔ ۔!

مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close