سائنس و ٹکنالوجی

 جینیٹک اور نوع انسانی کا مستقبل

ادریس آزاد

جینیٹک انجنئرنگ کسی جاندار کے ڈی این اے کو مختلف ٹکڑوں میں کاٹنے اور پھر دوبارہ سے جوڑنے کے علاوہ اُن میں نئےنئے جینز داخل کرنے یا پرانے جینز نکال باہر کرنے کے عمل کا نام ہے۔ بظاہر جینیٹک انجنئرنگ کا مقصد انسانوں سمیت تمام جانداروں میں ایسے مفید جینز داخل کرنا ہے جو اُن کی صلاحیتوں میں بہتری لانے کاباعث ہوں یا ایسے جینز کا نکال باہر کرناہے جو اُن کی صحت یا سروائیول کے لیےنقصان دہ ہوں۔

جینیٹک انجنئرنگ فی الحقیقت ہزاروں سال پرانا علم ہے۔ اور اِس علم کےبنیادی خالق، عام دہقان یا مالی ہیں۔ خاص طور پر گندم، مکئی اور چاولوں کی کاشت بہتر بنانے اور انسانوں کی پیداواری ضرورتیں پوری کرنے کے لیے ان پودوں کے جینز پر خودکار طریقے سے صدیوں سے سائنسی اندازکا کام جاری ہے۔

پودوں کے علاوہ جانوروں کی بھی کئی اقسام ماضی قدیم کا انسان انجانے میں جینیٹک انجنئرنگ کے ذریعے خود پیدا کرچکاہے مثلاً خچر ماضی میں ہونے والی خودکار جینٹک انجنئرنگ کی عمدہ مثال ہے۔

1627 عیسوی میں فرانسس بیکن نے اپنی کتاب ’’نیو اٹلانٹس‘‘ میں جینٹک انجنئرنگ کے مستقبل کی پیشگوئی کردی تھی۔

دوسوسال بعد جان گریگر مینڈل نے مٹر کے پودوں کی افزائش کا بہت باریکی سے مطالعہ کیا ۔ مینڈل کے نتائج کی اشاعت نے ماڈرن جینٹک انجنئرنگ کو جنم دیا۔ فی زمانہ انسان کا مکمل ’’جینوم پراجیکٹ‘‘ جان لیا گیا ہے اور جین تھراپی کامیابی کے ساتھ مکمل کی جاچکی ہے۔ جینٹک انجنئرنگ کے میدان میں اب، جینٹک سیلیکشن، جین تھراپی، سٹیم سیلز اور کلوننگ پر سائنس تیزی سے کام کرکررہی ہے۔ چنانچہ اب جینٹک سائنس نے اُن معلومات کو سمجھنا شروع کردیا جوڈی این اے میں درج ہوتی ہیں۔

جین تھراپی کا پہلا کامیاب کیس 14 ستمبر 1990 میں درج کیا گیا۔ یہ ایک چارسالہ بچی، شانتی کی لاعلاج بیماری کا علاج تھا۔ شانتی کا امیون سسٹم خراب تھا۔ وہ پیدائشی طور پر کسی بھی بیماری سے لڑنے کی صلاحیت نہ رکھتی تھی۔

بچی کی زندگی کسی عذاب سے کم نہ تھی اور اس کے والدین اسےہمیشہ انسانوں سے الگ شیشے کے ایک بند اور ہرلحاظ سے محفوظ میں کمرے میں قید رکھتےتھے، کیونکہ اگر اسے محض زکام بھی ہوجاتا تو اس کا علاج والدین کے لیے ایک طویل سردرد بن جایا کرتا تھا۔
جین تھراپی کے ذریعے شانتی تندرست ہوگئی۔

سائنسدانوں نے اسکے سیلز میں صحت مند جینز داخل کردیے، جنہوں نے بیمار جینز کو بھی صحت مند بنا دیااور شانتی معاشرے میں رہنے کے قابل ہوگئی۔ بعدازاں جین تھراپی کے ذریعے ’’سسٹک فائبروسس‘‘ سمیت کئی موذی، موروثی بیماریوں کا علاج کیا جانے لگا، جن کا علاج جین تھراپی سے پہلے ممکن نہیں تھا۔

یہ بیماریاں اسلیے لاعلاج تھیں کیونکہ یہ بیماریاں پیداہونے والے بچے کے جینز میں شامل ہوتی تھیں۔ جن کے لیے کوئی ایسی دوائی ایجاد نہ کی جاسکتی تھی جو جینز کی انفارمیشن کو جاکر تبدیل کردے۔ جینٹک انجنئرنگ نے ایسی تمام بیماریوں کو قابل ِ علاج بنادیا۔ جینٹک انجنئرنگ کے بعد اولادِ نرینہ کا مسئلہ بھی ہمیشہ کے لیے حل ہوچکاہے۔

آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے ہاں بیٹا پیداہوتو اُس لاڈلے کی پیدائش کے لیے اب ضروری نہیں کہ آپ سات آٹھ بیٹیاں اوپر تلے پیدا کرڈالیں۔ اب ہم چاہیں تو اپنی مرضی کا جینڈرپیدا کرسکتے ہیں۔ بیٹا چاہیے تو بیٹا اور اگر بیٹی چاہیے تو بیٹی۔

بچپن میں ایک نابیناحافظ ہماری مسجد میں توحید ِ باری تعالیٰ پر ایک نظم پڑھا کرتے تھے، جس کے چندمصرعے اب بھی مجھے یادہیں،

کِتے دھیّاں دتّی جاندا نی
کِتے نِرے پُتَر عطاندا نی
کِتے رلویں بارش پاندا نی
اَتے کئیّاں لئی انکار

آج سوچتاہوں کہ اللہ نے اپنی یہ صفت بھی انسان کو ودیعت کردی ہے۔

جبکہ دوسری طرف، یہ سوال کہ کیا انسانوں کو بھی ضرورت کے تحت ڈیزائن کیا جانا مناسب بات ہے؟ آج بچہ قدرت کی مرضی سے پیدا ہوتاہے لیکن اگر جینٹک انجنئرنگ کی ترقی کی یہی رفتاررہی تو آنے والے کل میں پہلے سے طے شدہ ڈیزائن کے مطابق بچے پیدا کیے جاسکین گے۔ اگرکوئی جوڑا یہ چاہے گا کہ اس کا بیٹا طاقتورہو، ذہین ہو، چست ہو، ایتھلیٹ ہو، درازقد ہو، خوبصورت ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو وہ اپنی مرضی کا بچہ پیدا کرسکینگے۔

ماہرین کاکہنا ہے کہ آنے والے دس سے پندرہ سال میں دنیا کا سب سے بڑا اِشُو جینٹک انجنئرنگ کی صورت میں ظاہر ہونے والا ہے۔ سب سے بڑا سوالیہ نشان خود انسان کے تشخص پر قائم ہوجاتاہے۔

کیا انسان ایک مخلوق سے ایک پراڈکٹ بن جائیگا؟

جینٹکلی انجنئرڈ انسان کو اُس کے کمالات اورخوبیوں کے لیے کس قدر خراج ِ تحسین پیش کیا جاسکے گا؟

کیونکہ فرض کریں ایک شخص پچیس سال کی عمر تک غریب تھا اور خود میں وہ قابلیتیں پیدا کرنا اس کے بس کی بات نہ تھی جو جینٹکلی انجنئرڈ انسانوں میں وہ دیکھتا تھا۔ لیکن بعد میں اس کے پاس پیسے آگئے اور اس نےاپنے ڈی این اے میں تبدیلی کرواکے خود کو تبدیل کروالیا۔ کیونکہ ایسا ہونا چنداں مشکل نہ ہوگا۔

آج کل ہم سلمنگ سینٹر کے جو اشتہارات دیکھتے ہیں۔ جن میں ایک شخص کی دو تصویریں ساتھ ساتھ دی ہوتی ہیں۔

ایک موٹی اور ایک پتلی۔ موٹی پر لکھا ہوتاہے،پہلے (Before)اور پتلی پر لکھا ہوتاہے، بعد میں (After)۔ بعینہ اسی طرح جینٹک انجنئرنگ کے ہسپتالوں کی مشہوریاں شائع ہونگی۔ ’’پہلے‘‘ اور’’بعد‘‘۔

جبکہ پہلے اور بعد میں، اب کےجوفرق ہوگا وہ دو الگ الگ انسانوں کا فرق ہے، جو جینز میں تبدیلی کی وجہ سے پیداکیا گیا۔ پھر یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ اچھی اور بری خصوصیات کون طے کریگا۔ اگر جینٹک انجنئرنگ اپنے سفر پر اسی طرح جاری رہی توایک وقت میں تمام انسانوں کی زیادہ تر کوالٹیز میں یکسانیت پیدا ہوجائیگی۔

ہر کوئی اچھی خصوصیات کی طرف بھاگے گا۔ جس طرح ہٹلر نے اپنے طور پر چاہا تھاکہ نازیوں میں کمزور اور سست لوگوں کی پیداوار کم ہوتی جائے اور طاقتور اور ذہین لوگوں کی پیداوار بڑھتی چلی جائے تو ایک دن ساری نازی قوم ہرلحاظ سے دوسری اقوام سے برتر ہوگی۔ ایسے تجربات قدیم سپارٹنز بھی کامیابی کے ساتھ کرچکے تھے۔

سپارٹنز اور ہٹلر کی کاوشوں کو اخلاقی طور پرناپسندیدہ قرار دیا گیا لیکن جینٹک انجنئرنگ کے ذریعے پیدا ہونے والی یہی خصوصیت کس طرح بری قرار دی جاسکے گی، جب کسی معصوم کا قتل نہ ہورہاہو؟

سائنس نے تمام ہیومن جینوم کو ڈاکومنٹ تو کرلیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں وہ ابھی انسانی جینز کے بارے میں سب کچھ جان گئے ہیں۔ کچھ جینز ایسے ہیں جو متعدد خصوصیات کے لیے اکیلے ذمہ دار ہیں۔

چنانچہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ انسان کس قدر جلد نئی نوع پیدا کرنے کے قابل ہوسکے گا کیونکہ نئے اعضا کا اضافہ یا پرانے اعضا کی کمی یا کسی خاص صلاحیت کا اضافہ، کامیابی کے ساتھ تب ہی ممکن ہوسکے گا جب جینٹک انجنئرنگ کے ماہرین ان حادثات سےمحفوظ رہنے کے قابل ہوجائینگے جو تجربات کے دوران پیش آسکتے ہیں۔

مثال کے طو رپراگر آپ ایک کتے اور ایک انسان کے جینز کو ملا کر ایک ایسا کتا پیدا کرنا چاہتےہیں جو انسانوں کی طرح سے سوچ سکے تو ایسا ممکن ہوسکے گا لیکن ایسا تجربہ ممکن ہےکئی دہائیوں تک عجیب الخلقت کتے پیدا کرنے کاباعث بنتا رہا جن میں سے کسی کی پیٹھ پر انسانی کان لگا ہوا تو کسی کے سر پر انسانی آنکھیں۔

ماہرین اس بات پر بھی فکرمند ہیں کہ مستقل میں معاشی فرق، جینیاتی فرق کی صورت ظاہر ہوسکتاہے۔ امیراور امیروں کے بچے بے پناہ ذہین اور طاقتور ہوجائینگےجبکہ غریب اور غریبوں کے بچے نارمل رہینگے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ فرق خلیج بنتا چلاجائے گا اور دو مختلف انسانی انواع وجود میں آجائینگی۔ یعنی جینٹکلی انجنئرڈ انسان عیاشیاں کرتاپھررہا ہوگا تو نارمل انسان بھیک مانگنے والی قطاروں میں کھڑا نظرآئے گا۔ انشورنس کے مسائل یکسر مختلف ہوجائینگے۔

ہرانشورنس کمپنی کو کیس ٹو کیس سٹڈی کے بعد انشورنس پالیسی جاری کرنا ہوگی اور بعد میں بھی اپنے کلائنٹ کا سال بہ سال معائینہ ضروری ہوجائیگا۔ ہم آج کوئی بھی فیصلہ کریں لیکن فی الوقت سائنسدان انسانی جسم کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے دن رات جینٹک انجنئرنگ میں مصروف ہیں اوران گنت ایسی تبدیلیاں ہونے والی ہیں جن کو وقوع پذیر ہونے سے روکا ہی نہیں جاسکتا۔

2004میں سائنسدانوں نے فوجیوں کے ایک گروپ پر کامیاب تجربہ کیا اور انہیں خوراک میں کیرنٹین (Carntine)کی ایک تبدیل شدہ حالت استعمال کروائی۔

یہ ایک پروٹین ہے جو ہمیں دیکھنے (نظر) میں مدد دیتی ہے۔ صرف خوراک میں اس قدر تبدیلی سے فوجیوں کے اس گروپ میں وقتی طور پر انفراریڈ وژن کی صلاحیت پیدا ہوگئی۔ یہ بالکل آسان ہے اورعام خوراک کے ذریعے ممکن ہے کہ انسانی آنکھ کی جینٹکس تبدیل کرکے اس میں انفراریڈوژن پیدا کردیا جائے، تب لوگ انفراریڈ کے ذریعے دیکھنے کے قابل بھی ہوجائینگے۔

سائنسدان اس پر بھی غور کررہے ہیں کہ ایک عقاب کی آنکھوں کو بنانے والے جینز کون سے ہیں جنکی مدد سے وہ دور تک دیکھتاہے تاکہ وہی جینز انسانی آنکھ کے جینز کے ساتھ ملاکر نئی انجنئرنگ کی جاسکے۔ سب سے خطرناک تجربات جو کیے جارہے ہیں وہ انسانی عمر کوطویل کرنے کے جینز ہیں

۔ چوہوں میں کامیاب تجربات کیے جاچکے ہیں جن کے مطابق چوہوں کی عمر جینٹک انجنئرنگ کے ذریعے دس سےپندرہ فیصد تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ چونکہ انسان اور چوہے کے جینز کافی ملتے جلتے ہیں اس لیے یہ ممکن ہے کہ انسانی عمر بھی جینٹک انجنئرنگ کے ذریعے جلد ہی بڑھا لی جائے۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close