سائنس و ٹکنالوجی

سوشل میڈیا: تصویر کے دو پہلو

سوشل میڈیا کا استعمال لوگوں کو جہاں فائدہ پہنچا رہا ہے وہیں بہت سی اخلاقی اور معاشرتی برائیوں میں بھی مبتلا کر رہا ہے

سیدہ تبسم منظور ناڈکر

دور حاضر الیکٹرانک میڈیا کا ہے اور یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس کا استعمال کس لئے اور کس طرح کرتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ اس میں اچھائی بھی ہے اور برائی بھی ہے۔ سوشل میڈیا کا کردار بہت نمایاں ہوگیا ہے اس وجہ سے بچے۔ ۔ ۔ ۔ جوان۔ ۔ ۔ بزرگ۔ ۔ ۔ عورت ومرد سبھی لوگ اس سے جڑ گئے ہیں اور اسے چوبیس گھنٹوں کا اپنا ساتھی بنالیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا واٹسیپ، فیس بک، یوٹیوب اور دیگر ویب سائٹس  کے بے شمار فائدے ہیں۔ ان کی وجہ سے آج دنیا سمٹ کر مٹھی میں آگئی ہے، خبروں کی ترسیل، معلومات کی فراہمی، سماجی ومعاشی معاملات حتی کہ قوم ومذہب کا فروغ سب کچھ بلکل آسان سے آسان تر ہوگیا ہے۔ جن خبروں کو پہنچنے میں مہینوں لگتے تھے، خط لکھنے اور پہنچنے میں مہینہ درکار ہوتا آج سیکنڈ میں بات ایک دوسرے تک پہنچ جاتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے کے لئے ترس جاتے تھے آج ویڈیو کالنگ سے ایک دوسرے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ حقیقت بھی ہے کہ ان سماجی رابطوں نے سماج ومعاشرے پر برائی کے بہت ہی گہرے اثرات بھی چھوڑے ہیں۔ جن کی لپیٹ میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں سے لیکر بچے بچیاں اور عمرداز لوگ تک ہیں۔ اس جدید دور میں ہمارے پاس معلومات اور پیغامات کا ایک ہجوم ہے جو ہر جگہ پھیلتا چلا جارہا ہے۔ محض ایک کلک پر دنیا جہاں کی معلومات آپ کے سامنے ہوتیں ہیں۔ ہم اس ہجوم میں اس قدر الجھ گئے ہیں کہ ہمارے اقدار ہمارا علم اور ہماری تخلیقی صلاحیتیں بالکل ختم ہوتی جارہی ہیں۔ ہماری نوجوان نسل اسی وجہ سے اپنی زندگی کے مقصد کو بھولتی جارہی ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کی خبر نہیں رکھ پاتے لیکن سات سمندر پار بیٹھے دوستوں سے واقف ہوتے ہیں ان کو پیغامات بھیجتے ضرور نظر آتے ہیں۔ گھر میں کس کو کیا تکلیف ہے اس سے بے خبر ہیں۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ویب سائیٹس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا سوشل میڈیا کی وجہ سے آج فاصلے سمٹ کر کم ہو گئے ہیں۔ ہزاروں میل دور سے انسان اپنے سارے مسئلے گھر بیٹھ کر حل کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کی بدولت آج دنیا میں فیس بک۔ ۔ موبائل ایس ایم ایس، واٹسیپ  فوری طور پر ملنے والی عوامی خبروں کی ویب سائیٹس ہیں۔ گذشتہ چند سالوں کے دوران سوشل میڈیا کے صارفین میں بہت اضافہ ہوا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ مزید اور بڑھ بھی  رہا ہے مگر جس طرح ہر چیز کے مثبت اور منفی دونوں  پہلو  ہوتے ہیں۔ ایسا ہی حال سوشل میڈیا کا بھی ہے جہاں سوشل ویب سائیٹس انفرادی  سطح پر باہمی رابطوں کا ذریعہ اور اطلاعات اور خبروں کی ترسیل کا اہم ترین وسیلہ بن کر سامنے آئی ہے، وہیں ان کی وجہ سے معاشرے میں بہت سی اخلاقی اور سماجی خرابیوں نے بھی جنم لیا ہے۔ ایسے معاشرے میں ہم بھی ہیں۔ جہاں ہر ٹیکنالوجی کے منفی اثرات۔ ۔ ۔ ۔ مثبت اثرات سے کہیں زیادہ ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی کئی ویب سائیٹس ہیں۔ جس میں فیس بک کی اہم مثال ہے جو کچھ وقت پہلے تک خبروں کے پھیلانے اور علم حصول میں اہم ترین ذریعہ تھیں۔ مگر آج ہمارے سماج میں کئی افراد ایسے ہیں جو ان سائیٹس کا غلط طور پر استعمال کرتے ہیں۔ لوگوں کو بدنام۔ ۔ ۔ من گھڑت خبریں اور فحش ویڈیو اور تصاویر پھیلانے میں اور تصویروں کو چھیڑ چھاڑ کر کے لوگوں کو بلیک میل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس نے بچوں کوسب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ان کی جذباتی اور ذہنی  صیحت متاثر  ہورہی ہے۔ روزانہ اپنا زیادہ وقت سوشل میڈیا  پر گزارنے والے بچوں میں جذباتی مسائل، ہائپر ٹینشن  اور خراب رویہ  پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ آج کے دور میں بچوں نے اپنی تعلیم اور کتابوں سے زیادہ سوشل میڈیا میں دلچسپی لی ہے۔ ایک دور تھا جب بچے اسکول جاتے اور پھر گھر آکر اپنی پڑھائی پر توجہ دیتے تھے اور کچھ وقت کھیل کود کو دیا کرتے تھے۔ کہانیوں کی کتابیں۔ ۔ ۔ قرآن وحدیث کی کتابیں پڑھا کرتے۔ ۔ ۔ جس سے وہ ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رہتے۔ مگر جب سے انٹرنیٹ، موبائل کے ذریعے سوشل میڈیا آبسا ہے تب سے کھیل کود آؤٹ ڈور گیم کھیلنا ہی بند ہوگئے۔ موبائل پر نہ جانے کئی طرح کے گیم ڈاؤن لوڈ کر کے کھیلے جاتے ہیں۔ بس سال میں ایک بار اسکول میں اسپورٹس ہوتے ہیں۔  سب سے زیادہ متاثر نوجوان نسل اور کم عمر بچے ہو رہے ہیں۔

 آج بچے اپنا سارا  وقت موبائل اور کمپیوٹر کے استعمال میں صرف کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ کئی نوجوان تو فیک آئی ڈیز کے ذریعے کالج اور اسکول کی لڑکیوں کی تصاویر لگا کر معصوم لڑکیوں کو بیوقوف بناتے ہیں اور اپنے انجوائمنٹ کے لئے اپنا اور دوسروں کا وقت بھی برباد کر رہے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ دوسروں کے جذبات اور احساسات سے کھیل کر خوشی محسوس کرتے ہیں، تو دوسری طرف زیادہ تر لڑکیاں فلمی اداکاراؤں یا ماڈلز کی خوبصورت تصویریں لگا کر لڑکوں کو متاثر کرنے کوشش میں مصروف رہتی ہیں اور پھر کسی کے ساتھ محبت کے جھانسے میں  پھنس کر  مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ لڑکے صرف دل لگی کر رہے ہوتے ہیں۔  اور دوستی کے نتیجے میں ملاقات کے بہانے بہت سی لڑکیاں جنسی زیادتی کا بھی شکار ہوجاتی ہیں۔ آج کیونکہ سوشل میڈیا کی بدولت جنسی ویب سائٹس تک رسائی آسان ہوچکی ہے لہذا نو عمر بچے خاص طور پر لڑکے  اخلاقی اور جنسی بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ وہ اپنا  سارا وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اپنی ذہنی اور جسمانی صحت خراب کر بیٹھتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر ہر قسم کی معلومات شئر کرنے کے بھی بہت خراب نتائج سامنے آرہے ہیں۔ لوگوں میں نفرت، بدلہ، حسد اور جلن جیسے مضر اثرات پیدا ہو رہے ہیں۔ بچوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے۔ بچوں کے معاملے میں لاپروائی کے زمیدار والدین ہیں جو اپنے بچوں کو موبائل اور کمپیوٹر کا زیادہ استعمال کرنے سے نہیں روکتے اور نہ ہی ان پر نظر رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ نہ انہیں وقت کا پابند بناتے ہیں۔ ۔ ۔ نہ یہ دیکھتے ہیں کہ بچے اپنا سارا وقت کیوں اور کہا گزار رہے ہیں۔

غرض سوشل میڈیا کا استعمال لوگوں کو جہاں فائدہ پہنچا رہا ہے وہیں بہت سی اخلاقی اور معاشرتی برائیوں میں بھی مبتلا کر رہا ہے لوگوں کی زندگی سے سکون ختم کرنے کا اہم سبب بن رہا ہے۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ ہر شخص اس کا استعمال اعتدال میں رہ کر کرنا سیکھے اور خود کو ان چیزوں کا عادی بنانے کے بجائے صرف ضرورت کے تحت ان سے فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کریں، اس طرح سے ہر قسم کی پریشانی پر قابو پایاجاسکتا ہے۔ بچوں کو بچپن سے ہی اسلامی تربیت سے آراستہ کرنا اور ان کے اخلاق و کردار کو پروان چڑھانا ضروری ہے۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ بچپن کے ابتدائی ایام میں ہی ذہنی نشوونما وجسمانی صلاحیتیں تیزی سے پروان چڑھتی ہیں۔ اس عمر میں بچے ہرسنی سنائی  بات اپنے ذہن میں محفوظ کرتے ہیں۔ ۔ ۔ آنکھوں سے دیکھا ہوا پتھر پر نقش کی طرح ہوتا ہے اور تیزی سے نئی نئی باتیں سیکھنے لگتے ہیں۔ بچپن کے اسی مرحلے پر مستقبل کا دارومدار ہوتا۔ شوشل میڈیا کا استعمال ضرورت کے لحاظ  سے کریں تو فائدہ مند ہوسکتاہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close