سائنس و ٹکنالوجیطب

مائیگرین وِد اورا

اِس کا حملہ ہونے کے بعد کس طرح انسان کسی کام کا نہیں رہتا اور سارا دن بلکہ آنے والے دو تین دن کتنی تکلیف میں گزرتے ہیں۔

ادریس آزاد

آج کا سارا دِن مائیگرین و ِد اورا (Migraine with Aura) پر ریسرچ کرتے ہوئے گزرگیا۔ حالانکہ آج مجھے ایک پراجیکٹ دینا تھا، لیکن کیا کرتا آج صبح آنکھ کھلتے ہی، مائیگرین کا شدید اٹیک ہوگیا۔

مائیگرین کے مریض جانتے ہیں کہ اِس کا حملہ ہونے کے بعد کس طرح انسان کسی کام کا نہیں رہتا اور سارا دن بلکہ آنے والے دو تین دن کتنی تکلیف میں گزرتے ہیں۔

میں چونکہ ۱۹۸۲ سے اِس مرض کا شکار ہوں اِس لیے اِس مرض کا بہت پرانا تجربہ اور طرح طرح کے واردات سے واقف ہوں۔ ایک سال قبل تک مجھے مائیگرین کی اِس قسم کا جو مجھے لاحق ہے جدید طبّی نام معلوم نہیں تھا۔

اس بات کو سال نہیں ہوا کہ مجھے اس کا نام معلوم ہوا اور تب سے اب تک کوئی ایسا مائیگرین اٹیک نہیں گزرا جس کے بعد میں نے طویل گوگلنگ نہ کی ہو۔ آج تو پھر یوٹیوب بھی کھل گئی ہے، سو میں اب تک مسلسل ’’مائیگرین و ِ د اورا‘‘ پر مختلف ویڈیوز دیکھتارہا۔

۱۹۸۲ میں، مَیں ٹانک کے ہائی سکول نمبر ۱ میں، آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ میں کلاس کا ایک لائق سٹوڈینٹ تھا اس لیے مجھے کم ہی مار پڑتی تھی لیکن ایک دِن میری انگریزی کی کتاب کا ٹائٹل پھٹا ہوا تھا اور اس بات کے لیے مجھے ماسٹر برکت اللہ بھٹنی نے ہتھیلیوں پر چھڑیاں مارنے والی سزا دی۔

برکت اللہ اُستاد کی عادت تھی کہ وہ جب بھی کسی کو سٹِک مارتے تھے تو بہت زیادہ تعداد میں مارتے تھے۔ وہ گنے بغیر تیزی سے مارتے چلے جاتے تھے، اگر کوئی ہاتھ پیچھے ہٹا لیتا تو سٹِک سر پر یا کندھے پر پڑتی تھی اس لیے کوئی ہاتھ پیچھے نہ کرتا تھا اور تابڑ توڑ سٹکس سہتا چلا جاتا تھا۔

برکت اللہ استاد جب کسی کو سٹکس مارنا شروع کرتے تو عموماً کلاس دل ہی دل میں سٹکس کی تعداد گننا شروع کردیتی تھی۔ اس روز مجھے پسینٹھ سٹکس لگی تھیں۔

میں سزا بھگت کر اپنے بنچ پر آیا تو مجھے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک ہالہ سا محسوس ہوا۔ میں نے گھبرا کر اِدھر اُدھر، ہرطرف دیکھا اور وہ واقعی ایک ہالہ تھا جس کا حاشیہ (بارڈر) دندانے دار تھا جسے انگریزی میں زِگ زیگ پیٹرن کہتے ہیں۔ ہالہ پھیلتا چلا جارہا تھا اور مجھے نظر آنا بند ہوتا چلا جارہا تھا۔ بہرحال وہ میرا پہلا اٹیک تھا۔ پھر عمر بھر میرے ساتھ یہ ہوتا رہا حتٰی کہ اب تک۔

خیر! تو مائیگرین و ِ د اورا مائیگرین کی ایک خاص قسم ہے جو مائیگرین کے کُل مریضوں میں سے بیس فیصد لوگوں کو لاحق ہوتی ہے۔

اس میں مائیگرین کا حملہ ہونے سے پہلے آنکھوں کے سامنے اچانک ایک ہالہ سا نمودار ہوجاتاہے جو آنکھیں بند کرنے پر بھی قائم رہتاہے۔ یہ چمکدار ہوتاہے۔

اس کا حاشیہ بہت سی مثلثوں یعنی زگ زیک شکل میں بنا ہوتاہے۔ لوگوں کے چہرے نظر نہیں آتے۔ اُن پر بھی یہ ہالہ سا دکھائی دیتاہے۔ وژن خراب ہوجاتاہے۔ یہ ہالہ پہلے پھیلتا اور بڑا ہوتا رہتاہے اورپھر آہستہ آہستہ آنکھوں کے کناروں سے غائب ہونے لگتا ہے۔

جب یہ ہالہ (اورا) مکمل طور پر غائب ہوجائے تو سر میں درد کا آغاز ہوجاتاہے جو عموما آدھے سر کا درد ہوتاہے جسے درد ِ شقیقہ یا مائیگرین کہتے ہیں۔ یہ درد بہت تکلیف دہ ہوتاہے۔ مائیگرین کاحملہ ہوتے ہی اِس مریض فورا لیٹ جاتے ہیں۔ آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور روشنی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مائیگرین ود اوررا دوسرے مائیگرینز سے مختلف ہے اور اس کا ایک فائدہ اور ایک نقصان دوسری قسم کے مائیگرینز سے ہٹ کر ہے۔ فائدہ یہ کہ اورا کی وجہ سے ہم بروقت جان جاتے ہیں کہ پندرہ بیس منٹ بعد شدید سردرد ہونے والا ہے چنانچہ وقت پر دوائی لی جاسکتی ہے اور مائیگرین میں شدید سر درد سے بچا جاسکتاہے۔

اس کے برعکس مائیگرین ود اورا کا نقصان یہ ہے کہ اسے ماہرین مِنی سٹروک کے مماثل قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جس طرح منی سٹروک میں دماغ کو خون دینے والی شریان میں کلاٹ آجاتی ہے اسی طرح اورا بھی ایسی کلاٹ کا نتیجہ ہے۔

یہ کلاٹ دماغ کی طرف اچانک خون کا بہاؤ رُک جانے کی وجہ سے کسی باریک شریان میں کچھ دیر کے لیے بنتی ہے اور پانچ سات منٹ میں دوبارہ شریان کھُل بھی جاتی ہے۔ لیکن اس ایک بندش کے دوران دماغ میں جو الیکٹروکمیکل تبدیلی واقع ہوتی ہے اس کا شاک کسی لہر کی طرح پورے دماغ میں پھیلتا چلا جاتاہے۔

سر کے پچھلے حصے میں جہاں بصارت کا عصبی نظام ہے۔ ایسا ہی الیکٹروکیمیکل دھچکا لگنے پر مائیگرین ود اورا کا آغاز ہوجاتاہے۔ چونکہ یہ منی سٹروک سے مماثل ہے اس لیے میجر سٹروک سے بچنے کی تدابیر کا اختیار کیے رکھنا مریض کے لیے ضروری ہوجاتاہے۔

مائیگرین ود اورا کے مریض کے لیے ضروری نہیں کہ اسے ہر بار ’’اورا‘‘ دکھائی دینے کے بعد سردرد بھی ہو۔ کئی دفعہ فقط ’’اورا‘‘ ہی پیدا ہوتا اور ختم ہوجاتاہے۔ ’’اورا‘‘ کا حملہ عموماً ڈپریشن، رَش، ٹریفک، مسنگ فُوڈ، بسیار خوری، نیند کی کمی، کثرتِ جماع، تیزروشنی کے آنکھوں میں اچانک پڑجانے، گیسٹرک ٹربل یا بہت زیادہ کام کرنے اور فٹیک لینے سے ہوتاہے۔مائیگرین ود اورا کے دوران کسی بازو میں چیونٹیاں بھی دوڑتی ہوئی محسوس ہوسکتی ہیں جو ہاتھ کی انگلیوں کے سُن ہوجانے سے شروع ہوکر کہنی تک چُبھتی محسوس ہوتی ہیں یا جبڑے میں ایسی ہی کیفیت محسوس ہونے لگتی ہے۔

کسی بھی قسم کے مائیگرین سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں ماسوائے اس کے کہ اُن وجوھات سے بچا جائے جن سے اچانک حملہ ہونے کا خطرہ ہے۔

مائیگرین کا مریض عموماً سعی و خطا کے اصول پر اپنے طریقہ ہائے علاج خود دریافت کرتا اور بیماری کے حملے کے دوران اپنی مدد آپ کے تحت اس کو بھگتتا ہے۔ اگر مائیگرین ود اورا پرانا ہو تو پینتالیس سال کی عمر سے بڑے لوگوں کو میجر سٹروک کا خطرہ لاحق ہوتاہے۔ میچر سٹروک میں برین ہمبرج، فالج، یاداشت کا کھوجانا یا کومہ ہوسکتاہے۔

مائیگرین ود اورا سے پیدا ہونے والے میجر سٹروک کے خطرہ بچنے کے لیے امریکن ہیڈک ایسویسی کے صدر ڈاکٹر نے ایک بے بی ایسپرین روزانہ، تجویز کی ہے۔ انہوں نے منی سٹروک والی بات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم حتمی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ اورا منی سٹروک جیسا خطرناک بھی ہے۔ ننانوے فیصد مریضوں کے ساتھ ایسا نہیں ہے‘‘۔

لیکن یوٹیوب پر ایک ہندوستانی مریض نے کلونجی کے تیل کے بارے میں بڑے یقین کے ساتھ بتایا ہے کہ اُس کی تکلیف تقریباً رفع ہوگئی اور یہ کہ کلونجی کا تیل متواتر لینے سے یہ مرض مکمل طور پر ختم ہوسکتاہے۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close