سائنس و ٹکنالوجی

معرکۂ جُزو و کُل

ادریس آزاد

کائنات کی ساخت سے متعلق آئن سٹائن اور نیل بوھر کے درمیان ہونے والے، نہایت اہم اور بنیادی طویل علمی مباحثہ کی داستان جدید فزکس اور جدید فلسفہ کے طلبہ کے لیے آئن سٹائن اور بوہر کے درمیان برپا ہونے والے معرکہ سے زیادہ کوئی شئے دلچسپ نہیں۔ علمی لوگوں کے اختلاف بھی علمی ہوتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے بالکل برعکس سوچ رہے تھے۔ لیکن دونوں ایک دوسرے سے بے حد پیار کرتے تھے۔ کیونکہ بظاہر اگر بوھر کی "اِنٹینگلمنٹ” درست تھی تو آئن سٹائن کی اضافیت غلط تھی اور اگر آئن سٹائن کی اضافیت درست تھی تو بوھر کی اِنٹینگلمنٹ غلط تھی۔ اضافیت کی بنیاد اِس اُصول پر ہے کہ،

"کوئی بھی شئے روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار پر سفر نہیں کرسکتی”

بوھر کی اِنٹینگلمنٹ کے مطابق "سفر” اور "رفتار” کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ آئن سٹائن کا بس نہ چلتا تھا کہ وہ بوھر کے ماڈلز اور کوانٹم فزکس کی عجیب و غریب باتوں کا رد کرسکے۔ اس نے پہلے ایک تھاٹ ایکسپیری منٹ تجویز کیا اور بعد میں دوسرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایک کے بعد ایک توجیہہ پیش کرتا رہا لیکن کوانٹم فزکس تھی کہ اپنے اِس خیال پر بضد تھی کہ،

"کائنات کے کسی ایک نقطے پر پیش آنا والا کوئی واقعہ۔۔۔۔۔۔ دُور بہت دُور یہاں تک کہ لاکھوں نوری سال کے فاصلے تک دُور۔۔۔۔۔۔۔۔کائنات کے کسی اور نقطے پر پیش آنے والے واقعہ کو ایک ہی وقت میں متاثر کرسکتاہے۔”

آئن سٹائن نے اِس عجیب و غریب خیال پر "سپُوکی ایکشن” کی پھبتی کسی۔ بالفاظ ِ دگر یہ کہ "اِنٹینگلمنٹ کی حیثیت ایسی ہے جیسی گدھے کے سر پر سینگ کی”۔ اس نے کہا "یہ بے معنی بات ہے اور اس کا مطلب یہ ماننا ہے کہ روشنی کی رفتار سے بھی کہیں زیادہ تیز مواصلاتی رابطہ ممکن ہے۔ یہ ایک ایسی بات تھی جو آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت کے سراسر خلاف تھی۔ آئن سٹائن کا تھاٹ ایکسپیری منٹ بعد میں تھاٹ ایکسپیری منٹ نہ رہا بلکہ لیبارٹری میں منعقد کیے جاسکنے والے تجربے کی صورت اختیار کرگیا۔ اور فی زمانہ اس تجربہ کو بآسانی دہرایا جاسکتاہے۔ بار بار کے تجربے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ:

"کوانٹم اینٹینگلمنٹ فی الحقیقت وجود رکھتی ہے” البتہ اِس بات کی دیگر توجیہات میسر آگئیں کہ اضافیت کے قوانین کو کوانٹم سے جو فوری خطرہ محسوس ہورہا تھا وہ بجا نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی کوانٹم نے فزکس اور کائنات کی ساری کہانی کا رُخ نہایت انوکھے جہانوں کی طرف موڑ دیا۔

آئن سٹائن نے کہا، حقیقت خارج میں ہم سے الگ وجود رکھتی ہے۔

بوھرنے کہا، حقیقت صرف ایک لفظ ہے اور ہمیں سیکھنا ہوگا کہ اِس لفظ کو استعمال کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

حقیقت کے بارے میں بوھر نے ایک بالکل ہی مختلف نظریہ اختیار کیا۔ اُس کا کہنا تھا کہ حقیقت نامعلوم بھی ہے اور ناقابل ِ معلوم بھی یہاں تک حقیقت میں حقیقت کے بطور حقیقت کوئی معانی ہی نہیں ہیں۔ بوھر نے کانٹ کے مسئلہ "تھنگ اِن اِٹ سیلف”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(شئے فی الذات)۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی "شئے”۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ حقیقت جو کچھ دکھائی دیتی ہے یہ فقط انسانی نقطۂ نظر ہے، نہ کہ اصل حقیقت۔ کانٹ کی طرح بوھر بھی بے پناہ مشتاق تھا کہ کاش کوئی کبھی۔۔۔۔۔۔۔۔ "شئے” کے بارے میں کچھ بھی ایسی رائے دے سکے جسے حتمی، قابل ِ فہم، قابل ِ گرفت کہا جاسکے۔ ایک مرتبہ اس نے کہا،

"فزکس اور سائنس اصل میں نیچر کے بارے میں کوئی تحقیق نہیں کرتیں اور نہ ہی کرسکتی ہیں بلکہ فزکس اور سائنس ہمیں صرف یہ بتاتی ہیں کہ نیچر نے ہمارے مشاہدے کے سامنے اپنے آپ کو کس قدر، کس حد تک اور کس شکل میں ظاہر کیا”۔ اور یہ نہایت ہی کائنٹیَن خیال ہے۔

آئن سٹائن نے بوھر کا نظریہ رد کردیا کہ "حقیقت کے بارے میں ہمارا علم مطالعۂ فزکس ایسے مظاہر پر مشتمل ہے جو نتیجہ ہے پیمائش کرنے والے آلات کے آپس میں انٹرایکشن کا۔ آئن سٹائن حقیقت کے علم کو ہمارے مشاہدے سے آزاد دیکھنا چاہتاتھا۔ کوانٹم فزکس کے یہ نتائج اسے ہضم ہی نہ ہورہے تھے کہ حقیقت ہمارے مشاہدے سے کے اعتبار سے ہم پر منکشف ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ آئن سٹائن نے کہہ دیا کہ،

"God does not play dice”

"خدا چوسر (چھکا) نہیں کھیلتا”

بوھر نے جواب میں کہا کہ،

"آئن سٹائن کو چاہیے کہ خدا کو یہ بتانا چھوڑ دے کہ کیا کرناہے اور کیا نہیں کرنا”

آئن سٹائن نے اضافیت پر اپنی زندگی کے آخری سیمینار میں کوانٹم کے بارے میں اپنی فکر مندی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ،

"مجھے "انتخاب” کے خیال سے بےچینی ہوجاتی ہے۔ یہ آئیڈیا کہ شاہد یا مشاہدہ کرنے والے آلے کا مادے کی حقیقت پر کوئی اثر پڑتاہے میرے لیے ناقابل ِ قبول ہے” اس نے کہا اِس طرح سوچیں کہ،

"ایک فرد مثلاً چوہا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا چوہا بھی کائنات کو دیکھے تو کائنات کی حالت میں تبدیلی واقع ہوجائے گی؟”

۱۹۳۰ ء میں آئن سٹائن نے بوھر کو آخری چیلنج کیا۔ یہ ایک تھاٹ ایکسپیری منٹ تھا۔ جسے بہت بعد میں ایک فرانسیسی ماہر ِ طبیعات نے لیبارٹری کے تجربہ میں بدل دیا۔ آئن سٹائن کا خیال تھا کہ فزیکل رئیلٹی کے کم ازکم کچھ حصہ کو پیمائش کرنے والے آلہ سے متاثر کیے بغیر بھی ماپا جاسکتاہے۔ آئن سٹائن نے اپنے تھاٹ ایکسپیری منٹ میں یہ دکھایا کہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دو ایسے پارٹیکل جو ایک ہی ساعت میں پیدا ہوئے ہوں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک دوسرے سے بہت دور لے جاکر ان میں سے ایک کا اس طرح مشاہدہ کیا جاسکتاہے کہ دوسرا پارٹیکل اپنے جڑواں بھائی کے مشاہدہ سے کسی صورت آگاہ نہ ہوسکے تو کوانٹم فزکس کی ساری قلعی کھل جائیگی۔کیونکہ کوانٹم فزکس کا یہ کہنا تھا کہ فاصلہ جتنا بھی زیادہ ہو جڑواں بھائی کا مشاہدہ دوسرے پارٹیکل کی حالت کو خود بخود بدل دیتاہے۔

کوانٹم کی اِس بات کو سمجھنے کے لیے آپ چشم ِ تصور میں دو فرضی گیندیں دیکھیں۔ جو دونوں بالکل ایک جیسی ہیں۔ اب ان میں سے ایک گیند کو دُور بہت دُور ہزاروں کہکشاؤں کے پار بھیج دیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسری گیند کو اپنے پاس اِسی کمرے میں رکھیں۔ اب یہ تصور کریں کہ آپ نے اپنے پاس رکھی گیند کو گھمایا تو دُور ہزاروں کہکشاؤں سے پار رکھی ہوئی دوسری گیند بھی بالکل اُسی انداز میں اُسی رُخ پر گھومنے لگ گئی۔ اِس مثال میں اور کوانٹم میں یہ فرق ہے کہ کوانٹم میں پارٹکل کو ہم نہیں گھماتے بلکہ محض اُن پیمائش کا عمل ہی ان کی روٹیشن کو تبدیل کردیتاہے۔ یعنی محض مشاہدہ سے پارٹکل میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے جو ہزاروں نوری سال کے فاصلے پر موجود اس کے جڑواں بھائی کو بھی بالکل اسی انداز میں تبدیل کردیتی ہے۔

چنانچہ آئن سٹائن کے تھاٹ ایکسپیری منٹ کا یہ مقصد تھا کہ کوانٹم کے اِس خیال کو غلط ثابت کیا جاسکے۔اس نے دو جڑواں پارٹیکلز کو ایک دوسرے سے دور بھیج کر ان میں سے ایک کا مشاہدہ کرنے کے لیے ایک فرضی مشین ڈیزائن کرڈالی۔ جسے بعد میں سچ مچ بنایا گیا اور ایک بار نہیں کئی بار تجربہ کرکے یہ دیکھا گیا کہ آئن سٹائن کا خیال درست نہیں تھا۔ جبکہ بوھر کا یہ خیال کہ ایک جڑواں پارٹیکل چاہے ایک دوسرے سے لاکھوں سال کے فاصلے پر بھی بھیج دیے جائیں کسی ایک کا مشاہدہ نہ صرف اس کی پراپرٹیز کو تبدیل کردیتاہے بلکہ وہی تبدیلی دور موجود دوسرے پارٹیکل میں بھی واقع ہوجاتی ہے۔

یوں بوھر کی ایٹمی فزکس نے ایک طویل ترین پیراڈاکس کو جنم دیا جو دنیا کے بارے میں آئن سٹائن کے تصویر سے بالکل مختلف تھا۔ آئن سٹائن کی تھیوریز کے مطابق تو کائنات کے مختلف حصے آپس میں محض معلولات (ایفیکٹس) اور سگنلز کی وجہ سے جُڑے ہوئے تھے اور وہ ایفیکٹس یا سگنلز روشنی کی رفتار سے زیادہ رفتار میں ہرگز سفر نہیں کرسکتے۔ اور ہمیشہ واقعات کے مرکز اور منبع تک پہنچا جاسکتاہے جو ان ایفیکٹس (معلولات) کی کازز (علل) ہوتے ہیں۔ آئن سٹائن کا دعویٰ تھا کہ ہر واقعہ کی "لوکل کاز” ہوتی ہے۔

لوکل کازیلٹی کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ یہاں پیش آتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جہاں ہم موجود ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کسی قسم کا کوئی فوری ایکشن کائنات کے کسی اور حصہ میں پیدا کرنے کا باعث نہیں بن سکتا۔ یہ آئن سٹائن کی اضافیت کا ایک اہم اُصول ہے۔اور اسی اصول کو کوانٹم مکینکس تسلیم ہی نہیں کرتی۔ کیونکہ کوانٹم مختلف علاقوں کے الگ الگ سپیس ٹائم کے تصور سے واقف نہیں۔ کوانٹم میں ہر شئے کو ایک "کُل” کی حیثیت سے دیکھا جاتاہے۔

خود آئن سٹائن کا تجویز کردہ تجربہ دونوں دوستوں اور حریفوں کی وفات کے بعد عملی طور پر کئی بار دہرایا گیا تو آئن سٹائن کا خیال غلط نکلا۔ اب لگ بھگ ایک صدی ہونے کو آئی ہے اور یہ بات اچھی طرح ثابت کرلی گئی ہے کہ نیل بوھر کا نظریہ درست تھا۔ نیل بوھر نے ثابت باالآخر ثابت کردیا کہ،

"دو پارٹیکلز کی پراپرٹیز اس وقت تک متعین نہیں ہیں جب تک اس کی پیمائش نہ کر لی جائے۔ چاہے ان کے درمیان فاصلہ ہزارون نوری سال کا ہی کیوں نہ ہو۔ جونہی ان میں سے ایک پارٹیکل کی پیمائش کی جائے گی، دوسرا خود کو اُسی کے مطابق تبدیل کرلیگا چاہے کائنات کے جس کونے میں ہو”۔

یوں گویا یہ ماننا لازم آگیا کہ انفارمیشن کے سفر کا تعلق سپیس اور ٹائم کے ساتھ نہیں ہے۔ یہ نہایت نامعقول نتیجہ تھا جس نے کوانٹم کو بالآخر تاریخ ِ فزکس کا سب سے زیادہ حیران کردینے والا عجوبہ بنا دیا۔ ثابت ہوگیا کہ لوکل کازیلٹی نامی کوئی چیز نہیں۔ اور اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے”ڈیوڈ بوم” نے یہ کہا،

"معلوم ہوتاہے کہ کائنات الگ الگ اجزأ پر مشتمل نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک واحد ناقابل ِ تقسیم کُل ہے”

تاہم اضافیت اور اِنٹینگلمنٹ دونوں کے نتائج کو ملا کر یہ کہا جاسکتاکے کہ دنیا ٹکڑوں میں بٹی ہوئی نہیں ہے بلکہ یہ ایک مسلسل اور متواتر بہتی ہوئی حرکت کا نام ہے۔ چیزیں ایک دوسرے سے دور نہیں ہیں بلکہ سب کچھ ایک کُل کی شکل میں آپس میں جڑا ہوا ہے۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Back to top button
Close