سائنس و ٹکنالوجی

مولانا آزادؒ کے سائنسی مضامین اور مسلمان (آخری قسط)

تحریر: ڈاکٹر وہاب قیصر، ترتیب: عبدالعزیز

 15جولائی 1914ء کے شمارے میں ’’خطرناک مکھی‘‘ کے عنوان سے مولانا کا ایک مضمون شائع ہوا تھا، جس میں اس بات کا احاطہ کیا گیا ہے کہ گھروں میں پائی جانے والی مکھیاں جراثیم کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچاتی ہوئی ہماری صحت کیلئے کس قدر نقصان دہ ہوتی ہیں ۔ اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ گھروں میں مکھیوں کی تعداد کو کم سے کم کرنے کیلئے ہمیں کیا تدابیر اختیار کرنا چاہئے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں :

 ’’سائنس کے تجارب سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ گھر کی معمولی مکھیاں سخت خطرناک چیزیں ہیں ۔ یہی ہوائی سیاح ہیں جو ایک شخص کی بیماری دوسرے تک لے جاتی ہیں اور اس لئے اس قدر حقیر نہیں ہیں جس قدر کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ ہر گھر کیلئے جس میں صحت اور تندرستی کی قیمت محسوس کی جاتی ہو، ضروری ہے کہ ان کی تعداد کم کرنے کیلئے ایک سخت جہاد شروع کر دے تاکہ تاکہ وہ بیماریاں جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتی ہیں ، کم ہوجائیں اور کچھ دنوں کے بعد بالکل معدوم …۔

 ’’اگر ہم لوگ اپنے گھر کو پاک و صاف رکھیں تو ہمارے بچوں کی صحت اچھی رہے گی، گرمی میں جو بیماریاں بکثرت ہوتی ہیں بالکل نہ ہون گی، ٹائیفوڈ کم ہوجائے گا، ڈاکٹر کا بل بھی کم آیا کرے گا، گھر کا ہر فرد چین اور سکھ کی زندگی بسر کرے گا۔ خدا اور اس کے بندے، دونوں کی خدمت صرف تندرست آدمی ہی کرسکتا ہے۔ پس آؤ؛ ہم لوگ اسی کے مطابق عمل کریں !‘‘

  ابتدائی صفحات میں یہ ظاہر کیا جاچکا ہے کہ البلاغ، الہلال کا ہی ایک تسلسل تھا سوائے نام کی تبدیلی کے باقی تمام تر مشمولات وہی ہوا کرتے تھے جو الہلال میں ہوتے تھے۔ چنانچہ نت نئے سائنسی موضوعات پر مولانا آزاد نے جو خامہ فرسائی کی اس کی حاصلات البلاغ کی زینت بنے۔ جس کے پہلے شمارے مورخہ 12 نومبر 1915ء میں مولانا آزاد کا ایک مضمون ’’نیند کی حقیقت‘‘ شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں نیند اور اس کی ضرورت اور حقیقت پر مختلف مکاتیب خیال کے نظریات اور ان کی تحقیقات کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ بحث کی گئی ہے۔ جسم کی فزیالوجی اور کیمیا کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ صحت مند زندگی کیلئے نیند کتنی اہمیت کا درجہ رکھتی ہے۔ مولانا آزاد اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ زمانہ قدیم خواب غفلت کا زمانہ تھا جس میں نیند کی حقیقت کیا ہے؟ اور یہ ہمارے لئے کیوں ضروری ہے؟ جیسے سوال کسی کے ذہن میں ابھر ہی نہیں سکتے تھے، لیکن عصر حاضر جیسے بیداری کے زمانے میں ہمارے ذہنوں میں یہ سوال ضرور اٹھتے ہیں اور اس کا تشفی بخش جواب مل نہیں پاتا۔ اس مضمون میں نیند کی طبعی، کیمیاوی، طبی اور دیگر ضرورتوں کے پیش نظر مختلف مکاتیب خیال کے ماہرین کی آرا کو مد نظر رکھ کر تفصیل کے ساتھ نیند کی حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ ماہرین کے ایک گروہ کا یہ ماننا تھا کہ دماغ کو خون کی کثرت سے فراہمی نیند کا موجب بنتی ہے جبکہ دوسرے گروہ کا خیال اس کے بالکل مغائر تھا، لیکن تجربات سے ثابت ہوچکا ہے کہ دماغ کو فراہم ہونے والے خون کی مقدار میں کمی یا زیادتی سے نیند کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بات کو مزید تقویت دینے کیلئے قرآنی آیات کا بھی سہارا لیا گیا ہے۔

  ’البلاغ‘ کے شمارہ 3، 10 مارچ 1916ء میں مولانا آزاد کے مضمون ’’التحول الفجائی (Mutation) کی پہلی قسط اور 17، 24، 31 مارچ 1916ء کے شمارے میں دوسری قسط شائع ہوئی تھی۔ اس میں حیوانات اور نباتات میں پائے جانے والے نمایاں فرق کو واضح کرتے ہوئے اجزائے مشترک پر بحث کی گئی ہے۔ یوں تو دنیا میں پائے جانے والے مختلف انواع کے حیوانات اور مختلف قسموں کے نباتات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ایک حیوان دیکھنے میں دوسرا نظر آتا ہو اور ایک پھل کو دیکھنے پر دوسرے کا گمان ہوتا ہو۔ اتنے نمایاں فرق کے باوجود مختلف جانوروں کے درمیان اور مختلف نباتاتی اشیا جیسے پھل، پھول اور پودوں میں اجمالی طور پر یکسانیت پائی جاتی ہے۔ تحول کے معنی کسی چیز میں ایسا تغیر عمل میں آنا ہے کہ وہ دوسری چیز سے بالکل الگ ہوجائے اور فجائی کے معنی اچانک کے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح التحول الفجائی سے مراد اچانک ہونے والا تغیر ہوتا ہے۔ اس مضمون میں حیوانات کے تنازع البقاء (Stuggle for Existence) ، انتخاب طبعی (Natural Selection) اور بقا الصلح (Survival of the Fittest) جیسے اصولوں کو مثالوں کی مدد سے تفصیل کے ساتھ سمجھاتے ہوئے ان کی تشریح بڑے ہی دلچسپ انداز میں کی گئی ہے:

 ’’تمام اجسام موثرات خارجیہ، موسم، غذا، طرز بود ماند وغیرہ سے متاثر ہوتے ہیں ۔ برفستان کے باشندے گورے برف کی طرح سفید ہوتے ہیں ۔ اگر ان میں سے کوئی انسان کسی تپتے ہوئے گرم ریگستان میں رہنے لگے تو اس کا رنگ خراب ہوجائے گا، تاہم صباحت قائم رہے گی۔ چند نسلوں کے بعد یہ صباحت ملاحت سے بدل جائے گی۔ ایک زمانے کے بعد نسلیں سبزہ رنگ ہونے لگیں گی۔ اس کے بعد  پھر سیاہ فام جن خاندانوں کے پیشرو برف کی طرح سفید تھے، اب ان کی یادگاریں بھونرے کی طرح سیاہ ہیں ‘‘۔

 موثرات خارجیہ کی تاثیر کی یہ ایک نہایت سادہ اور عام الوقوع مثال ہے۔ رنگ کی طرح اعضا کی ساخت، قویٰ بلکہ نفس وجود تک اثر پذیر ہوتا ہے۔

 شیر ایک درندہ ہے۔ قدرتا اس کے پنجوں میں ناخن اور دانتوں میں کچلیاں ہوتی ہیں ۔ یہ ناخن اور کچلیاں تیز اور اور زود شگاف ہوتی ہیں ، لیکن فرض کرو کہ شیروں کی ایک جماعت کسی ایسے جنگل میں پہنچ جائے جہاں اسے گوشت نہ ملے تو کیا ہوگا؟ اکثر تو مرجائیں گے۔ کچھ ایسے سخت جاں ہوں گے کہ جی بچیں گے۔ بھوک کی شدت ان کیلئے گھانس پتوں کو گوارا کر دے گی۔ وہ سبزی کھانا شروع کر دیں گے۔ آنے والی نسلیں اسی عالم میں آنکھیں کھولیں گی، ان کیلئے یہ معمولی بات ہوگی۔ ایک معتدبہ زمانے کے بعد تمام آلات و اعضاء سبعیت و درندگی یعنی بڑے بڑے دانت، خونخوار پنجے، قوی اور ہضم کن معدہ، یہ سب کے سب بوجہ تعطیل و عدم استعمال از کار رفتہ ہوجائیں گے، اور اس کے بعد یا تو یہ نسل ضعیف ہوتے ہوتے فنا ہوجائے گی یا باقی رہے گی مگر بالکل ایک نئے قسم کا شیر بن کر‘‘۔

 18 فروری 1916ء کے البلاغ میں مولانا آزاد کا ایک مختصر مضمون بعنوان ’’ایک نئی زمین کا اکتشاف، دائرہ قطب شمالی‘‘ شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں ناروے کے ایک کم عمر سیاح جارج اسٹیفینس کی مہم جوئی کا احاطہ کیا گیا ہے جس نے قطب شمالی تک پہنچنے کیلئے 1913ء میں سفر طے کیا تھا اور بالآخر 19 جون 1915ء کو اس نئی زمین پر قدم رنجہ ہوا۔ اس کا مقصد صرف قطب شمالی کو مسخر کرنا ہی نہیں تھا بلکہ وہاں پر علمی تحقیقات کا عمل میں لے آنا بھی اس کے پیش نظر رہا۔ چنانچہ اس نے اپنے اس مقصد میں ایک حد تک کامیابی بھی حاصل کی۔ بعد میں ماہرین ارضیات، نباتیات، حیوانیات اور طبیعیات نے اس قطعہ زمین پر تحقیقات کو بروئے کار لایا اور اس سے متعلق مکمل طور پر واقفیت حاصل کی۔

 مولانا آزاد نے سائنس کی دنیا کو اردو دنیا سے واقف کروانے کا جو بیڑا ’’خدنگ نظر‘‘ کے زمانے میں اٹھایا تھا اس کے تسلسل کو الہلال اور البلاغ کی اشاعت کے جاری رہنے تک برقرار رکھا۔ اس کے بعد یہ شاید یہ سلسلہ مزید جاری رہتا لیکن اس وقت تک مولانا آزاد تحریری اور صحافتی میدان سے ہٹ کر عملی میدان میں ایک دوسری ہی مہم کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ وہ مہم ایسی تھی کہ اردو والوں کیلئے ہی نہیں بلکہ بر صغیر میں آباد تمام زبان والوں کی آزادی کے حصول کی مہم تھی جس کے تقاضے ہی کچھ اور تھے، چنانچہ اس مہم میں وہ دوسرے ہم وطن رہنماؤں کے ساتھ اس قدر ڈٹے رہے کہ آزادی ہند کا حصول ناگزیر ہوگیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close