سائنس و ٹکنالوجی

ٹائم اینڈ اسپیس ٹائم

ادریس آزاد

ٹائم جو ایک تجربے کا نام تھا، آئین سٹائن کی گریوٹی میں آکر ایک شکل (Shape) کا نام بن گیا۔ ایک ایسا مواد جو لچکدار ہے۔ اس میں مادے کی وجہ سے گڑھے پڑجاتے ہیں۔ وادیاں، دراڑیں، بھنور، موجیں، اونچی نیچی سطحیں، قوسیں، سیدھی لکیریں،ٹیڑھی لکیریں غرض ہرطرح کی جیومیٹری کی اشکال آئن سٹائن کی سپیسٹائم فیبرک میں پائی جاتی ہیں۔

سپیسٹائم فیبرک کا اتنی شدت کے ساتھ مادی شکل اختیار کرلینا بہت ہی غیرفلسفیانہ سی بات ہے۔ دوبارہ کہونگا کہ ’’ٹائم تو ایک تجربے کا نام تھا‘‘، لیکن اب یہ ایک لچکدار کپڑے کا نام ہے۔ ایک ایسا کپڑا جس کی بُنائی میں لچکدار (ربڑی) دھاگہ استعمال ہوا ہو، وہ کھینچنے پر پھیل جاتاہے اور چھوڑنے پر واپس اپنی اصلی شکل میں آجاتاہے، جیسے کہ ویلوِٹ۔

آپ ویلوِٹ کا ایک ٹکڑا اپنے دو دوستوں کو اس طرح پکڑائیں کہ انہوں نے دو دو کونے پکڑ کر کھینچ رکھے ہوں۔ کپڑا تَن جائیگا۔ اب اگر آپ کوئی چیز اس کپڑے پر پھینکیں گے تو کپڑے میں لچک کی وجہ سے گڑھے سے پیدا ہونگے۔ زیادہ چیزیں پھینکنے سے زیادہ گڑھے پیدا ہونگے اور چیزیں لڑھک لڑھک کر گہرے گڑھوں کی طرف جانے لگیں گی۔

یہ ہے آئن سٹائن کی گریوٹی کی شکل۔ یہ تمام اجرامِ فلکی ایسی ہی لچکدار فیبرک میں لڑھکتے، پھسلتے، تیرتے پھر رہے ہیں۔ سورج زمین سے زیادہ بھاری ہے اس لیے سپسٹائم فیبرک میں سورج کا گڑھا زیادہ گہرا ہے اور زمین کا کم گہرا ہے۔

چاند کا زمین سے بھی کم گہراہے۔ زمین سورج کے گڑھے کی اندرونی دیواروں کے ساتھ چپک کر دوڑ رہی ہے اور چاند زمین کے گڑھے کی دیواروں کے ساتھ چپک کر دوڑ رہاہے جیسے موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلاتاہوا بازی گر۔

سپیسٹائم فیبرک میں ایک عجب کرشمہ یہ ہے کہ یہ مادے کی وجہ سے اپنی شکل بدلتی ہے۔ بالکل مادی آبجیکٹ کے مطابق شکل اختیار کرلیتی ہے۔ ایسے جیسے کوئی سانچہ ہوتاہے۔ یعنی سپیس ٹائم فیبرک میں زمین دراصل کسی سانچے میں دھری ہے۔

جیسی زمین کی شکل، ویسی آس پاس کی فیبرک کی شکل۔ اب کرشمے والی بات یہ ہے کہ سپیسٹائم فیبرک کی اس طرح کی شکل مادے کو بھی اپنی شکل بدلنے پر مجبور کردیتی ہے۔ یعنی وہ مادہ جس کی وجہ سے سپیسٹائم میں گڑھا پڑگیا تھا اب اُس گڑھے کی وجہ سے اپنی شکل بدلنا شروع کرتاہے۔

تمام اجرامِ فلکی بالآخر اسی لیے گول ہوجاتے ہیں کہ وہ اندر کی طرف مسلسل لڑھکتے اور دبدتے رہتے ہیں۔ تنے ہوئے کپڑے پر پھینکے گئے پتھر کے ٹکڑے زیادہ گہرے گڑھے کی طرف لڑھکتے رہتے ہیں اور بالاخر زیادہ گہرے گڑھےمیں جمع ہی نہیں ہوجاتے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ چپک کر رہنے لگتے ہیں۔

یہ سارے سیارے، ستارے، کہکشائیں ایسے ہی وجود میں آئے ہیں۔ تنے ہوئے کپڑے پر لڑھک لڑھک کر۔ یعنی سپیس ٹائم مادے کی شکل بدلتی ہے اور مادہ سپیس ٹائم کی شکل بدلتاہے۔ گریوٹی کسی قسم کی کشش نہیں بلکہ تنے ہوئے کپڑے پر زیادہ گہرے گڑھے کی طرف لڑھک جانے کا نام ہے۔ خلا میں اگر کوئی مادہ نہ ہو تو تنا ہوا کپڑا بالکل سیدھا یعنی فلیٹ ہوگا۔

پھر اگر اس میں کوئی ستارہ رکھ دیا جائے تو جیسی اس ستارے کی شکل ہوگی، سپیسٹائم فیبرک میں ویسی شکل کا ایک سانچہ پیدا ہوجائیگا۔ یہ سانچا صرف نیچے کی طرف پیدا نہ ہوگا جیسے ہم زمین پر تنے ہوئے کپڑے کی مثال میں دیکھتے ہیں، بلکہ یہ سانچا ستارے کے چاروں طرف بن جائیگا۔

کیونکہ سپیسٹائم فیبرک تو ہر جگہ ہے، کسی سمندر کی طرح۔ اور ستارے سیّارے اُس سمندر میں آبدوزوں کی طرح ہیں۔ اپنے چاروں طرف پانی کو ڈیفارم کرتی ہوئی آبدوزیں۔

یہ ساری تصویر تو ایک ’’شکل‘‘، ایک شباہت ایک جیومیٹری کی ہے۔ جیومیٹری کا وجود تو مادی آبجیکٹس کی وجہ سے ممکن ہوتاہے۔ ٹائم کا ایسی شکل Shape سے کیا تعلق؟ آئن سٹائن کی سپیسٹائم فیبرک، مکان کی تین ابعاد اور زمانے کی چوتھی بعد سے مل کر بنتی ہے۔

زمانے کی بعد مکان کے ساتھ کیسے مل گئی؟ یہ بڑا عجیب و غریب سوال ہے۔ زمانہ(ٹائم) ایک خالصتاً موضوعی سے ایک خالصتاً معروضی تجربے میں کیونکر بدل گیا؟

سٹرنگ تھیوری نے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ سٹرنگ تھیوری کے بقول گریوٹی کے بھی ذرّات ہوتے ہیں، جنہیں گریوٹان کہا جاتاہے۔ یہ ذرّات ایسی ڈائمینشنز میں پائے جاتے ہیں جو سپیسٹائم فیبرک کے ظاہری میڈیم (واسطے) میں فقط تین ابعادِ مکانی اور ایک بعدِ زمانی کی صورت ہی دکھائی دیتی ہیں لیکن فی الحقیقت ان سے بلند تر ڈائمینشنز کا وجود بھی ہے۔

گریوٹانز کا میڈیم وہ بلند تر ڈائمینشنز ہیں۔ جیسے روشنی کا میڈیم ہماری سپیسٹائم فیبرک ہے اور روشنی کے ذرّات یعنی فوٹانوں کا میڈیم بھی ہماری سپیسٹائم فیبرک ہی ہے، ویسے ہی گریوٹانز کا میڈیم اَگلی ڈائمینشنز میں موجود ہے۔ پانچویں ڈائمینشنز میں امکانات کی لامنتہا لائینیں ہیں، جنہیں ہم ٹائم لائنز، پرابیبلٹی لائنز وغیرہ کے ناموں سے جانتے ہیں۔

پانچویں ڈائمینشن میں موجود شخص کے لیے سپیسٹائم فیبرک میں موجود تمام امکانات کی لکیریں ایسے ہیں جیسے اُس کی ہتھیلی کی لکیریں۔ وہ ہر ہر مادی شئے کے آغاز سے انجام تک، تمام ٹائم لائنوں سے یوں واقف ہے جیسے کوئی کسی ایک حرف سے واقف ہو۔ فقط ایک حرف، جیسے ’’بی‘‘ B.

مکان کی جہات جوں جوں گمبھیر ہوتی جاتی ہیں گریوٹانز کو چھپنے کے لیے تُوں تُوں زیادہ نفیس میڈیم میسر آتاجاتاہے۔

ہماری سپیسٹائم میں پیدا ہونے والے گڑھے انہی گریوٹانز سے پیدا ہونے والی گریوٹی کی نہایت سادہ مثال ہیں۔ تھری ڈی میں اِن کی مینی فیسٹیشن اِسی طرح ہی ممکن ہے۔ مکان کی تین ابعاد کے ساتھ زمانے کی چوتھی بعد ملاتے ہیں تو امکانات کا وجود جنم لیتا ہے۔

امکانات کا وجود حقیقی ہے لیکن ان کے استشہاد کا امکان فقط برتر شعور میں پایاجاتاہے، غرض ٹائم خالصتاً موضوعی تجربہ ہے جو موجود اور ظاہری کائنات میں ایک معروضی تجربے کے طور پر اپنا اظہار کرتاہے۔ بایں ہمہ موجودہ کائنات کا سارے کا سارا معروض فی الحقیقت فقط موضوعی تجربہ ہی ہے۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close