سائنس و ٹکنالوجی

ٹک ٹاک میوزیکل یا فحاشی و عریانیت کا نیا بازار 

غلام رسول قاسمی

جس اسلام سے ہم تعلق رکھتے ہیں وہ سراپا اخلاقیات کا دین ہے، نبی کریم کی بعثت اخلاقیات کی تکمیل کے لیے ہوئی ہے، دنیائے اسلام کا دو تہائی حصہ اخلاق حسنہ سے ہی حلقہ بگوش اسلام ہوا ہے، یہ بات سچ ہے کہ جب لڑکوں کے  اخلاق و عادات بگڑتے ہیں تو اس سے معاشرے میں بے حیائی جنم لے لیتی ہے، لیکن یہ بیماری جب خواتین میں در آتی ہے تو نسلیں تباہ ہوتی ہیں، اس لیے اسلام نے حیا کو تمام اخلاقیات کا سر چشمہ قرار دیا ہے، حیا بے حیائی کا قلع قمع کرتی ہے، اسی میں انسان کی تمام خوبیاں پنہاں ہوتی ہیں، حیا سے انسان کا دینی تشخص اعلی اور بلند تر ہوتا ہے، شرم و حیا جہاں اچھے لوگوں کی صفت ہے وہیں انبیاء کرام علیہم السلام کا زیور بھی ہے، جب انسان کے اندر سے حیا ختم ہوجاتی ہے تو اس کے اندر برائیاں جنم لینی شروع ہوجاتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا "جب حیا ختم تو تو جو چاہے کر”۔

موجودہ دور میں ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کا استعمال عروج پر ہے، جہاں اس کے بہت سے فوائد ہیں جنکے استعمال سے فی زمانہ چارہ کار نہیں، انکے ذریعے مہینوں کے کام دنوں میں اور دنوں کے کام گھنٹوں میں پایہ تکمیل کو پہنچ رہے ہیں، لیکن وہیں نوجوان نسلوں کے لیے تباہی کا ذریعہ بھی ہے۔

کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے گیمز ودیگر اپلیکیشنز کے بعد اس وقت سب سے زیادہ تباہ کن میوزیکلی ٹک ٹاک نامی ایپ کے خرافات بام عروج پر ہے، بعض لوگوں کا کہنا ہے ٹک ٹاک یوزرس فحاشی و عریانیت میں بالی ووڈ کی فلمز ایکٹرز سے آگے بڑھ چکے ہیں، شرم و حیا کا جنازہ نکل چکا ہے، اس بیماری میں ایک طرف بوڑھے سے لیکر بچے تک اپنے لپس (ہونٹ) ہلا کر ڈانس کر کر مشہور ہونے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں، تو دوسری طرف نوجوان نسل خصوصاً نوجوان لڑکیاں اس میں سب سے زیادہ ملوث دکھائی دیتی ہیں، عام لوگوں کے لیے وہ تصورات اور الفاظ جنکو پہلے سوچنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا وہ اس ایپ پر  آج کی دو شیزائیں اپلوڈ کر رہی ہیں، غیر مسلم لڑکیاں تو درکنار بہت سی مسلم اور با حجاب لڑکیاں بھی ایسے ایسے مناظر پیش کر رہی ہیں کہ شرم کے مارے اک  غیرت مند کا چہرہ پانی پانی ہوجاتا ہے، چند فالورز اور لائکس پانے کے لئے فحش جرائم بے حیائی کے کرتب اور نت نئی ترکیبیں کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔

غیر اخلاقی مناظر دیکھنے والے احباب کے شکوے سن کر یک لخت محبوب کائنات صلی اللہ علیہ والہ و سلم کا قول سو فیصد سچ ثابت ہو کر بے ساختہ ذہن میں آ رہا ہے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ "میں جہنم میں جھانکا تو سب سے زیادہ عورتوں کو دیکھا” یہ حقیقت ہے کہ جن گھروں کی خواہ خواتین ہوں یا لڑکیاں جتنی آزاد ہوتی ہیں اتنا ہی تنگ لباس زیب تن کرتی ہیں،  اتنی ہی بے حیائی اور عریانیت کا مظاہرہ پیش کرتی ہیں، اور آزاد خیالی کے مرض میں مبتلا ہو کر اپنی عاقبت خراب کر رہی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی بابت بھی پیشین گوئی فرمائی تھی کہ” قرب قیامت کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ عورتیں اتنا چست اور تنگ لباس پہنیں گی کہ گویا وہ ننگی ہوں” یہ حدیث بھی  میوزیکلی اور ٹک ٹاک نامی اپلیکیشن پر سو فیصد درست ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ اس پر ننانوے فیصد لڑکیاں اس طرح کے چست لباس پہن کر ناچتی اور گاتی نظر آتی ہیں، اور ایک جگہ آپ علیہ السلام نے قیامت کی نشانیاں بتاتے ہوئے یہ بھی فرمایا تھا کہ” شرم و حیا بالکل ختم ہوجائے گی، بدکاری و زناکاری عام ہوجائے گی، ناچنے اور گانے والی عورتیں عام اور گانے بجانے کے سامان اور آلات موسیقی بھی عام ہوجائیں گے”۔

  آج ہم دنیا کا جائزہ لیں تو اس حدیث کا ایک ایک جملہ مذکورہ ایپ پر بجی صادق آتا دکھائی دیتا ہے، مسلمان والدین کے لیے غور کرنے کا مقام ہے کہ ہماری لڑکیاں کہاں برباد ہو رہی ہیں؟ ہمیں ان جیسے بے حیائی کو فروغ دینے والی کمپنیوں سے کوئی شکوہ نہیں اور نہ کوئی سروکار ہمیں تو شکوہ ہے ان والدین سے جو اپنی اولاد کو اس طرح کی کھلی آزادی دیکر ان کے ہاتھوں میں جہنم میں لے جانے والے آلات خرید کر  تھما رہے ہیں، جن کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل اپنے مستقبل کی پرواہ کیے بغیر تباہ و برباد ہورہی ہیں، سوچنے کا مقام ہے کہ اس طرح کے اخلاق باختہ ویڈیوز کے پھیلاؤ کے بعد اس قوم کا اخلاقی مستقبل کیا ہوگا؟ کیا انکے والدین کو ان لڑکیوں کی شادی کے بعد لڑکی کی نافرمانی امور خانہ داری سے ناواقفیت، بےحیائ اور دینداری سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے طلاق دئیے جانے کی دھمکیاں نہیں ملیں گی ؟ کیونکہ ان ہی چیزوں کی وجہ سے طلاق وغیرہ کی شرحیں بڑھ رہی ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ گھر کے ذمہ دار اور خواتین اپنی لڑکے و لڑکیوں کی ایکٹیویٹی پر نظر رکھیں اور  ان جیسے اپلیکیشنز کے نقصانات سے انہیں باخبر کریں، اس کے علاوہ معاشرے میں پھیلی دیگر برائیوں و مسائل سے نمٹنے کے لئے سنجیدہ و دیندار نوجوانوں کی ایک ٹیم تیار کر کے ماڈلنگ کرتے بچے و بچیوں کی ذہن سازی کریں تاکہ وہ اپنی دنیا و آخرت تباہ کرنے سے بچ سکیں۔

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Back to top button
Close