سائنس و ٹکنالوجی

ڈنبارز نمبر اور فیس بک

ادریس آزاد

ڈنبارز نمبر (Dunbar’s number) ایک حد ہے، یعنی لِمٹ۔ ایک انسان کس قدر سوشل کنٹیکٹس مینٹین کرسکتاہے۔ ۱۹۹۰ء میں ایک انگریز اینتھروپولوجسٹ رابن ڈنبار نے پرائیمیٹ دماغ کے سائز اور اوسط سماجی جماعت کے سائز کے درمیان تناسب دریافت کیا۔ اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اوسطاً ایک انسان ۱۵۰ کے قریب لوگوں کے ساتھ سماجی تعلقات (سوشل کنٹیکٹس) بنا کر رہ سکتاہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم فیس بک پر دو دو ہزار فرینڈز بنا کر کس طرح سوشل کنٹیکٹس منظم رکھ سکتے ہیں؟

ایک دوست نے کہا، فیس بک پر بھی ایک سو پچاس کے قریب لوگوں سے ہی سماجی رابطہ رہتاہے۔ باقی خاموش دوست ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں ایک سو پچاس دوستوں کے ساتھ ہی بات چیت ہوتی یا کمنٹنگ کا تبادلہ ہوتاہے۔

لیکن یہ جواب درست نہیں ہے۔ ڈنبار کا کہنا ہے کہ یہ ایک سو پچاس لوگ وہ ہیں جنہیں آپ کے دماغ کا "ریلیٹو کورٹیکس سائز” کنٹرول کرتاہے اور ضروری ہے کہ آپ ان میں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘ہر ایک کون ہے؟ اور باقی ایک سو انچاس کے ساتھ اس کا کیا رشتہ یا تعلق ہے’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جانتے ہوں۔ اور فیس بک پر ایسا ہونا ناممکن ہے۔

چنانچہ سماجی رشتہ داری کا یہ عہد جو فیس بک سے شروع ہوتاہے۔ انسانیت کے لیے بظاہر مفید لیکن فی الحقیقت تباہ کن ہے۔ میں کسی اخلاقی یا مذہبی اعتبار سے تباہ کن ہونے کی بات نہیں کررہا۔ یہ نفسیاتی اعتبارسے پوری انسانیت کے لیے اجتماعی طور پر پاگل ہوجانے کی طرف سفر ہے۔

لیکن یہاں پھر میرے ایک دوست نے کہہ دیا۔ انسان ارتقأ کرجائے گا اور اِس قسم کے تعلق کو بھی نیچرل سیلیکشن کے عمل سے گزر کر باقاعدہ اختیار کرلیگا۔ یقیناً ایسا ہوگا۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں۔

لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو "فیس بک ریلیشنز” کا شکار نہ ہونگے۔ جیسا کہ کسی ٹی وی پر سنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ اسرائیل میں بچوں کو پندرہ سال کی عمر تک ان چیزوں کے نزدیک بھی نہیں آنے دیا جاتا۔ ۔۔۔۔۔۔ اگر یہ سچ ہے یا اس طرح کی کوئی اور انسانی جماعت جو "اس قسم کے ارتقأ” سے باہر رہی۔

کیا وہ اُن ارتقأ یافتہ فیس بکیوں سے پست دماغ بایں ہمہ مائل بہ انحطاط شمار ہوگی؟ یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نئی دنیا اور ساری دنیا کے سماجی تعلقات کا نیا دور ارتقأ یافتہ شمار ہوگا؟ کیونکہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ جو باہر رہا اس کے سوچنے کا انداز ہمیشہ آزادنہ ہوگا۔ اس کے سامنے محض ایک سکرین کی بجائے پوری حقیقی کائنات ہوگی۔

جن احباب نے "وال ای” دیکھی ہے وہ تصور میں لاسکتے ہیں کہ سکرین کے سامنے پلنے والی سوسائٹی بہت جلد کس طرح کا ارتقأ کرجاتی ہے۔ ہم اپنے گھروں میں ایک دوسرے کے پاس بیٹھنے کے عادی ہی نہیں رہے۔ ہم دور دراز لوگوں کے پاس بیٹھے رہتے ہیں۔ ان سے دل کی باتیں کرتے اور اپنے تجسس کی حس کو نت نئے طریقے سے تسکین پہچانے کا سامان کرتے ہیں۔ ایسے عالم میں دوچار دہائیوں بعد ہمارا کیا حال ہوگا؟ اور یہ صرف ہم پاکستانیوں کی بات نہیں۔۔۔۔۔ ساری دنیا کی بات ہے۔

اگر ڈنبار نمبرز کی تحقیق کو درست مان لیا جائے اور اس سے نصیحت پکڑی جائے تو فیس بک کا استعمال بھی درست طریقے سے کیا جاسکتاہے۔ زیادہ سے زیادہ ایک سو پچاس یا دوسو کے قریب دوست ہوں لیکن اِس شرط کے ساتھ کہ اُن میں سے ہرایک کا باقیوں کے ساتھ کیسا تعلق اور رشتہ ہے ہمارے علم میں ہو۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Close