تاریخ عالمسائنس و ٹکنالوجی

ہومو اِریکٹس: گمشدہ کڑی

ادریس آزاد

 اس میں دوسری رائے نہیں کہ انسان ہی زمین پر تمام مخلوقات سے زیادہ ہوشیار نوع ہے۔ اس سے زیادہ دلچسپ امریہ ہے کہ ’’انسان زمین پر واحد انسان ہے‘‘۔ یہ بات ذرا مبہم سی ہے۔ اس لیے اِسے دوسری طرح سے کرتے ہیں۔  زمین پر کُتے موجود ہیں۔  لیکن ہم جانتے ہیں کہ کُتے کئی ذیلی انواع میں منقسم ہیں۔  شکاری کُتے، رُوسی کُتے، جرمن شیفرڈ، گلٹریا وغیرہ وغیرہ۔ اِسی طرح ہم جانتے ہیں کہ زمین پر بندر موجود ہیں لیکن بندر بھی کئی دیگر ذیلی انواع میں منقسم ہیں جیسا کہ ’’پرانی دنیا کا بندر‘‘ جوہمارے پاکستان میں پایا جاتاہے، اِسی طرح چمپنزی، بیبون، گوریلاوغیرہ وغیرہ۔ غرض دیگر انواع کی ذیلی انواع وجود رکھتی ہیں۔  لیکن انسانوں کی ذیلی انواع اب زمین پر موجود نہیں ہیں۔  لیکن آج سے چند ہزار سال پہلے تک ایسا نہیں تھا۔ ہمارےساتھ کچھ اور انسان بھی رہتے تھے۔ جیسے چمپنزی، بیبون اور گوریلا کا فرق ہے، اُس وقت ہمارے ساتھ رہنے والے دیگر انسانوں کا بھی ایسے ہی فرق تھا۔ مثلاً یورپ کے سرد ممالک کو ہی لے لیں۔  آج سے چالیس ہزار سال پہلےاِن ممالک میں نینڈرتھل نسل کے انسان بھی موجود تھے اور ’’ماڈرن مین نسل‘‘ کے انسان بھی موجود تھے۔ جبل الطّارق جسے جبرالٹربھی کہتے ہیں بیک وقت دونوں نسلوں کے انسانوں سے آباد تھا۔ آج مراکش اور جبل الطّارق تک پانی ہے۔ آج سے چالیس ہزار سال پہلے یہاں پانی نہیں تھا۔ مراکش جو افریقہ کے شمال مغربی کنارے پر واقع ہےدراصل یورپ کے ملک سپین کے ایک ساحل کے بالکل سامنے ہے۔ درمیان میں فاصلہ اتنا کم ہے کہ آپ کشتی میں بیٹھ کر آرام سے فقط آدھے گھنٹے میں براعظم افریقہ سے براعظم یورپ جاسکتے ہیں۔

چالیس ہزار سال پہلے اِس آبنائے میں پانی نہیں تھا بلکہ یہ ایک نہایت سرسبزوشاداب وادی تھی۔ آپ آج جبرالٹر کے ساتھ ساتھ کشتی میں سفر کرتے چلے جائیں تو آپ کو جگہ جگہ بڑی بڑی غاریں نظر آئینگے۔ یہ غاریں بیک وقت نینڈرتھل نسل کے انسانوں اور ماڈرن مین نسل کے انسانوں کی رہائش گاہیں تھیں۔  اسی طرح افریقہ میں کئی نسلوں کے انسان بیک وقت آباد تھے۔ اُن کی اک دوسرے سے مُڈھ بھڑ ہوتی تھی۔ وہ ایک دوسرے سے کم یا زیادہ ذہین ہوتے تھے۔ وہ کئی حوالوں سے ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود فی الاصل ابتدائی نسلوں کے انسان ہی تھے۔ غرض اب تو زمین پر فقط ایک ہی ذیلی نوع کے انسان آباد ہیں جنہیں ماڈرن مین کہا جاتاہے لیکن آج سے چند ہزار سال پہلے تک زمین پر ہمارے ساتھ کئی دیگر ذیلی، انسانی انواع بھی آباد تھیں۔  یہاں ایک بات کا ذکر ضروری ہے کہ موجود انسان، جسے ماڈرن مین کہا جاتاہے اپنے ڈی این اے کے اعتبار سے ایک ہی نوع کہلاتے ہیں۔  چنانچہ کوئی قاری یوں نہیں کہہ سکتا کہ انسانوں کی تو اب بھی مختلف نسلیں ہیں مثلاً بلوچ، پٹھان وغیرہ۔ یہ اقوام ہیں انسانوں کی قسمیں نہیں ہیں۔  اُس وقت زمین پر بیک وقت کئی، ایک دوسرے سے بہت ہی مختلف نسلوں کے انسان آبادتھے کیونکہ اُن میں سے ہرایک کا ڈین این اے دوسرے سے مختلف تھا اور کروموسومز کی تعداد بھی مختلف تھی۔

ہوموسیپینز نے افریقہ کو آج سے ایک لاکھ سال پہلے خیرباد کہہ دیا تھا۔ بس یہی وہ زمانہ ہے جب اُن بہت سی مختلف نسلوں میں سے زیادہ تر نابود ہوگئیں اور بہت کم باقی رہ گئیں۔  اُن پرانی قسموں کے انسانوں میں سے بعض نے تو ہوموسیپینز سے بھی پہلے افریقہ چھوڑدیاتھا۔ لاکھوں سال پہلے ہمارے ساتھ انسانوں کی جو ذیلی انواع آباد تھیں اُن میں سے بعض تو بےپناہ طاقتور، ذہین خونخوارتھیں۔  آرکیالوجی کے پاس اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ یورپ میں نینڈرتھل نسل کے انسانوں اور ماڈرن مین نسل کے انسانوں کے درمیان باقاعدہ ہزاروں سال تک لڑائیاں ہوتی رہیں۔  نینڈرتھل لمبانیزہ استعمال کرتے تھے۔ اُن کے جسم پر مَسَلز ہی مَسَلز ہوتے جو انہیں ماڈرن مین نسل کے انسانوں سے کہیں زیادہ طاقتوربناتےتھے۔ لیکن ماڈرن مین نسل کے انسانوں کے پاس صرف اور صرف ایک صلاحیت اضافی تھی، جس کی بنا پر وہ نینڈرتھل کے ساتھ برپا ہونے والی ہزاروں سال طویل اور خوانخوار جنگیں مسلسل جیتتے رہے۔ ماڈرن مین نسل کے انسان بھی نیزہ استعمال کرتے تھے لیکن یہ لوگ نیزے کو دُور سے پھینک سکتے تھے۔ نینڈرتھل انسان اپنے لمبے نیزے کو ہاتھ میں پکڑکرزورسے گھونپتے تھے جبکہ ماڈرن مین نسل کے انسان اپنے قدرے چھوٹے نیزے کو دُور سے پھینکتے تھے۔ یہ تھی وہ واحد برتری جس کی بنا پر وہ نینڈرتھل نسل کے انسانوں پر بھاری تھے۔

آج ہم جو شہروں میں رہتے ہیں اس احساسِ تفاخر سے پھولے نہیں سماتے کہ ہم ہی فی الاصل ارفع ترین نوع ہیں لیکن قابلِ توجہ امر یہ ہے کہ ہمیں اِس خوشحالی اور عروج کا زمانہ دیکھتے ہوئے ابھی تین ہزار سال بھی نہیں گزرے جبکہ نینڈرتھل انسانوں نے کم سے کم تین لاکھ سال تک اونچے درجے کا عروج دیکھاہے۔ وہ خاندانوں میں رہتے تھے۔ مُردے دفناتے تھے۔ کپڑے پہنتے تھے۔ آگ جلاتے تھے۔ ہتھیار بناتے تھے۔ اور وہ بے پناہ طاقتورتھے۔ ایک آرکیالوجسٹ نے نینڈرتھل نیزے کی طاقت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگایا تو معلوم ہوا کہ نینڈرتھل نیزہ کسی جاندار کے جسم میں ایک فُٹ تک اندر گھس جاتا تھا۔ وہ شکاری تھے اور ہاتھی جتنے بڑے بڑے جانور بھی آسانی سے شکار کرلیا کرتےتھےکیونکہ وہ ذہین تھے۔ اُن کے علاقے میں ماڈرن مین نسل کے انسان وارد ہونا شروع ہوئے تونینڈرتھل کو پہلی بار خود سے طاقتور دشمن کا مقابلہ کرنا پڑا۔ وہ تیزی سے ختم ہونے لگے۔ لیکن آرکیالوجسٹس اس بات پر متفق ہیں کہ اُن کے مکمل خاتمے کے ذمہ دار فقط ماڈرن مین نسل کے انسان ہی نہیں بلکہ اٹلی کے شہر نیپلز کے علاقہ میں پھٹنے والاایک سُپرآتش فشاں بھی ہے۔ یہ آتش فشاں تین چار دن تک مسلسل ابلتا رہا اور اس کی راکھ یورپ کے دور دراز کے ممالک کے علاوہ ایشیأ اور مشرقِ وسطیٰ تک کے میدانوں پرگری۔ آج جب زمین میں ڈرل کرکے تین براعظموں سے مٹی نکالی گئی تو اُن ٹیوبوں میں سُپرآتش فشاں ’’کیمپی فلیگری‘‘ (Campi Flegrei) کی راکھ ٹھیک انہی تاریخوں میں پائی گئی جن میں نینڈرتھل کا خاتمہ ہوا تھا۔

تب بھی نینڈرتھل انسانوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہوگیا تھا۔ جبرالٹر کی غاروں میں نینڈرتھل اس سے پندرہ ہزار سال بعد تک بھی جیتے جاگتے، ہنستے کھیلتے رہے۔ عین اُسی زمانہ میں ان کے آس پاس کی غاروں میں ماڈرن مین نسل کے انسان بھی مقیم تھے۔ ان غاروں میں نینڈرتھل انسانوں اور ماڈرن مین انسانوں کے درمیان ملاپ بھی ہوتارہا اور اس ملاپ کے نتیجے میں ’’پوسٹ ماڈرن نسل‘‘ کا انسان بھی پیدا ہوتارہا۔ مختصر مدعا یہ ہے کہ آج انسانوں کی ایک ہی نوع زندہ اور باقی ہے جبکہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ آج ہم اپنے موجودہ’’ راج‘‘ کو صرف تین ہزار سال سے جانتے ہیں جبکہ دوسری نسل کے انسانوں اور جسمانی طور پرزیادہ طاقتور انواع نے لاکھوں سال تک دورعروج دیکھا۔ جدید سائنس کے اکتشافات سے بہت پہلے بعض مذہبی کتابوں میں ایسی نسلوں کا تذکرہ ملتاہے۔ خاص طور پر رامائن میں وانروں کی پوری فوج ہے جن کا سردار ہنومان ہے۔ معلوم ہوتاہے چار ہزار سال پہلے بھی انسانوں کو اُن معدوم ہوجانے والی نسلوں کی بابت علم تھا۔

لگ بھگ ایک لاکھ سال پہلے انسانوں کی ایک نوع انڈیا پہنچی۔ اُن کا رنگ کالا تھاجس سے ثابت ہوتاہے کہ وہ افریقہ سے آئے تھے۔ وہ زبان بول سکتے تھے۔ وہ چھوٹے چھوٹے لیکن مضبوط خاندانوں کی صورت رہتے تھے۔ اِسی نوع کو آرکیالوجسٹس ’’ہوموسیپینز‘‘ (homosapien)کانام دیتے ہیں اور انہی کو ماڈرن مین کہا جاتاہے۔ ہوموسیپینز اس وقت کے ماڈرن انسان تھے۔ سائنس کے بقول یہی ہمارے اصل آباؤاجداد ہیں۔  ہمارے سے مُراد زمین پر فی زمانہ موجود ہرانسان کے اصل آباؤاجداد یہی ہوموسیپینز ہیں۔  وہ تعداد میں کم تھےاور افریقہ سے انڈیا وہ کسی ہجرت کے نتیجے میں نہ آئے بلکہ آہستہ آہستہ، سرکتے سرکتے آپہنچے۔ لیکن ایشیأ پر تو پہلے سے کسی اور کا قبضہ تھا۔ ہوموسیپینز سے پہلے ہی ایشیأ ایک اور قسم کے انسانوں کا گھر تھا۔ آرکیالوجی نے ان قدیم ایشیائی باشندوں کو ’’ہومواریکٹس‘‘ کا نام دیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ آئے تو ہومو اریکٹس بھی افریقہ سے ہی تھے لیکن وہ لاکھوں سال پہلے ہی آگئے تھےچنانچہ اب ایشیأ اُن کا گھر تھا۔ ’’ہومواریکٹس کے جو فاسلز ملے ہیں اُن میں قدیم ترین ہومواریکٹس آج سے اُنیس لاکھ سال پہلے زمین پر موجودتھا اور سب سے آخری ہومواریکٹس آج سے سترہزار سال پہلے تک زمین پر موجود تھا۔ اس سے ثابت ہوتاہے کہ افریقہ، یوریشیأ، جارجیا، انڈیا،سری لنکا، چائنہ اورانڈونیشیأ کے علاقوں پر ’’ہومواریکٹس‘‘ نسل کے انسانوں کی حکومت کم سے کم اٹھارہ لاکھ سال تک رہی۔ اب ایک لمحے کو رُک کر ہم اپنی اِس تین ہزار سالہ حکومت پر نظر ڈالیں اور پھر ہومواریکٹس کا سیارۂ زمین پر اٹھارہ لاکھ سال کا دورِ حکومت تصور میں لائیں تو ہم اپنے بقأ (سروائیول) کے اعتبار سے کتنے حقیر قراردیے جائینگے؟ آرکیالوجی کے ماہرین کا کہناہے کہ زمین پر جتنی بھی قسموں کے انسان آباد رہے، ہومواریکٹس نے ان میں سب سے طویل دورِ حکومت دیکھا۔

اریکٹس کا لغوی معنی ہےدوپاؤں پر اُٹھ کر کھڑاہونے والا۔ یہ دوپاؤں پر چلنے والی انواع میں سب سے قدیم تھے۔ ہوموسیپینز کی آمد کے بعد یہ دونوں انواع ساتھ ساتھ ایشیأ میں رہنےلگیں۔  پھر یوں ہوا کہ آج سے سترہزارسال پہلے انڈونیشیا کی جھیل ’’توبہ‘‘ کے نزدیک ایک سُپرآتش فشاں پھٹا۔ ماہرین کے مطابق اس آتش فشاں کی راکھ نے پورے ایشیأ سمیت سیارۂ زمین کے زیادہ تر حصے کو تقریباً ڈھک دیا۔ مشرقی ہندوستان میں اِس ’’توبہ آتش فشاں ‘‘ کی چھ چھ میٹر موٹی، راکھ کی تہہ دریافت کی گئی ہے۔ چھ میٹر موٹی تہہ والی راکھ کا مطلب ہے آتش فشاں کا دھماکہ حدِ خیال سے کہیں زیادہ بڑا تھا۔ آج سے سترہزارسال پہلے اِس راکھ نے فضا کو بھر دیا۔ سُورج غائب ہوگیا اور زمین تاریک ہوگئی۔ فضا میں موجود آکسیجن بری طرح زہریلی ہوگئی۔ آسمان سے تیزاب کی بارشیں برسنے لگیں جنہوں نے دریاؤں اور جھیلوں کو زہریلا بنادیا۔ چھ سے دس سال کا عرصہ، اچانک طاری ہوجانے والا ’’آتش فشائی سرما‘‘ (والکینِک وِنٹر)یعنی شدید سردی کا موسم بھی رہا۔ اس تباہ کن زمانہ میں زیادہ تر ہومو سیپینز اورہومواریکٹس فنا ہوگئے جبکہ جنوبی ایشیأ کے علاقے میں بہت کم تعداد میں ہوموسیپینز اور ہومواریکٹس زندہ بچ گئے۔ جوبعد میں سبزے اور پانی کی خاطر ایک دوسرے کے شدیددشمن بن گئے کیونکہ وہ ایک دوسرے کو دو مختلف قسم کی مخلوقات تصورکرتے تھے۔ سپر آتش فشاں کے اِس واقعہ کو ’’توبہ کٹسٹرافی تھیوری‘‘ (Toba catastrophe theory) بھی کہتے ہیں۔

خیر! تو اس قیامت کے بعد بچی کچھی انسانی انواع کے درمیان غذا خصوصاً پانی کی قلت کی وجہ سے قتل و غارت گری کا طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہندوستان میں باقی بچ جانے والے ہوموسیپینز اور ہومواریکٹس کے لیے اب وہ سرسبزوشاداب ہندوستان نہیں تھا بلکہ اب یہاں ہرطرف راکھ کا صحرا بچھاہواتھا اور پینے کا پانی تلاش کرناجُوئے شِیر لانے کے مترادف تھا۔

توبہ آتش فشاں نے پورے سیّارۂ زمین کو ہِلا کر رکھ دیا۔ پودوں اور جانوروں کی لاکھوں انواع نابود ہوگئیں۔  انسان تعداد میں اتنے کم ہوگئے کہ لگتا تھا بالکل ہی ختم ہوجائینگے۔ چنانچہ ہومواریکٹس اور ہوموسیپینز کے درمیان لڑائیوں کا طویل سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہومواریکٹس زبردست قسم کے شکاری تھے۔ وہ اتنا تیز دوڑ سکتے تھے کہ آج کا کوئی انسان بھی اُتنا تیز نہیں دوڑ سکتا۔ وہ پتھروں سے ہتھیار اور اوزار بنانے میں ماہرتھے لیکن اِس بات کا ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ہومواریکٹس نیزے بناسکتے تھے۔ البتہ اِس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ وہ خنجرکی شکل کے پتھرتراش کراُنہیں بطورہتھیاراستعمال کرسکتے تھے، جنہیں وہ یورپین نینڈرتھل کی طرح صرف ہاتھ میں پکڑے پکڑے استعمال کرتے اور پھینکنے کی صلاحیت کے حامل نہیں تھے۔ لباس کے معاملے میں شواہد موجود ہیں کہ وہ چمڑے کاجانگیہ پہنتے جبکہ اُن کے مقابلے میں ہوموسیپینز پیروں کے تَلووں پربھی چمڑے کا ٹکڑا باندھتے تھے۔

ہومواریکٹس آگ جلاسکتے تھے۔ مالائیں بناتے اور ایک دوسرے کو مالاؤں کے تحفے دیتے۔ وہ تاریخِ انسانی کے پہلے کھوجی تھے۔ اپنے شکار کا سراغ لگانا اُن کی اکمل ترین صلاحیتوں میں سے تھا۔ اُن کی سراغ لگانے کی حِس، بہترین شکاری بننے کے عمل کے ساتھ ساتھ ہی ترقی پاتی چلی گئی جس سے ان کی سونگھنے کی حس، چکھنے کی حِس، دیکھنے کی حِس اور سننے کی حِس نے غیرمعمولی ارتقأ کیا۔ اُن کے دماغ کا سائز بڑاتھااور اُن کے دماغ میں علامتوں کے تبادلے والا حصہ موجود تھا۔ تاہم ہوموسیپینز کو ہومواریکٹس پر ایک برتری حاصل تھی۔ ہوموسیپینز کے پاس سوچنے اوردوسروں کے رویّوں کو سمجھنے کی صلاحیت موجودتھی۔ چنانچہ ہومواریکٹس کے مقابلے میں ہوموسیپینز اپنے آپ کو بچانے کے زیادہ ماہرتھے۔ اُس وقت موجود ہوموسیپینز کےفاسلز بتاتے ہیں کہ اُن کے مونڈھوں میں گھومنے کی صلاحیت تھی جبکہ ہومواریکٹس کے بازو ہرطرف گھوم نہ سکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ہومواریکٹس نیزہ نہیں پھینک سکتے تھے جبکہ ہوموسیپینز پورا بازو گھماکرنیزہ پھینکنے کے ماہرتھے۔ یورپ میں بھی اِسی نیزہ پھینکنے کی صلاحیت نے ہومیوسیپینز یعنی ماڈرن مین نسل کے انسانوں کو نینڈرتھل نسل کے انسانوں پر برتری دیے رکھی۔

نیزہ پھیکنا ہوموسیپینز کی اکلوتی صلاحیت نہ تھی۔ وہ رسّی کے ساتھ بندھے پتھر کو دُور تک پھینکنے کے بھی ماہر تھے۔ وہ کسی اولمپک ایتھلیٹ کی طرح رسی کے سرے پر بندھا پتھر پہلے اپنے بازو کے زور سے گھماتے اور پھر اُس میں بھرپور پوٹینشیل انرجی بھردینے کے بعد پتھر کوچھوڑدیتے۔ دُور سے دشمن کو مارنے کا یہ پہلا انسانی طریقہ تھا جو ہوموسیپینز نے ایجاد کیا۔ یہ گویا پہلی بندوق یا پہلی توپ تھی۔ اس ہتھیار سے وہ اُڑتے ہوئے پرندوں تک کا شکار کرلیتے تھے۔ چنانچہ ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ہوموسیپینز ہومواریکٹس سے زیادہ ترقی یافتہ تھے۔ چنانچہ ہومواریکٹس کا مقابلہ ایسے انسانوں کے ساتھ تھا جو طاقت میں تو ان سے کم تھے لیکن عقل میں ان سے کہیں زیادہ تھے۔ انڈیا سے ملنے والےفاسلز کے ریکارڈز سے معلوم ہوا ہے کہ ہوموسیپینز شترمرغ کے انڈوں کے خول پانی پینے یا سنبھالنے کے برتنوں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ فاسلز کے ریکارڈز ہی بتاتے ہیں کہ ہوموسیپینز کا دماغ ہومواریکٹس کے دماغوں سے تین گنا بڑاتھا۔ یہاں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ دماغ ایک بہت ہی پیچیدہ عضو ہے جسے زندہ رہنے کے لیے بہت زیادہ توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسانی جسم میں سب سے زیادہ توانائی خرچ کرنے والا عضودماغ ہی ہے۔ چونکہ ہوموسیپینز کا دماغ بڑا تھا سو لازمی طور پر اُس بڑے دماغ کا کام بھی ہومواریکٹس کے مقابلے میں زیادہ تھا۔ وہ ساری توانائی جو دماغ خرچ کرتا تھا، سوچ بچار میں خرچ ہوتی تھی۔ یہاں یہ دکھانا مقصود ہے کہ بالآخرفتح بڑے دماغ کو حاصل ہورہی ہے نہ کہ زیادہ طاقت کو۔ اس بڑے دماغ کی وجہ سے ہی وہ آپس میں بات چیت کرسکتے تھے۔ وہ بولتے تھے۔ ہوموسیپینز ہی وہ نوعِ انسانی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے زبان کو پیغامات کے تبادلے کے لیے استعمال کرنا شروع کیا۔ ان دونوں انواع کا یہ بنیادی فرق اِن کی کھوپڑیوں کو دیکھ کر معلوم کیا جاسکتاہے۔ ہوموسیپینز کی کھوپڑی میں دماغ کا بولی بولنے اور سمجھنے والا حصہ اب بھی موجودہےجبکہ یہ حصہ ہومواریکٹس کی کھوپڑیوں میں موجود نہیں ہےلیکن اس کے باوجود ماہرین کا خیال ہے کہ ہومواریکٹس کسی حدتک ٹوٹی پھوٹی زبان کا استعمال جانتے تھے۔

ہومواریکٹس چھوٹے چھوٹے خاندانوں کی صورت رہتے تھے۔ اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ ہومواریکٹس بھی ایک دوسرے کا خیال رکھتے اور بیماری میں ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے۔ جارجیا میں ایک بزرگ ہومواریکٹس کا فاسل ملا ہے جو اپنے تمام دانت ضائع ہونے کے دوسال بعد تک زندہ رہا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ اور لوگ اس کا خیال رکھتے رہے یعنی اُس بزرگ کے لیے اُس کا کھانا کوئی اور چباتارہا۔ شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ ہومواریکٹس کے خاتمے کی ایک وجہ ’’ٹیپ ورم انفیکشن‘‘ بھی تھا جو ایک وباتھی اور باسی اور خراب گوشت کھانے سے پھیلی اور بڑی تعداد میں اریکٹس ہلاک ہوگئے۔ شواہد سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اریکٹس کچا گوشت پسند کرتے تھےاگرچہ یہ بھی ثابت ہے کہ وہ گوشت کو پکانے کی صلاحیت کے مالک تھے لیکن وہ سرخ گوشت کھانا زیادہ طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ تصورکرتے تھے۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ہومواریکٹس اگر ہوموسیپینز کو مارتے تو ان کا گوشت کھاجاتے تھے۔ جبکہ ہوموسیپینز کے ایسے آثار دستیاب نہیں ہیں۔

سترہزارسال پہلے کے ہوموسیپینز یعنی ’’ماڈرن مین ‘‘نسل کے انسانوں میں ابتدائی مذہب کے آثاربھی پائے گئے ہیں۔  وہ اپنے آباؤاجداد کی نشانیاں گلے میں پہن لیتے اور سمجھتے کہ ان کے باپ داد اُن کی حفاظت کررہے ہیں۔  بزرگوں کی مالائیں نسل درنسل منتقل ہوتیں اور بہت قیمتی متاع تصور کی جاتیں۔

مزید دکھائیں

ادریس آزاد

ادریس آزاد (7 اگست 1969ء) پاکستان کے معروف لکھاری، شاعر، ناول نگار، فلسفی، ڈراما نگار اورکالم نگار ہیں۔ انہوں نے فکشن، صحافت، تنقید، شاعری، فلسفہ، تصوف اور فنون لطیفہ پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ ان کا اصل نام ادریس احمد ہے تاہم اپنے قلمی نام ادریس آزاد سے جانے جاتے ہیں۔ بطور شاعر انہوں نے بے شمار نظمیں تحریر کی ہیں جو روایتی مذہبی شدت پسندی کے برعکس روشن خیالی کی غماز ہیں۔ ان کی مشہور کتب ’عورت، ابلیس اور خدا، ’اسلام مغرب کے کٹہرے میں‘ اور ’تصوف، سائنس اور اقبالؒ‘ ان کے مسلم نشاۃ ثانیہ کے جذبے کی عکاسی کرتی ہیں۔ روزنامہ دن، ’آزادانہ‘ کے عنوان سے ان کے کالم شائع کرتا ہے ۔

متعلقہ

Back to top button
Close