آمار سونار بنگلہ (قسط ششم)

0

صفدر امام قادری

  ڈھاکہ یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو میں یوں تو ۹؍ بزرگ اور نوخیز اساتذہ ہیں مگر ان کے طلبہ کی ادب اور دوسرے شعبوں میں سرگرمیاں حیرت انگیز ہیں۔

 ڈھاکہ یونی ورسٹی کی دعوت پر جب میں نے وہاں جانے کا ارادہ کیا تو ذہن میں یہ بات صاف طور پر تھی کہ وہاں کے اردو کے طلبہ حاشیے کے لوگ ہوں گے یا جس کو کوئی مضمون نہ ملا ہو اُسی نے اردو زبان کو اپنی زندگی کے لیے منتخب کیا ہوگا۔ مگر بنگلہ دیش کے اس سب سے قدیم اعلا تعلیم کے ادارے کے شعبۂ اردو کی کارکردگی اس سے بالکل مختلف نظر آئی۔ ہندستان کے تمام شعبہ ہاے اردو پر ایک نظر ڈالیں تو علی گڑھ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، حیدرآباد یونی ورسٹی جیسے تعلیمی اداروں کے علاوہ شاید ہی کوئی ایسا شعبۂ اردو ہوگا جس میں نو اساتذہ ہوں۔ یہ بھی حسنِ اتفاق ہے کہ بزرگ اور نوجوان دونوں انداز کے اساتذہ کا م کر رہے ہیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ ہماری زبان کے یہ ایسے ماہر اساتذہ ہیں جنھیں ہم مثال کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔ ہندستان کی یونی ورسٹیوں کے شعبہ ہاے اردو میں بھی کون سے اور کتنے علم و ادب کے آفتاب وماہتاب دمکتے ہوئے نظر آتے ہیں ؟ قحط الرّجال کے دور میں اگر ڈھاکہ یونی ورسٹی کے اساتذہ اپنے طلبہ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت خرچ کرتے ہیں تو اور تعلیم کے عمومی کاموں کے علاوہ انھیں دنیا میں مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے خود کو تیار کرنے، اردو میں ہی اعلا تعلیم حاصل کرنی ہو تو اس کے لیے انھیں آگے بڑھانا اور جسے تہذیبی اور ثقافتی میدانوں میں کامیابیاں حاصل کرنی ہیں انھیں اُس اعتبار سے صیقل کرنا جیسے کاموں کو اساتذہ کی ذمہ داری تسلیم کریں تو یہ اساتذہ ٔ کرام صد فی صد اپنی سچی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

   ہندستان میں اساتذۂ کرام اور خاص طور سے شعبہ ہاے اردو کے بزرگ اساتذہ کا حال یہ ہے کہ ان کے جلال اور کمال سے اردو کے طالبِ علم اس قدر خوف زدہ ہوتے ہیں کہ انھیں تدریس کی زحمت سے بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر اساتذہ طلبہ سے جڑے بغیر اپنے اپنی انفرادی پہچان کے لیے ہمہ وقت مصروفِ کار ہوتے ہیں۔ مگربنگلہ دیش میں یہ محسوس ہوا کہ اساتذہ اپنے طلبہ کے مضامین بھی اصلاح کے مرحلوں سے گزارتے ہیں اور کسی سے می نار میں پیش کرنے سے پہلے بار بار اس کی مشق کراتے ہیں۔ یہ بھی کسی نہ کسی سمت سے اندازہ ہوا کہ اساتذہ میں بھی بزرگ اساتذہ، نوعمر اساتذہ کی پیش کش کو بہتر بنانے کے لیے مقالہ سنتے ہیں اور انھیں مشورہ دے کر بہتر کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔

  ڈھاکہ یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو کا ذہنی اور فکری احتساب کریں تو بڑی پُرلطف کیفیت حاصل ہوتی ہے۔ ہندستان اور پاکستان یا اسلام اور کفر جیسی سیدھی لکیر کھینچی ہوئی ہے۔ آدھے اساتذہ باریش، مذہبی اور ادب میں بھی اسلامی اطوار کے طلب گار نظر آتے ہیں۔ ان کی ملک اور بیرونِ ملک کی مذہبی جماعتوں سے بھی ہم رشتگی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس آدھے اساتذہ وضع قطع میں تو اسلامی بوٗ باس نہیں رکھتے مگر کردار میں دین اسلام کے پابند نظر آتے ہیں۔ حالاں کہ شعبۂ اردو کی علمی سرگرمیوں میں وہ کسی مذہبی رُخ کی شمولیت کے طرف دار نہ معلوم ہوئے۔ اساتذہ کے چیمبرس بھی کچھ اس انداز سے ملے ہیں کہ جس میں یہ خطِ فاصل واضح ہو جاتاہے۔

ایم۔ اے۔ اگرچہ ایک سال کا ہے مگر اس کورس میں بچوں کی تعداد سو سے ہمیشہ زیادہ رہتی ہے۔ بی۔ اے۔ ڈھاکہ یونی ورسٹی میں چار برسوں پر محیط ہے۔ کسی سال میں سو سے کم طالبِ علم نہیں۔ دوسرے کورس کے بچوں کو بھی اردو ایک مضمون کے طور پر پڑھنے کی سہولت حاصل ہے جس میں سو سے کم طالبِ علم موجود نہیں ہوتے۔ پانچ چھے سو اردو پڑھنے والے طلبہ کو سبب مانیں تو ہندستان میں محض چند ایسے ادارے یا شعبہ ہاے اردو ہیں جن میں اردو پڑھنے والے طلبہ کی تعداد ڈھاکہ یونی ورسٹی سے بڑھ جائے گی۔ غیر منقسم ہندو پاک کی بات کریں تو ڈھاکہ یونی ورسٹی کا شعبۂ اردو سب سے پُرانے اداروں میں سے ایک ہے، اب ا س کے سو برس یعنی ایک صدی مکمل ہونے ہی والی ہے۔ بہت اونچ نیچ اور ہار جیت کا زمانہ اس ادارے نے دیکھا۔ زبان اور ملک دونوں کی جنگوں اور نفرتوں کے باوجود اس یونی ورسٹی نے اردو کے تسلسل کو اب تک قائم رکھا ہے اور ابتدائی دور سے لے کر اعلا اسناد تک کی رہ نمائی یہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

  بنگالیوں کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ گانے بجانے اور ناٹک نوٹنکی سے ان کا بڑا گہرا رشتہ ہے۔ اس وجہ سے تہذیب و ثقافت کے بہت سارے کاموں میں یہ لوگ دوسروں سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ڈھاکہ یونی ورسٹی کو دیکھتے ہوئے یہ بات یقین کے درجے تک پہنچ گئی۔ یونی ورسٹی کا مرکزی ثقافتی مرکز حیران کن تھا۔ ایک وقت میں اس کیمپس میں کم از کم دس پروگرام ہو سکتے ہیں۔ سو، دو سو، پانچ سو اور گیلری میں بیٹھ کر یا ہری گھاس پر آپ جس انداز سے  پرفارمنس دینا چاہتے ہیں ، اس کے بھرپور انتظامات ہیں۔ روز روز اتنے پروگرام ہوتے رہتے ہیں کہ ہم آسانی سے اسے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہر شعبے کے طلبہ و طالبات اپنے تہذیبی اور ثقافتی جوش اور ولولے کے اظہار کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ یہ عجب اتفاق تھا کہ ہمارے استقبال میں شعبۂ اردو کے طلبہ و طالبات نے جو کلچرل پروگرام پیش کیا تو اس میں پچاس سے زیادہ بچوں نے شرکت کی۔ کہیں بھاڑے پر بلا کر یا کہیں روتے گاتے لوگوں کو جمع کر کے ہندستان کے شعبہ ہاے اردو کی طرح سے وہاں جوڑ توڑ کرکے پروگرام نہیں مرتب کیا گیا تھا۔ گانے والے اُسی قدر اچھے، بجانے والے بھی پورے کے پورے ماہر اور ڈانس ڈرامہ کرنے والے بھی ذرا بھی کمزور نہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ شعبۂ اردو کا یہ کنبہ اپنے آپ میں ایک تہذیبی و ثقافتی کارخانہ ہے۔ ہندستان کا کوئی شعبۂ اردو آزادانہ طور پر کیا، مجموعی طور پر بھی ایسا کلچرل پروگرام شاید ہی کر سکے۔ کمال یہ کہ اساتذہ بھی گاتے بجاتے اور ڈانس کرتے نظر آئے اور انھوں نے مہمانوں کو بھی اسٹیج پر بُلا کر صرف استقبال نہیں کیا بلکہ انھیں کلچرل پروگرام کا حصہ بننے پر بھی رضامند کر لیا۔ سنٹرل یونی ورسٹی آف حیدر آباد کے نوجوان استاد ڈاکٹر محمد زاہد الحق نے تو پے بہ پے تین فلمی گانے بھی پیش کیے اور بنگالی نوجوانوں کو ہندستانی گانوں سے محبت کرتے ہوئے دیکھنے کا ہمیں موقع فراہم کیا۔

 ڈھاکہ یونی ورسٹی کے شعبۂ اردو میں اساتذۂ کرام میں اردو اور بنگلہ دونوں زبانوں میں لکھنے، چھپنے اور کتابیں شایع کرانے والے افراد موجود ہیں۔ کچھ ترجمہ بھی کرتے ہیں اور اکثر تحقیق کی نگرانی میں بھی سرگرمِ عمل ہیں۔ اپنے طلبہ سے بے لوث محبت کرنے اور ان کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کا انداز سب کے دل کو چھوٗ جائے گا۔  وہاں کے بی۔ اے۔ ، ایم۔ اے۔ کے طلبہ اپنے اساتذہ اور ان کے مہمانوں کے ساتھ ایسا محبوبانہ برتاو کرتے ہوئے نظر آئے جیسا اب یونی ورسٹیوں میں دوسری جگہ خال خال نظر آتاہے۔ ڈھاکہ یونی ورسٹی کا شعبۂ اردو ابھی اردو تعلیم و تدریس کے منظر نامے پر اُبھر کر سامنے نہیں آ سکا ہے۔ اساتذۂ کرام لگاتار تحقیقی کاموں میں اگر خود کو منہمک رکھیں اور ڈھاکہ یونی ورسٹی کے کتب خانے میں محفوظ ذخیرے کو اردو عوام تک پہنچانے کے لیے قلم ہاتھ میں لیں تو ہمارا  اندازہ ہے کہ اس شعبے کے طلبہ ملک اور بیرونِ ملک اردو کا چراغ لے کر آگے بڑھیں گے اور جلد ہی یہ شعبہ اپنی پہچان کے اعتبار سے دنیا میں مینارۂ نور بنے گا۔ اتنے اساتذہ اور بڑی تعداد میں طلبہ کے خونِ جگر کا اصراف ضایع نہیں ہوگا۔

تبصرے