سیر و سیاحت

بدھا کا مجسمہ!

محمد عرفان ندیم

ہم جس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے اس کے باالکل جنوب مشرق کی جانب دور پہاڑوں اور گھنے درختوں کے بیچ تانبے سے بنا بدھا کا ایک دیو ہیکل مجسمہ نصب تھا۔پہلے ہی دن جب ہم صبح تازہ دم ہو کر ناشتے کے لیے باہر لان میں گئے تو سامنے بدھا کا مجسمہ ہمیں دیکھ کر مسکرا رہا تھا اور میں نے اسی وقت ٹھان لی تھی کہ بدھا کے درشن کے لیے ضرور اس کے قریب جاوں گا اور قریب سے اس کا نظارہ کروں گا۔ نیپال میں روایت ہے کہ مختلف مقامات اور پہاڑی چوٹیوں پر گوتم بدھ اور دیگر دیوی دیوتاوں کے مجسمے نصب ہیں۔ ہر پندرہ بیس کلومیٹر کے فاصلے پر آپ کوکسی پہاڑ ی چوٹی پر کوئی نہ کوئی مجسمہ ضرور نظر آئے گا۔ یہ مجسمے مختلف قسم کی دھاتوں سے بنائے گئے ہیں، یہ مجسمہ بھی تانبے کا بنا ہوا تھا اور سورج کی کرنیں پڑنے پر دور سے چمکتا دکھائی دیتا تھا۔ ایک دن عصر کے بعد چند دوستوں کے ہمراہ وہاں جانے کا پروگرام بن گیا، سفر ذرا طویل تھااور ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی جاری تھی، ہم مختلف راستوں اور گلیوں سے ہوتے ہوئے منزل کی جانب بڑھنے لگے۔ راستے میں ٹریفک پولیس کا ایک اہلکار اچانک ہمارے راستے میں آکر کھڑا ہو گیا اور بولا ’’آپ لوگ کدھر جا رہے ہیں ؟‘‘ہم پیدل جا رہے تھے لہذا اس سوال کی توقع نہیں تھی، اسے بتایا کہ ہم بدھا کا مجسمہ دیکھنے جا رہے ہیں، وہ ہلکا سا مسکرادیا اور گویا ہوا ’’آپ لوگ حلیے سے مسلمان لگ رہے ہیں، میں بھی مسلمان ہوں اور ٹریفک پولیس میں میجر کے عہدے پر ہوں، آپ لوگوں کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ ‘‘

ہمارے ساتھ پاکستان سے چند باحجاب طالبات بھی اس ورکشاپ میں شریک تھیں، اگرچہ وہ اس موقعہ پر ہمارے ساتھ موجود نہیں تھیں لیکن اکثر جگہوں پر جہاں بھی جانا ہوتا لوگ ان کے حجاب کو دیکھ کر پہچان جاتے تھے کہ ہم لوگ مسلمان ہیں۔ مجھے ان طالبات پر رشک بھی آیا اور خوشی بھی ہوئی کہ اپنے وطن سے دور ایک سیکولر اور آزاد ماحول میں بھی انہوں نے اپنی شناخت کوبرقرار رکھا اور اس پر کسی طرح کمپرومائز نہیں کیا۔اگرچہ حجاب نہ کرنے کی بیسیوں دلیلیں اور تاویلات موجود تھیں۔ بہرحال جب اس نے کہا کہ میں مسلمان ہوں تو میں نے بازو پھیلا ئے اور ہم گرمجوشی سے بغلگیر ہو گئے۔ دیار غیر میں کسی مسلمان کو مل کر کم از کم مجھے تو بہت خوشی ہوتی ہے۔ ہم نے بتایا کہ ہم بدھا کا مجسمہ دیکھنے جا رہے ہیں اس حوالے سے کچھ گائیڈ کر دیں۔ اس نے بتایا کہ اس وقت تو بدھا کے مجسمے کا گیٹ بند ہو چکا ہو گا، آپ لوگ کسی دن پانچ بجے سے پہلے جائیں ورنہ پانچ بجے گیٹ بند ہو جاتا، ہم بہت پر جوش تھے لیکن اب آگے بڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ ہماری مایوسی دیکھ کر اس نے بتایا کہ یہاں سے تھوڑا آگے، نیچے وادی میں ایک اور مندر موجود ہے آج آپ وہاں ہو آئیں کل پانچ بجے سے پہلے بدھاکا مجسمہ اور اس سے بھی اوپر موجود کالی مندرکا چکر لگا لیں۔ ہم نے اس کا شکریہ ادا کیا، اس نے چائے کی دعوت دی لیکن ہمارے پاس وقت بہت کم تھا، اس نے ہمیں ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا اور ساتھ ہی اپنا نمبر بھی دید یا کہ کوئی مسئلہ ہو تو فورا رابطہ کر لیں۔

ہم آگے بڑھے تو دیکھا نیچے گہری وادی میں تقریبا ایک سو سیڑھیاں نیچے اترنے کے بعد ایک چھوٹا مندر موجود تھا، ہم سیڑھیاں اتر کر نیچے پہنچے تو وہاں کوئی بندہ نظر نہیں آ رہا تھا، یہ جگہ بالکل سنسان اور نیچے وادی میں تھی اور آگے بڑھنے میں ڈراور خوف محسوس وہ رہا تھا، میں نے دور کھڑے ہو کر آواز لگائی ’’کوئی ہے‘‘ دو تین بار آواز لگانے کے بعد مندر کی پچھلی سائیڈ پر موجود برآمدے سے ایک بڈھا جس کی عمر تقریبا پچاس ساٹھ سال تھی نظر آیا، اس نے ہمیں دیکھا تو نیچے آنے کا اشارہ کر دیا۔ ہم ڈرتے ڈرتے نیچے اترے، دوست مندر کا جائزہ لینے میں مصروف ہو گئے اور میں اس بڈھے کے پاس چلا گیا، میں نے دیکھا وہ سیگریٹ میں بھنگ یا چرس بھرنے میں مصروف تھا، میرا ذہن فورا پاکستانی درباروں کی طرف چلا گیا کہ ہمارے ہاں بھی درباروں پریہی کچھ ہوتا ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ ہم پاکستان اور انڈیا سے آئے ہیں اور مندر دیکھنے کا ارادہ ہے۔ نیپال میں اردو تقریبا ہر جگہ سمجھی اور بولی جاتی ہے اگرچہ ذیادہ نہیں لیکن بات سمجھنے سمجھانے کے لیے کفایت کر جاتی ہے، وہ میری بات سمجھ رہا تھا، بولا:’’جاتے ہوئے ہماری بھی خدمت کر کے جائیے گا۔‘‘میں اس کا مدعا سمجھ گیا اور جاتے ہوئے دوستوں نے اسے ایک ڈالر جو تقریبا ایک سو سات نیپالی روپے بنتے تھے اسے دیئے۔ وہ بہت خوش ہوا، دوستوں نے گھوم پھر کر مندر کا جائزہ لیا، تصاویر بنائی اور واپسی کی راہ لی۔ دیکھنے گئے تھے کالی مندر لیکن کوئی شاید شیوا جی کا مندر دیکھ کر واپس آگئے۔

اگلے دن پھر چند دوستوں کا گروپ جس میں پاکستان، انڈیا اور ساوتھ افریقہ کے لوگ شامل تھے کالی مند ر اور بدھا کا مجسمہ دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے، آج ہم زرا وقت لے کر نکلے تھے، موسم تقریبا کل جیسا تھا، ہلکی ہلکی بوندا باندی جاری تھی اور ہوا میں گوتم بدھ کی سانسوں کی مہک رچی بسی تھی، جب ہم اس پہاڑ کی جڑ تک پہنچے جس پر کالی مندر موجود تھا تو معلوم ہوا اس مندر تک جانے کے لیے ایک ہزار سیڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں، عرف عام میں اسے ایک ہزار سیڑھیوں والا مندر بھی کہا جاتا تھا۔ منزل بہت کھٹن تھی لیکن ساتھیوں کا عزم پختہ تھا، لہذا آگے بڑھنے کا فیصلہ ہوا ور ہم نے سیڑھیاں چڑھنا شروع کر دیں۔ نیپالی گورنمنٹ نے اس مندر تک جانے کے لیے پہاڑوں کو کاٹ کر پختہ سیڑھیاں بنا دی ہیں اور سیڑھیوں کے دونوں اطراف میں جنگلے بھی لگا دیے ہیں تاکہ کوئی وحشی درندہ یا جانور سیاحوں کو نقصان نہ پہنچا ئے۔ تقریبا آدھا گھنٹہ سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ہم کچھ بارش اور کچھ پسینے سے بھیگے ہوئے بدھا کے مجسمے کے گیٹ کے سامنے موجود تھے۔

اتنی محنت اور ہزار سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ہمیں اس وقت شدید جھٹکا لگا جب دیکھا کہ بدھا کے مجسمے کا گیٹ آج بھی بند ہو چکا ہے، بہت افسوس ہوا، ساتھیوں کی ہمت جواب دے گئی تھی کہ اتنی مشقت بھی اٹھائی اور نتیجہ خاک نکلا۔ میں نے آگے بڑھ کر گیٹ کھٹکھٹایا لیکن اندر کوئی نہیں تھا، ہم نے گیٹ کے اوپر سے ہی بدھا کو دیکھا، یہ ایک بہت بڑا اور دیو ہیکل مجسمہ تھا، ارد گرد چاردیواری کی گئی تھی اورتھوڑا بہت سیر و تفریح کا سامان موجود تھا۔دوستوں نے گیٹ کے اوپر سے ہی بدھا کے درشن کیئے، اطمینان ہوا کہ کچھ خاص منظر نہیں تھا جو ہم سے مس ہوا۔ بہر حال گیٹ نہ کھلنے کا افسوس تو ہوا لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔ ساتھی بہت تھک چکے تھے اور مزید آگے بڑھنے کی ہمت نہیں تھی لیکن یہ تو بدھا کا مجسمہ تھا ہماری اصل منزل کالی مندر ابھی مزید اوپر تھا۔

مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close