سیر و سیاحت

بدھ ناتھ اسٹوپا کھٹمنڈو!

گوتم کی وفات کے بعد لوگ اس کے اسٹوپے کی زیارت کے لیے آنا شروع ہو گئے اور یوں بدھ مت میں ان سٹوپوں کی زیارت کا رواج عام ہو گیا۔

محمد عرفان ندیم

پشو پتی ناتھ مندر سے فارغ ہو کر ہم چار بجے بدھ ناتھ اسٹوپا پہنچ چکے تھے۔ یہ اسٹوپا کھٹمنڈو کے مرکزی علاقے میں موجود ہے۔ اس کے ارد گرد گنجان آبادیاں ہیں اور یہ چاروں طرف سے آبادی میں گھر چکا ہے۔ آج سے ہزاروں سال قبل جب یہ بنا تھا تو یہ ساری وادی جنگلات سے گھری تھی۔ یہ اسٹوپا نیپال میں بدھ مت کا سب سے بڑا اسٹوپا ہے اور لوگ دنیا بھر سے اس کی زیارت اور عبادت کے لیے آتے ہیں۔ بدھ مت میں اس کی حیثیت وہی ہے جو ہمارے ہاں کعبہ اور بیت اللہ کی ہے۔ نیپال دنیا بھر میں دو اہم مذاہب کامرکزسمجھا جاتا ہے۔ ایک بدھ مت کہ مہاتما بدھ کی پیدائش ہی اس علاقے میں ہوئی تھی اور دوسرا ہندو مت۔ کہنے کو ذیادہ ہندو بھارت میں آبادہیں لیکن چونکہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے اس لیے ہندو مت کو وہاں وہ حیثیت حاصل نہیں جو نیپال میں ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک نیپال باقاعدہ ہندو ریاست تھی لیکن اب یہ سیکولر ریاست بن چکی ہے۔

آگے بڑھنے سے قبل میں اسٹوپا اور بدھ مت کے بارے میں تھوڑی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔ اسٹوپا سنسکرت زبان کا لفظ ہے، یہ گول دائرے کا بنا ہوا ایک کمرہ ہوتا ہے جس کے اوپر گنبد نما چھت ڈالی جاتی ہے۔ بدھ مت کے لیے یہ ایک خانقاہی مقام ہے جس میں بدھ مت کے پیشوا کی راکھ رکھی جاتی ہے۔ بدھ مت میں اسٹوپا کو زیارت گاہ کی حیثیت حاصل ہے اور لوگ دور دراز سے سفر کر کے اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں یہ سٹوپے بکثرت موجود ہیں۔ سوات میں گندھارا تہذیب کے دوران ایسے اسٹوپے بکثرت تعمیر کیے گئے تھے، ٹیکسلا میں آج بھی ایسے کئی اسٹوپے موجود ہیں جنہیں محکمہ آثار قدیمہ کی حفاظت میں رکھا گیا ہے۔

ہزا روں سال قبل مشرقی ہند میں گول قبریں بنانے کا رواج تھا، یہ قبریں اسٹوپ کہلاتی تھیں۔ قبر کے نشان کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی، ایک دفعہ قبر بنانے کے بعد لواحقین اپنے پیاروں کی قبروں کو بھول جاتے تھے۔ کہا جاتا ہے جب گوتم بدھ کی وفات ہوئی تو اس کی قبر کی علامت کے طور پر پہلا اسٹوپا تعمیر کیا گیا  اور بعد میں بدھ مت میں اس مذہبی حیثیت حاصل ہو گئی۔ آہستہ آہستہ گوتم بدھ اور دوسرے بدھ بزرگوں کی قبروں کے آثار کے لیے اسٹوپ بناناثواب کا کام سمجھا جانے لگااور پھرہر اسٹوپ کے ساتھ بھکشوؤں کے رہنے کے لیے خانقاہ اور ان کے اجتماع کے لیے عبادت گاہ بنوانے کا رواج بھی عام ہوگیا۔

شروع میں اسٹوپ نیم دائرے کی شکل میں بنائے جاتے تھے اوران میں بدھ بزرگوں کی باقیات اور آثار رکھے جاتے تھے اور ان کی پرستش کی جاتی تھی۔ اسٹوپ کی چوٹی پر ایک چوکور جنگلا بنایا جاتاتھا۔ بدھ مت میں جس چیز کا احترام کیا جائے اس کے گرد طواف کیا جاتا ہے اس لیے اسٹوپوں کے گرد ایک گول چبوترا بنادیا جاتا تھاجس پر چلتے ہوئے لوگ طواف کرتے تھے۔ بعد میں اسٹوپ کے مزید احترام کے لیئے ایک جنگلے کے ذریعے اس کی احاطہ بندی کی جانے لگی۔ اس جنگلے کے چاروں طرف سمتوں کے لحاظ سے دروازے ہوتے تھے۔ بیچ میں صحن اور اس کے چاروں طرف کمرے اور کوٹھریاں ہوتی تھیں جو صحن میں کھلتی تھیں۔

گوتم بدھ کی وفات کے بعد اس کی خاک کو آٹھ اسٹوپوں میں محفوظ کیاگیا تھا، اشوک نے اس خاک کو نکال کر سلطنت کے تمام بڑے شہروں اور صوبوں میں بھجوا دیا اور حکم دیا کہ ان علاقوں میں شاندار اسٹوپے تعمیر کیئے جائیں۔ بعد میں بدھ مت کے پیروکاروں اور بزرگوں کو بھی اسٹوپوں میں دفن کیا جانے لگا اور ان کے تبرکات پر بھی اسٹوپے تعمیر کیے جانے لگے۔ اہل ثروت نے شکرانے کے طور پر بھی اسٹوپے تعمیرکرانے شروع کر دیئے اور یوں یہ سلسلہ چل نکلا۔ بعد میں اسٹوپوں کے گنبد پر سات چھتریاں بنائی جانے لگیں جو سات آسمانوں کو ظاہر کرتی تھیں۔

گوتم کی وفات کے بعد لوگ اس کے اسٹوپے کی زیارت کے لیے آنا شروع ہو گئے اور یوں بدھ مت میں ان سٹوپوں کی زیارت کا رواج عام ہو گیا۔ یہ روایت مشہور ہو گئی کہ چار مقامات کی زیارت کرنے کی ہدایت گوتم بدھ نے خود کی تھی۔ ایک لمبینی باغ جہاں بدھ پیدا ہوئے، دوسرے گیا کے قریب وہ درخت جس کے نیچے اْنہیں گیان حاصل ہوا، تیسرا بنارس کا ہرن باغ جہاں اْنھوں نے پہلی دفعہ تعلیم دی اور چوتھا جہاں اْنھوں نے وفات پائی۔

جب تک گوتم بدھ زندہ رہا اس کا اثر مظلوم اور مفلس طبقوں تک محدود رہا، اس کے پیرو کاروں کی ذیادہ تعداد بھکشوؤں پر مشتمل تھی، بھکشو سادہ زندگی گزارتے تھے۔ ان کا نہ گھر بار ہوتا تھا نہ ہی کوئی اثاثہ، وہ گاؤں گاؤں تبلیغ کرتے، بھیک سے پیٹ بھرتے اور رات کو کسی درخت کے نیچے سو جاتے تھے۔ رفتہ رفتہ بدھ مت کی رسائی درباروں میں ہونے لگی اور بالآخر اشوک نے بدھ مذہب قبول کر لیا۔ اشوک نے اپنی سلطنت کے آٹھ مقامات پرسینکڑوں اسٹوپے تعمیر کرائے اور ہر اسٹوپے میں گوتم بدھ کے تھوڑے تھوڑے تبرکات محفوظ کردیے۔ ٹیکسلا کا دھرم راجیکا ان میں سب سے بڑا تھا۔ اس نے شاہی اسٹوپوں کی دیکھ بھال کے لیے بھکشو مقرر کیئے، ان کے رہنے کے لیے گھر بنا دیے گئے اور آس پاس کی زمین اس کے لیے وقف کردی۔

ایک چینی سیاح فاہیان 400 ق م میں گندھارا آیا تھا، اس نے لکھا کہ سوات میں بدھ مت کی 1400 خانقاہیں موجود ہیں اوریہاں اٹھارہ ہزار بھکشو ہر وقت بدھ مت کے رسومات کی ادائیگی میں مصروف رہتے ہیں۔ سوات میں اب بھی 46 اسٹوپے موجود ہیں جن پر اٹلی کے ماہرین آثار قدیمہ تحقیقات کر رہے ہیں۔ گندھارا تہذیب اور سوات کے علاقے میں بدھ مت کی دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی بھی موجود تھی۔ اسلام آباد سے ذرا فاصلے پر ضلع ہری پور میں واقع قدیم جولیاں یونیورسٹی کے کھنڈرات آج بھی موجود ہیں۔ یونیورسٹی کے کھنڈرات میں داخل ہوتے ہی ایک احاطہ ہے جس کی دائیں جانب بکھشوؤں کے لیے چھوٹی چھوٹی عبادت گاہیں قائم ہیں۔

یہاں پڑھائی کے علاوہ عبادت خانے بھی موجود تھے جہاں بدھ بھکشو ؤں کو عبادت اور نروان حاصل کرنے کے طریقے سکھائے جاتے تھے۔ پہلی صدی عیسوی میں تعمیر کی گئی اس مذہبی یونیورسٹی میں بدھ بھکشو ؤں کے لیے پچاس سے زیادہ عبادت گاہیں دریافت ہوئی ہیں، یہ چھوٹی چھوٹی عبادت گاہیں تھیں جن میں انفرادی طور پر عبادت کی جاتی تھی۔ یہاں تقریباً ڈیڑھ سو طالب علم بیک وقت  قیام کر سکتے تھے۔ اس علاقے کو بدھ مت کا گڑھ کہا جاتا تھا۔ یہاں گوتم بدھ کی خصوصی مورتیاں محفوظ تھیں لیکن کچھ عرصہ قبل ان کی نقلیں رکھ دی گئیں ہیں اور اصل مورتیوں کو ٹیکسلا میوزیم منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان مورتیوں میں گوتم بدھ کو گیان کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور دونوں اطراف ان کے عقیدت مند کھڑے ہیں۔

مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close