جموں وکشمیر ریاست کا پہاڑی قبیلہ!

الطاف حسین جنجوعہ

پہاڑی قبیلہ سے مراد ہر گز پہاڑی علاقوں میں بسنے والے لوگ نہیں بلکہ اس  سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی زبان پہاڑی ہے، اپنا منفرد تہذیب وتمدن، رہن سہن اور طرزِ حیات ہے۔ پہاڑی زبان سے مراد وہ زبان جوکہ جموں وکشمیر آئین کے چھٹے شیڈیول میں بھی درج ہے۔ جب بھی پہاڑی  قبیلہ کا ذکر آتاہے تو اکثر ارباب اقتدار میں بیٹھے لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس کا مطلب ہر وہ شخص ہے جو پہاڑی علاقے میں بس رہاہے جبکہ ایسا ہرگز نہیں۔ گذشتہ دنوں قانون سازیہ کے بجٹ اجلاس کے دوران وادی چناب اور جموں خطہ کے چند پہاڑی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی نے بھی اس پرسوالات اُٹھائے لیکن سماجی بہبود کے وزیر سجاد غنی لون نے بھی ان کے حدشات وتحفظات کو بہت ہی بہترین انداز میں دور کیا۔ سجاد لون نے  واضح کیا کہ پہاڑوں پر رہنا والاہر شخص پہاڑی طبقہ نہیں، پہاڑی طبقہ اور پہاڑوں پر رہنے والوں میں فرق ہے۔ پہاڑوں پر رہنے والا ہرشخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتاکہ وہ پہاڑی طبقہ سے تعلق رکھتا ہے اور اس کو پہاڑیوں کو دیئے جانے والی مراعات میں شامل کیاجائے۔ انہوں نے اراکین قانون سازیہ کواس معاملہ پر کنفیوژن پیدا کر کے سیاست نہ کرنے کا بھی مشورہ دیا۔ وزیر موصوف سجاد لون کا کہناتھا’’میں خود پہاڑ پر رہتاہوں تو اس کا کیایہ مطلب ہوا کہ میں بھی پہاڑی طبقہ سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کرؤں، یہ قطعی درست نہیں‘‘۔

پہاڑی طبقہ کون ہے اس سے متعلق مکمل طور پر اعدادوشمار ہیں اور علاقے شناخت شدہ ہیں، اب پہاڑوں پر رہنے والا ہر شخص پہاڑی کہلانے کا دعویٰ نہیں کرسکتا، لہٰذا اس پر کنفیوژن نہ پیدا کی جائے۔ جموں کشمیر ریزرویشن ایکٹ 2004 میں ترمیم کے حوالے سے جموں کشمیر ریزر ویشن ترمیمی بل نمبر18/2014 کوایوان میں پیش کرتے وقت سماجی بہبود کے وزیر سجاد غنی لون نے، اِس بل کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس طبقے کے لوگ زیادہ تر ریاست کے دور دراز علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جن کی سماجی و اقتصادی حالتِ قدرِ کمزور ہے۔ سماجی، اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ یہ لوگ بااختیار طبقے کے لوگوں کے ساتھ مقابلہ نہیں کر پاتے۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑی زبان بولنے والوں کو خاطر خواہ فوائد دستیاب نہیں اور یہ بات اس طبقے کی سماجی و اقتصادی پسماندگی سے ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیاکہ پہاڑی کیمونٹی کو ’’لسانی اور نسلی‘‘ خصوصیات کی بنا پر یہ ریزرویشن دی گئی ہے، پہاڑی لفظ کو اُس کے اصلی لغوی معنی میں نہ لیاجائے، یہاں پر اس کا مطلب الگ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈوڈہ، کشتواڑ، رام بن، ریاسی، کٹھوعہ اور اودھم پور کے پہاڑی علاقوں میں رہنے والے جن پسماندہ لوگوں کی طرف سے ریزرویشن کی آوازیں جو اٹھ رہی ہیں، وہ قدرجائز ہوسکتی ہیں لیکن انہیں ریزرویشن پہاڑی طبقہ کی قیمت پر نہیں دی جاسکتی۔ پہاڑی عوام سے مراد وہ مخصوص طبقہ ہے جو ایک الگ ثقافت، تمدن، رہن سہن اور رسم و رواج رکھتاہے اوراس طبقہ کی سب سے بڑی مخصوص شناخت یہ ہے کہ یہ طبقہ پہاڑی زبان بولتاہے، نہ کہ ہر وہ انسان جو ریاست کے طول و عرض میں پہاڑوں پر رہتاہو وہ پہاڑی کہلائے گا۔

 ا س طبقہ کی پہچان بھی اسی طرح سے ہے جس طرح سے گوجر ی بولنے والوں کو گوجر کہاجاتاہے، کشمیری زبان بولنے والوں کو کشمیری کہاجاتاہے، ڈوگری بولنے والوں کو ڈوگرہ کہاجاتاہے اور لداخی بولنے والوں کو لداخی کے نام سے جاناجاتاہے۔ پہاڑی زبان بڑی مستند اور صدیوں پرانی زبان ہے۔ یہ طبقہ بالخصوص پونچھ راجوری، اُوڑی، کرناہ، کیرن میں بھاری تعداد میں اور بالعموم بڈگام، شوپیاں، اننت ناگ، گاندربل، بارہمولہ اور ریاست کے دوسرے علاقہ جات میں ایک مخصوص شناخت اور زبان کے ساتھ آباد ہے۔ یو۔ ان مخصوص علاقوں میں رہنے والا ہر وہ شخص چاہے وہ مقامی طور پر کوئی دوسری زبانیں بھی بولتاہو وہ پہاڑی کہلائے گا کیونکہ مقامی طور پر چاہے کوئی بھی زبان بولتاہواس کی رابطہ زبان پہاڑی ہی ہے۔ پہاڑی زبان بولنے والے عوام کئی دوسری بولیاں بھی بولتے ہیں جیسے میر، لون اور پرے کشمیری اور سکھ پونچھی اور میرپوری بولتے ہیں مگر مجموعی طور پر پہاڑی زبان ہی ان کی رابطہ زبان ہے اور وہ پہاڑی ہی کہلاتے ہیں۔ لسانی اعتبار سے یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ بولیاں ہر تین کلو میٹر کے بعد بدلتی رہتی ہیں مگر ان کا بنیادی فارمیٹ ایک ہوتاہے اور پہاڑی زبان بھی بنیادی طور پر یہی حیثیت رکھتی ہے۔

سال1947کو جموں وکشمیر کی پہاڑی طبقہ کے لوگوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا، بٹوارے نے اس بااثر اور طاقتور قوم کو تقسیم کردیا جس کے بعد یہ لوگ جموں وکشمیر ریاست میں آج تک اپنے وجود اور تشخص کے لئے جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ پہاڑی قبیلہ کی 70فیصد آبادی سرحد کے اس پار چلی گئی اور 30فیصد جموں وکشمیر میں رہ گئی جس کو اپنے کھوئے ہوئے وقار کو حاصل کرنے کے لئے ایک طویل اور صبر آزما جدوجہد کرنا پڑی۔ سال 1970ء میں پہاڑی کلچر اینڈ ویلفیئرفورم کا قیام عمل میں لایاگیا، جس کا باقاعدہ آئین بنا اور پھر جدوجہد کا آغاز ہوا۔ فورم کے بینر تلے کافی کام ہوا۔ علاوہ ازیں متعدد سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں، غیر سرکاری تنظیموں کے بینر تلے اجتماعی طور انفرادی طور پر متعدد شخصیات نے قوم کو اپنے کھوئے ہوئے وجود کے لئے جدوجہد کی اور اقتدار میں آنے والی متعدد حکومتوں سے اپنے اس جائز مطالبہ کو منوانے کی بھر پور کوشش کی۔ قوم کی تعمیر وترقی، فلاح وبہبود اور اس کی تعلیمی، اقتصادی، سماجی وسیاسی بااختیاری کوئی ایک آدمی یا چند افراد نہیں کرسکتے بلکہ اس میں طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کا رول ہوتاہے اور ایسا ہی پہاڑی قوم نے کیا ہے جس میں سبھی نے اپنی اپنی حیثیت، طاقت، استطاعت کے مطابق کام کیا۔ اپنی خدمات انجام دیں۔ آج اگر پہاڑی قوم حکومتی سطح پر کچھ حدتک اپنی پہچان قائم کرنے میں کامیاب رہی ہے تو اس کا سہرا ہر اس شخص کے سرجاتاہے جس نے بالواسطہ یا بلواسطہ، ظاہری یاپوشیدہ رہ کر کام کیا۔ ان کی مخلصانہ کوششوں کے نتیجہ میں 20اکتوبر1989کو جموں وکشمیر حکومت کے کابینہ فیصلہ نمبر227بشمول گورنمنٹ آرڈرنمبر1439-GAD /1989بتاریخ26اکتوبر1989کو پہاڑی زبان بولنے والے طبقہ کے لئے ریاستی مشاورتی بورڈ تشکیل دیاگیا۔ سال1997کو گورنمنٹ آرڈرنمبر444-GAD/1997کے تحت پہلی مرتبہ سیاسی طور منتخب بورڈ کا قیام عمل میں لایاگیا جس کے اس وقت کل 28ممبر تھے۔

ریاستی کابینہ نے سال  1989کو کابینہ فیصلہ نمبر159کے تحت مرکزی سرکار سے پہاڑی قبیلہ سمیت 7قبائل کو ایس ٹی کادرجہ دینے کی سفارش کی۔ 1991میں جب مرکز نے ریاست جموں وکشمیر کے 7قبائل بشمول گوجر بکروالوں کو ایس ٹی کا درجہ دیاتو پہاڑی قبیلہ کو نظر انداز کیاگیا جوکہ سفارش میں پہلے نمبر پر تھے۔

14اکتوبر 1991کو اس وقت کے جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی سرکاری سے پہاڑیوں کے ایس ٹی مطالبہ کو پورا کرنے کی سفارش کی۔ 26دسمبر1993کو جموں وکشمیر کے گورنر کے وی کرشنہ راؤ نے سرکاری طور مرکزی وزیر برائے سماجی بہبود سیتا رام کیسری کو مکتوب لکھا جس میں پہاڑی طبقہ کو ایس ٹی زمرہ میں شامل کرنے کی پرزور سفارش کی۔ نہ صرف ریاستی سطح بلکہ ملکی سطح کے حکمرانوں نے بھی پہاڑی طبقہ کو جائز حق دلانے کا وعدہ کیا۔ سال 2005کو آئے بھیانک زلزلہ کے وقت جب، اُس وقت کے صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام، وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور اس وقت کانگریس قیادت والی یوپی اے حکومت کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے اوڑی میں دورہ کیاتوزلزلہ متاثرین پہاڑیوں نے مالی امداد لینے سے انکار کرتے ہوئے مانگ کی کہ انہیں ایس ٹی کا درجہ دیاجائے۔ اس دوران مذکورہ تینوں شخصیات نے طبقہ سے وعدہ کیاتھا۔ سابقہ وزیر اعظم ہند اٹل بہاری واجپئی کے دورہ کرناہ کے دوران بھی لوگوں نے یہی مطالبہ دوہرایا جس پر واجپئی نے یقین دلایاکہ ان کے مطالبہ کو پورا کیاجائے گا۔ اس ضمن میں واجپئی نے مرکزی وزارت سماجی بہبود کو مکتوب بھی لکھا۔ 29مئی 2001کو ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بطور وزیر اعلیٰ دوبارہ سے مرکزی حکومت سے اس کی سفارش کی۔

 سال 2004اور2005میں جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی قیاد ت والی ریاستی کابینہ نے مرکز سے ایکبار پھر اس مطالبہ کی سفارش کی۔ جموں وکشمیر اسمبلی میںمتفقہ طور قرار داد بھی پاس کی گئی جس میں مرکزی حکومت سے پرزور اپریل کی گئی کہ پہاڑیوں کو ایس ٹی کا درجہ دیاجائے۔ جسٹس صغیر کمیٹی رپورٹ میں پہاڑی قبیلہ کو ایس ٹی دینے کی بات شامل تھی۔ مرکزی سرکار کی طرف سے مقرر کردہ تین مذاکراتکاروں نے بھی اس مطالبہ کی سفارش کی۔ سال2002میں ڈاکٹرسوشیل کمار اندورہ کی سربراہی والی لیبر اور ویلفیئر پر اسٹینڈنگ کمیٹی نے بھی حکومت سے اس کی سفارش کی اور کہاکہ جموں وکشمیر میں حدمتارکہ کے نزدیک رہنے والے پہاڑی طبقہ کا طرز زندگی گوجربکروالوں جیسا ہے اور انہیں بھی ایس ٹی درجہ دیاجانا چاہئے۔ ایس کے پار سرینگر میں پہاڑی طبقہ کی طرف سے ایک للکار ریلی بھی نکالی گئی جس میں پونچھ راجوری، اوڑی، کرنا ہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ سال 2007میں جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے بھی حکومت سے کہاتھاکہ طبقہ کے اس دیرینہ مطالبہ کو پورا کیاجائے۔

اکتوبر 2014میں جموں وکشمیر میں این سی۔ کانگریس مخلوط حکومت نے پہاڑیوں کو ایس ٹی کا درجہ ملنے تک پانچ فیصد ریزرویشن دینے کا بل پاس کیاجس کو گورنر کے پاس منظوری کے لئے بھیجا گیا جنہوں نے اس پر کچھ اعتراضات ظاہر کئے، جنہیں دور کیاگیا۔ ریاستی بیکورڈ کلاس کمیشن نے طبقہ کو3فیصد ریزرویشن دینے کی سفارش کی جس کو بنیاد بناکر موجودہ حکومت نے اسمبلی میں بل پاس کیا۔ سب سے پہلے 1989ء میں کابینہ آرڈر زیر نمبر 159کے تحت اس وقت کے ریاستی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے دیگر طبقوں کے ساتھ پہاڑی عوام کو بھی ایس ٹی درجہ دیئے جانے کی مرکز سے پہلی بار سفارش کی، جس کے بعد ہر گورنر نے اورپھر مفتی محمد سعید، غلام نبی آزاد اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور اب محبوبہ مفتی نے بھی مرکز کو تازہ سفارش بھیجی ہے۔ اس کے علاوہ کئی وفود جن میں کل جماعتی وفد اور مذاکرات کاروں کی ٹیم قابل ذکر ہیں، کے ساتھ جسٹس صغیر نے بھی پہاڑی عوام کو ایس ٹی دینے کی مرکز کو سفارش کی۔ مرکزی وزارت داخلہ نے پہاڑی طبقہ کی اقتصادی وسماجی صورتحال جاننے کے لئے Socio-Economic Surveyکروایا جس نے بھی طبقہ کے حق میں اپنی مفصل رپورٹ پیش کی، جس رپورٹ کو موجودہ پی ڈی پی۔ بی جے پی مخلوط حکومت نے ریاستی کابینہ میں منظوری دیکر اپنی سفارش کے ساتھ مرکزی حکومت کو بھیجا جہاں STمطالبہ زیرِ غور ہے۔

 11فروری2018، دن کے 12:50منٹ جموں وکشمیر کے پہاڑی طبقہ کے لئے تاریخی لمحات تھے، جب ریاستی قانون ساز اسمبلی نے جموں وکشمیر میں پہاڑی زبان بولنے والے لوگوں کو ریزرویشن کے فوائد دینے سے متعلق تاریخی بل متفقہ طور پاس ہوا۔ راقم بھی اس وقت اسمبلی کے پریس گیلری میں موجود ہونے کی وجہ سے، اس تاریخی لمحہ کا گواہ بننے کا اعزاز ملا۔ انتہائی جذباتی لمحات تھے، اسپیکر گیلری میںپہاڑی طبقہ سے وابستہ قد آور رہنما جن میں مرزا عبدالرشید، مشتاق احمد بخاری بھی شامل تھے، بھی اس تاریخی گھڑی کے شاہد بنے۔ سال 2014کو پہلے اس بل کو اس وقت نیشنل کانفرنس اور کانگریس حکومت نے پاس کیا تھا لیکن ریاستی گورنر کی طرف سے کچھ اعتراضات اٹھائے جانے پر بل کو واپس بھیج دیاگیاتھا۔ اس وقت پانچ فیصد ریزرویشن دینے کی بات کہ گئی تھی۔ اب ان تمام اعتراضات، رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے پھر سے اسمبلی میں اس بل کو پاس کیاگیا۔ پہاڑی قبیلہ سے تعلق رکھنے والے سرکردہ سیاستدان اور بزرگ رہنما محمد شفیع اوڑی نے اس بل کی حمایت میں بولتے ہوئے کہاکہ پہاڑی طبقہ کو یہ ریزرویشن نسلی اور زبان کی خصوصیت، منفردتہذیب وتمدن ہونے کی صورت میں دیاجارہاہے۔ اس کو صرف چند علاقوں تک محدود نہیں رکھاجانا چاہئے بلکہ ریاست بھر میں جہاں جہاں پہاڑی قبیلہ کے لوگ ہیں، ان سبھی کو اس کا فائیدہ ملنا چاہئے۔

 پی ڈی پی کے جاوید حسن بیگ نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا1947کو ہوئی تقسیم سے جموں وکشمیر ریاست میں سب سے زیادہ نقصان پہاڑی طبقہ کوہوا، جوکہ دو حصوں میں بٹ گئی۔ بٹوارے کے بعد سے یہ قوم آج تک اپنے وجود اور تشخص کوڈھونڈتی رہی ہے۔ ستر دہائیوں سے اس قوم کو اپنے وجود کو قائم کرنے کیلئے جدوجہد کرنا پڑی ہے۔ آج طبقہ کو صرف3فیصدی ریزرویشن دینے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس سے پوری پہاڑی قوم کو پہچان ملی ہے، اس طبقہ کی مخصوص شناخت ہے۔ مولانا مسعودی پہاڑی تھا جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہاکہ پہلی مرتبہ آج سرکاری سطح پر پہاڑی قوم کو پہنچان ملی اور وہ بھی آج باعزت اور باوقار شہری کے طور پر سر بلند کر کے کہہ سکتے ہیں وہ اس سماج کا حصہ ہیں۔ پہاڑی عوام سے مراد ہر گز پہاڑی علاقوں میں بسنے والے عوام نہیں ہے بلکہ پہاڑی عوام سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی زبان پہاڑی ہے اور یہ زبان آئین کے چھٹے شیڈیول میں درج ہے۔

جب بھی پہاڑی کا ذکر آتاہے تو اکثر ارباب اقتدار میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ اس کا مطلب ہر وہ شخص ہے جو پہاڑی علاقے میں بس رہاہے جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ابھی یہ ابتدائی مرحلہ تھا، 3فیصد ریزرویشن کو عملی جامہ پہنانے سے قبل ابھی قانون ساز کونسل میں قانون کو پاس کرنے کے بعد گورنر سے مہرثبت کرانا باقی ہے۔ پہاڑی قبیلہ کے اندر کسی بھی چیز کی کمی نہیں، صلاحیت، ذہنیت، قابلیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ اگر ضرورت ہے تو صرف مزیداتفاق واتحاد، ایکدوسروے کی رسہ کشی کی بجائے، کاندھے سے کاندھا ملا کر آگے بڑھنے۔ قبیلہ سے تعلق رکھنے والے ہر اس شخص کی حوصلہ افزائی، اصلاح کرنی جوزندگی کے مختلف شعبہ جات میںرہ کر طبقہ کے لئے کچھ کر رہے ہیں، یا کرنا چاہتے ہیں۔ پہاڑی طبقہ سے وابستہ ہر سیاستدان، ہر لیجسلیچر کو قوم کی ترقی کو ہمیشہ اپنی ترجیحات میں صفِ اول پر رکھنے، متعدد تنظیموں، انجمنوں، فورم، ایسو سی ایشن، فیڈریشنوں جوکہ پہاڑیوں کے نام پر بنی ہیں، کے عہداداران کو بھی قوم کے مفادات کو پہلی ترجیحی دینی ہوگی کیونکہ چند ضمیرفروش افراد کی وجہ سے طبقہ میں عمومی سطح پر بے اعتمادی سے پائی جارہی ہے جس کی بحالی کے لئے اپنے اندر پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جس طرح سے پہاڑی قبیلہ نے کامیاب ادبی تحریک کو آگے بڑھایا ہے اس طرح سیاسی تحریک کو’’مرضِ انا اور مرضِ تشہیر‘‘کو ختم کرکے متحدہوکر آگے بڑھاناہوگا۔

پہاڑی قبیلہ کے اندر کسی بھی چیز کی کمی نہیں، صلاحیت، ذہنیت، قابلیت بدرجہ ٔ اتم موجود ہے۔ اگر ضرورت ہے تو صرف مزیداتفاق واتحاد، ایکدوسروے کی رسہ کشی کی بجائے، کاندھے سے کاندھا ملا کر آگے بڑھنے کی۔ قبیلہ سے تعلق رکھنے والے ہر اس شخص کی حوصلہ افزائی، اصلاح کرنی جوزندگی کے مختلف شعبہ جات میںرہ کر طبقہ کے لئے کچھ کر رہے ہیں، یا کرنا چاہتے ہیں۔ پہاڑی طبقہ سے وابستہ ہر سیاستدان، ہر لیجسلیچر کو قوم کی ترقی کو ہمیشہ اپنی ترجیحات میں صفِ اول پر رکھنے، متعدد تنظیموں، انجمنوں، فورم، ایسو سی ایشن، فیڈریشنوں جوکہ پہاڑیوں کے نام پر بنی ہیں، کے عہداداران کو بھی قوم کے مفادات کو پہلی ترجیحی دینی ہوگی کیونکہ چند ضمیرفروش افراد کی وجہ سے طبقہ میں عمومی سطح پر بے اعتمادی سے پائی جارہی ہے جس کی بحالی کے لئے اپنے اندر پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔



⋆ الطاف حسین جنجوعہ

الطاف حسین جنجوعہ
مضمون نگار پیشہ سے صحافی اور وکیل ہیں۔

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

جموں و کشمیر کے سرکاری اسپتال: شفاخانہ یا تجربہ گاہ؟

بخشی نگر اسپتال جموں اورریاست کے دیگر سرکاری اسپتالوں کی جوصورتحال ہے، وہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ منسٹروں اور اراکین قانون سازیہ وسیاسی لیڈران سے اس میں بہتری کی توقع کرنا تو اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا ہے۔ اس لئے سماج کے ذی شعور افراد، تعلیم یافتہ نوجوانوں سے درخواست ہے کہ وہ Privatizationکے اس اثرسے سرکاری اسپتالوں کوبچانے میں اپنا رول ادا کریں اور اپنے اپنے علاقوں میں موجود سب ہیلتھ سینٹرز، پرائمری ہیلتھ سینٹرز، کیمونٹی ہیلتھ سینٹرز، سب ضلع اسپتال اور ضلع اسپتال پر نظر رکھیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے