سیر و سیاحت

دربار اسکوائر کھٹمنڈو میں

کھٹمنڈو میں صرف پندرہ کلو میٹر کے علاقے میں سات ایسے مقامات ہیں جنہیں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا ہے۔

محمد عرفان ندیم

دربار اسکوائر کھٹمنڈو کا سب سے بڑا اور اہم چوک ہے جسے دربار چوک بھی کہا جاتا ہے۔ کھٹمنڈو میں صرف پندرہ کلو میٹر کے علاقے میں سات ایسے مقامات ہیں جنہیں یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا ہے۔ یہ علاقہ نیپال کا مرکزی علاقہ ہے اور اس چوک میں درجن بھر سے زائد مندراور دربار  موجود ہیں۔ قدیم طرز تعمیر اور لکڑی اور اینٹ سے بنے یہ مندر انسان کو مبہوت کر دیتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں سیاح ان مندروں کو دیکھنے کے لیے یہاں آتے ہیں۔ 2015 کے زلزلے میں کچھ مندر منہدم ہو گئے تھے جن کی کنسٹرکشن کا کام جاری ہے۔ ہم جمعے کے روز نیپالی مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے کے بعد دربار اسکوائر گئے اور ایک گھنٹہ اس علاقے میں گھومتے رہے۔ ماضی میں یہ مندر بادشاہوں کی رہائشوں کے کام بھی آتے تھے۔ ہر مندر کا الگ نام ہے اوراسے کسی دیوی یا دیوتا کے نام منسوب کیا گیا ہے۔ بعض مندروں کے ساتھ مختلف جانوروں کی مورتیاں اور مجسمے بھی بنا کر رکھے گئے ہیں۔

 ایک مندر کے سامنے دو جہازی سائز شیروں کے مجسمے موجود ہیں۔ جس طرح ہمارے ہاں درباروں پر تعویذ دھاگوں کا کاروبار ہوتا ہے یہ روایت یہاں بھی موجود ہے اور ہر مندر پر آپ کو کوئی سادھو یا بدھ بھکشو مل جائے گا جو آپ کی ہر پریشانی اور بیماری کو ختم کرنے کا تعویذ دے گا۔ گویا مذہب فروشی ایک مشترکہ روایت ہے جو عیسائیت، اسلام، ہندومت اور بدھ مت ہر مذہب میں موجود ہے۔ ان مندروں کے درو دیوار پر مختلف طریقوں سے نقش نگاری کی گئی ہے اور اکثر جگہوں پر غیر اخلاقی تصاویر کندہ ہیں۔ میں نے مقامی افراد سے پوچھا کہ ان سر عام غیر اخلاقی تصاویر اور مجمسوں کا کیا راز ہے تو جواب ملا اس میں برائی کیا ہے یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے اور بس۔ یہاں کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں  ایک قدیمی دربار میں Godess  Living یعنی زندہ دیوی رہتی ہے جسے کماری کا نام دیا جاتا ہے۔ یہاں کی روایت ہے کہ اس زندہ دیوی کی پوجا کی جاتی ہے اور اسے مقدس دیوی کا نام دیا جاتا ہے۔ایسی دیویوں کی اس وقت تک پوجا کی جاتی ہے جب تک کہ یہ بالغ نہ ہو جائیں۔ اس وقت جو کماری دیوی اس دربار میں موجود ہے اس کا نام ترشنا شاکیہ ہے۔کچھ عرصہ قبل لال ساڑھی میں ملبوس تین سالہ بچی ترشنا شاکیہ کو اس کے گھر سے ایک جلوس کی شکل میں قدیمی دربار لے جایا گیا جہاں اس کی روایتی طور پر پوجا کی گئی۔اب یہ ’زندہ دیوی‘ کی حیثیت سے قدیمی دربار میں مخصوص نگہداشت میں رکھی گئی ہیں اور یہ اس وقت تک کماری رہیں گی جب تک وہ بالغ نہ ہو جائیں۔ دیوی کو مختلف قسم کے جسمانی امتحانات کے بعد منتخب کیا جاتا ہے۔ نیپال کے ہندو عقیدے کے مطابق دیوی بننے کے لیے بچی کی ران ہرن کی طرح اور سینہ شیرنی کی طرح ہونا چاہیے۔

اگر بچی ان جسمانی کسوٹیوں پر پوری اترتی ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ بھینس کے سر کو تن سے جدا کیے جانے پر خوفزدہ ہو کر روئے گی نہیں۔ اب جب تک وہ اس دربار میں موجود رہیں گی اسے ہندوؤں کی دیوی تلیجو کا اوتار تسلیم کیا جائے گا۔ اسے سال بھر میں صرف 13 بار مندر سے باہر جانے کی اجازت ہو گی۔ ہندو اور بدھ مت کے ماننے والے دونوں مذاہب کے لوگ کماری کا برابر کا احترام کرتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ کماری تین سابق سلطنتوں کھٹمنڈو، پاٹن اور بھکت پور کی نمائندگی کرتی ہے۔ماضی میں دیوی کو منتخب کرنے کی روایت شاہی خاندان سے منسلک تھی لیکن2008 میں ہندو سلطنت کے اختتام اورجمہوری ملک کے اعلان کے بعدلگتا تھا کہ باشاہت کے خاتمے کے ساتھ یہ رسم بھی ختم ہو جائے گی لیکن تاحال یہ رسم جاری ہے۔ بچوں کے حقوق کیلیے کام کرنے والے ادارے اس روایت پر تنقید کرتے ہیں کہ یہ بچی سے اس کا بچپن چھیننے کے مترادف ہے اور اس سے بچی معاشرے سے کٹ کر رہ جاتی ہے اور اس کی تعلیم و تربیت نہیں ہو پاتی۔اس تنقید کے نتیجے میں نیپال کی سپریم کورٹ نے 2008 میں حکم دیا تھاکہ کماری کی تعلیم کا بندو بست کیا جائے، تب سے قدیمی دربار میں ہی اس کی تعلیم کا انتظام کیا گیا ہے۔

 ہم تین بجے دربار اسکوائر پہنچے تھے، گائیڈ سے مقدس دیوی دیکھنے کی فرمائش کی تو اس نے کہا وہ کسی کو درشن نہیں کرواتی۔ ہاں ٹھیک ایک گھنٹے بعدچاربجے وہ چند لمحات کے لیے کھڑکی سے باہر جھانکے گی اس کے درشن کی صرف یہی ایک صورت ہے۔ ہم دربار اسکوائر کے مختلف حصوں سے ہوتے ہوئے دس منٹ پہلے ہی اس جگہ پہنچ گئے۔ یہ ایک قدیم طرز کا مکان تھا، چاروں طرف عمارت تھی اور درمیان میں صحن خالی تھی، نچلی منزل میں چند کمرے تھے جو بند تھے، اوپر والی منزل پر مقدس دیوی کمرے کے اندر تشریف فرما تھی اور کمرے کی کھڑکی کھلی تھی۔کھڑکی سے سوائے چند سایوں سے جو ادھر ادھر حرکت کرتے تھے ور کچھ نظر نہیں آرہا تھا، نیچے صحن میں مختلف ملکوں کے سیاح نظریں اوپر اٹھائے کماری کا انتظا ر کر رہے تھے۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہو رہی تھیں اور لوگوں کا تجسس بڑھتا جا رہا تھا، تقریبا سو کے لگ بھگ لوگ مقدس دیوی کے درشن کے لیے بے تاب اس صحن میں کھڑے تھے۔ چار بجنے میں چند منٹ باقی تھے کہ عملے کے دوا رکان سامنے آئے، سب لوگوں کو کیمرے بند کرنے کاکہا اور ماحول میں سناٹا چھا گیا۔ سب لوگ سانس روکے مقدس دیوی کے انتظار میں بالائی منزل کی طرف نظریں جمائے کھڑے تھے۔ اچانک ایک بوڑھی خاتون کھڑکی کے سامنے آئی، نیچے صحن میں کھڑے افراد کا جائزہ لیا اور پیچھے ہٹ گئی، یہ کلئیرنس کا اشارہ تھا، لوگوں کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں، اچانک کھڑکی کے سامنے ایک پانچ سالہ بچی نمودار ہوئی اور سینہ تان کر کھڑکی کے سامنے کھڑی ہوگئی، یہ زندہ دیوی تھی، کچھ لوگوں نے دیکھتے ہی ہاتھ جوڑے اور ’’نسمتے ‘‘کہتے ہوئے آگے کو جھک گئے،کچھ۔ یہاں کچھ مسلمان بھی تھے انہوں نے محض دیکھنے پر اتفاق کیا۔اس کی عمر تقریبا چار پانچ سال تھی، آنکھوں میں سرمے کے ڈورے ڈالے ہوئے تھے اور بال نسبتا چھوٹے تھے۔ سینہ چوڑا اور چہرے پر بناوٹی رعب طاری کیا ہوا تھا۔وہ تقریبا دو منٹ تک کھڑکی کے سامنے کھڑی رہی اور تحکمانہ لہجے میں باری باری سب پر نظر دوڑائی۔ دومنٹ درشن کروانے کے بعد وہ الٹے پاوں واپس پلٹی اور دوبارہ کمرے کی تاریکی میں گم ہو گئی۔ سیاح بھی آہستہ آہستہ کھسکنے لگے اور چند سیکنڈ میں سارا صحن خالی ہو گیا۔

یہ چار پانچ سالہ بچی ہندوں اور بدھ مت کے پیرو کاروں کے لیے خدا کا درجہ رکھتی ہے، عجیب روایت ہے کہ خود اپنے ہاتھوں سے اس خدا کو منتخب کرتے ہیں، اسے اس قدیمی دربار میں لا کر اس کی پرورش کرتے ہیں، اس کی پرستش کرتے ہیں اور بالغ ہونے پر اسے وہاں سے نکال دیتے ہیں۔ اللہ جب انسانوں کے دلوں پر ضلالت و گمراہی کی مہر لگا دے تو وہ اسی طرح کی خرافات میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اللہ کاشکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے ہمیں ایمان کی دولت عطا کی، ہمیں اچھے اور برے کا شعور دیا اور ہمیں اپنے سامنے جھکنے کے سوا باقی تمام خرافات سے محفوظ رکھا۔ فللہ الحمد۔

نوٹـ:میں نے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ یہاں ورکشاپ میں ڈسکس کی جانے والی مباحث کاتذکرہ کروں گا لیکن شیڈول کچھ اس طرح کا ہے کہ اس کے لیے وقت نہیں مل سکا، انشا ء اللہ اگلے کالم میں اس کا تذکرہ کروں گا۔

مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

متعلقہ

Close