سیر و سیاحت

کالی مندر کی سیر!

محمد عرفان ندیم

دوستوں نے ہمت کی اور ہم پہاڑکی چوٹی پر واقع کالی مندر کی طرف بڑھ دیئے، تقریبا دس منٹ مزید سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ہم کالی مندر تک پہنچ چکے تھے۔ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر جب ہم کالی مندر کی طرف بڑھنے لگے تو تین چار نوجوانوں کا ایک گروہ ہمیں دیکھ کر رک گیا، ان میں سے ایک لڑکا آگے بڑھا اور السلام علیکم کہہ کر ہاتھ آگے بڑھایا، میں نے سلام کا جواب دیا تو وہ بولا آپ لوگ مسلمان لگ رہے ہیں، میں نے ہاں میں جواب دیا تو اس نے بتایا وہ بھی مسلمان ہے اور باقی تین نوجوان ہندو ہیں۔ میں نے بازو پھیلا ئے اور اسے گلے لگا لیا۔ وہ بہت خوش ہوا، ہندو نوجوان ہمیں حسرت سے دیکھنے لگے کہ کوئی جان پہچان بھی نہیں اور اس قدر انس و محبت۔ میں نے پوچھا یہاں کوئی مسجد ہے جہاں آپ نماز پڑھتے ہیں، وہ بولا مسجد تو نہیں لیکن ہم گھر میں ہی نماز پڑھ لیتے ہیں۔ ہاں جمعے کے لیے دور مسجد میں جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا قرآن کی تلاوت کا معمول ہے یا نہیں تو اس نے بتایا کہ ناظرہ قرآن پڑھا ہوا ہے  توکبھی کبھار تلاوت کی توفیق بھی ہو جاتی ہے۔ تھوڑی دیر مزید گفتگو ہوئی، ایک دوسرے کو دعائیں دیں، گلے ملے اور وہ نیچے اور ہم اوپرپہاڑ کی چوٹی کی جانب چل دئیے۔

کالی مندر پہاڑ کی چوٹی پر بنا ایک چھوٹا سا مندر ہے، یہ ایک قسم کا تفریحی مقام ہے جہاں لوگ سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں اوروہاں کھڑے ہو کر ارد گرد کا نظارہ کرتے ہیں۔ یہ ایسی ہی جگہ ہے جیسے ہمارے ہاں اسلام آباد میں دامن کوہ ہے، ایسا مقام جہاں کھڑے ہو کر سارا اسلام آباد نظر آتا ہے۔ یہاں ایک سادھو مندر کی رکشا کے لیے موجود تھا جوآنے جانے والے سیاحوں کی جیبوں پر حسرت بھری نظروں کے ساتھ زبان سے بھی مطالبہ کر دیتا تھا۔ دوستوں نے اس کے ساتھ تصاویر بنوائیں اور ماحول سے لطف اندوز ہوئے۔ مغرب میں پھیلی شفق قوس قزح کے رنگ بکھیر رہی تھی، ہلکی ہلکی بارش ابھی تک جاری تھی، پہاڑ کی چوٹی، موسم کی خنکی، ہر طرف پھیلا ہوا سبزہ، پہاڑوں پر خم کھاتے راستے اور ان راستوں پر چلتی نیپالی دوشیزائیں، سناٹے میں شور مچاتی مندر کی گھنٹیاں اور فضا میں پھیلی گوتم بدھ کی سانسوں کی مہک ایک جادو تھا جس نے سارے ماحول کو اپنے سحر میں جھکڑ لیا تھا۔ یہ بہت خوبصورت شام تھی۔ دوستوں نے خوب انجوائے کیا، تصاویر بنائی، سادھو کے ساتھ دلگی اور ہنسی مذاق کیا، اسے نذرانہ دیا، اس کی گفتگو ریکارڈ کی اور واپسی کا قصد کیا۔

 ہم جس پہاڑی پر کھڑے تھے اس سے ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹیاں سامنے دکھائی دے رہی تھیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹیاں یہاں سے تقریبا اسی کلومیٹر دور تھیں، فاصلہ اگرچہ کم تھا لیکن مقامی لوگوں نے بتایا کہ وہاں جانے کے لیے چیتے کا جگر چاہیے۔ اونچے پہاڑوں اور گہری وادیوں میں بل کھاتا راستہ، لینڈ سلائڈنگ اور خطرناک موڑ کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ اس سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہاں جانے کے لیے کم از کم ایک پورا دن چاہئے تھا لیکن ہمارا شیڈول اس قدر مصروف تھا کہ ایک دن تو درکنار ایک گھنٹہ نکالنا بھی مشکل تھا۔ ماؤنٹ ایورسٹ دیکھنے کی بڑی حسرت تھی لیکن یہ حسرت حسرت ہی رہی اور اسے ہم کسی اور وقت کے لیے چھوڑ آئے ہیں، اللہ نے موقعہ دیا تو انشا ء اللہ ایک بار ضرور ہمالیہ کی اس چھت کو چھو کر آؤں گا۔

ہلکی بارش بدستور جاری تھی، سورج پہاڑوں کی اوٹ میں جا چکا تھا اور تاریکی بڑھنے کو بے تاب تھی، میں نے پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کرنظر دوڑائی، دور ہمالیہ کی بلند و بالا چوٹیاں سفید لباس پہنے اس عیسائی دلہن کی طرح لگ رہی تھیں جو سفید لباس پہنے رخصتی کے لیے بالکل تیار بیٹھی ہو۔ اکثر دوست پہاڑی سے اتر کر سیڑھیوں تک پہنچ چکے تھے، میں اکیلا موسم اور ہمالیہ کے بلند و بالا پہاڑوں کے سحر میں گرفتا ر ابھی تک وہیں کھڑا تھا۔ میں نے ہوا میں ہاتھ لہرا کراس عاشق کی طرح جو اپنی محبوبہ کو چھوڑ کر کسی طویل سفر پر رخصت ہو رہا ہو، ہمالیہ کی پہاڑیوں کوگڈ بائے کہا اور نیچے کی جانب چل دیا۔ کچھ ہی لمحوں میں، میں گروپ کے ساتھ شامل ہو چکا تھا۔

جب ہم سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آرہے تھے تو کچھ گورے اسٹوڈنٹس کا ایک گروپ ہمارے آگے جا رہا تھا، اب واپسی پر بھی وہ ہمارے آگے تھے، میں نے آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا اور پوچھا آپ کہاں سے ہیں؟ اس نے بتایا وہ ڈنمارک سے تعلق رکھتے ہیں اورسارا گروپ ایک ورکشاپ کے سلسلے میں یہاں آیا ہوا ہے۔ اس کے بعد میں نے مزید چند سوالات کیے۔ اس نے پوچھا آپ کس ملک سے ہیں، میں پاکستان کا نام لیا تو فورا بولا اسلام آباد۔ میں نے ہلکی سی مسکراہٹ سے ہاں میں سرہلا دیا۔ بدلے میں میں نے بھی کوپن ہیگن کا نام لیا اور وہ مسکرا دیا۔ سارا راستہ ان سے گفتگو ہوتی رہی، وہ عیسائی تھے اور مذہب سے دلچسپی رکھتے تھے، مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی اور ہم نیچے آخری سیڑھی تک پہنچ گئے، دونوں گروپوں نے مل کر گروپ فوٹو بنوایا اور وہ اپنے ہوسٹل اور ہم اپنے ہوٹل کی جانب چل دیئے۔

ہوٹل پہنچ کر مغرب کی نماز پڑھی اور کالی مندر اور بدھا کا مجسمہ دیکھنے کے بعد کے جو تاثرات تھے انہیں قلم بند کیا۔ اس دن کے سارے سفر اور ان مقامات کی سیر کے بعدمیرا اللہ پر ایمان مزید بڑھ گیا۔ مجھے احساس ہوا میں اگر ساری زندگی بھی اس بات پر اپنے رب کا شکر ادا کرتا رہوں کہ اس نے مجھے ایمان کی دولت سے نوازا تو میں پھر بھی اس کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔ اس نے مجھے اپنی ذات کا شعور دیا، اپنے سامنے جھکنے اور راز و نیاز کی توفیق دی اور ان مٹی کے بنے بتوں سے مجھے محفوظ رکھا۔ اگر وہ مجھے توفیق نہ دیتا توشاید میں بھی آج مٹی اور دیگر دھاتوں سے بنے دیوی دیوتاؤں کے سامنے سجدہ ریز ہوتا۔ اپنے ہاتھوں سے اپنے خدا بناتا اور پھر ان کے سامنے اپنا ماتھا ٹیکتا۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ ہم مسلمان ساری زندگی بھی سجدے میں پڑے رہیں اور اس بات پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیں کہ اس نے ہمیں آخری نبی کی امت میں پیدا کیا تو ہم پھر بھی اس کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ فللہ الحمد۔

رات کا آدھا پہر گزر چکا تھا، اے سی کی ٹھنڈک سے سردی کی شدت کا احساس بڑھ رہا تھا، باہر ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی اور بوندوںکی ٹپ ٹپ میرے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔ نیند کا غلبہ اور بارش کا ترنم دونوں میں کشمکش جاری تھی، بالآخر نیند نے غلبہ پایااورمیں کچھ ہی لمحے بعد نیند کی پر سکون وادیوں میں کھو گیا۔

مزید دکھائیں

محمد عرفان ندیم

محمد عرفان ندیم نے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹر اور اسلامیات میں ایم فل کیا ہے، شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں اور او پی ایف بوئز کالج اسلام آباد میں بطور لیکچرار فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close