گوشہ خواتین

اسلام میں عورتوں کے دستوری حقوق (1/2)

ذکی الرحمن فلاحی مدنی

کمیت و کیفیت کے اعتبار سے عورت انسانیت کا نصف حصہ ہوتی ہے۔  آ نے والی نسلوں اور قوموں کے درخشاں مستقبل کی پر ورش و پرداخت اسی کے آنچل اور گود کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں ملکی و اجتماعی تعمیر و ترقی میں بھی اس کے مثبت رول سے انکار ناممکن ہے۔  عورت کی ان حیثیتوں کی رعایت و حفاظت کا جس قدر اہتمام اسلامی شریعت یا اسلامی نظام نے روا رکھا ہے وہ تہذیبوں اور ادیان کی تاریخ میں بے مثال ہے۔  اور اب تواس موضوع پر اس قدر لکھا جا چکا ہے کہ علمی،  عقلی اورتاریخی اعتبار سے اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔  تاہم مسئلہ کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ مسلم خواتین میں اپنے شرعی و دستوری حقوق سے لاعلمی کی صورتحال انتہائی حد تک سنگین ہے۔  ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم خواتین کو ان کے شرعی و دستوری حقوق سے روشناس کرایا جائے اور شریعتِ اسلامیہ نے ان کے ساتھ جو عدل ورحمت اور مساوات ومودت کا معاملہ فرمایا ہے اسے اجاگر کیا جائے۔
عورت اپنے دستوری حقوق میں مرد کے ہم پلہ و مساوی ہے۔  کچھ شرعی اختلافات (جو مبنی بر فطرت و حکمت ہیں)کے علاوہ دونوں میں کوئی فرق وامتیاز نہیں ہے۔  وہ مدعی ومدعی علیہ،    بائع و مشتری،  راہن و مرتہن،  اوقاف کی ذمہ دار،  ورثہ کی ولی اوریتیموں کی وصی وسرپرست وغیرہ بننے کا کامل اختیار رکھتی ہے۔
ہندوستانی معاشرہ میں جہاں شرعی عدالتوں کے قیام اور ان سے استفتاء واستفادہ کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، مسلم خواتین کے لیے ایک مفصل گائیڈبک کی ضرورت ہے جس کی روشنی میں وہ اپنے شرعی حقوق سے واقف ہوسکیں اور نقضِ حقوق کی صورت میں اپنے مقدمات کی پیروی اور مرافعہ کا صحیح اسلامی طریقہ جان سکیں۔ زیرِنظر مضمون میں اسی عظیم الشان ضرورت کی ہلکی سی وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اللّھم وفّقنا لما تحبہ وترضاہ۔

اسلامی شریعت میں عورت کی حفاظت اور اس کے حقوق کی پاسداری 
اسلام سے پہلے عہدِجاہلیت میں عورت کو ناقص الخلقت خیال کیا جاتا تھا۔   وہ تمام حقوق اور رعایتوں سے محروم، خالصتاًمرد کی ملکیت ہوتی تھی جس کو وہ جیسے چاہے استعمال کرتاتھا اور اس کے مرنے کے بعد وہ عام جائداد وسامانِ زیست کی طرح دوسرے ورثہ کی ملکیت میں آجاتی تھی۔ عورت کا عورت ہونا ہی ایک ناقابلِ معافی جرم تھاجس کے لیے بسااوقات اس کو بے خطا زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔
معلوم تاریخ میں پہلی بار اسلام نے عورت کو مکرّم وباعزت قرار دیا اور اس کے حقوق بیان کرکے ان کو شرعی و دستوری حیثیت بخشی۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر متعدد احکام و مسائل میں اس کو مرد پر فوقیت دی۔ قرآن و حدیث میں بیشمار مقامات پر عورت کی پرورش ونگہداشت کی فضیلت، اس کے حقوق کی پاسداری،  شرعی تکالیف ا ور ثواب و جزا میں مرد سے اس کی مساوات کا تذکرہ اور ہدایات موجود ہیں۔ ارشادِ باری ہے:(مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَی وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہُ حَیَاۃً طَیِّبَۃً وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ أَجْرَہُم بِأَحْسَنِ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ)(النحل 97)۔ ’’جو شخص بھی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ مردہو یا عورت،   بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور (آخرت میں )ایسے لوگوں کو ان کے اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔ ‘‘ اللہ کے رسولﷺکا ارشاد ہے:عورتوں کے ساتھ خیر کا معاملہ کرو۔ ‘‘[استوصوا بالنساء خیراً](صحیح بخاریؒ : 3331۔ صحیح مسلمؒ :3720۔ سنن ابن ماجہؒ :1851)
اس طرح سے اسلام نے عورت کی تکریم کرتے ہوئے بزمِ حیات میں اس کا درجہ بلند کیاہے۔  اس کی فطری خواہشوں اور تقاضوں کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حقوق وواجبات کا تعین کیاہے۔ نیز اس کو اس بات کا بھی مکمل اختیار دیا کہ وہ اپنے حقوق کی پامالی پر احتجاج و مرافعہ کر سکے اور اسلامی عدالتیںیا شرعی دارالقضاء اس کے پابندقرار دئیے گئے ہیں کہ بلا کسی تفریق وامتیازکے اس کے مسائل کا شرعی حل بیان کریں۔ اسلام میں عورت کی حفاظت اور اس کے حقوق کی پاسداری کے لیے جو عظیم الشان اقدامات کئے گئے ہیں ان میں سے چند کامختصر تذکرہ یہاں کیا جاتاہے۔
(1) نفقہ کا وجوب :
عورت کے حقوق میں سرِ فہرست شوہر پر نفقہ(خرچہ) کاحق ہے،  اور یہ حق اس صورت میں بھی باقی رہتا ہے جبکہ بیوی شوہر سے زیادہ مالدارہو۔  ارشادِ باری ہے:(لِیُنفِقْ ذُو سَعَۃٍ مِّن سَعَتِہِ وَمَن قُدِرَ عَلَیْْہِ رِزْقُہُ فَلْیُنفِقْ مِمَّا آتَاہُ اللَّہُ)(طلاق، 7) ’’خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔  ‘‘
لہٰذا اگر عورت حصارِ زوجیت میں ہو اورحقوقِ زوجیت ادا کر رہی ہو تو شوہر پر ہر حال میں اس کے جائز اخراجات کا اٹھانا لازم ہے۔ علّامہ ابنِ قدامہؒ لکھتے ہیں:تمام اہلِ علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بالغ شوہر پربیوی کا نفقہ ا ٹھانا واجب ہے،  یہی قول ابن المنذرؒ وغیرہ کا ہے۔ (المغنی:9/23) علّامہ ابنِ حجر ؒ نے بھی اس مسئلہ پر اجماع نقل کیا ہے(فتح الباری:9/625)۔ اسی طرح جمہور علماء(مالکیہؒ،   شافعیہؒ،   حنابلہؒ ) کے نزدیک اگر شوہر بیوی کے نفقہ میں کوتاہی یا تنگ دستی کا مظاہرہ کرے تو بیوی کو فسخِ نکاح کے مطالبے کا شرعی حق حاصل ہو جاتا ہے۔ علّامہ ابنِ قدامہؒ کہتے ہیں:اگر شوہر مکمل یا تھوڑا نفقہ بھی نہ اٹھا سکے تو بیوی کو نکاح کے فسخ و عدمِ فسخ کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے، البتہ عدمِ فسخ کی صورت میں بیوی کا نفقہ شوہر پر قرض مانا جائے گاجس کو ادا کرنا واجب ہوگا۔ اور جس شوہر کے بارے میں یہ ثابت ہو جائے کہ وہ مطلقاًنفقہ اٹھانے کے قابل نہیں رہاہے تو اس کی بیوی کو بغیر کسی مہلت اور انتظار کے فسخِ نکاح کے مطالبے کا حق ہوجاتاہے۔ (المغنی:9/263)
(2) ظلم و ایذا رسانی کی ممانعت:
قرآن و سنت میں بکثرت ایسی نصوص موجود ہیں جو عورت کی مادی و معنوی ایذا رسانی کو ناجائز اور ممنوع قرار دیتی ہیں۔ فرمانِ رسول اللہ ﷺہے:اللہ کی بندیوں کو مت مارو۔ ‘‘[لا تضربوا اماء اللہ](سنن ابو داؤدؒ :2146مع تصحیحِ البانیؒ۔  سنن ابن ماجہؒ :1985)۔  حضرت ام کلثوم بنتِ ابو بکرؓ روایت کرتی ہیں :لوگوں کو عورتوں پر ہاتھ اٹھانے سے روک دیا گیا،  لوگوں نے آپﷺ سے عورتوں کی شکایت کی تو آپﷺ غیر جانب دار ہو گئے، پھر فرمایا:تمہارے بہترین افراد ایسا نہیں کریں گے۔ ‘‘[کان الرجال نھوا عن ضرب النساء،  ثمّ شکوھنّ الی رسول اللہﷺ فخلّی بینھم وبین ضربھن،  ثمّ قال: و لن یضرب خیارکم](سنن بیہقیؒ :4629۔ مستدرک حاکمؒ :2775۔ مصنف ابن ابی شیبہؒ :25967)۔
بہت سے لوگ قرآن کریم کی آیت:( وَاللاَّتِیْ تَخَافُونَ نُشُوزَہُنَّ فَعِظُوہُنَّ وَاہْجُرُوہُنَّ فِیْ الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوہُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَکُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَیْْہِنَّ سَبِیْلاً إِنَّ اللّہَ کَانَ عَلِیّاً کَبِیْراً) (النساء،  34)سے عورتوں کو زود و کوب کرنے کی کھلی اجازت مراد لیتے ہیں، حالانکہ یہ صراحتاً غلط ہے۔  اس آیت کا ترجمہ یہ ہے :اورجن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ، خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہواور مارو،   پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرواور یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالاتر ہے۔  ‘‘
اس آیت میں نافرمان اور سرکش (ناشزہ) عورتیں مراد ہیںیعنی وہ عورتیں جو اپنے شوہروں کے حقوق زوجیت کی ادائیگی میں کوتاہی کی مرتکب ہو رہی ہوں۔ اور پھر ربِ کریم نے ان کی اصلاح کا جو طریقہ بیان کیا ہے اس میں طاقت کا استعمال بالکل آخری علاج کے طور پر ذکر کیا ہے۔  مزید برآں یہاں مارنے کی مطلق اجازت بھی نہیں، بلکہ شریعت نے ہاتھ اٹھانے کی کچھ حدیں مقرر کی ہیں مثلاً: اس کے سود مند ہونے کا یقین یا گمان غالب ہو، ضرب ایسی ہو کہ اس کا اثرجسم پر باقی نہ رہے، چہرہ یا جسم کی حساس جگہوں سے اجتناب کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔
حضرت ابنِ عباسؓ نے ضربِ غیر مبرح کی تشریح مسواک یا اس جیسی چیز کی مار سے کی ہے۔ (صحیح مسلمؒ :3009)یہ بات بخوبی ذہن نشیں رہنی چاہئے کہ اس قسم کی ضرب کا استعمال کوئی قابلِ تعریف یا مستحب عمل نہیں ہے، بلکہ صرف مباح ہے۔  اس کے برخلاف ہمارے سامنے خیرالبشرﷺ کا عملی نمونہ اور زبانی ہدایتیں موجودہیں جواس کے برعکس گواہی دیتی ہیں۔ آپ ﷺکا ارشاد پیچھے گزر چکا ہے جس میں آپﷺنے بہترین اہلِ ایمان سے اس طرح کے عمل کا صدور مستبعد بتایا ہے، اور آپﷺ کا عملی اسؤہ حسنہ یہ تھا کہ آپﷺ نے تا حیات کبھی ازواجِ مطہراتؓ پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں:آپﷺ نے کبھی کسی عورت یا خادم کو نہیں مارا،   البتہ اللہ کی راہ میں آپﷺجہاد فرماتے تھے۔ ‘‘[ما ضرب رسول اللہﷺ قط بیدہ ولا امرأۃً ولا خادماً الّا أن یجاھد في سبیل اللہ‘](صحیح مسلمؒ :6195۔ سنن ابن ماجہؒ :1984۔ مسنداحمدؒ :24080)
(3) حسنِ معاشرت کی تاکید:
ام المومنین حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ آپﷺنے ارشاد فرمایا :تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہتر ہو، اور میں اپنے اہلِ خانہ کے لیے ایسا ہی ہوں۔ ‘‘[خیرکم خیرکم لأھلہ وأنا خیرکم لأھلی] (سنن ترمذیؒ :3895۔ سنن ابن ماجہؒ :1977)۔ حضرت عمرو بن الاحوصؓ آنحضرتﷺ کا ارشاد گرامی نقل کرتے ہیں:خبردار! عورتوں کے ساتھ خیر کا معاملہ کرو، یہ عورتیں تمہارے پاس امانتاً دےئے ہوئے قیدیوں کی طرح ہیں، علاوہ ازیں تمہاری ان پر کوئی ملکیت نہیں۔  البتہ اگر وہ کھلی برائی کا ارتکاب کریں تب تم اپنے بستر ان سے الگ کر لو، اور ان کو ایسا مارو جو شدید نہ ہو۔  لیکن اگر ان کا رویہ اطاعت گزاری کا ہو تو ان پر راہیں نہ تلاش کرو۔ ‘‘[ألا استوصوا بالنساء خیراً،  فانما ھنّ عوان عندکم لیس تملکون منھنّ شےئاً غیر ذالک،  الاّ أن ےأتین بفاحشۃٍ مبیّنۃٍ فان فعلن فاھجروھنّ فی المضاجع واضربوھنّ ضرباً غیر مبرّح،  فان أطعنکم فلا تبغوا علیھنّ سبیلاً](مسند احمدؒ :20714۔ سنن ترمذیؒ :1163۔ سنن ابن ماجہؒ :1851)
اس سلسلے کی ایک حدیث حضرت ابو ہریرہؓ سے بھی مروی ہے،   اللہ کے رسول ﷺکا ارشاد ہے:کامل ایمان ان کا ہے جن کے اخلاق بہترین ہوں، اور تم میں افضل وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ خوش اخلاق ہوں۔ ‘‘[أکمل المؤمنین ایماناً أحسنھم خلقاً،  وخیارکم خیارکم لنساءھم خلقا](سنن ابن ماجہؒ :1978۔ مسنداحمدؒ :10110۔ سنن ابوداودؒ :ا4682۔ سنن ترمذیؒ :1162 مع تصحیحِ البانیؒ )ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زوجین کا ایک دوسرے کے ساتھ خوش اخلاقی، نرم خوئی اور تحمل و برد باری سے پیش آنا مسنون ہے۔ اس کے علاوہ مختلف قرآنی آیات میں بھی اس بات کی تلقین کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:(وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً وَبِذِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنِ وَالْجَارِ ذِیْ الْقُرْبَی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ)(النساء36)۔  ’’ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو،  قرابت داروں،  اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ،  اور پڑوسی رشتہ دار سے،  اجنبی ہمسایہ سے،  پہلو کے ساتھی سے احسان کا معاملہ رکھو۔ ‘‘ متعدد مفسرین نے آیت میں مذکور’’ صاحب بالجنب‘‘ یعنی پہلو کے ساتھی سے مرا دزوجین کو لیا ہے۔ مزید ارشادِ باری ہے:(ٍ وَعَاشِرُوہُنَّ بِالْمَعْرُوفِ) (النساء19) ’’ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو۔ ‘‘ اس آیت میں صراحت کے ساتھ عورتوں کے ساتھ حسنِ معاشرت کا حکم دیا گیا ہے۔
مذکورہ بالا آیات و احادیث کے مطالعہ سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام نے کس درجہ عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی ہے حتی کہ اس کو کمالِ ایمان کی علامت قرار دیا ہے۔ اسلامی شریعت میں عورت کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ شوہر کی بد سلوکی و بد اخلاقی پر نہ صرف احتجاج کر سکتی ہے، بلکہ اگر ضرورت محسوس ہو تواس سلسلے میں دار القضاء کا دروازہ بھی کھٹکھٹا سکتی ہے۔
(4) مالی تصرفات اور مادی حقوق کا اجراء:
عورت کو اپنی ملکیت میں جملہ جائز تصرفات کا حق حاصل ہے۔ خرید و فروخت، تجارت، ہبہ، وقف،  وصیت،  قرض کا لین دین وغیرہ تصرفات میں وہ خود کفیل ہے اورشوہر، باپ، بھائی وغیرہ کی رضامندی کی محتاج نہیں ہے۔ بے شمارشرعی نصوص میں اس کی وضاحت ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:(إِذَا آتَیْْتُمُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ محصنین)(المائدہ 5) ’’بشرطیکہ تم ان کے مہر ادا کرکے نکاح میں ان کے محافظ بنو۔ ‘‘ یعنی مہر کی پوری ملکیت کا حق عورت کو حاصل ہے۔  عہدِ جاہلیت میں ہوتا یہ تھا کہ عورت کی مہر کو اس کے ولی کا حق خیال کیا جاتا تھا،   جیسا کہ ہمارے زمانے میں خداکے خوف سے عاری شوہر حضرات اس کو اپنے ذمہ واجب الاداء نہیں سمجھتے ہیں۔
اسلامی شریعت نے مہر کو صرف اور صرف بیوی کا حق بتایا ہے جو شوہر کے ذمہ ادا کرنا واجب ہوتاہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیتِ کریمہ میں صراحت کے ساتھ مہر کو عورت کا حق قرار دیا ہے۔ مشہور مفسر حضرت عبدالرحمٰنؒ سعدی لکھتے ہیں:آیت میں أجور (مہر)کی اضافت صاف صاف عورتوں کی طرف کی گئی ہے جس کا سیدھا مطلب ہے کہ عورت مکمل مہر کی مالک ہوتی ہے، کسی اور کے لیے خواہ وہ شوہر ہو یا ولی،   اس کی اجازت و رضامندی کے بغیر مہر کا تھوڑا حصہ لینا بھی حرام ہے۔ (تیسیر الکریم الرحمٰن فی تفسیرکلام المنّان:ص222)
آیتِ میراث میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:( مِن بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوصِیْنَ بِہَا أَوْ دَیْْنٍ)(النساء 12)’’جبکہ وصیت جو انہوں نے کی ہو پوری کر دی جائے اور قرض جو انہوں نے چھوڑا ہو ادا کر دیاجائے۔  ‘‘اس آیتِ کریمہ میں بھی اس بات کی ضمناً تصریح کر دی گئی ہے کہ عورت کو وصیت و قرض جیسے مالی تصرفات کی مکمل آزادی ہے اور ان تصرفات میں وہ مرد کے مساوی ہے۔ حضرت بریرہؓ کے قصے میں بھی آپﷺنے حضرت عائشہؓ کو خریدنے اور آزاد کرنے کا اختیار دیا تھا۔  [اشتری واعتقی فان الولاء لمن اعتق](صحیح بخاریؒ :456۔ صحیح مسلمؒ :3850۔ مؤطامالکؒ :1170)علامہ ابنِ حجرؒ لکھتے ہیں:عاقل و بالغ عورت بذاتِ خود بیع وغیرہ کر سکتی ہے، اس میں شادی شدہ و غیر شادی شدہ کی کوئی قید نہیں، نیز شوہر یا ولی کی اجازت کی بھی اس سلسلے میں چنداں ضرورت نہیں۔ (فتح الباری:5/241)۔
یہاں ایک اہم بات کی وضاحت بھی ازحد ضروری ہے، عموماً عورتیں اپنے شوہر یا اولیاء حضرات کے ساتھ مل کر تجارت، گھر کی تعمیریا کسی قرابت دار کو قرض دینے میں اپنا مال لگا دیتی ہیں۔ اس عمل میں فی نفسہ کوئی برائی نہیں ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ ایسی کسی مالی مشارکت میں گواہوں اور توثیقی دستاویزات کی تیاری کو اکثر حالات میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جوکہ سراسر غلط ہے۔ بلکہ بسا اوقات عورت کی جانب سے ایسی کسی تجویز یا یاددہانی کو زر پرستی، کم ظرفی اوربے وفائی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ایسا کرنا کتابتِ دین کے شرعی حکم کی کھلی مخالفت ہے۔ ارشادِ ربّانی ہے:( یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا تَدَایَنتُم بِدَیْْنٍ إِلَی أَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوہُ)(البقرہ،   282)’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو،   جب کسی مقرر مدت کے لیے تم آپس میں قرض کالین دین کروتو اسے لکھ لیاکرو۔ ‘‘ اس حکمِ شرعی کی مخالفت کا بڑا نقصان عورتوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔  عام طور پرازدواجی تعلقات میں ذرا کشیدگی پیدا ہوتے ہی اس قسم کی کسی بھی مالی مشارکت یا تجارت سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ چونکہ مسئلہ کی یہ صورتحال خطرناک حد تک ہمارے معاشرے میں موجود ہے اس لیے اس پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔
(5) متعدد مسائل میں مردوں پر فوقیت:
اسلامی شریعت نے بہت سارے مسائل میں عورت کی رائے اور اس کی گواہی کو قولِ فیصل کا درجہ دیا ہے۔ یہ کھلی دلیل اس بات کی ہے کہ اسلام نے عورت کی فطرت، اس کے تشخص اور طبعی حقوق کی حفاظت کا جو اہتمام کیا ہے، وہ اس لیے ہے کہ اسلام بذاتِ خود دینِ فطرت ہے۔ تفصیل کا یہاں موقعہ نہیں، یہاں صرف دو مثالوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
* صلہ رحمی میں باپ پر ماں کی فضیلت:
حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں:ایک آدمی نے آپﷺ کے پاس حاضر ہو کر سوال کیا :کون سب سے زیادہ میری صحبت اور خدمت کا مستحق ہے؟آپﷺنے فرمایا:تیری ماں۔ اس نے کہا :پھر کون؟آپﷺنے فرمایا:تیری ماں۔ اس نے پوچھا:پھر کون؟آپﷺنے فرمایا:تیری ماں۔ اس نے پھر پوچھا:پھر کون؟آپﷺنے فرمایا:تیرا باپ۔ ‘‘[جاء رجل الیٰ رسول اللہﷺ فقال: من أحق النّاس بحسن صحابتی؟ قال: أمک،  قال: ثمّ من؟ قال: ثمّ أمک،  قال: ثمّ من؟ قال: ثمّ أمک،  قال:ثمّ من؟ قال: ثمّ ابوک](صحیح بخاریؒ :5971۔ صحیح مسلمؒ :6664)
* میراث میں مرد پر فضیلت:
اسلام میں احکامِ میراث کا سرسری مطالعہ واضح کر دیتا ہے کہ متعدد حالتوں میں عورت کا حصہ مرد کے مقابلے زیادہ بنتاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد کی نسبت عورت کے حصوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ شریعت میں میراث کی تقسیم دو طرح سے ہوتی ہے:
(الف)میراث بالفروض یعنی قرآن و سنت کے معین کردہ حصوں کے مطابق تقسیم۔ ترتیب میں بھی پہلے یہی ہے۔
(ب)میراث بالتعصیب یعنی فروض والوں کے بعد رشتہ داروں میں میراث کی تقسیم۔ مسائل کے استقراء وتتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ فروض میں عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے زیادہ ہے۔ اور کئی حالتوں میں مرداصحابِ تعصیب کے مقابلے وہ فروض میں زیادہ بڑے حصہ کی حقدار قرار پاتی ہیں۔

خواتین کی اپنے دستوری حقوق سے ناواقفیت کے اسباب
خانگی زندگی میں روز مرہ پیش آنے والے تنازعات و اختلافات کا سرسری جائزہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ خواتین اپنے شرعی دستوری حقوق سے انتہائی حد تک نابلد ہوتی ہیں۔ لا تعدادناانصافیاں اور زیادتیاں ہیں جوبیوی، بہن، بیٹی وغیرہ کی مختلف سطحوں پر عورتوں کے ساتھ روا رکھی جاتی ہیں اور جن کو بغیر ایک حرفِ شکایت برداشت کیا جاتا ہے، حالانکہ اپنے شرعی و دستوری حقوق و اختیارات کی بنیادپر عورت اس قسم کے حالات میں ایک طاقتور فریق اور مدعی بن سکتی ہے۔ صورتِ واقعہ یہ ہے کہ اسلامی نظامِ زندگی میں اس طرح کی بے اعتدالیوں اور زیادتیوں کی کوئی گنجائش نہیں،  لیکن یہ شریعتِ عادلہ کے احکام سے لاعلمی کا خمیازہ ہے جو خواتین کو بھگتنا پڑتا ہے۔ خواتین کی اپنے شرعی حقوق سے جہالت کے بہت سے اسباب ہیں، بعض کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے:
(1) خلافِ شرع عرف و عادت کی پیروی:
معاشرہ میں پھیلے ہوئے جاہلانہ رسوم و رواج اور غیر اسلامی تصورات کی اتباع وہ بنیادی سبب ہے جس کی وجہ سے خواتین اپنے جائز حقوق سے محرومی کو نہ صرف یہ کہ قبول کر لیتی ہیں، بلکہ ان کے حاشیۂ خیال میں بھی کبھی ان کے دوبارہ حصول کا داعیہ پیدا نہیں ہوتا۔ ہندوستانی خواتین کے ذہن و دماغ کی گہرائیوں میں یہ واہمہ جاگزیں ہے کہ جن جاہلی عادات و اطوار کو وہ بچپن سے جاری و ساری دیکھتی آئی ہیں، وہ اگرچہ خلافِ شریعت ہیں لیکن اٹل اورنا قابلِ تبدیل ہیں اور کسی کو ان کی پیروی سے مفر نہیں۔ ہندوستانی معاشرہ میں منتشر غیر اسلامی رسوم و عادات میں سرِ فہرست عورتوں کو وراثت سے محروم رکھنااوران کو ان کا شرعی حقِ میراث نہ دینا ہے۔ یہ شریعت کی کھلی مخالفت اورنصِ قرآنی کی صریح حکم عدولی ہے۔
ہمارے سماج میں ایک غیر اسلامی رسم یہ عام ہے کہ والدین یا اولیاء حضرات،   لڑکی کی اجازت و رضامندی لیے بغیر ہی اس کی شادی جیسا اہم فیصلہ طے کر دیتے ہیں۔ اگر لڑکی انکار یا احتجاج کرے توعموماًدو صورتیں ہوتی ہیں اول :یا تو زبردستی عقدِ نکاح منعقد کرا دیا جاتا ہے، دوم: یا بے حیا،   نافرمان و کم ظرف جیسے خطابات سے نواز کر مدتِ دراز تک کے لیے سزا کے طور پر اس کو بے نکاحی رکھا جاتاہے۔ حالانکہ یہ سب خلافِ شریعت اور انسانیت سے گری ہوئی باتیں ہیں۔ ایک مسئلہ ہمارے یہاں یہ بھی ہے کہ لڑکی کو اپنے ہونے والے شوہر کو دیکھنے نہیں دیا جاتا۔ حالانکہ یہ عورت کا شرعی و فطری حق ہے کہ وہ اپنے شریکِ حیات کو اعزہ و اقارب کی موجودگی میں بالمشافہ دیکھ کر اپنی رضامندی کا اظہار کرے۔ بعض گھرانوں میں لڑکیوں کی شادی بہت تاخیر سے کرنے کا رواج ہے۔ یہ بھی ایک غیر فطری، غیر عقلی اور غیر شرعی رواج ہے جس کا نتیجہ متعدداخلاقی برائیوں، جسمانی امراض اور جنسی بے راہ روی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ تمام رسوم و رواج جاہلیت کا شاخسانہ ہیں اور خواتین کو حق حاصل ہے کہ ان کے خلاف شرعی دار القضاء میں استغاثہ کرسکیں۔
(2)معاشرہ میں عورتوں کی کسمپرسی اور مردوں کا تسلط:
ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے دقیانوسی لوگوں کی کمی نہیں جو اپنے اہلِ خانہ پر شدت برتنے، ان کو زودوکوب کرنے اور انہیں ڈرانے سہما نے کو اپنی مردانگی کا ثبوت اور کامیاب خانگی زندگی کی ضمانت خیال کرتے ہیں۔ ایسے گھروں کی عورتیں ہمیشہ خوف و ہراس کے عالم میں جیتے ہوئے تا عمر اپنے جسم اور روح کے زخموں کو چھپائے رہتی ہیں، کیونکہ ان کے ظالم شوہروں کی سیدھی وارننگ ہوتی ہے کہ اگر یہ اندرونی معاملہ گھر سے باہر کھو لا گیا توان کو سسرال سے نکال دیا جائے گااور اولاد کے دیدار تک سے محروم کر دیا جائے گا۔ ان عورتوں کو لاشعوری طور پریہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی دادرسی کے لیے نہ علمائے دین سامنے آئیں گے نہ مرد پرست عورت بیزار سماج۔ حالانکہ جس طرح سماج ان ناگفتہ بہ حالات کا ذمہ دار ہے اسی طرح خواتین بھی اپنے شرعی حقوق سے غفلت و جہالت رکھنے کے بسبب اس کے لیے موردِ الزام ہیں۔ یہاں اس ضمن میں اپنے مسلمان بھائیوں سے یہی گزارش ہے کہ اللہ کا خوف کھائیں اور اللہ کے رسولﷺکی اس دعا کو ہمیشہ یاد رکھیں:اے اللہ میں دو کمزوروں کی حق شکنی سے پناہ مانگتا ہوں؛یتیم اور عورت۔ ‘‘[ اللھم انّی أحرّج حقّ الضعیفین الیتیم والمرأۃ](سنن نسائیؒ :2376 مع تحسینِ البانیؒ۔  سنن ابن ماجہؒ :3678۔ مسنداحمدؒ :9664)
(3)مسلم ذرائع ابلاغ کی بے اعتنائی:
سیکولرذرائع ابلاغ کاتو یہاں تذکرہ لا حاصل ہے، لیکن خواتین کے حقوق کی وضاحت کے سلسلے میں دینی رسائل و جرائد اور مذہبی ٹی وی چینلوں کا رول بھی خاصا جانبدار اور مختصردکھائی پڑتا ہے۔ دراصل صورتِ مسئلہ میں بڑی دشواری اس بات سے بھی آئی ہے کہ آزادئ نسواں کے نام نہاد علم برداروں نے اسلام کا نام لے کر حقوقِ نسواں کی آڑ میں افراط و تفریط پر مبنی تصورات اور اباحیت زدہ رویوں کو رواج دینے کی کوشش کی ہے اور کررہے ہیں۔ چنانچہ آزادئ نسواں کے نام پر بے قید آزادروی کو امت کے اجتماعی ضمیر نے قبول نہیں کیا بلکہ اس کے ردِ عمل میں مسلم ملت کے دینداروتحفظ پسندطبقے میں ایک قسم کا مخالفانہ تعصب ساپیدا ہو گیا اور اس کے نتیجے میں مسلم خواتین کے شرعی حقوق واختیارات کی عملی تنفیذ کا داعی،  اعتدال و توسط کا حامل کوئی بھی رویہ مسلمانوں میں قبولِ عام نہیں پا سکا۔ اس صورتِ حال کے سلسلے میں موجودہ مسلم ذرائع ابلاغ میں بھی بے رخی بظاہر موجود ہے۔ دورِ حاضرکے مختلف ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کو صنفِ نازک کے احترام اور اس کے جائز شرعی حقوق کی ادائیگی پر ابھاریں۔ ان کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ مسلمان خواتین کو ان کے شرعی و دستوری حقوق و واجبات سے روشناس کرائیں اور حق تلفی ہونے پر دوبارہ ان کے حصول کے طریقوں کی طرف رہنمائی فراہم کریں۔
(4) مستقبل سے خوف اور حالات سے سمجھوتا کرنے کا رجحان:
بہت سی خواتین کو شرعی احکام سے ناواقفیت کے ساتھ ساتھ مستقبل کے اندیشے شرعی دار لقضاء سے استفادہ کرنے سے باز رکھتے ہیں۔ ایسی عورتیں ہر ظلم و ستم کواپنے بچوں کی خاطر سہار لیتی ہیں۔  یہاں بھی شرعی لاعلمی ان کی حالتِ زار کا سبب بنتی ہے کیونکہ اگر ان بیچاریوں کو اولادکی کفالت کے صحیح اسلامی حکم سے واقفیت ہوتی تو شاید ان کا ردِ عمل کچھ اور ہوتا۔
(5) عورتوں کا عدالت سے مراجعہ کو معیوب سمجھنا:
عام طور پر خواتین کا عدالتوں کے چکر کاٹنا شرافت سے فروتر خیال کیا جاتا ہے۔ لادینی عدالتوں کے متعلق یہ خیال مبنی بر حقیقت ہو سکتا ہے، لیکن شرعی دارالقضاء کو اس دائرہ میں لانا درست نہیں۔  شرعی عدالتوں کا دائرۂ کار صرف اس پر موقوف نہیں کہ مطلوبہ احکامِ شرعیہ کو بیان کر دیا جائے اور خانگی مسائل و مشکلات کا اسلامی نہج پر تصفیہ کر دیا جائے،  بلکہ شرعی قضات کی منصبی ذمہ داری یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ ہر طلبگار کی اصلاح و رہنمائی کی فکر کریں اوراس کو خیر خواہانہ مشوروں سے نوازیں۔ عورت ہر طرف سے مایوس ہوکر اگر عدالت سے رجوع کرتی ہے تو یہ فی نفسہ کوئی غلط اقدام نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی خاتون اپنے بد اخلاق شوہر کی بد سلوکی کی شکایت لے کر دارالقضاء آتی ہے تو لازمی نہیں کہ وہ اُس سے اِس درجہ متنفر ہو کہ علیحدگی سے کم پرراضی نہ ہوسکے، بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ اس کے حال کی اصلاح اور دینی رہنمائی کی طالب ہو۔ اسی طرح اگر لڑکی کے باپ بھائی وغیرہ اس کو ناپسندیدہ رشتے پر مجبور کرتے ہوںیا اس کی شادی میں بیجا تاخیر کررہے ہوں تو وہ شرعی دارالقضاء سے رجوع کر سکتی ہے۔ ایسی صورتوں میں قضات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ متعلقہ اولیاء کو راست روی کی تلقین کرتے ہوئے احکامِ شرعیہ کا نفاذ کرائیں۔
لہٰذا عورت کا اپنے جائز حق کے حصول یا اپنے اولیاء کی دینی اصلاح کی خاطر شرعی عدالتوں سے مراجعہ کرنا معیوب نہیں ہے، بلکہ برائی اس بات میں ہے کہ ظالم کے ظلم کو بڑھاوا دیتے ہوئے اپنے حق سے کنارہ کشی اختیار کر لی جائے۔  (جاری)

مزید دکھائیں

ذکی الرحمن فلاحی مدنی

مضمون نگار معروف اسلامی اسکالر ہیں۔ ایک درجن سے زائد کتابوں کے مصنف اور متعدد کتابوں کے مترجم ہیں

متعلقہ

Close