گوشہ خواتین

ان چاہی بیٹیاں

جاوید انیس

ہم ایک ایسے  ذہنیت والے معاشرے رہتے ہیں جہاں لڑکوں اور لڑکیوں میں فرق کیا جاتا ہے. یہاں لڑکی ہوکر پیدا ہونا آسان نہیں ہے اور پیدا ہونے کے بعد ایک عورت کے طور پر زندہ رہنا بھی اتنا هي بہادری کا کام ہے. یہاں بیٹی پیدا ہونے پر اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کی خوشی کافور ہو جاتی ہے. نئی ٹیکنالوجی نے اس مسئلہ کو اور پیچیدہ بنا دیا ہے اب پیٹ میں بیٹی هے يا بیٹا یہ معلوم کرنے کے لئے کہ کسی بابا کے پاس نہیں جانا پڑتا ہے۔ اس کے لئے ہسپتال اور ڈاکٹر ہیں جن کے پاس جدید مشینیں ہے جن سے جنین کی جنس بتانے کے کبھی یاد نہیں کیا ہوتی ہے. آج ٹیکنالوجی نے نوزائیدہ بچے کی جنس کی انکوائری کروا کر مادہ جنین کو پیٹ میں ہی مار دینے کو بہت آسان بنا دیا ہے.

ہندوستانی سماج اس آسانی کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے، معاشرے میں عورتوں کا تناسب کا توازن مسلسل بگڑ رہا ہے. سال 1961 سے لے کر 2011 تک کی مردم شماری پر نظر ڈالیں تو یہ بات صاف طور پر ابھر کر سامنے آتی ہے کہ 0-6 سال عمر کے گروپ کے بال لگانپات میں 1961 سے مسلسل کمی ہوئی ہے۔ گزشتہ 50 سالوں میں بال لگانپات میں 63 پاینٹ کی کمی درج کی گئی ہے. لیکن گزشتہ دہائی کے دوران اس میں سانس زیادہ گراوٹ درج کی گئی ہے سال 2001 کی مردم شماری میں جہاں چھ سال تک کی عمر کے بچوں میں فی ایک ہزار بچے پر لڑکی کے بچے کی تعداد 927 تھی لیکن 2011 کی مردم شماری میں یہ کم ہو کر کر 914 (گزشتہ دہائی سے -1.40 فیصد کم) ہو گیا ہے. توجہ دینے والی بات یہ ہے کہ اب تک کی ہوئی تمام جنگرناوں میں یہ تناسب معتدل دکھایا جا رہا ہے.

بھارت میں ہر ریاست کی اپنی سماجی، ثقافتی، اقتصادی شناخت ہے جو کہ دوسری ریاست سے مختلف ہے. اسی سماجی، ثقافتی، اقتصادی تغیرات کی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی ملک میں بال لگانپات کی صورت حال مختلف مختلف ہیں. ریاستوں کی بات کریں تو ملک کے سب سے نمنتم بال لگانپات والے تین ریاست ہریانہ (830)، پنجاب (846)، جموں كشمير (859) ہیں جبکہ سب سے زیادہ بال لگانپات والے تین ریاست میزورم (971)، مےدھالي (970)، اڑمان نکوبار (966) ہیں. ملک میں سب سے کم بال لگانپات ہریانہ کے جھجھر میں 774 ہے جموں كشمير میں 2001 کے مقابلے میں 2011 میں سب سے زیادہ کمی -8.71 فیصد دیکھی گئی ہے. وہی دادر ناگر حویلی اور لكشيدويپ میں 2001 کے مقابلے میں 2011 میں یہ کمی كرمش -5.62 اور -5.32 ہے جو کہ ایک دہائی میں بال لگانپات میں سنجیدہ کمی کی صورت میں ملک میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں.

بھارت میں مسلسل کمی جا رہے اس کے بال لگانپات کی وجہ کو سنجیدگی دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے. ظاہر ہے لگانپات کم ہونے کی وجہ سے قدرتی نہیں ہے اور نہ ہی اس کا تعلق تعلق امیری یا غربت سے ہے. یہ ایک انسانی نرمت مسئلہ ہے جو کم و بیش ملک کے تمام حصوں، قوموں، طبقوں اور برادریوں میں پھیلی ہے. بھارتی معاشرے میں گهرايي تک پھیلی لڑکیوں کے فی نظریہ، پدرانہ سوچ، ثقافتی رویے، پورواگره، سماجی و اقتصادی دباؤ، عدم تحفظ، جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال اس مسئلہ کے اہم وجوہات ہیں.

موجودہ وقت میں لگانپات کے گھٹنے کی اہم وجوہات میں سے ایک وجہ چيناتمسك اسقاط حمل کی آسان متبادل کے طور پر دستیابی بھی ہے. ویسے تو الٹراساؤنڈ، اےمنيوسٹےسس وغیرہ تکنیک کی تلاش پیٹ میں بھر کے بگاڑ کی تحقیقات کے لئے کی گئی تھی لیکن معاشرے کے پدرانہ سوچ کے چلتے آہستہ آہستہ اس کا استعمال بھررو کی جنس معلوم کرنے اور اگر لڑکی ہو تو اس کا اسقاط حمل میں کیا جانے لگا. اس جدید ٹیکنالوجی سے پہلے بھی لڑکیوں کو دیگر روایتی طریقوں جیسے زہر دینا، گلا گھوٹنا، زمین میں گاڑ دینا، نمک افیون-پرانا گڑ یا پپیتے کے بیج دے کر وغیرہ کا استعمال کر مار دیا جاتا تھا.

سال 2003 میں معاشرے میں گھٹتی خواتین کی گھٹتی تعداد پر تعداد پر وطن: اے نیشن وداٹ وومین نام سے ایک پھم آئی تھی اس میں ایک ایسے مستقبل کے گاؤں کو دکھایا گیا تھا جہاں سالوں سے چلی خواتین بچے قتل کے چلتے اب یہاں ایک بھی لڑکی یا خواتین زندہ نہیں ہے. دراصل یہ مستقبل کی وارننگ دینے والی فلم تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ بیٹیوں کے فی ناپسندیدہ رخ سے صورت حال کتنی خوفناک ہو سکتی ہے. آج اس فلم کی کئی الرٹ حقیقت بن کر ہمارے سامنے ہیں. ہمارے ملک کے بہت سے حصوں میں لڑکیوں کی مسلسل گرتی سكھي کی وجہ دلہنوں کا خرید و فروخت ہو رہا ہے، بڑی تعداد میں لڑکوں کو اکیلے رہنا پڑ رہا ہے اور دیگر ریاستوں سے بهيے لانی پڑ رہی ہے.

مرکز اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے لگانپات کو بڑھانے کے لئے انےكو کوشش شدہ ہے لیکن صورت حال سدھرنے بگڑتی ہی گئی ہے. سپریم کورٹ کی طرف سے بھی اس سمت میں مسلسل فکر ظاہر کی جاتی رہی ہے گزشتہ دنوں سپریم کورٹ نے بھرولگ تحقیقات سے منسلک اشتہارات اور مواد دکھانے پر سپریم کورٹ نے گوگل، یاہو اور مائیکروسافٹ جیسی تلاش کے انجن کمپنیوں کو یہ کہتے ہوئے پھٹکار لگائی "گوگل، یاہو اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیاں منافع کمانا تو جانتی ہیں، لیکن بھارتی قانون کی قدر نہیں کرتیں. ‘ کورٹ نے تینوں تلاش کے انجن کو اپنے یہاں اندرونی ماہر کمیٹی بنانے کی ہدایات دی ہیں جو کمیٹی جنین جنس تحقیقات سے منسلک قابل اعتراض لفظ پہچان اس سے جڑے مواد بلاک کرے گی.

لیکن تجربے کی وضاحت کرتا ہے کہ قانون، منصوبہ بندی اور سپریم کورٹ کی کوشش ضروری تو ہیں لیکن صرف یہیں کافی نہیں ہیں اس مسئلہ کی وجہ سے سماجی سطح کے ہیں جیسے سماج کا پدرانہ ذہنیت، لڑکے کی چاہ، سماجی و اقتصادی حالات، صنفی بنیاد پر اسقاط حمل، کنیا بچے کی دیکھ بھال نہ کرنا، جہیز وغیرہ. یہ پیچیدہ اور چیلنجنگ سمسيايے ہے. لیکن معاشرے اور حکومت کو ان مسائل پر ترجیح کے ساتھ چوٹ کرنے کی ضرورت ہے.

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close