فقہگوشہ خواتین

بنت حوا کے مسائل اور ان کا شرعی حل (تیسری قسط)

شیخ مقبول احمد سلفی

سوال(1) تھکان کی وجہ سے شوہر کے بلاوے پر اس کی خواہش پوری نہ کرے تو کیا عورت گنہگار ہوگی ؟

جواب : میاں بیوی کی زندگی الفت ومحبت اور خلوص ووفا پر قائم ہے جہاں ایک دوسرے کی رعایت، تعاون اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اللہ نے مردوں کو بھلائی کے ساتھ رہنے کا حکم دیا ہے، فرمان باری ہے:وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء:19)

ترجمہ:اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بودوباش رکھو۔

عورت کو اپنے شوہر کی اطاعت کا حکم دیا ہے، اس کے حکم کی نافرمانی گناہ کے ساتھ باعث مواخذہ بھی ہے۔ اللہ کا فرمان ہے:

واللاتي تخافون نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا (النساء:34)

ترجمہ: اورجن عورتوں کی نافرمانی اوربددماغی کا تمہیں ڈر اورخدشہ ہوانہيں نصیحت کرواورانہیں الگ بستروں پر چھوڑ دو اورانہیں مار کی سزا دو، پھر اگر وہ تمہاری بات تسلیم کرلیں تو ان پر کوئي راستہ تلاش نہ کرو، بے شک اللہ تعالی بڑي بلندی اوربڑائي والا ہے۔

نشوزمیں یہ بھی داخل ہے کہ شوہر جماع کے لئے بلائے اور بیوی بغیرعذر کے انکار کردے۔شوہر کسی کام کے لئے بلائے یا جماع کے لئے بلائے عورت فورا سارا کام چھوڑ کر حکم کی تعمیل کے لئے دوڑ پڑے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :إذا الرَّجلُ دعا زوجتَهُ لحاجتِهِ فلتأتِهِ، وإن كانت علَى التَّنُّورِ(صحيح الترمذي:1160)

ترجمہ: جب خاوند اپنی بیوی کواپنی حاجت پوری کرنے کے لیے بلائے تواسے آنا چاہیے، اگرچہ وہ تنور پرہی کیوں نہ ہو۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے :

إذا دعا الرجلُ امرأتَهُ إلى فراشِهِ فأَبَتْ، فبات غضبانَ عليها، لعنتها الملائكةُ حتى تُصبحَ(صحيح البخاري:3237)

ترجمہ:جب کوئي شخص اپنی بیوی کواپنے بستر پر بلائے اوربیوی آنے سے انکار کردے اورخاوند اس پر ناراضگی کی حالت میں ہی رات بسر کردے تو اس عورت پر صبح ہونے تک فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ رات میں جیسے ہی شوہر بستر پر بلائے یا جماع کی خواہش ظاہر کرےبیوی اپنے شوہر کی اطاعت کرے اور فرمانبرداری میں آناکانی سے پرہیز کرے۔ تھکا ہوا ہونا جماع میں رکاوٹ نہیں ہے، ممکن ہے شوہر بیوی سے زیادہ تھکا ہوا وروہ اپنی تھکان دور کرنے کے لئے بیوی سے قربت چاہتا ہو ایسے میں عورت اپنے آپ کو شوہر کے حوالے کردے۔ ہاں کوئی مرض ہو، کوئی شرعی رکاوٹ(حیض ونفاس) ہو یا کوئی دوسرا عذر ہو تو جماع سے انکار کرنے پر عورت کے لئے کوئی گناہ نہیں۔

عورت کو ایک بات کا بہت ہی خیال رکھنا چاہئے کہ مباشرت کے معاملے میں مردوں میں صبر کی کمی ہے لہذا جب بھی آپ کے شوہرمیں اس بات کی خواہش پیدا ہو آپ رضامندی کا اظہار کریں البتہ شوہر کثرت جماع پہ مجبور کرے، غیرفطری طریقے سے اس کے پاس آئے، یا ایسے وقت میں جماع کا ارادہ کرے جب عبادت سے غفلت کا امکان ہو تو پھراسے انکار کرنے کا حق ہے۔

سوال(2) شوہر پر بیوی کے لئے کس مقدار میں خرچ کرنا ضروری ہے، کیا اپنی حیثیت کے مطابق یا محض اس کی ضرورت پوری کرنا کافی ہے؟

جواب : اسلام نے شوہر کے ذمہ بیوی اور بال بچوں کا خرچ (روٹی، کپڑا، مکان اور معالجہ وغیرہ)واجب کیا ہے مگر اس کی مقدار متعین نہیں  کی ہے تاہم قرآن وحدیث کے نصوص سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مرد پر عورت کی ضروریات کے بقدر اخراجات واجب ہیں جیساکہ سیدہ عائشہ ؓسےروایت ہے کہ سیدنا ہند بنت عتبہ ؓنےعرض کی،اللہ کے رسول!

إنَّ أبا سفيانَ رجلٌ شحِيحٌ، وليسَ يُعْطيني ما يَكفيني وولدي إلا ما أخذتُ منهُ، وهو لا يعلمُ، فقالَ :خُذي ما يكفيكِ وولدَكِ بالمعروفِ.(صحيح البخاري:5364)

ترجمہ: بلاشبہ ابو سفیان ؓ بخیل آدمی ہیں اور مجھے اتنا مال نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کو کافی ہوالایہ کہ میں کچھ مال لاعلمی میں لے لوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: د ستور کے مطابق اتنا مال لے سکتی ہو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کو کافی ہو۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کی ضروریات پوری کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے، اگر شوہر اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو بیوی بغیربتائے شوہر کے مال میں بقدر حاجت لے سکتی ہے۔

مرد کے لئے نفقہ میں بخیلی کرنا یا روک رکھنا جائز نہیں ہے، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:كفى بالمرء إثمًا أن يَحبِسَ، عمن يملكُ، قُوتَه(صحيح مسلم:996)

ترجمہ: انسان کے لیے اتنا گناہ ہی کا فی ہے کہ وہ جن (اہل وعیال)کی خوراک کا مالک ہے انھیں نہ دے۔

مرد کی حیثیت زیادہ ہے مگر عورت کی ضروریات زندگی پوری کردیتا ہے تو وہ گنہگار نہیں ہے اوراسراف سے بچتے ہوئے اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرتا ہے تو اس میں بھی کوئی ممانعت نہیں ہے بشرطیکہ مال اور دیگر اہل حقوق کی بھی حق تلفی نہ کررہاہو۔

سوال(3) برف سے تیمم کرنا کفایت کرجائے گا؟

جواب: برف کا پانی پاک ہے اور پاک کرنے والا بھی ہے، بخاری و مسلم میں دعا ہے کہ اے اللہ میرے دل کو اولے اور برف کے پانی سے دھو دے۔

اللَّهمَّ اغسل قلبي بماءِ الثَّلجِ والبَرَدِ (صحيح البخاري:6377)

اے اللہ! میرے دل کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے۔

اللهمَّ طهِّرْني بالثَّلجِ والبَرَدِ والماءِ البارِدِ( صحيح مسلم:476)

ترجمہ: اے اللہ ! مجھے برف، اولے اور ٹھنڈے پانی سے پاک کردے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ برف کے بہتے پانی سے وضو اور غسل کرسکتے ہیں لیکن جمی ہوئی برف سے تیمم کرنے کے متعلق جواز وعدم جواز میں اختلاف ہے۔ اللہ کا فرمان ہے:فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا(النساء:43)

ترجمہ:اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو۔

اس آیت میں اللہ تعالی نے پاک مٹی سے تیمم کا حکم دیا ہے اور یہ مٹی زمین کا حصہ ہے اس وجہ سے مٹی یا اس کی دوسری اجناس ریت،غبار، کنکری، پتھر، مٹی کی ٹھیکری، کچی اینٹ، مٹی کی دیوار، مٹی کا پلسٹروغیرہ سے تیمم کرسکتے ہیں مگر جو مٹی کی جنس نہیں ہے اس سے تیمم نہیں کرسکتے اور برف مٹی کی جنس سے نہیں ہے لہذا اس سے تیمم کفایت نہیں کرے گا۔

فتح الباری میں عمررضی اللہ عنہ کا قول ہے :” إنَّ الثَّلجَ لا يُتيمَّمُ به” کہ برف سے تیمم نہیں ہوگا مگر ابن رجب نے اس کی سند میں ضعف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (فتح الباري لابن رجب:2/233)

سوال(4) آج کل عورتوں کا اسٹیج پروگرام ویڈیو کی شکل میں آتا ہے یہ کام شرعا کہاں تک درست ہے ؟

جواب:عورت کی آواز کا پردہ نہیں ہے اس وجہ سے جس طرح عورت ضرورت کے تحت مردوں سے بات کرسکتی ہے اسی طرح دعوتی مقصد سے اس کی آواز کو رکارڈ بھی کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ اس کی آواز میں لچک،نرمی، تصنع،خوش الحانی نہ ہو جس سے فتنے کا اندیشہ ہے۔ اللہ کا فرمان ہے:

يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا(الأحزاب:32) .

ترجمہ:اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم پرہیزگاری اختیار کرو تو نرم لہجے سے بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہو وہ کوئی برا خیال کرے اور ہاں قاعدے کے مطابق کلام کرو۔

آواز کے ساتھ دعوتی ویڈیوز بنانے میں بھی حرج نہیں ہے مگر یہاں بھی فتنے کے امور سے بچنا ہوگا۔ اسٹیج پروگرام میں فتنہ سامانی ہے، یہاں عورت کا مکمل بدن (چہ جائیکہ حجاب میں ہو)نقل وحرکت کے ساتھ نظر آتا ہے۔ اسٹیج کی دیگر خواتین حتی کہ پروگرام میں موجود تمام خواتین کو کیمرے میں دکھایا جاتا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ویڈیو بننے پہ اجنبی مرد بھی یہ پروگرام دیکھیں گے اس لئے عورتوں کے اسٹیج پروگرام کی صرف آواز رکارڈ کی جائے  توفتنے سے حفاظت ہوگی۔

سوال(5) شوہر کے مال سے خرچ کرنا یا صدقہ کرنے کی نوعیت کیا ہوگی ؟

جواب : عورت شوہر کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر اپنی اور اپنے بچوں کی ضرورت کی تکمیل کے لئے بقدر ضرورت لے سکتی ہے اور اسی طرح صدقہ بھی کرسکتی ہے اگر شوہر نے اس کی اجازت دے رکھی ہو۔

اجازت دو طرح کی ہوسکتی ہیں۔ ایک اجازت صراحت کے ساتھ کہ تمہیں میرے مال سے صدقہ کرنے کی اجازت ہے اور ایک اجازت  عرفا رضامندی والی ہو یعنی صدقہ کرنے پر شوہر کو کوئی اعتراض نہ ہو۔

اگر شوہرنے اپنی اجازت کے بغیر کچھ بھی صدقہ کرنے کی اجازت نہ دی ہو توضرورت کے علاوہ شوہر کے مال سے لینا جائز نہیں ہوگا خواہ صدقہ کی نیت سے ہو یا لوگوں(والدین وغیرہ) کا تعاون کرنے کی نیت سے ہو۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :

ولا تُنفِقُ المرأةُ شيئًا مِن بيتِها إلَّا بإذنِ زوجِها، فقيل: يا رسولَ اللهِ، ولا الطَّعامَ؟ قال: ذاكَ أفضَلُ أموالِنا(صحيح أبي داود:3565)

ترجمہ: اور کوئی عورت اپنے گھر میں سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرچ نہ کرے۔ کہا گیا : اے اللہ کے رسول ! کھانا بھی نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو ہمارے افضل اموال میں سے ہوتا ہے۔

بعض احادیث میں اجازت کی صراحت نہیں ہے مگر وہاں بھی اجازت کی قید مانی جائے گی جیسے نبی ﷺ کا یہ فرمان:

إذا أطعمتِ المرأةُ من بيتِ زوجِها، غير مفسدةٍ، لها أجرها، وله مثله، وللخازنِ مثلُ ذلك، له بما اكتسب، ولها بما أنفقتْ .(صحيح البخاري:1440)

ترجمہ: جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے کھانا کھلائے جبکہ وہ گھر کی تباہی کا ارادہ نہ رکھتی ہو تو اسے اجر ملے گا،اس کے شوہر کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا اور خازن کو بھی ثواب ملے گا،مرد کی کمائی کرنے کا اور عورت کو خرچ کرنے کی وجہ سے اجر دیاجائے گا۔

سوال(6) شوہر سے پوچھے بغیرعورت اپنے مال کو جہاں چاہے صرف کرسکتی ہے اور جسے چاہے دے سکتی ہے یعنی اپنے والدین، بھائی بہن کو؟ اور شوہر پر بھی خرچ کرسکتی ہے؟

جواب : عورت اپنے ذاتی مال میں خود مختار ہے جہاں چاہے بھلائی کے ساتھ خرچ کرسکتی ہے۔ فقراء ومساکین ہوں، والدین ہوں، بھائی بہن ہوں، کوئی اور رشتہ دارہوں یا نیکی کا کوئی کام ہو تمام جگہوں پر بغیر شوہر کی اجازت کے خرچ کرسکتی ہے۔ عہد رسول میں بھی صحابیات بغیر پوچھے صدقہ وخیرات کرتی تھیں بلکہ نبی ﷺ خود ہی عورتوں کو خصوصی طورپرصدقہ کی ترغیب دیتے تھے، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی یا عید الفطر کے لئے عید گاہ کی طرف نکلے اور عورتوں کے پاس گزرے تو فرمانے لگے :

يا معشر النساء تصدقن، فإني رأيتكن أكثر أهل النار .(صحيح البخاري:1462)

ترجمہ:اے عورتوں کی جماعت! صدقہ و خیرات کیا کرو بیشک مجھے دکھایا گیا ہے کہ جہنم میں تمہاری اکثریت ہے۔

حسن معاشرت اور شوہر کو خوش رکھتے ہوئے ان سے اپنے مال سے خرچ کرنے کی اجازت لے لیتی ہے تو یہ میاں بیوی کے درمیان خوشگوارزندگی اور سازگار ماحول کے لئے بہت بہتر ہے خصوصا آج کے پرفتن دور میں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے:

قيل لرسولِ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ أيُّ النساءِ خيرٌ ؟ قال : التي تسرُّه إذا نظر، وتطيعُه إذا أمر، ولا تخالفُه في نفسِها ومالها بما يكره(صحيح النسائي:3231)

ترجمہ: رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سی عورت بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ عورت کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کردے اور جب اسے کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور اپنے نفس اور مال میں اس کی مخالفت نہ کرے جسے وہ ناپسند کرتا ہو۔

اس حدیث میں بہترین عورت اسے کہا گیا ہے جو ذاتی مال کے تصرف میں بھی شوہر کی خوشی چاہے گوکہ شوہر سے اجازت کی ضرورت نہیں ہے پھربھی محض حسن معاشرت کا خیال کرتے ہوئے اجازت بہتر ہے جیساکہ نبی ﷺ کا یہ فرمان بھی اسی حسن معاشرت پہ ابھارتا ہے۔

لا يجوزُ لامرأةٍ، هبةٌ في مالِها، إذا ملكَ زوجُها عصمتَها(صحيح النسائي:3765)

ترجمہ: جب خاوند بیوی کی عصمت کا مالک بن جائے تواس کے لیے اپنے مال میں کچھ بھی جائز نہيں۔

امام سندھی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ یہ حدیث حسن معاشرت اور شوہر کوخوش کرنے کے معنی پر محمول ہے۔

جہاں تک شوہر پر اپنا مال صرف کرنے کی بات ہے تو یہ بھی خیر کا کام ہے اور شوہر محتاج ہو تو اس کو زکوۃ بھی دے سکتی ہے۔

سوال(7) میں اپنے بیٹے کا نام فاطر احمد رکھنا چاہتی ہوں کیا اس نام کے رکھنے کی ممانعت ہے ؟

جواب : قرآن میں فاطر کا لفظ چھ جگہوں پہ آیا ہے اور تمام جگہوں پر” فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ” کے الفاظ کے ساتھ وارد ہے حتی کہ صحیح احادیث میں بھی کہیں پر اکیلے الفاطر کا لفظ نہیں آیا ہے، ہر جگہ اضافت کے ساتھ ہی آیا ہے۔ ننانوے اسمائے حسنی سے متعلق بعض حدیث میں الفاطر کا لفظ آیا ہے وہ ضعیف ہیں۔

جب فاطر اضافت کے ساتھ آیا ہے تو ہم اسے اللہ کی صفت کہیں گے اسمائے حسنی نہیں کہیں گے جیسے نور کا لفظ قرآن میں جہاں بھی اللہ کے لئے آیا ہے اضافت کے ساتھ آیا ہے جیسے نوراللہ،نورہ،نورالسماوات اورنورمن ربہ وغیرہ مستقل طور پراللہ کے لئے النورکا لفظ نہیں آیا ہے اس لئے نور بھی اللہ کی صفت کہی جائے گی اسمائے حسنی میں سے نہیں۔

شیخ ابن باز اور شیخ ابن عثیمین رحمھما اللہ نے اسمائے حسنی کا ذکر کیا ہے، قرآن کریم سے اکاسی نام ذکر کئے ہیں ان میں فاطر کا لفظ نہیں ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ بچے کا نام فاطر احمد رکھنے میں حرج نہیں ہے، یاد رہے عبدالفاطر نہیں کہیں گے۔ یہ نام اس صورت میں صحیح ہوتا جب یہ اللہ کے لئے اسمائے حسنی میں سے ہونا ثابت ہوجاتا۔

سوال(8) گھر میں نماز پڑھتے وقت بچہ بیڈ پر رو رہا ہو یا گرنے کا خطرہ ہوایسی صورت میں نماز توڑ دینی چاہئے یا کیا کرنا چاہئے؟

جواب: اگر آپ نماز میں ہیں اور بچہ رو رہاہے یا بیڈ سے گرنے کا خطرہ ہے تو دو صورتوں میں سے جو مناسب ہو اختیار کرسکتی ہیں۔ یا تو نماز توڑ کر بچہ چپ کرائیں اوراسے گرنے سے بچائیں یا پھر بچہ قریب ہی ہو تو اسے گود اٹھاکر نماز جاری رکھیں یعنی اپنی نماز توڑنے کی ضرورت نہیں ہے جب بچہ قریب ہی ہو۔ اس طرح ایک دو قدم چلنے، حرکت کرنے اور نماز کی جگہ واپس آکر اپنی نماز جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

عن أبي قتادةَ قال بينا نحنُ في المسجدِ جلوسٌ خرجَ علينا رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ يحملُ أمامةَ بنتَ أبي العاصِ بنِ الرَّبيعِ وأمُّها زينبُ بنتُ رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ وَهيَ صبيَّةٌ يحملُها على عاتقِهِ فصلَّى رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ وَهيَ على عاتقِهِ يضعُها إذا رَكعَ ويعيدُها إذا قامَ حتَّى قضى صلاتَهُ يفعلُ ذلِكَ بِها(صحيح أبي داود:918)

ترجمہ: سیدنا ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ آپ امامہ بنت ابی العاص بن ربیع کو اٹھائے ہوئے تھے۔ اور اس کی والدہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب تھیں، یہ چھوٹی بچی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے نماز پڑھائی اور یہ آپ ﷺ کے کندھے پر تھی، آپ ﷺ جب رکوع کرتے تو اسے نیچے بٹھا دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے۔ آپ ﷺ نے ( اسی طرح ) نماز مکمل کی اور اس دوران اسے اٹھاتے اور بٹھاتے رہے۔

ام المومنین عائشہ ؓ کہتی ہیں:

جئتُ ورسولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي في البيتِ، والبابُ عليه مغلقٌ، فمشِىَ حتى فَتَحَ لي، ثم رَجَعَ إلى مكانِه، ووَصَفَتِ البابَ في القِبْلَةِ.(صحيح الترمذي:601)

ترجمہ:میں گھرآئی رسول اللہﷺ نمازپڑھ رہے تھے اوردروازہ بند تھا،تو آپ چل کرآئے اور میرے لیے دروازہ کھولا پھر اپنی جگہ لوٹ گئے اور انہوں نے بیان کیاکہ دروازہ قبلے کی طرف تھا۔

بچہ اگر دوری پر ہو یا زیادہ رو رہا ہو،اسے چپ کرانے میں بہلانے اور لوری دینے کی ضرورت ہو تو نماز توڑ دیں اور جب آپ نماز توڑ دیں گی تو بعد میں ازسرے نو نماز پڑھنی ہوگی۔

سوال(9) رات میں سونے، عبادت کرنے اور جاگنے کا کیا روٹین ہونا چاہئے ؟

جواب: رات کو اللہ تعالی نے آرام حاصل کرنے کے لئے اور دن کو روزی حاصل کرنے کے لئے بنایا ہے، صحیحین میں ہےنبی ﷺ عشاء سے پہلے سونے اور عشاء کے بعد بات کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ ان باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ رات کو عشاء کی نماز کے بعد فورا سوجانا چاہئے تاکہ قیام اللیل کے لئے بیدار ہونا ہو تو قیام اللیل کرسکیں اور فجر کی نماز کے لئے وقت پہ بیدار ہوسکیں۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:

أَحَبُّ الصلاةِ إلى اللهِ صلاةُ داودَ : كان ينامُ نصفَ الليلِ ويقومُ ثُلُثَهُ، وينامُ سُدُسَهُ(صحيح البخاري:3420)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ نماز حضرت داود علیہ السلام کی نماز ہے۔ وہ آدھی رات تک سوتے تھے اور پھر ایک تہائی رات کی عبادت کرتے اور آخری چھٹا حصہ پھر سو جاتے تھے۔

اس عمل میں نفس پر مشقت ہے مگریہ سب سے بہتر سونے اور عبادت کرنے کا روٹین ہے کہ بندہ آدھی رات تک سوئے پھر بیدار ہوکر تہجد پڑھے پھر سوجائے اور نمازفجر کے لئے بیدار ہو۔ بہرکیف! سونے کے لئے وقت متعین نہیں ہے تاہم نہ کم نیند لینا ہے جس سے صحت کو ضرر لاحق ہو اور نہ ہی زیادہ نیند لینا ہے جس سے واجبات میں کوتاہی ہو۔

سوال(10) بیٹایا بیٹی اگر ماں کو مال دیتے ہیں اور ماں نیکی کے راستے میں خرچ کرتی ہے تو کیا دونوں کو اجر ملے گا؟

جواب: والدین اگر محتاج ہوں تو اولاد کو اپنے والدین پر خرچ کرنا واجب ہے اور بغیر محتاجگی کے بھی والدین کو دے سکتے ہیں۔ جب بیٹا یا بیٹی اپنی والدہ کو مال دے اور والدہ نیکی کے کاموں میں صرف کرے یا اپنی ضرورت پوری کرے ہردونوں صورت میں اولاد کو اجر ملے گا۔ اہل وعیال پر خرچ کرنا افضل نفقہ ہے اور اسے صدقہ قرار دیا گیا ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ(صحيح مسلم:955)

ترجمہ: ان میں سے سب سے زيادہ اجرو ثواب والا وہ ہے جوآپ نے اپنے اہل وعیال پرخرچ کیا۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے:إذا أنفَق الرجلُ على أهلِه يحتَسِبُها فهو له صدقةٌ(صحيح البخاري:55)

ترجمہ: جب مرد اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتے ہے تو وہ اس کے حق میں صدقہ بن جاتا ہے۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close