گوشہ خواتین

بیٹی کے آنسو  

عزیز اعظمی اصلاحی

گھر فون کیا تو سلام کے جواب میں اس قدرافسردگی اور مایوسی تھی جو بن کہے رنج و غم  کی داستان بیان کر رہی تھی۔ بیٹی کی  لڑکھڑاتی  زبان، کانپتا  لہجہ، ٹوٹتے الفاظ یہ ظاہر کر رہے تھے کہ کچھ ایسا ہے جس کو بیان کرنے کی نہ تو اس میں سکت ہے اور نہ ہی مجھ میں سننے کی  ہمت  فون پر بیٹی کی سسکیاں اور آنکھوں سے چھلکتے آنسووں نے میری دھڑکنوں کو تیز کر دیا، فائزہ فون ماں کو دے کر وہیں بیٹھ گئیں ، درد میں ڈوبی ہوئی کراہتی آواز میں جب اس کی ماں نے کہا کہ فائزہ کا طلاق ہوگیا تو ایسا لگا جیسے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی، لفظ طلاق میں اس وقت ایسی وحشت اور ایسی منحوسیت تھی جو میرے اندر کی ساری خوشیوں کو اسطرح بکھیردیا جیسے کسی بھیانک طوفان نے پل بھر میں کسی غریب کے آشیانے کو نہ صرف بکھیرا ہو بالکہ اجاڑ دیا ہو، دل میں درد، آنکھوں میں آنسو، ذہن میں سوال لئے وہیں بیٹھ گیا کہ  ….  ہائے رے قسمت  کہ ابھی اسکے ہاتھوں کی مہندی کا رنگ بھی نہیں اترا ، شادی میں لیا گیا قرض ادا بھی نہیں ہوا، اور طلاق ہو گیا، جس بیٹی کی خوشیوں کی تکمیل کی خاطر، جس کے خوابوں کی تعبیر کی خاطر سعودی عرب کی گرم ہواؤں، تپتے صحراؤں میں پگھل کر ایک ایک ریال جوڑتا رہا ، شادی میں بہتر انتظام کی خاطر اپنی چُھٹیوں کو ٹالتا رہا یہاں تک کہ نہ تواسکی شادی میں شریک ہو پایا اور نہ ہی دوسال کا سفر پورا ہونے پر گھرجا پایا کیونکہ بیٹی کے جہیز کی خاطر کمپنی سے لی گئی پیشگی تنخواہ کی ادائگی کے بغیر کمپنی نہ تو گھر جانے کی اجازت دیتی اور نہ ہی ٹکٹ و پاسپورٹ دیتی، بیٹی کے نکاح کے  بعد سر سے ذمہ داری کا بوجھ کچھ ہلکا ہوا ہی تھا کہ طلاق کی خبر نے قرض کے بوجھ  کے ساتھ ساتھ  مجھ پر رنج و غم کا ایک ایسا ناقابلِ برداشت بوجھ ڈالا کہ ساریاں خوشیاں اس بوچھ تلے دَب کر دم توڑ گئیں۔

گاڑی سائیڈ لگائے روڈ کنارے بیٹھا اپنی سوچ پر ماتم کرتا رہا کہ بڑے گھر رشتہ کرنے کی چاہ نے بیٹی کا گھر اجاڑ دیا، شادی میں بےجا اصراف اور بڑے گھر رشتہ کرنے کے حق میں تونہیں تھا لیکن موجودہ دورمیں بڑے گھر رشتہ کرکے سماج میں اپنی حیثیت ثابت کرنا معاشرے میں پھیلی اس نئی بیماری میں ملوث میرے گھرانے کی اس سوچ نے میری دینی و شرعی سوچ میں اپنی سوچ کا پنجہ گاڑرکھا تھا، بیوی، بچوں کی بڑے گھر رشتہ کرنے کی چاہ، اپنی بیٹی کو دوسروں کی بیٹیوں سے زیادہ خوش رکھنے کی ایک ماں کی طلب نے مجھے بھی اس بات پر قائل کر لیا تھا کہ  بڑے گھر رشتہ کر رہے ہیں اگربیٹی کے سسرال والوں کی حیثیت اور ان کے من مطابق نظم و نسق نہ ہوا تو لوگ کیا کہیں گے  مہمان و میزبان کیا سوچیں گے، معاشرہ کیا کہے گا   لوگ کیا کہیں گے،  ” لوگ کیا کہیں گے ”  یہ جملہ موجودہ دورحکومت کے جملوں کی طرح ایک ایسا زہر قاتل ہے جو غریب اور میڈل کلاس لوگوں کو بے موت مار دیتا ہے  اور اسی جملہ قاتل نے مجھے بھی مار دیا۔

معاشرہ اَمیر و اُمراء سے بنتا اور بگڑتا ہے اگر وہ میانہ روی اختیار کریں تو معاشرہ میانہ روی اختیار کرے گا، اگر وہ سادگی اپنائیں تو معاشرہ انکی اتباع کرے گا کہ فلاں دولت و شہرت رکھنے کے باوجود سادگی سے نکاح کرتا ہے تو میں کیوں نہ کروں لیکن جب وہ ایسا نہ کرکے شادی، بیاہ، رسم و رواج  کے موقع پر دولت و ثروت کی نمائش کرتا ہے بڑے بڑے شامیانوں، اور مہمان خانوں میں شان و شوکت کا مظاہرہ کرتا ہے تو غریب باپ کے حوصلے اور انکی بیٹیوں کے سپنے دم توڑ جاتے ہیں پھر وہ معاشرے میں اپنی عزت و حیثیت برقرار رکھنے کے لئے، سماج کیا کہے گا، لوگ کیا کہیں گے یہ جملہ اس کی رگوں میں زہر بن کر دوڑنے لگتا ہے پھر وہ  اپنی خواہش کی تکمیل کے لئے نہیں بلکہ معاشرے کی خواہش کی تکمیل کے لئے اپنی خواہشوں کو ماردیتا ہے، بچوں کی فرمائیشوں کو نظر انداز کرتا ہے، اپنا چین و سکون حرام کرتا ہے اپنی پگڑی و دستار بیچ دیتا ہے پھر جا کر کہیں ایک بیٹی کی شادی کر پاتا ہے اور شادی بعد جب اس کے پاس گھر سے ایسا فون آتا ہے کہ بیٹی کا طلاق ہو گیا تو وہ جیتے جی بے موت مر جاتا ہے۔

میں بھی رسم و رواج اورمعاشرے کے ہاتھوں مارا ہوا سڑک کنارے بیٹھا  کف افسوس ملتا رہا تھا کہ کاش اپنی خواہشوں اور فرسودہ رسم و رواج کو ترک کر کے بیٹی کے جہیزپرخرچ کرنے والی رقم اس کی تعلیم پر خرچ کیا ہوتا، کاش اسکے ہاتھوں میں سوئی اور دھاگا سے زیادہ قلم اور کتاب کو دیا ہوتا، کاش افسری آپا کے گھر اسے بھیج کر جہیز کی تکیہ و چادر پر بیل بوٹے بنوانے کے بجائے اسکول بھیج  کر دینی وعصری تعلیم دی ہوتی تورشتے کے لئے بڑا گھر، بڑا خاندان ڈھونڈنے کے بجائے علمی و ادبی گھرانا ڈھونڈھا ہوتا تو شاید آج وہ خوشحال ہوتی، شاید اسکی آنکھوں میں اس طرح آنسو نہ ہوتا، اس طرح عدت میں بیٹھی اپنی تقدیر کا شکوی نہ کر رہی ہوتی کیونکہ تعلیمی خوبصورتی اسکی مدھم صورت کو ایسا خوبصورت بناکر پیش کرتی کہ دیکھنے والا اسکی عیب جوئی کرنے کے بجائے تعریف کرتا، اسکو اپنی زندگی کا حصہ بنانے والا طلاق دینے کے بجائے اسکی اہمیت کو سمجھتا، وہ پڑھا لکھا ہوتا تو نکاح کی فضیلت، میاں  بیوی کے شرعی حقوق  اور اللہ کے اس احکام کو سمجھتا۔

جیسا کہ اللہ نے سورۃ نساء آیت 19میں فرفایا :

وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا ۔

۔۔۔۔۔  اورعورتوں کے ساتھ اچھی طرح سے زندگی بسر کرو، اگر وہ تمہیں نا پسند ہوں تو ممکن ہے کہ تمہیں ایک چیز پسند نہ آئے مگر اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھی ہو۔

لیکن افسوس کہ ہم نے تعلیم و تعلم، قرآن و سنت کو خوبصورت زندگی کا معیار نہ بنا کر آرائش و زیبائش، کڑھائی اور سلائی میں ہی عورتوں کی خوبصورت اور کامیاب زندگی کا رازسمجھا، رشتے کی تلاش میں بچے کی  تعلیم و تربیت سے زیادہ پیسے کو اہمیت دی، شریف، چھوٹے اور متوسط گھرانے میں رشتہ کرنے کے بجائے دولت وشہرت رکھنے والے اونچے گھرانے کو ترجیح دیا، لڑکے کا طور طریقہ، رہن سہن دیکھنے کے بجائے صرف اس کا حسب و نسب کنگھالتے رہے۔ اسکی عادت و خصلت جاننے کے بجائے اس کی ظاہری صورت، گھر اور بنگلہ دیکھتے رہے، اپنی حیثیت کو بھول کر اسکی حیثیت کے مطابق اپنے آپ کو پیش کر نے میں لگے رہے، مہنگے کپڑے، قیمتی زیور، اچھے باورچی، اونچے پکوان کو ہی اپنی عزت اورمضبوط رشتے کا معیار سمجھا۔ روڈ کے کنارے سر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا انھیں سوچوں میں گم تھا کہ موبائل بر کفیل کی گھنٹی بجی۔ ۔۔ واین انت یا رجال تعال سرعۃ۔ ۔ گھبرایا ہوا اٹھا گاڑی اسٹارٹ کی اور کفیل کے گھر پہونچا اور ڈیوٹی شروع ہوگئی اسے میرے رنج و غم سے کیا مطلب اسے تو اپنا کام چاہئے۔

ڈیوٹی سے فارغ ہو کرروم پر پہونچا تھکان کے باوجود سو نہ سکا پوری رات یہی سوچتا رہا کہ مہنگی شادی، مہنگا کپڑا، قیمتی زیور بھی بیٹی کو خوشی نہ دے سکا، بڑی گاڑی، بڑا گھرانہ بڑا جہیز بھی اس کا گھر بسا نہ سکا۔

جب انسان دھوکہ کھاتا ہے، پریشان ہوتا ہے تو اللہ سے رجوع کرتا ہے اس سے دعائیں مانگتا ہے، میں نے اللہ سے دعاء کی اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا اس کی آیتوں پر غور کیا کہ اللہ نے قران میں
کہا ہے۔

وَمِن كُلِّ شَىْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (الذاريات – 49) ”

اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے ہیں تاکہ تم (اِس حقیقت کی )یاد دہانی حاصل کرو

اس واقعے سے سبق سیکھتے ہوئے، مایوسی چھوڑ کر کلام الہی پر بھروسہ کرتے ہوئے رشتہ تلاش کیا  الحمداللہ ایک سال بعد اللہ نے ایک نیک سیرت،  سینے میں اللہ کا نور لئے ایسے حافظ قران سے بیٹی کا نکاح کرایا جو ہر طرح کے لین دین، ریا کاری سے پاک خالص اللہ کے احکامات اور سنت کی بنیاد پر تھا، الحمدللہ آج بیٹی مطمئن اور خوشحال ہے، بیٹی کے ساتھ ہوئے اس حادثے نے یہ احساس دلایا کہ خوشی اللہ کے فرمان اور سنت رسول میں ہے اور کسی چیز میں نہیں، خوشی نہ تو پیسوں سے خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی بیٹی کا گھر جہیز دیکر بسایا جا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close