گوشہ خواتین

تانیثی تحریک کا مذہبی اور تہذیبی مقدمہ

عورت کا وجود نہ جانے کب سے انسانی ذہن میں ایک سوالیہ نشان کی طرح چبھتا اور کھٹکتارہاہے ، یہ خود ایک سوالیہ نشان ہے اور عورت کی ذات ہمیشہ موضوعِ بحث کیوں بنی رہی یہ بھی اپنے آپ میں ایک ’’موضوعِ بحث ‘‘ ہے حتی کہ اس بات پر بھی کبھی اتفاق نہیں رہا کہ مرد اور عورت کی شخصیتوں میں کیا ،کیااختلافات پائے جاتے ہیں ۔ غرض کہ عورت کیا ہے ؟ کیوں پیدا کی گئی ہے ؟ عورت سے مرد کا کیا تعلق ہو نا چاہئے؟ عورت کا تہدیب وثقافت اور حیات وکائنات میں کیا مقام ومرتبہ ہے؟اور بحیثیت عورت اس کے حقوق وفرائض کا تعین کس طرح کیا جائے؟ ان مسا ئل سے متعلق مختلف تہذیبوں کے رویّے ، مذاہب کے تصورات ،علما ،مفکرین ، فلاسفراور دانشور وں کے نظریات کے تفصیلی مطالعہ کے لئے کئی ضخیم کتابوں سے استفادے کی ضرورت ہے ۔
اس مختصر مضمون میں نسوانی شخصیت سے متعلق مختلف تصورات ونظریات کی محض ایک جھلک پیش کی جارہی ہے ۔
 یونانی تہدیب اور عورت 
قدیم یونانی عقیدے کے مطابق اولین عورت ’’ پنڈورا ‘‘ اپنے ساتھ تمام دنیوی آفات ومصائب ، غم وآلام ، بدی اور گناہ ، فتنہ وفساد لے کر دنیا میں آئی ۔گرچہ اہل یو نان عقلیت پسند ، روشن خیال اور متمدن تھے لیکن اِس عقیدہ سے متا ثر ہو کرانہوں نے عورت کے بار ے میں یہ تصور پیش کیا :
’’ آگ سے جل جانے اور سانپ کے ڈسنے کا علاج ممکن ہے ، لیکن عورت کے شر کا مداواناممکن ہے ۔‘‘مشہور مصنف لیکی نے یونانی عورتوں کی بد ترین صورتِ حال کی تصویر کشی اپنی کتا ب ’’تاریخِ اخلاقِ یورپ ‘‘ میں یو ں کی ہے ۔
بحیثیت مجموعی باعصمت یو نانی بیوی کا مرتبہ بہ غایت پست تھا ۔ اس کی زندگی مدت العمر غلامی میں بسر ہو تی تھی ۔ لڑکپن میں اپنے والدین کی ، جو انی میں اپنے شوہر کی ، بیوگی میں اپنے فر زند کی ، وراثت میں اس کے مقابلے میں اس کے مر داعزہ کو ہمیشہ تر جیح دی جاتی تھی ۔طلاق کا حق اسے قانوناً ضرور حاصل تھا تا ہم عملاً وہ اس سے بھی کو ئی فا ئدہ نہیں اٹھا سکتی تھی۔ کیوں کہ عدالت میں اس کااظہار یو نانی ناموسِ حیا کے منافی تھا ۔افلا طون نے بلا شبہ مرد اور عورت کی مساوات کا دعوی کیا تھا ،لیکن یہ تعلیم محض زبانی تھی ۔ عملی زندگی اس سے بالکل غیر متا ثر رہی ۔ ازدواج کا مقصد خالص سیاسی رکھا گیا۔ یعنی یہ کہ اس سے طاقت ور اولاد پیدا ہو ۔ جو حفاظتِ ملک کے کا م آئے ۔ اور اسپارٹا کے قانون میں یہ تصریح موجود تھی کہ ضعیف القوی
شوہروں کو اپنی کمسن بیویاں کسی نو جوان کے نکاح میں دے دینا چاہئیں تاکہ فوج میں قوی سپاہیوں کی تعدادمیں اضافہ ہو ۔
یونانی تہذیب کے عہدزوال میں رنڈی کے کو ٹھے کومرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ۔ مفکرین ، علما،انشوران، شعراوادبااور ماہرین فنون…….سبھی طوائف کے حضور زانوے ادب تہ کر تے اوروہ رنڈیاں صدرنشیں ہو تیں ۔ عریا نیت کو آرٹ اور کلچر کا نام دیا گیا ۔ حتی کہ مذہب نے بھی عریانیت ،فحاشی اور جنس پرستی کے آگے ’’خود سپر دگی ‘‘کا اعلان کردیا ۔ کامدیوی (APHRODITE) کی پرستش عام ہو گئی ۔ جس کی داستان یہ تھی کہ دیوتاکی بیوی ہو نے کے باوجود اس کے جنسی تعلقات تین مزید دیوتاؤں سے تھے اور اتنا ہی نہیں بلکہ ’’انسان ‘‘کوبھی اس ’’مہربان دیوی ‘‘ سے ’’مستفید ‘‘ہو نے کا’’ شرف ‘‘ حاصل تھا ۔ اسی کے بطن سے محبت کے دیوتا ’’کیو پڈ ‘‘ کی ولادتِ با سعادت ہوئی ۔ یہ اس قوم کی معبودہ تھی ۔ بقول مولنامودودی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جو قوم ایسے کیریکٹر کو نہ صرف آئیڈیل بلکہ معبودیت تک کا درجہ دے دے اس کے معیارِ اخلاق کی پستی کا کیا عالم ہو گا ۔ جب ’’اسپارٹا ‘‘ زوال پذیر ہونے لگا تو اس کی وجہ ارسطو نے یہ بتائی کہ دراصل عورت کے حقوق اور اس کی آزادی کو تسلیم کر لینے کا یہ منطقی نتیجہ برآمد ہواہے ۔
رومی تہذیب اور عورت:
رومی تہذیب میں عورتوں پر ’’مردانہ اقتدار ‘‘ کا یہ علم تھاکہ شوہر اپنی بیوی کو جب چاہتاگھر سے نکا ل دیتا یا قتل کر دیتا تھا ۔ نکاح کی حیثیت محض ایک ’’ قانونی معاہدہ ‘‘ (CIVIL CONTACT) کی سی تھی ۔ حتی کہ مشہور رومی فلسفی سنیکا(4ق م تا 56ء) کے بقول روم میں طلاق کی وبا اس قدر عام ہو گئی کہ عورتیں اپنی عمر کاحساب شوہروں کی تعدا دسے لگا تی تھیں ۔ فلورا نامی ایک کھیل کونہایت مقبولیت ملی ، کیوں کہ اس میں بر ہنہ عورتوں کی دوڑ ہو ا کر تی تھی ۔
* مصری تہذیب اور عورت
حضرت عمر کے زمانے تک مصر میں یہ رواج عام تھا کہ د ریائے نیل کے خشک ہو جانے پر اس کودوبارہ زندہ کر نے کے لئے ماں باپ کی اکلوتی لڑکیوں کوزیورات اور زیب وزینت سے آراستہ کرکے دریا میں قربان کر دیا جاتا تھا۔
ایرانی تہذیب اور عورت
ایران میں عورت ایک مقید لو نڈی کا درجہ رکھتی تھی ۔ اس کی خرید وفروخت کو قانونی حیثیت حاصل تھی ۔ ایامِ حیض کے دوران عورتوں کو گھر کے باہر خیموں میں رکھا جاتا تھا ، جہاں صرف خدام ملنے جاتے ۔ وہ بھی آنکھ ، ناک اور کان میں کپڑا لپیٹ کر ۔
* چینی تہذیب اور عورت
چین میں بھی عورت کو لونڈی بنا کر رکھا جاتا تھا ۔ مشہور چینی مصلح کنفیوشش کا قول ہے ’’ عورت مرد کی تابع ہے اور اس کا کام مرد کی حکم بر داری ہے ۔‘‘
عرب اورعورت 
عر ب میں بچیوں کی پیدائش کونحوست اور رسوائی سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ وہ اس کو اپنی غیرت ک خلاف سمجھتے تھے کہ کو ئی مرد اس کا داماد بنے ۔چنانچہ قرآن کریم نے عربوں کی اس سوچ کی تر جمانی ان الفاظ میں کی ہے ۔
’’ جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ زرد پڑ جاتا ہے اور وہ غم سے گھٹنے لگتا ہے ۔ اس خبر کو وہ اس حد تک برا سمجھتا ہے کہ اپنے آپ کو اپنی قوم سے چھپائے پھرتا ہے (اور اس سوچ میں پڑ جا تا ہے) کہ آیا ذلت برداشت کر تے ہو ئے اس کوباقی رکھے یا زیرِ زمیں دفن کر کردے۔‘‘
تفسیر کبیر کے مطابق عورت سے نفرت و بیزاری اس قدر شدید تھی کہ ایک شخص کے گھر لڑکی پیدا ہو ئی تو اس نے اس گھر ہی کو منحوس سمجھ کر چھوڑ دیا ۔ لڑکیوں کو زندہ درگور کر دئے جانے کے درد ناک واقعات سے تاریخ کے اور اق بھرے پڑے ہیں ۔ قیس بن عاصم کے تعلق سے ذکر کیا جاتاہے کہ اس نے زماأہ جاہلیت میں اپنی آٹھ دس بچّیاں زندہ دفن کر دی تھیں ۔ اس سلسلے میں اہلِ عرب کی سنگ دلی کس حد تک بڑھی ہو ئی تھی ، بطورِ نمونہ وہ عبرت ناک واقعہ پیش ہے جو کہ نبیؐ کوایک شخص نے خود اپنی زبانی سنایا۔
’’ میری ایک بچی تھی اور وہ مجھ سے بہت مانوس تھی ۔ جب کبھی میں اسے بلاتا تو وہ بڑی خوش ہو تی اور میرے پاس لپک کر آجاتی ۔ چنانچہ ایک دن میں نے اسے آواز دی تو وہمارے پیچھے دوڑی چلی آئی ۔میں اسے اپنے ساتھ لے گیا ۔اور قریب کے ایک کنویں میں جھو ک دیا ۔ اور وہ اس وقت تک بھی ابا جان ، ابا جان ہی پکارتی رہی ‘‘ جب یہ واقعہ نبی رحمت ﷺ نے سنی تو آپ کی آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرے بے اختیار چھلک پڑے یہاں تک کہ ریش مبارک تر ہو گئی۔
اس کے علاوہ عورت کو سیاسی ،سماجی اور معاشی ………تمام حقوق سے محروم رکھا جاتا ۔ اس کے مقابلے میں مر دکو غلبہ واقتدار حاصل تھا اور اس کی شادیوں کی بھی حد مقررنہ تھی ۔
یورپ اور عورت 
یورپ میں محض ایک صدی سے کچھ ہی عر صے قبل عورتوں کا استحصال باضابطہ قانون کے تحت کیا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ عورت کو مرد کے خلاف مقدمہ دائر کر نے بھی حق نہ تھا ۔حقوقِ وراثت سے یکسر محروم رکھا جاتا تھا ۔ شادی محض ایک تجارت تھی ۔ چنانچہ آزادئ  نسواں کے مشہور مبلغ مِل کے بقول :’’تاریخِ یورپ کو دیکھئے تومعلو م ہو گا کہ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا کہ باپ اپنی بیٹی کو جہاں چاہتا بیچ ڈالتا تھا ۔ اور اس کی مرضی کی کچھ پر وا نہ کر تا تھا ‘‘ (محکومیتِ نسواں)
فرانس میں 576 ء میں ’’عورت انسان ہے یا نہیں ‘‘ کے مو ضوع پر ایک کانفرانس منعقد کی گئی او ربحث اس بات پر ہو ئی کہ عورت کے اندر’’روح ‘‘ بھی ہو تی ہے یانہیں؟ اگر روح ہو تی ہے تو وہ انسان کی یا کسی جانور ، شیطان یا چڑیل کی ؟ اور کا نفرانس اس نتیجہ پر پہونچی کہ گرچہ عورت کے اندر انسان ہی کی روح ہو تی ہے لیکن وہ ’’ رو ح ‘‘مرد سے ادنی درجہ کی ہوتی ہے ۔ لہذا عورت کی پیدائش کا مقصد مردوں کی غلامی اور خدمت کر نا ہے ۔
گیارھویں صدی عیسوی میں گر جا کی عدالت نے یہ قانون پاس کیا کہ شوہر اپنی بیوی کو محدود مدت کے لئے کسی دوسرے مرد کے حوالے کر سکتا ہے ۔ شرفا کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ کسان کی نئی نو یلی دلہن سے چو بیس گھنٹے تک ہمبستری کر سکتے ہیں۔ 1567 ء میں اسکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے ایک قانون بنا کر یہ وضاحت کی تھی کہ عورت کو کسی بھی قسم کی مختاری اور اقتدار نہیں دی جا سکتا۔ 1805 ء تک بر طانوی قانون کے مطابق شوہر اپنی بیوی کو فرخت کر سکتا تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی قیمت ’’ نصف شلنگ‘‘ مقرر کی گئی تھی ۔ انگریزی پارلیمنٹ نے ہنری ششم کے دورِحکومت میں یہ قانون پاس کیا تھا کہ عورت انجیل نہیں پڑھ سکتی۔
 ہندوستانی تہذیب اور عورت
ہندوستا نی تہذیب میں عورت کو ’’بد روح ‘‘ اور ’’ پاپ کی کا ل کو ٹھری ‘‘ تصور کیا جاتا تھا ۔ نکاح کے بجائے ’’ کنیاں دان‘‘ کی رسم تھی جس کے مطابق عورت اپنی مر ضی کے بغیر ایک مر د کے حوالے کردی جاتی تھی اور پھر اس مر د کی ملکیت سے زندگی کے آخری سانس تک کسی بھی حا ل میں نہیں نکل سکتی ۔ مرد عورت کے لئے آج بھی ’’سوامی ‘‘ اور ’’پتی دیو ‘‘ یعنی’’ مالک ومعبود ‘‘ کا درجہ رکھتا ہے ۔ اس کو جائدادیا وراثت میں کو ئی حق حاصل نہیں ۔ اور ایک مدت تک یہاں پر ’’ستی ‘‘ کا رواج عام تھا ۔یعنی بیوی ، اپنے شوہر کے مر جانے پر خود کو بھی چتا کی بھڑکتی ہو ئی آگ میں جھو نک دیتی تھی۔ ہندوستان میں عورت کے مر تبہ اور حیثیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آریہ لو گ پانسو کے جو ئے میں اپنی بیوی ،بچوں تک کی بازی لگادیا کر تے تھے اور ہا ر جا نے کی صورت میں اپنی بیوی کو جیتنے والے فرد کے حوالے کر دیتے تھے ۔ نیز عورتوں کو دیوتاؤں کی رضامندی اور ان سے بارش یا رزق طلب کر نے کے لئے بھینٹ چڑھا دیے جانے کا بھی ثبوت ملتا ہے ۔ جنوبی ہندمیں اب بھی ’’دیوداسی پرتھا ‘‘ عام ہے جس کے مطابق نوجوان کنواری لڑکیوں کو مندروں میں دیوتاؤں کی خد مت کے لئے وقف کر دیا جا تاہے اور ان کی اولاد کو ’’ دیو پتر ‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ہندوستا نی تہذیب کی سر شت میں ’’جنس پرستی‘‘ کا خمیر وخمار اس قدر رچا بسا ہوا ملتا ہے کہ رفتہ ، رفتہ اسی ہو س اور بہیمی خواہش نے ’’ مذہب‘‘ کا لبادہ اوڑھ لیا ۔ ورنہ بقول مولانا مو دودی یہ لنگ اور یو نی کی پو جا ، یہ عبادت گاہوں میں بر ہنہ اور جوڑواں مجسمے ، یہ دیوداسیانی (Religiour Prostitute) ،یہ ہو لی کی رنگ رلیاں ، یہ دریاؤں کے عریاں اشنان………آخر کس چیزکی یادگار یں ہیں ۔
 عورت اور یہو دیت
اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت آدم ؑ کو اگر ان کی بیوی حوّاگمراہ نہ کر تی تو وہ ’’شجر ممنوعہ ‘‘ کے قریب نہ جا تے اور اس پھل کو نہ چکھتے جس سے اللہ نے منع کیا تھا ۔ ۔ لیکن حوّا نے آدم ؑ کو بہکا دیا ، جس کی سزا یہ ملی کہ اللہ نے آد مؑ کو زمین پر پھینک دیا ۔ ورنہ آدم اور اس کی اولاد ’’انسان ‘‘آج بھی جنت کے مزے لو ٹتے ۔ لیکن یہ بد طنیت اور مکار ’’عورت‘‘ کی بات میں آکر ہم اس عظیم خدائی نعمت اور عیش وعشرت سے محروم کر دئے گئے ۔
عہد نامہ قدیم میں ہے کہ اللہ تعالی نے حوّا سے کہا:’’ میں تیرے دردِ حمل کو بڑھا دوں گا ،تو درد کے ساتھ بچے جنے گی اورتیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہو گی اور وہ تجھ پر حکومت کر ے گا ۔ ‘‘(پیدائش باب 3)
گویاحوّا نے آدم کو گمراہ کر کے جس جرم کا ارتکاب کیا تھا ، خدا کی طرف سے اس جرم کی سزا ملی کہ وہ حمل اور ولادت کی تکلیف میں مبتلا کی گئی اور ہمیشہ کے لئے مرد کا غلبہ واقتدار قائم کر دیا گیا۔
’’انسائیکلو پیڈیاآف بر ٹینکا ‘‘ کے مطابق یہودی قانون کے تحت مرد وارث کی مو جود گی میں عورت وراثت سے محروم ہو جا تی تھی اور عورتوں کو دوسری شادی کا بھی حق حاصل نہیں تھا۔ یہودی مذہب میں شادی کے بعد عورت اپنے خاوند کی زر خرید لو نڈی بن جاتی ہے اور اس کا شوہر اس کو فروخت کر نے کا حق بھی رکھتا ہے ۔ اس طرح باپ کو بھی اپنی بیٹی کی تجارت کا اختیار حاصل ہے ۔
عورت اور عیسائیت 
اپنے آغاز میں عیسائیت نے ،فحاشی ، عریانیت ، اور منکرات کے انسداد میں اہم کر دار ادا کیا ۔ قحبہ گری کا خاتمہ ہو ا۔ طوائف ، مغنیہ اور رقاصہ عورتوں نے عیسائی تعلیمات سے متا ثرہو کر اپنے اپنے پیشوں سے تو بہ کر لی مگرمسیحی علمانے رفتہ ، رفتہ ’’رہبانیت ‘‘کا غیر فطری تصورپیش کر کے ’’عورت ‘‘ کو تمام تر برائیوں کا سرچشمہ بنا دینا شروع کر دیا ۔ اور وجودِ نسواں کے تعلق سے جذ بۂ تحقیروتنفر کوپو ری شدت سے فر وغ دیاجا نے لگا ۔ چنانچہ اس عہد کے ایک عظیم ترین راہب Chrysos tom (کرائی سوسٹم)نے عورت کے بارے میں یہاں تک اعلان کر دیا کہ: ’’عورت ایک ناگزیر برائی ، ایک پیدا ئشی وسوسہ ، ایک مرغوب آفت ، ایک خانگی خطرہ ، ایک غارت گر دلربائی اور ایک آراستہ مصیبت ہے ۔‘‘صنفِ نازک کے خلاف عیسائیت کے متشددانہ جذبات کا اندازہ ایک معروف عیسائی راہب طرطولین کے اس خطاب سے کیا جا سکتا ہے :
’’عورتو! تم نہیں جا نتیں کہ تم میں ہر ایک حوّا ہے ۔ خداکا فتوی جو تمہاری جنس پر تھا وہ اب بھی تم میں مو جودہے تو پھر جرم بھی یقیناًتم میں موجو د ہو گا ۔تم تو شیطان کا دروازہ ہو ۔تم ہی نے آسانی سے ’’خداکی تصویر‘‘یعنی’’مرد کوتباہ وبربادکر دیا‘‘ سینٹ پال اپنے ایک خط میں لکھتا ہے ۔
’’مرد عورت کے لئے نہیں بلکہ عورت مرد کے لئے پیدا ہو ئی …………………………………………عورت کو چاہئے کہ وہ اپنے سر پر محکوم ہو نے کی علا مت رکھے۔‘‘
عورت اور جین مذہب
جین مذہب کے دوفر قوں ’’ سویتیمبر ‘‘ اور ’’ دیگیمبر‘‘میں اہم تفریق کی بنیاد یہ بہ ہے کہ سویتیمبر فرقہ عورتوں کے لئے ’’ نجات ‘‘ کو ممکن تصور کر تا ہے جب کہ دیگیمبر فرقے کے عقیدے کے مطابق جب تک عورت ہے نجات نہیں پا سکتی ہے ۔
 عورت اور بدھ مذہب 
بدھ مذہب کے نز دیک عورت تو کجا !یہاں تک کہ عورت سے تعلق رکھنے والا مر دبھی کبھی ’’نروان ‘‘ حاصل نہیں کر سکتا ۔ ایک خاص موقع پر مہاتما بدھ نے کہا کہ’’اگر ہم عورتوں کو اپنی جماعت میں شامل نہ کر تے تو مذہب زیادہ دنوں تک خالص رہتا ‘‘
ہندو مذہب اور عورت 
ڈاکٹر گستاؤلی بان نے لکھا ہے کہ کسی کتاب میں عورتوں کے ساتھ ایسی سختی کا بر تاؤنہیں کیا گیا ہے جیسا کہ ہندوؤں کی کتابوں میں ۔ پنچ تنترکا یہ ٹکڑا دیکھئے : ’’یہ عورت گناہوں کا مخزن ’ ہزارمکاریوں کا محل ، بد گمانیوں کا ڈیرا ، امرت ملا ہوا زہرا ہے ۔‘‘ (بحوالہ تمدنِ ہند ص417)
ہوّپدیش میں کہا گیا ہے : عورتیں ہمیشہ سے بے وفا ہو ا کر تی ہیں۔حتی کہ لو گ کہتے ہیں کہ دیوتاؤں کی استریوں (عورتوں )کا بھی یہی حال ہے ۔ اگر کو ئی عورت پاک دامن ہے تو ا س کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اس میں حیا ، حجاب ، طبعی نیک خصلت یا خوف ہے بلکہ صرف یہی ہے کہ اس سے
کو ئی عنایت کاطلب گار نہیں ہوا (بحوالہ تمدنِ ہند ص414)
سودرا میں عورت کا تصور ملتاہے : ’’عورت کی محبت بجلی کی چمک سے بھی جلد مٹ جاتی ہے ، دھن اس کو کسی کی ہو مگر بناوٹ سے پیار تم کو کرے گی ، عورت کی روح میں پارسائی کا وجود ڈھونڈھے نہیں ملتا ۔‘‘ (بحوالہ تمدنِ ہند ص414)
مشہور ہندو فلسفی منوراج نے اپنی کتاب ’’ منوا سمرتی ‘‘ میں مذہب کی نبیا د پر ایک ’’نظامِ حیات‘‘ کا خاکہ پیش کر نے کی کو شش کی ہے ۔ چنانچہ ’’ منواسمرتی ‘‘میں عورت سے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے ، ان کے چند نمونے ملاحظہ ہو ں:
(1) جھوٹ بو لنا عورتوں کا خاصہ ہے ۔
(2) بغیر سوچے سمجھے کا م کر نا ،فریب ، حماقت ، طمع ، نا پاکی ، بے رحمی ، ……….یہ عورت کے جبلی عیب ہیں ۔شہزادوں سے تہذیبِ اخلاق ، عالموں سے شیریں کلامی ، قمار بازوں سے دروغ گوئی اور عورتوں سے مکاری سیکھنی چا ہئے ۔
منوعورتوں کو نصیحت کر تا ہے : ’’ عورتوں کو چا ہئے کہ اپنے شوہر کے مر نے کے بعد دوسرے شوہر کا نام بھی نہ لیوے ۔ کم خوراکی کے ساتھ اپنی زندگی کے بقیہ دن پو رے کر ے ۔‘‘
عورت اور جدید نظریات 
عورت سے متعلق جدید نظریات کی بھر پو ر ترجمانی ’’ تحریک آزادئ نسواں ‘‘ کے منشور سے ہو تی ہے ۔ اس تحریک کے بر پا ہو نے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ دراصل ایک طویل مدت سے ہو نے والے ’’ استحصالِ نسواں ‘‘ کے ردِّ عمل میں وجود آئی ۔ تحریکِ آزادئ نسواں کے علمبردار وں اور نظریہ سازوں نے یہ دعوی کیاکہ عورت اور مرد دونوں ہراعتبار سے برابر ہیں ۔ ایک صنف کوکسی بھی زاویے سے اور کس بھی میدان میں دوسری صنف پر فو قیت حاصل نہیں ہے ۔دونوں اصناف کو حیات وکائنات کے تمام تر شعبوں میں برابر حقوق و اختیارات حاصل ہیں اور ان کے فرائض بھی یکساں ہیں ۔ یعنی اگر عورت ایک بچہ اپنی کو کھ میں پا لتی ہے تومرد کو چاہئے کہ وہ بھی اپنے شکم سے دوسرے بچہ کوجنم دے ۔ اگر عورت بچے کو اپنا دودھ پلاتی ہے تومر دکا بھی یہ فرض ہے کہ وہ بچے کو اپنے بدن کا دودھ مہیا کرے ۔کا رخانۂ عالم میں کوئی ایسا وظیفۂ حیات نہیں ہے جس کی انجام دہی کے لئے صنفی تفریق کو جا ئز قراردیا جاسکے ۔ خواہ وہ تجارت ومعیشت ہو یا صنعت وحرفت ۔ عدلیہ ، مقننہ ومنتظمہ کے شعبے ہوں یا پھر سیادت وقیادت۔
صنفِ نسوں سے متعلق جدیدتصورات کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ اگر چہ جسمانی ساخت اور استحکام کے اعتبار سے یہ صنف کمزور ہے لیکن اس کمی کا تدارک عورت کی جنسی کشش اور حسن وجمال جیسی دوبڑی قوتوں سے بخوبی ہو جا تا ہے۔
جدید نظرے کے مطابق عورت بنیادی طورسے ایک آزاد، خود مکتفی ، خود محتار اور مطلق العنان وجود ہے اور اس کو اس بات کا پو را حق حاصل
ہے کہ وہ اپنے حُسن ، اپنی کشش اور اپنے جسم کا جس طرح چاہے استعمال کر ے جدید مفکرین کے نز دیک صدیوں سے عورت پر ظلم وجبر اور استحصال و
استبداد کے پہاڑ تو ڑے جا نے کا اصل سبب یہ ہے کہ اس نے اپنے وجود کے نہاں خا نوں میں جھا نک کر اپنی بے پناہ قوتوں اور صلاحیتوں کو دریافت نہیں کیا اور اس نے خود کو کمز ور ، و ناتواں تصور کر کے اپنے اوپر ظالم وجابر مرد کی جباری اور حکمرانی مسلط کر لی ۔ اب عورت کے پاس اس صدیوں سے چلی آرہی غلامی ، مظلو میت ، ذلت، پستی اور زوال کا واحد حل یہ ہے کہ عورت ، مرد کی غلامی کی بیڑیوں کو توڑ کر اپنی مکمل آزادی اور خود مختاری کا اعلان کردے ۔ اور اس کی نسوانی عظمت و خود داری کا لازمی تقاضہ ہے کہ وہ مر د کے سماجی تحفظ ، سیاسی بالا دستی اور معاشی کفالت کے سہارے گھٹ گھٹ کر جینے سے صاف انکار کر دے اور خود وہ سیاسی ، سماجی اور معاشی اعتبار سے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جا ئے وہ اپنے دست وبازو اور دل ودماغ پر بھر پور اعتماد اوربھر وسہ کرے ۔اگر عورت اپنی کفالت کے لئے ’’ جسم فرشی ‘‘ کا کاروبار کر تی ہے تو اس کو طوائف یا رنڈی کہنا عورت کی شان میں تو ہین ہے۔ دراصل وہ تو’’ جنسی کا رکن ‘‘ SEX WORKER ہے ، جس کا پیشہ جنسی اعتبار سے مضطرب خلقِ خدا کی تسکین کاسامان کر نا اور ان کو فر حت وانبساط سے ہم کنار کرنا ہے ۔ یہ عین ’’خدمتِ خلق ‘‘ ہے اگر عورت کے پاس حُسن کی دولت ہے تو اس کی نمود و نمائش کے لئے ’’مقابلۂ حسن ‘‘ اور ’’ فیشن شو‘‘ میں شر کت کی آزادی اس کا بنیادی حق ہے ۔
حالاں کہ ان تصورات کی تائید کسی علمی نظریے سے ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی ہے اور نہ تو ’’تحریکِ آزادئ نسواں ‘‘ کوہنوز کو ئی مستحکم فلسفیانہ اور فکری اساس فراہم ہو سکی ہے ۔ بلکہ اس کے بر عکس مغرب کا اہل علم طبقہ اپنی جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں ان خیالات کی پر زور تر دید کر تا ہے ۔ مثلاً نوبل انعام یا فتہ فرانسیسی مصنف الگزس کیرل کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’ مر د اور عورتوں کے درمیان جو اختلافات پائے جا تے ہیں وہ بنیادی نو عیت کے ہیں ۔یہ اختلافات ان کے جسم کی رگوں اور ریشوں کی ساخت کے مختلف ہو نے سے پیدا ہو تے ہیں ۔ عورت کے بیضہ دان سے جوکیمیا وی مادّے خارج ہو تے ہیں ان کا اثر صنفِ نازک کے ہر حصے پر مرتب ہو تا ہے ۔ مردوں اور عورتوں کے طبعی اور نفسیاتی اختلافات کاسبب بھی یہی ہے ۔‘‘(Mon the unknown) الگزس کیرل مردوں اورعورتوں کے طبعی اور نفسیاتی اختلافات پر مزید بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے ۔
’’ ان بنیادی حقائق کو ( جو مرداور عورت کے طبعی فرق پر دلالت کر تے ہیں ) نظر انداز کر دینے کی وجہ سے نسوانی آزادی کے علمبر داروں نے یہ دعوی کیا کہ مردوں اور عورتوں کی ذمہ داریاں اور حقوق یکساں اور مساوی ہو نی چاہئیں ۔حا لا نکہ فی الحقیقت مردوں اور عورتوں کے درمیان
بے حد اختلافات پائے جاتے ہیں ۔عورت کے جسم کے ہر خلیے پر اس کی نسوانیت کے نقوش مرتسم ہو تے ہیں ۔یہی بات اس کے اعضاکے متعلق بھی صحیح ہے ۔ اوربا لخصوصاس کے نظامِ عصبی کے متعلق ۔ عورتوں کو اپنی فطرت کے مطابق اپنے رجحانات کی تشکیل کر نی چاہیے ۔ بغیر اسکے کہ وہ مردوں کی تقلید کر یں ۔ تہذیب کے ارتقامیں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کا زیا دہ حصہ ہے ۔ اس لئے انہیں خصوصی فرائض سے پہلو تہی نہیں کر نی چا ہیے۔
گویا الگزس کیرل کے نزدیک عورت کا وظیفۂ حیات مردوں سے مختلف ہے اور عورتوں کا اصل فریضہ خانہ داری ، اولاد کی تعلیم وتر بیت اور تہذیبی اقدار کا تحفظ ہے اور اس کی طبیعت ونفسیات انہیں فرائض سے اصلاً ہم آہنگ ہے ۔
ڈاکٹر لیمبروس گنا: اپنی کتاب ’’روحِ نسوانیت ‘‘ میں تحریر کر تی ہے :’’ ان مردو عورت کے ذہنی اور اخلاقی رجحانات میں بھی فر ق پا یا جاتا ہے ۔وہ آگے چل کر مزید یہ مشورہ دیتی ہے ۔’’ ترقی اور ارتقا صرف اس طرح ممکن ہے کہ مردو ں اور عورتوں کے معاشرتی حقوق و فرائض تعین کر نے میں ان کے فرق واختلاف کو مد نظر رکھا جائے ۔‘‘
متفقہ طور سے ابتک کے سب سے بڑے ماہرِ جنسی نفسیات ہیولاک ایکس اپنی کتاب’’ مرد وعورت ‘‘ میں عورتوں کی نفسیاتی کیفیت کے بارے میں یوں انکشاف کر تا ہے :’’ عورت دوسروں کی ہمدردی کے لئے تڑپتی ہے اور اس میں مختاری کا جذبہ ویسا پر زورنہیں ہو تا جیسا مردوں میں ہو تا ہے ۔‘‘
 نسوانی شخصیت :اسلامی نظریات
قرآنِ کریم میں انسان کو بلا تفریقِ جنس محترم قرار دیا گیا ہے ۔ اوربغیر کسی جنسی قیدکے بزرگی کا معیارِ حقیقی ’’تقویٰ ‘‘ کوٹھہر ایا ہے ، او ر مرد
و عورت کے درمیان قوتوں اور ’صلاحیتوں کے فرق کو عزت اور ذلت کا پیمانہ بنانے کے بجائے ا نہیں یکساں مقام ومر تبہ عطا کیا ہے۔
دختر کشی (Female infanticide) سے متعلق قرآن کرم میں حشرکے دن سخت باز پر س کی خبر دی گئی ہے ۔’’جب کہ زندہ درگور لڑکی کے بارے میں پو چھا جائے گا کہ کس گناہ میں وہ ماری گئی ‘‘(التکویر)
ایک حدیث میں یہ اعلانِ صریح کیا گیا :’’ اللہ نے حرام کی ہے تم پر ماؤں کی نافرمانی ، ادائیگئ حقوق سے دست برداری اور ہر طرف سے ذخیرہ اندوزی اور لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا ۔‘‘(بخاری ، کتاب الاولاد، باب حقوق الوالدین)
دوسری طرف نبی ؐنے بچیوں کی پر ورش وپر داخت کے سلسلے میں ان الفاظ میں ترغیب دی : ’’جس شخص کے لڑکی ہو اور اسے نہ زندہ درگور
کر ے ا ور نہ اس کے ساتھ حقار ت آ میز سلوک کر ے اور نہ اس پر اپنے لڑکے کو ترجیح دے تو اللہ تعالی اسے جنت میں داخل کر ے گا ۔‘‘
(ابو داوٗد، کتاب الاولاد)
اسلام نے باپ کے مر تبے پر ماں کوفو قیت بخشی: ’’ ماں کے قدموں تلے جنت ہے ۔‘‘ (الحدیث)
قران کریم نے شوہر اور بیوی کے محبت والفت بھرے جذباتی و روحانی رشتے کی وضاحت یوں کی : ’’ وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو ۔‘‘ایک طرف عورت کے تعلق سے تہذ یبوں اور مذاہب کے ذلت آمیز تصورات کی ایک طویل داستانِ مظلو نیت ہے، جس کی رو سے عورت سراپا ’’ ذلیل اور گھٹیا خلقت ‘‘ قرار پاتی ہے تودوسری طر ف رحمت للعالمین ؐکا یہ فرمان ہے : ’’ مجھے تین چیزیں محبوب ہیں : خوشبو، عورت اور نماز ۔‘‘ غرض کہ اسلام نے عورتوں کو زندہ رہنے ، ملکیت اور وارثت ، اپنی پسند کے مطابق نکاح و خلع ،حصولِ علم اور دیگر تمام حقوق کو محفوظ کر نے کے لئے باضابطہ ’’شرعی قوانین ‘‘ نافذ کئے۔
وجود نسواں سے متعلق جومثبت اورمنصفانہ فکر ونظر اسلام نے پیش کیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ بیشتر بڑے محدثین نے اپنی معتبر و مستند کتبِ احادیث میں با ضابطہ عورت کے فضائل اور حقوق وا ختیارات کے بیان میں علاحدہ طور سے ابواب متعین کئے ہیں اور ان ابواب میں بے شمار حدیثیں شامل ہیں ۔ مثلاً بخاری شریف میں ’’ باب فضائل فاطمہ ‘‘اور ’’ قضل الا حسان الی البنات‘‘، صحیح مسلم میں ’’ کتاب الفضائل باب رحمۃ النساء ‘‘ اورنسائی میں ’’ کتاب عِشرۃُ النساء‘‘اور باب حبُّ النساء‘‘وغیرہ …..
اسلام نے صنف نسواں کو نگاہِ ہوس سے محفوظ رکھنے کے لئے ’’ پر دہ ‘‘ کا حکم جاری کیا۔ بقول علامہ اقبال : ’’عورت کا جنسی تقدس اس بات کامتقاضی ہے کہ اسے اجنبی نگاہوں سے محفوظ رکھا جائے ۔ عورت ایک عظیم ذریعۂ تخلیق ہے اور یہ حقیقت ہے کہ کا ئنات کی تمام تخلیقی قوتیں مستور اور محجوب ہیں ۔‘‘
مذکو رہ دلائل کی بنیادوں پر یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ’’ انسانیت ‘‘ نے اب تک ’’ صنفِ نسواں ‘‘ سے متعلق جتنے فلسفے اور رویے پیش کئے ہیں ان تمام میں سب سے زیادہ قرینِ فطرت مقام و مر تبہ اور حقوق و فرائض نسوانی شخصیت کو اسلام ہی کی مر ہو ن منت ہیں ۔

مزید دکھائیں

خالد مبشر

ڈاکٹرخالد مبشرشعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلا میہ ، نئی دہلی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔

متعلقہ

Close