گوشہ خواتین

حقوق نسواں کے محسن اعظم

امتہ الصبیحہ

(فاضلہ۔ جامعہ نظامیہ)

انسانی تمدن کی تاریخ اس بات پرگواہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعیثت سے پہلے عورت کودنیا میں حقیرترین مخلوق سمجھاجاتاتھا۔ نہ عورتوں کی کوئی عزت تھی ‘نہ کوئی وقعت ‘نہ معاشرے کے کوئی حقوق تھے۔ دنیا کی ہرقوم میں اس کی ذلت ورسوائی سے دوچار کرتے تھے۔ عیسائیوں کے یہاں توگناہ اور عورت ایک ہی چیز کو قرار یاجاتاتھا۔ یہودیوں کا یہ طریقہ تھا کہ بعض خاص حالات میں عورتوں کوگھر وں میں سے نکال دیاجاتاتھا۔ رومی تہذیب میں عورتوں کی حیثیت غلام کی سی تھی۔ یونان کے لوگ عورت کو یہ توسمجھتے تھے کہ سانپ کوڈسنے کا علاج ممکن ہے لیکن عورت کی برائی کاعلاج ممکن نہیں ہے۔ ہندوستان میں یہ رواج تھا کہ شوہر کے مرتے ہی عورت کوبھی زندہ رکھ کر شوہر کی نعش کے ساتھ جلادیاتھا اور عرب کی حالت تواتنی ابترتھی کہ لڑکی کی پیدائش ہوتی تو شرمندہ ہوتے۔ ذلت اور عار کا باعث سمجھتے اور اسے زندہ دفن کردیتے تھے۔ مختصر یہ کہ عجم ہویا عرب ہرجگہ اپنے جائز معاشرتی ‘اخلاقی تمدن اور معاشی حقوق سے محروم تھی۔

        جب کوہ فاران کی چوٹیوں سے آفتاب رسالتﷺ طلوع ہوا تو تمام عالم آپ کو رحمت اللعالمین کی رحمت سے جگمگااٹھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمتہ اللعلمینؐ بناکربھیجا جس سے کوئی بنی نوع آب کی رحمت سے محروم نہ ہو۔ آپ کی رحمت حقوق نسواں پربھی ایسی ہوتی کہ دنیا کی کسی دوسری قوموں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔

        صحیح بخاری میں حضرت عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خدا کی قسم ہم زمانہ جاہلیت میں عورتوں کوکسی شمار میں نہ لاتے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں نازل کیا جو کچھ نازل کیا اور مقر رفرمایا جو کچھ مقرر فرمایا۔

        اسلام کے آے سے پہلے عرب کے یہاں حقوق نسوا ں کچھ نہ تھے۔ مرد آدمی ہر طرح کے ظلم کرتاتھا۔ انہیں جانوروں کی طرح مارتے پیٹتے تھے۔ ذرا ذرا سی بات پران کے کان ناک وغیرہ اعضاء کاٹ دیا کرتے تھے۔ وراثت میں ان کا کوئی حصہ مقرر نہیں تھا ان کوزبردستی باندی بناکر رکھ لیاجاتاتھا۔ اس وقت عورت کو صرف شہوانی اور نسوانی خواہشوں کا سامان اور مردوں کیلئے بازچہ اطفال سمجھتی جاتی تھی۔ عرب کے بعض قبائل میں یہ دستو رتھا کہ عورت جب بیوہ ہوجاتی تھی ان کوگھر سے دور یاایک جھونپڑی میں بند کردیاجاتاتھا ایک سال تک قید وبند کی مصیبتیں جھیلتی تھی نہ وہ اس جھونپڑی سے باہر آسکتی تھی نہ غم کرسکتی تھی۔ نہ کپڑے بدل سکتی تھی۔ بہت سی عورتیں اسی حالت میں گھٹ گھٹ کر مرجاتی تھی۔ اوراگرکوئی زندہ بچ جاتا تواس سال کے بعدان کے آنچل میں اونٹ کی مینگنیاں ڈال دی جاتی تھی اوران کومجبور کیا جاتاتھا کہ وہ کسی جانور کے بدن سے اپنے بدن کورگڑیں ‘پھر سارے شہر میں اسی گندے لباس میں چکر لگائے اور ادھر ادھر اونٹ کی مینگیاں پھینکتی چلی جائے۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ ان کی عدت ختم ہوگئی۔

        چنانچہ جب رحمتہ اللعالمین کی رحمت کا آفتاب طلوع ہوا تو دکھ درد کی ماری عورتوں پر بھی رحمت برسی اور عورتوں کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا۔ ان کومالکانہ حقوق ملنے لگے۔ عورتوں کووراثت میں حصہ ملنے لگا۔ عورت خواہ کتنی ہی مالدار کیوں نہ ہوخاوند سے ہرحال میں نفقہ پانے کی حقدار ہے۔

        عورت کو خاوند کے انتخاب کا حق دیاگیا اور نکاح کے لیے اس کی رضامندی ضروری قراردی حالانکہ عرب میں یہ دستور تھا کہ مرد آدمی جتنی چاہے شادیاں کرسکتاتھا لیکن عورت کواس کا حق حاصل نہ تھا۔ مرد کے لیے کوئی پابندی نہ تھی۔

        اسلام آنے کے بعد عورت کوتعلیم حاصل کرنے کی آزادی ملی۔ عورتوں کی عبادت کا ثواب مرد آدمی کے برابر کردیاگیا۔  جان ومال عزت وآبرو کے تحفظ میں عورت کومرد کے برابر رکھاگیا۔ عورت کوجودرجات ومقامات اسلام نے دیئے وہ کسی مذہب نے نہیں دیئے۔ اسلام نے عورت کوبے حیائی سے بچاکر عفت وپاکیزگی عطا کی۔ پردہ جیسی عظیم نعمت دے کراسے ہیرے کے مماثل کردیا۔ وہ پردے کے ساتھ دائرہ نسوانیت میں رہ کر شوہر کی معاونت‘قومی اورملی خدمت بھی انجام دے سکتی ہے۔ الغرض پوری دنیا میں عورت کا کوئی مقام ومرتبہ نہیں تھا اسلام اور محسن اعظم کے ان احسانات کی وجہ سے وہ مرد کی راحت ہی نہیں بلکہ اس کی عزت وعصمت کی حفاظت کا ذریعہ پردے کی صورت میں بنایا۔ اور مرد کو اس کا محافظ بنایا۔ اس کومختلف رشتوں کی پہچان دی۔ کبھی ماں کی صورت میں توکبھی بیٹی کی صورت میں توکبھی بہن کی صورت توکبھی بیوی کی صورت میں۔ قرآن وحدیث کی روشنی سے اس کوہردرجہ میں عزت وبلندی‘عفت وپاکیزگی رکھی۔ لہذا ہم عورتیں جتنا بھی اللہ تعالیٰ کا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا شکرادا کریں کم ہے کیونکہ اسلام ہماری لیئے ایک مکمل نظام حیات زندگی ہے جوزندگی کے ہرقدم پرہماری رہنمائی کرتا ہے۔

٭٭٭

مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close