تاریخ و سیرتگوشہ خواتین

رسولِ رحمتؐ اور حقوقِ نسواں

تحریر: حافظ محمد ادریس… ترتیب: عبدالعزیز

 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس معاشرے میں مبعوث ہوئے وہ مکمل طور پر ’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘ کا نمونہ پیش کرتا تھا۔ طاقت ور قبائل اپنے سے کمزور قبائل کو دبالیتے اور ان کے حقوق سے انھیں محروم کر دیتے۔ اسی طرح شخصیات کا معاملہ تھا۔ جو شخص جتنی قوت اپنے پاس رکھتا تھا، اتنا ہی معتبر، معزز اور قابل احترام شمار ہوتا تھا۔ انسان اپنی انسانیت کھو بیٹھا تھا اور احترام انسانیت کی بات کرنے والوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ معاشرے میں زیادہ مظلوم وہ لوگ تھے، جنھیں غلام اور لونڈیاں کہا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ بحیثیت مجموعی عورت بھی حقیر اور کمتر شمار ہوتی تھی۔ بیٹیوں کو عار سمجھا جاتا اور انھیں زندہ درگور کر دیا جاتا۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کا نقشہ یوں کھینچا ہے: ’’یہ خدا کیلئے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں ، سبحان اللہ! اور ان کیلئے وہ جو یہ خود چاہیں ؟ جب ان میں سے کسی کو بیٹی پیدا ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اس کے چہرے پر کلونس چھاجاتی ہے اور وہ بس خون کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ اس بری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے۔ سوچتا ہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو لئے رہے یا مٹی میں دبا دے؟‘‘  (النحل16: 57-59)

دوسری جگہ پر اس مضمون کو یوں بیاں فرمایا گیا ہے: ’’کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لئے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمھیں بیٹوں سے نوازا؟ اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اس خدائے رحمن کی طرف منسوب کرتے ہیں اس کی ولادت کا مژدہ جب خود ان میں سے کو دیا جاتا ہے تو اس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔ کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث و حجت میں اپنا مدعا پوری طرح واضح بھی نہیں کرسکتی؟‘‘ (الزخرف:43:16-18)

 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت ذات کو بے انتہا عزت و احترام دیا۔ آپؐ جب بھی کوئی لشکر کفار کے مقابلے پر بھیجتے، صحابہؓ کو تلقین فرماتے کہ وہ کسی کمزور، بوڑھے، بچے اور خاتون پر ہر گز ہاتھ نہ اٹھائیں ۔ غزوۂ احد میں حضرت ابو دجانہؓ کو اپنی تلوار مبارک دی تو تاکید کی کسی خاتون پر اسے نہ چلائیں ۔ ایک جنگ میں کفار کی لاشوں کے درمیان آپؐ نے ایک کافر عورت کی لاش دیکھی تو سخت ناراضی کے عالم میں فرمایا: ’’لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ عورت بھی ان کے ہاتھ سے نہ بچی؟‘‘ اسلام میں عورت کو ماں ، بہن، بیٹی اور بیوی چاروں حیثیتوں میں اتنا اعزاز و اکرام بخشا گیا ہے کہ دنیا کی کسی تہذیب، مذہب اور معاشرے میں اس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ماں کے متعلق آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ملاحظہ فرمائیں :

 ’’معاویہ بن جاہمہ سے روایت ہے کہ میرے والد جاہمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میرا ارادہ جہاد میں جانے کا ہے اور میں آپ سے اس بارے میں مشورہ لینے کیلئے حاضر ہوا ہوں ۔ آپؐ نے ان سے پوچھا: کیا تمہاری ماں ہیں ؟ انھوں نے عرض کیا: ہاں ! ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا: تو پھر انہی کے پاس اور انہی کی خدمت میں رہو، ان کے قدموں میں تمہاری جنت ہے‘‘۔ (مسند احمد، سنن نسائی، بحوالہ: معارف الحدیث، ج 6، ص:51)

 اللہ و رسولؐ کے نزدیک ماں کا مقام و درجہ اتنا عظیم ہے کہ بڑے گناہوں کی معافی کی خدمت سے مل جاتی ہے اور پھر اگر ماں نہ ہو تو خالہ، پھوپھی وغیرہ کی خدمت کا بھی وہی درجہ ہے۔ یہاں تک کہ ایک حدیث میں تو یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ماں باپ موجود نہ ہوں تو ان سے دوستی رکھنے والے دوست اور سہیلیاں بھی اسی طرح عزت و احترام کے مستحق ہیں جس طرح والدین کا معاملہ ہے۔

 حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: حضرتؐ! میں نے ایک بہت بڑا گناہ کیا ہے تو کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے (اور مجھے معافی مل سکتی ہے)؟ آپؐ نے پوچھا: تمہاری ماں زندہ ہے؟ اس نے عرض کیا کہ ماں تو نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تو کیا تمہاری کوئی خالہ ہے؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں خالہ موجود ہے۔ آپؐ نے فرمایا: تو اس کی خدمت اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو (اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے تمہاری توبہ قبول فرمالے گا اور تمھیں معاف فرما دے گا۔ (جامع ترمذی، بحوالہ :معارف الحدیث، ج 6، ص52)

بیوی کے ساتھ حسن سلوک کی بھی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے حتیٰ کہ اپنے آخری ایام میں بھی آپؐ بیویوں اور غلاموں کے حقوق پر زور دیتے رہے۔

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنی بیویوں کے ساتھ بہتر سلوک کے بارے میں میری وصیت مانو (یعنی میں تم کو وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کی ان بندیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، نرمی اور مدارات کا برتاؤ رکھو) ان کی تخلیق پسلی سے ہوئی ہے (جو قدرتی طور پر ٹیڑھی ہوتی ہے) اور زیادہ کجی پسلی کے اوپر کے حصے میں ہوتی ہے، اگر تم اس ٹیڑھی پسلی کو (زبردستی) بالکل سیدھا کرنے کی کوشش کروگے تو وہ ٹوٹ جائے گی اور اگر اسے یونہی اپنے حال پر چھوڑ دوگے (اور درست کرنے کی کوئی کوشش نہ کروگے ) تو پھر وہ ہمیشہ ویسی ہی ٹیڑھی رہے گی، اس لئے بیویوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی میری وصیت قبول کرو۔ (بخاری و مسلم، بحوالہ: معارف الحدیث، ج6، ص79)

 آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر معاملے میں امت کیلئے اسوۂ حسنہ ہیں ۔ اس حوالے سے آپؐ نے اپنی مثال دے کر ارشاد فرمایا: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی تم میں زیادہ اچھا اور بھلا ہے جو اپنی بیوی کے حق میں اچھا ہو۔ (اسی کے ساتھ فرمایا) اور میں اپنی بیویوں کیلئے بہت اچھا ہوں ۔ جامع ترمذی نیز مسند دارمی اور سنن ابن ماجہ میں یہی حدیث حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت کی گئی ہے۔ (بحوالہ:معارف الحدیث، ج 6، ص82-83)

 جہاں تک بیٹیوں اور بہنوں کا تعلق ہے تو ان کے ساتھ حسن سلوک اور محبت کو جنت کا پروانہ قرار دیا گیا ہے۔ عرب کے معاشرے میں بیٹیوں کے ساتھ جو سلوک ہوتا تھا، اس کا تذکرہ اوپر ہوچکا ہے۔ اس کے مقابلے میں اسلام نے انھیں اتنی عزت اور احترام دیا، جس کا تصور بھی قدیم و جدید دور کے کسی اور معاشرے میں محال ہے۔ زندہ درگور کی جانے والی بچیوں کے بارے میں اللہ نے ارشاد فرمایا: ’’اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟‘‘ (التکویر81:8-9)

عربوں کے ہاں بعض قبائل میں بچیوں کی پیدائش کے خدشے ہی سے ان کی ماؤں کی زچگی کے دوران گڑھے کھود دیئے جاتے تھے۔ اگر کسی طریقے سے وہ بچی بچ جاتی تو بھی باپ موقع کی تلاش میں رہتا کہ کب اسے ٹھکانا لگا دیا جائے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے نبی مہربانؐ کے سامنے اپنے زمانۂ کفر کا ایک دردناک واقعہ بیان کیا۔ اس نے کہا: ’’میری ایک بیٹی تھی جو مجھ سے بہت مانوس تھی۔ جب میں اس کو پکارتا تو دوڑی دوڑی دوری میرے پاس آتی تھی۔ ایک روز میں نے اس کو بلایا اور اپنے ساتھ لے کر چل پڑا۔ راستے میں ایک کنواں آیا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے کنویں میں دھکا دے دیا۔ آخری آواز جو اس کی میرے کانوں میں آئی وہ تھی ’ہائے ابا، ہائے ابا‘۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو دیئے اور آپؐ کے آنسو بہنے لگے۔ حاضرین میں سے ایک کہا: اے شخص! تو نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو غمگین کردیا۔ حضورؐ نے فرمایا: ’’اسے مت روکو؛ جس چیز کا اسے سخت احساس ہے اس کے بارے میں اسے سوال کرنے دو‘‘۔ پھر آپؐ نے اس سے فرمایا کہ اپنا قصہ پھر بیان کرو۔ اس نے دوبارہ اسے بیان کیا اور آپؐ اس قدر روئے کہ آپ کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا کہ جاہلیت میں جو کچھ ہوگیا اللہ نے اسے معاف کر دیا، اب نئے سرے سے اپنی زندگی کا آغاز کرو۔ (تفہیم القرآن، ج 6، ص265)

 اسی معاشرے میں جس کی جھلک آپ نے اوپر دیکھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کو اللہ کی رحمت قرار دیا۔ آپؐ کا ارشاد ہے: ’’جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی، یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں تو قیامت کے روز میرے ساتھ وہ اس طرح آئے گا، یہ فرما کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو باہم جوڑ کر دکھایا۔ (صحیح مسلم )

 آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور حدیث میں بیٹیوں کے ساتھ بہنوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ جس شخص نے تین بیٹیوں یا بہنوں کو پرورش کیا، ان کو اچھا ادب سکھایا اور ان سے شفقت کا برتاؤ کیا، یہاں تک کہ وہ اس کی مدد کی محتاج نہ رہیں تو اللہ اس کیلئے جنت واجب کر دے گا۔ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! اور دو! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور دو بھی۔ حدیث کے راوی ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ اگر لوگ اس وقت ایک متعلق پوچھتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں بھی یہی فرماتے۔ (شرح السنۃ بروایت ابن عباسؓ)

 بیٹیوں کو بیٹوں کے مقابلے میں آج بھی ہمارے معاشرے میں کمتر جانا جاتا ہے۔ یہ بھی جاہلیت کے اثرات کا نتیجہ ہے۔ اسلام میں اس کی ممانعت فرمائی گئی ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے: جس کے ہاں لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ دفن نہ کرے، نہ ذلیل کرکے رکھے، نہ بیٹے کو اس پر ترجیح دے، اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ (ابو داؤد)

 کسی کی بیٹی یا بہن اگر بیوہ یا مطلقہ ہو کر اس کے پاس آجائے تو اسے بھی بوجھ نہیں سمجھنا چاہئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حضرت سراقہؓ بن مالک بن جعشم سے فرمایا: میں تمھیں بتاؤں کہ سب سے بڑا صدقہ (یا فرمایا: بڑے صدقوں میں سے ایک) کیا ہے؟ انھوں نے عرض کیا: ضرور بتائیے یا رسولؐ اللہ۔فرمایا تیری وہ بیٹی جو (طلاق پاکر یا بیوہ ہوکر) تیری طرف پلٹ آئے اور تیرے سوا کوئی اس کیلئے کمانے والا نہ ہو۔ (ابن ماجہ، بخاری فی الادب المفرد)

 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام بیٹیوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ آپؐ کی تین صاحبزادیاں حضرت زینب رضی اللہ عنہا، حضرت رقیہ رضی اللہ تنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا تو آپؐ کے سامنے دنیا سے رحلت فرما گئی تھیں ، البتہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپؐ کی زندہ کی آخری سانس تک آپ کے ساتھ زندہ اور موجود تھیں ، اس لئے ان کے ساتھ آپؐ کی محبت کی مثالیں بہت سے راویوں کے ذریعے منقول ہوئی ہیں ۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کی ایک روایت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ میں نے فاطمۃ الزہراؓ سے زیادہ کسی کو شکل و صورت، سیرت و عادت اور چال ڈھال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہ نہیں دیکھا۔ جب وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو آپؐ (جوش محبت سے) کھڑے ہوکر ان کی طرف بڑھتے، ان کا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے لیتے اور (پیار سے) اس کو چومتے اور اپنی جگہ پر ان کو بٹھاتے (اور یہی ان کا دستور تھا)۔ جب آپؐ ان کے یہاں تشریف لے جاتے تو وہ آپؐ کیلئے کھڑی ہوجاتیں ، آپؐ کا دست مبارک اپنے ہاتھ میں لے لیتیں ، اس کو چومتیں اور اپنی جگہ پر آپ کو بٹھاتیں ۔ (سنن ابی داؤد، بحوالہ معارف الحدیث، ج 6، ص165)

 مغربی معاشرے نے بے خدا تہذیب کے زیر اثر ترقی و روشن خیالی کے نام پر ایسے ایسے گھناؤنے جرائم کئے ہیں کہ انسانیت و شرافت سر پیٹ کے رہ جاتی ہے۔ عورت کو نام نہاد آزادی کے جھوٹے خواب دکھاکر اسے شمع محفل بنا دیا گیا۔ بے چاری سادہ لوح عورت سمجھی کہ اسے اعزاز بخشا جارہا ہے مگر ظالم شیطانی تہذیب نے اس سے اس کی حیا چھینی، اسے بازار کا بکاؤ مال بنایا اور پھر اس سے مطالبہ کیا کہ وہ معاشی دوڑ میں بھی مرد کے ساتھ برابر کی شریک ہو۔ معاش کمانے کیلئے اس کے گلے میں بھی جوا ڈال کر اسے مرد کے ساتھ جوت دیا گیا۔ اسلام نے عورت کو وراثت میں حصہ دیا مگر معاشی بوجھ سے اسے بری قرار دیا گیا۔ وہ اپنی دولت و ثروت میں سے حسب ظروف و ضرورت رضاکارانہ خرچ کرسکتی ہے مگر بطور ماں ، بیوی، بہن اور بیٹی اس کی معاشی کفالت بیٹے، خاوند، بھائی اور باپ کے ذمے ہے۔ آج بھی مغرب میں خواتین کے اسلام قبول کرنے کی شرح مردوں سے زیادہ ہے تو اس کا سب سے بڑا عامل اسلام میں خواتین کو دی گئی عزت اور تحفظ کی ضمانت ہی ہے۔ خواتین کے حقوق کے سب سے برے ضامن رسولِ رحمت اور محفوظ ترین قلعہ دین اسلام ہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close