گوشہ خواتین

زیبائش کیجیے، نمائش نہ کیجیے

ودرہ صدیقی

(نوشہرہ کینٹ)

اللہ تبارک وتعالی نے ہر کام کی ایک حد مقرر کی ہے اور مقرر کردہ حدود میں رہ کر کام کرنے کی اجازت دی، لہذا حدود کی پاسداری ضروری ہے اگر حدود سے تجاوز کیا جائے گا تو حلال عمل بھی حرام و ناجائز شمار ہوگا جیسے کہ اللہ تعالی نے قرض کے لین دین کو جائز و مباح رکھا۔ کسی ضرورت مند کو قرض دینا لائق وتحسین عمل ہے۔ اگر سود کی شرط سے مشروط کیا جائے گا تو حرام ہوگا۔

    دوسری مثال کھانے کے معاملے میں گوشت کو حلال قرار دے کر اسے کھانے کا حکم دیا ہے مگر ساتھ ہی چند مخصوص جانوروں کا گوشت حرام قرار دے کر منع فرمایا. انگور کی مثال لیجیے انگور کو نچوڑ کر اس کا جوس پیا جاسکتا ہے مگر خراب گلے سڑے انگوروں کا رس حد سکر کو پہنچ جائے یعنی نشہ آور ہوجائے تب یہ رس مضر صحت و حرام ہے۔

مذکورہ مثالوں سے معلوم ہوا کہ ہر چیز ایک حد میں حلال ہے حد سے تجاوز کرنے کی صورت میں وہ حرام کا حکم اختیار کر لیتی ہے۔

 ہر سلیم الفطرت شخص صاف ستھرا اور پاکیزہ رہنا چاہتا ہے۔ بعض انسان سادگی کو ترجیح دیتے ہیں، تو کچھ کی طبیعت میں بنائو سنگھار کے ذریعے خود کو پرکشش اور خوبصورت دکھنے کی خواہش ہوتی ہے اور ایسا کرنے میں کوئی برائی بھی نہیں بلکہ اچھائی ہی ہے کیونکہ حدیث مبارکہ ہے کہ :”ان اللہ جمیل و یحب الجمال”

ترجمہ: "اللہ پاک خوبصورت ہیں اور خوبصورتی کو پسند کرتے ہیں”.

سجنے سنورنے اور بنائو سنگھار کا مادہ مردوں کی بنسبت خواتین میں زیادہ پایا جاتا ہے بلکہ یوں کہنا بجا ہوگا کہ اللہ پاک نے ان کی فطرت میں خاص ودیعت فرمایا ہے اگر خواتین اپنی زینت غیر محرم پر ظاہر نہ کریں بلکہ اسلام شادی شدہ خواتین کو اپنے  شوہروں کے لئے جائز بنائو سنگھار کی ترغیب دیتاہے۔

نبی کریمﷺ نے  مہندی لگانے کی تاکید فرمائی بازئووں میں شیشے کی چوڑیوں کے بارے میں فرمایا کہ اسکی آوازسے گھر میں برکت ہوتی ہے۔ احادیث مبارکہ میں صحابیات کا تیل، سرمہ اور خوشبو لگانے کا بھی تذکرہ آیا ہے۔ خاوندکی خوشنودی اور انہیں اپنے قریب کرنا مقصود ہو تب تو یہ عمل رب کی رضا اور ثواب کا باعث ہے لیکن اگر اس بنا ئوسنگھار سے اپنی زیب و زینت کو غیر محرم پر ظاہر کرنا انہیں دعوت دینا، دکھلاوا اور بے پردگی  پرفریفتہ کرنا اور اپنی نمائش مطلوب ہو تو یہ ناجائز ہے ایساعمل رب العالمین کی ناراضگی اور عتاب کا باعث ہے۔

 اکثر اوقات توخواتین خود ہی بنائو سنگھار کر لیتی ہیںمگر بعض اوقات دوسری خاتون کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کا سنگھار کرے

     ہر زمانے میں ایسی خواتین موجود رہیں جنہوں نے یہ کام کیا جیسے کہ دور رسالت میں ایک صحابیہ آمنہ اخت عثمان بن عفان جو کہ قینہ کے نام سے مشہور و معروف ہیں وہ دلہنوں کو تیار کرنے کا کام کیا کرتی تھی۔

       آج جگہ جگہ بیوٹی پارلرز کھل چکے ہیں۔ دور حاضر میں خواتین کے درمیان یہ ایک profitable کاروبار بن چکا ہے خواتین اپنے اس ہنر سے خوب کما رہی ہیں اور اپنے اور گھریلو اخراجات بڑی آسانی سے  پورے کررہی ہیں.

       لیکن رکیے۔۔ ۔ ۔ ۔  !!! جیسا کہ آپ نے پڑھا کہ اللہ تبارک وتعالی نے ہر کام کی حدود مقرر کی ہیںبلکل اسی طرح اس کام کی بھی اللہ پاک نے اجازت دی لیکن حدود مقرر فرمائی ہیں اگر ان حدود کے دائرے میں رہ کر کام کیا جائے اور حرام امور سے اجتناب کیا جائے تو جائز ہے اور کمائی بھی حلال ہوگی۔

 ذیل میں ان امور کو ذکر کیا جائے گا جن کے وجہ سے اس کاروبار کی کمائی میں حرمت و قباحت آتی ہے۔

 1۔ بھنویں بنوانا:

  بھنویں بنوانا جائز نہیں ہے ایسی خواتین سے متعلق احادیث مبارکہ میں وعید نازل ہوئی۔ بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت ہے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے گودنے والیوں، گدوانے والیوں، آبرو کے بال اکھیڑنے والیوں اور خوبصورتی بڑھانے کیلئے دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں پر۔ غرض تخلیق الہی میں تغیر کرنے والی تمام عورتوں پر لعنت کی ہے۔ کیا میں ان پر لعنت نہ کروںجس پر اللہ کے رسول نے لعنت کی ہے حالانکہ قرآن میں اس بات کی دلیل موجود ہے (بخاری شریف جلد ثانی)

2۔  بال کٹوانا :

عورتوں کے لئے سر کے بال بلا عذر کٹوانا جائز نہیںکیونکہ اس میں مردوں کیساتھ مشابہت ہے اورمردوں کیساتھ مشابہت سے نبی آخرالزمان نے منع فرمایا حدیث ہے

لعن اللہ المتشبہین من الرجال بالنسا ء والمتشبہات من النسا ء بالرجال(بخاری شریف حدیث نمبر5885)

حدیث شریف میں آتاہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے فرماتے ہیں ” نھی رسول اللہ ان تحلق المراۃراسھا”. رسول اللہﷺ  نے عورتوں کو بال کٹوانے سے منع فرمایا(نسائی شریف حدیث 5052)

 سر کے بال مسلمان عورت کی زینت ہے اور زینت لمبے بالوں سے ہی پیدا ہوگی نا کہ چھوٹے بالوں سے اس لئے فیشن کے طور پر ہرگز نہیں کاٹ سکتی حتی کے اس معاملے میں شوہرکی اطاعت بھی جائزنہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادگرامی ہے لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالقکہ مخلوق کی اطاعت نہیں کی جائیگی جس بات میں اللہ اور رسول کی نافرمانی ہو۔

 لیکن اگر بالوں کی ٹریمنگ trimming کرواتی ہیں جس کا مقصد ہی بالوں کی گروتھ growth ہے تو جائز ہے۔

3۔ بالوں کا جوڑا بنانا :

       سر کے بالوں کو اکٹھا کر کے سر کے اوپر جوڑا یا پف puff بنانا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ ایسی خواتین جو جوڑا بنائیں ان کے بارے میں حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو قسم کے لوگ جہنمی ہیںجن کومیں نے نہیں دیکھا (بعد کے زمانے میں آئیں گے)

1،ایسی قوم جو ہروقت کوڑے لئے ہوں گے جیسا کہ بیل کی دم(لٹک رہی ہوتی ہے)اس کے ذریعے سے وہ لوگوں کوماریں گے۔

2،اور ایسی عورتیں جوکہ کپڑے پہنے ہوئے ہونگی لیکن ننگی نظر آئیں گی مائل کریں گی(بنائوسنگارکرکے زینت اورفیشن کے ذریعے لوگوں کواپنی طرف)خودبھی مائل ہونگی، گناہ زنا خواہشات کی طرف۔ ان کے سر ایسے بنے ہوئے ہوں گے جیسے بختی (اونٹ کی ایک خاص قسم)کا کوہان ہوتا ہے(خبردار ایسی عورتیں) جنت میں داخل نہ ہوں گی اور جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھیں گی.حالانکہ جنت کی خوشبو دور دور سے محسوس ہوگی (لیکن یہ خوشبوتک نہ سونگے گی)(صحیح مسلم )

لہذا جوڑا بنانے سے پرہیز کرنا چاہیے

4۔ حرام کاسمیٹک کا استعمال :

             آج کل مارکیٹ میں حرام جانوروں یا مردار جانوروں کی چربی سے بنایا گیا کاسمیٹک بھی دستیاب ہے جیسے حرام جانوروں کا کھانا حرام ہے ایسے ہی ان کے اجزا سے بنی اشیا  کا استعمال بھی حرام ہے لہذا حرام کاسمیٹک کے بجائے حلال کاسمیٹک کا انتخاب و استعمال کریں۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کام میں دھوکہ اور دونمبر پروڈکٹس کے استعمال سے بچا جائے تو یہ کاروبار کبھی ٹھپ نہیں ہوگا بلکہ سدا بہار رہے گا۔

         جو خواتین اس ہنر میں دلچسپی اور کمال رکھتی ہیںانہیں چاہیے کہ وہ اپنی اس صلاحیت کو بروئے کارکریں۔ گھر بیٹھے اپنی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھائیںآج گلی گلی میں پارلر کھل چکے ہیں لیکن اکثر اس شعبے کو چلانے والی عیسائی، قادیانی اور بے دین خواتین دیکھی گئی ہیں جو بہنوں کے ظاہر کو سنوار دیتی ہیں مگر اس دوران اپنی باتوں کے ذریعے سے باطن کو خراب اور ایمان و اسلام سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کر دیتی ہیں یہی وجہ ہے اھل علم و دانش ایسی جگہوں سے کنارہ کشی کا حکم دیتے ہیں۔ ایسے میں مسلمان دیندار خواتین کا فرض بنتا ہے کہ اسلامی طرز وطریقے کے مطابق عوام میں اس شعبے کو روشناس کروائیں۔ اگر  حقیقتا ” اسلامک تبدیلی” لانی ہے تو چند باشرع خواتین ہمت کریں اور مفتیان کرام کی زیر نگرانی  اس شعبے کو اسلامائز کر کے قوم کو نئی اور اسلامی سوچ اور فکر دیں۔

     اللہ پر مکمل اعتماد اور بھروسہ کر کے اس کام کو آگے بڑھائیں۔ ان شااللہ بہت سے فوائد آپ کو دیکھنے کو ملیں گے

اللہ پاک ہمیں ظاہروباطن کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے(آمین )

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close