گوشہ خواتین

طبقہ نسواں اور فحاشی و عریانی کا سیلاب

تحریر: اللہ بخش فریدی

آج کے ترقی یافتہ او ر جدید تہذیب و تمدن کا یہ دعویٰ ہے کہ اس نے عورت کو زندگی کے تمام حقوق عطا کیے ہیں اور زندگی کے ہر شعبے اور ہر دور میں اسے برابر کا حصہ دار بنایا ہے لیکن اس جدید تہذیب کے تمام دعوے ایک مہمل فریب اور ایک حسین جھوٹ کے سوا اور کچھ نہیں ۔ قرآن کریم نے تو زندگی کے داخلی اور خارجی امور میں عورت اورمرد کے حقوق متعین فرمادئیے ہیں اور حکم دیا کہ خبردار! کوئی بھی اپنے حق اور حدود کی حد سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرے۔ جبکہ نئی تہذیب نے تمام حدود کو توڑ کر عورت کو آزاد تو کر دیا مگر معاشرے اور خاندان کے پورے کے پورے نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیا۔ قرآن کریم نے مرد کو تمام خارجی امور کا ذمہ دار ٹھہرایا اور عورتوں کو گھر کے پورے ماحول کی نگرانی سونپی، جب تک سماج کا یہ ڈھانچہ برقرار رہا ، معاشرہ پاکیزہ اور اخلاق سے معمور رہا لیکن جب یہ حد بندیاں توڑ دی گئیں تو معاشرہ میں طرح طرح کی برائیوں ، بداخلاقیوں اور تباہ کاریوں نے سرکش عفریت کی طرح سر اٹھایااور پورا معاشرہ انسانیت کے جسم کا ایک ایسا ناسور بن گیاجس کا علاج آج خود جدید تہذیب کے علمبرداروں کے پاس نہیں۔
آج کی تہذیب نے دنیا کو ایک حسین چراگاہ سمجھ کر مرد وعورت کو ہر طرح سے چرنے کی چھوٹ دے دی، یہی وجہ ہے کہ آج عورتوں نے جسم کی نمائش کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ ہماری پڑھی لکھی، تعلیم یافتہ خواتین کاطبقہ سب سے زیادہ فحاش ، فجار اور عیاش ہے۔ سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں ، گلی کوچوں اور بازاروں میں دیکھیں تقریباً ہر تعلیم یافتہ عورت کے بازو ننگے ہیں ، سر کے بال ننگے ہیں، ہاتھ پاؤں ننگے ہیں اور ایسا فحاش و عریاں اور فیشن ایبل لباس پہنتی ہیں کہ ان کے جسم کا ہر حصہ بالکل واضح نظر ہے اور پھر بازاروں ،پارکوں اور عوامی مراکز پر آوارہ گردی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں اور پھر اوباش مرد ان کی طرف فحاش اور مست نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں اس کے برعکس دیہاتوں میں ایک ان پڑھ، جاہل عورت کو دیکھیں شرم و حیا کے لباس میں ملبوس ہے اور کسی کی جرات نہیں کہ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ جائے،گو وہ بھی شرعی منشوعات پر پورا نہیں اتراتا ، لیکن شہروں میں مقیم ایک پڑھے لکھے طبقے کی نسبت کئی درجے بہتر ہے۔ ایسے معاشرے کو، جس کا پڑھا لکھا طبقہ جاہل، گمراہ ، فحاش، فجار اور عیاش ہو ، کو ایک اسلامی معاشرہ کا نام دینا اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسولﷺ پر ایک بہت بڑا بہتان باندھنا ہے، اس کے برعکس ایک ایسا معاشرہ جس کاپورے کا پورا نظام کافرانہ ، فاسقانہ، اور منافقانہ ہو، کو ایک اسلامی مملکت سے تشبیع دیناایک حسین جھوٹ اور ایک مہمل فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔
اللہ عزوجل اوراس کے پیارے رسول ﷺ تو برائی ، بے حیائی، فحاشی وعریانی کا حکم نہیں دیتے بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تو روزِ ازل سے ہی مسلمانوں پر ہر قسم کی تمام برائیاں اور بداخلاقیاں حرام فرما دی ہیں۔

قُلْ اِنَّمَاحَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّوَ اِنْ تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ مَالَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ مَالَاتَعْلَمُوْنَo

’’( اے نبی ﷺ!)آپ فرما دیں ۔’’ میرے رب نے تو ( ہر قسم کی تمام)بے حیائیاں حرام فرمادی ہیں جوان میں ظاہر اور پوشیدہ ہیں اور اس کے علاوہ اور گنا ہ اور ناحق زیادتی ( بھی حرام فرمادی ہے) اور یہ کہ کسی دوسرے کو ( کسی بھی حیثیت سے ، اس کی ذات ، صفات ، احکامات اور عبادات وغیرہ میں ) اس کا شریک ٹھہرایا جائے جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی ، اور یہ کہ اللہ پر وہ بات کہو جس کا تجھے علم نہیں۔‘‘
آخر یہ عورتیں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کیا پڑھتی رہی ہیں ؟ان تعلیمی اداروں نے انہیں کیا درس دیا ہے مگر یہ کہ وہ اللہ عزوجل اوراس کے رسول ﷺ سے بغاوت کریں اور ان کے احکامات و ہدایات کی صریح خلاف ورزی کریں یا یہ کہ انہوں نے یہود کی سی پا لیسی اپنا رکھی ہے کہ ہم نے سن لیا اور نہ مانا، یا یہ کہ ان کے دل ودماغ پر قفل پڑے ہیں اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے کہ انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔
اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں عورتیں اتراتی ہوئی گھروں سے نکلتی تھیں ، اپنی زینت و محاسن کا اظہار کرتی تھیں اور ایسا لباس پہنتی تھیں جس سے ان کے جسم کے تمام اعضاء اچھی طرح نہ چھپ سکیں تا کہ غیر مرد ان کی طرف دیکھیں اور ان کی طرف مائل ہوں ، مگر آج کا زمانہ اس سے بھی تجاوز کر چکا ہے ۔ غیر مسلم عورتیں تو بجا صرف خواندہ ( تعلیم یافتہ ) مسلم عورتوں نے مل کرزمانہ جا ہلیت کا فحاشی و عریانی کا عظیم ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ سر ننگا، بازو ننگے، ہاتھ پاؤں ننگے، چھاتی اور گردن ننگی اور لباس ایسا فحاش کہ جسم کا ہر حصہ واضح نظر آئے، اور پھر شتر بے مہار کی طرح بازاروں، پارکوں ، ہوٹلوں ، سنیما گھروں وغیرہ پر ٹہلتی نظر آئیں۔ جبکہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں

وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرَّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ‘ (الاحزاب 33:33)

’’ اور تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی، اور نماز قائم رکھو اورزکوۃ دو اور اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسولﷺ کا حکم مانو۔‘‘
یہاں اگلی جاہلیت کی بے پردگی سے تین قسم کی بے پردگی مراد ہے
1۔ عورت اپنے چہرے اور جسم کا حسن لوگوں کو دکھائے جیسا کہ آج ہو رہا ہے کہ عورتیں نہ
صرف اپنے چہرے بلکہ اپنے جسم کے مختلف حصوں جیسے بازو، سر کے بال ،گردن ،
چھاتی ، ہاتھ ، پاؤں وغیرہ کی نمائش کرتی ہیں اور لوگوں کو دکھاتی ہیں۔
2۔ عورت اپنے لباس اور زیور کی خوبصورتی لوگوں پر نمایاں کرے۔
3۔ عورت اپنی چال ڈھال اور چٹک مٹک سے اپنے آپ کو نمایاں کرے۔
دین اسلام کی اس امتیازی خصوصیات سے کسی غیر مسلم کو بھی مجال انکارنہیں کہ اسلام نے دنیا سے انسداد فواحش کا جس طرح اہتمام کیا ہے اس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی ۔ اسلام نے بدکاری و بداخلاقی پر شدید اخروی عذاب سنانے کے علاوہ دنیا میں بھی اس کی بڑی بھاری سزا مقرر کی ہے اور پھر اسی پر قناعت نہ کی بلکہ بدکاری و بداخلاقی کی تمام ذرائع اور وسائط کو بھی بدکاری ہی کا شعبہ قرار دیتے ہوئے انہیں نہایت سختی سے بین کیا اور بدکاری تک پہنچنے والے ہر راستے پر ایک مضبوط بند باندھا ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شہوانی فتنہ کا سب سے بڑا مرکزاور شیطانیت کا مضبوط ترین جال عورت کا چہرہ ہے عورت کا بے پردہ ہونا اورچہرے کی بے جا نمائش ہی بدکاری کا سب سے پہلا زانیہ ثابت ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ پورے جسم میں انسانی حسن و جمال کا سب سے بڑا مرکز اور غیر مردوں کی نگائیں مبذول کرنے کا اولین محرک عورت کا چہرہ ہی ہے کسی حسن پرست ، تشنہ دیدار آنکھ کیلئے جس قدر سامان تسکین عورت کا چہرہ پیدا کرتا ہے وہ جسم کے کسی دوسرے عضو بلکہ پورا جسم دیکھنے سے نہیں ہوتا ، بالخصوص ایک نوجوان عورت کا چہرہ اجنبی نگاہوں کیلئے جتنا کچھ فتنہ گر ہے محتاج بیان نہیں، لہٰذا جو عورتیں آج بازاروں ، گلی کوچوں ، پارکوں وغیرہ میں بے پردہ فحاش ،نیم عریاں لباس پہن کر اپنے جسم اور چہرے کی بے جا نمائش کر رہی ہیں ان کے پاس کیا ثبوت ہے کہ وہ زانیہ نہیں ہیں؟ جبکہ اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ انہیں زانیہ کہہ رہے ہیں۔
’’جو عورت عطر اور خوشبولگا کر مردوں کے پاس سے گزرے تاکہ مرد اس کی طرف دیکھیں اور مائل ہوں تووہ عورت زناکار ہے اور ہر آنکھ جو اس کی طرف دیکھے وہ زناکار ہے۔‘‘
(نسائی، ابن خزیمہ)
’’ انسان کی آنکھیں زناکرتی ہیں ، اس کے ہاتھ پاؤں زنا کرتے ہیں اور اس کی شرمگاہیں زنا کرتی ہیں۔‘‘ مسند امام احمد)
’’نا محرم کو دیکھنا آنکھ کا زنا ہے، نامحرم سے بات کرنا زبان کا زنا ہے، نامحرم کو چھونا ہاتھ کا زنا ہے اور نامحرم کی طرف چل کر جانا قدموں کا زنا ہے۔‘‘ (بخاری ومسلم شریف)
’’عورت سراپا ستر ( پوشیدہ رہنے کے قابل ہے) جب وہ گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک میں لگ جاتا ہے اور وہ اللہ کی رحمت سے قریب تر اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کی چاردیواری کے اندر ہوتی ہے۔‘‘ (ترمذی، مشکوۃشریف)
’’عورت شیطان کے روپ میں سامنے آتی ہے اور شیطان کے روپ میں واپس لوٹتی ہے۔‘‘ (مسلم شریف)
’’ جب کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا ساتھی شیطان ضرور ہوتا ہے۔(نامحرم مرد ،عورت کا تنہا بیٹھنا ، باتیں کرنا اورچلنا پھرنا حرام ہے)۔(ترمذی شریف)
’’ عورتیں اپنے محرموں کے سوا اور مردوں سے باتیں نہ کریں۔‘‘ (ابن سعد)
’’عورتوں کیلئے گھر سے باہر نکلنے کا کوئی حق نہیں مگر یہ کہ مجبور و مظہر ہوں ۔عورتوں کیلئے راستے پر چلنے کا کوئی حق نہیں سوائے ایک طرف چلنے کے۔‘‘ (طبرانی فی الکبیر )
’’ جو عورت تنہا اپنے گھر سے نکلے تو وہ اس وقت تک قہر خداوند ی کا نشانہ بنی رہتی ہے جب تک گھر واپس نہ لوٹ آئے۔‘‘ (کنز العمال)
عورت کا اصل مقام گھر کی چاردیواری ہے اس کا بلا ضرورت گھر سے نکلنا موجب فتنہ و فساد ہے ۔اگر کسی سخت مجبوری کے تحت اسے گھر سے نکلنا پڑے تو ضروری ہے کہ مردوں کا راستہ چھوڑ کر نیز مزین لباس ، خوشبو اور اس قسم کی ہر بات سے مکمل اجتناب ( پرہیز) کرتے ہوئے گھر سے نکلے اور قرآن و سنت کے احکامات و ہدایات کے بالکل عین مطابق پردے کا مکمل اہتمام اور پابندی کر نا ضروری ہے۔

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَ زْوُاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ
مِنْ جَلاَبِیْبِھِنَّ ذٰلِکَ اَدْنٰی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَحِیْمًاo

’’ اے نبی ﷺ!اپنی بی بیوں اور صاحبزادیوں اورمسلمانوں کی عورتوں سے فرما دو کہ(جب وہ گھروں سے نکلا کریں تو) اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے چہروں پر ڈال لیاکریں یہ اس سے نزدیک تر ہے کہ ان کی پہچان ہو (کہ واقعی متقی ،پرہیزگار اورپارسا عورتیں ہیں) تا کہ ستائی نہ جائیں اور بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ پھر فرمایا

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَاِرھِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ
زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ o

 ’’اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں (غیر مردوں کو نہ دیکھیں) اوراپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ (زینت ،سنگار) ظاہر نہ ہونے دیں اوراپنے سینوں پر چادر اوڑھے رہا کریں۔‘‘ (النور 31:24)
اسی طرح اللہ عزوجل نے مردوں کو بھی اس بات کا پابند کر دیا کہ وہ بھی اپنی نظریں نیچی رکھیں اور غیر عورتوں کی طرف دیکھنے سے اجتناب کریں۔ فرمایا

قُلْ لِلّمْؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَ یَحْفْظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ o (النور 30:24)

’’مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے بہت بہتر اور پاکیزہ بات ہے، بیشک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے۔‘‘
پھر اللہ رب العزت نے روزمرہ زندگی کے لین دین میں بھی مردوں کو اس بات کا پابند کر دیا کہ اگر تمہیں عورتوں سے کوئی چیز لینی یا دینی ہو تو پردے ( گھر کی چاردیواری ) کے باہر سے لو اور دو اور اپنے آپ کو ان کے سامنے ظاہر نہ ہونے دو، یہ بات تم دونوں کے دلوں کی پاکیزگی کیلئے بہت بہتر ہے تا کہ وسواس اور خطرات سے امن رہے۔ فرمایا

وَاِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعًا فَسْءَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍط ذٰلِکُمْ اَطْہَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَ قُلُوْبِھِنَّ ط (الاحزاب 53:33)

’’اور جب تم ان (عورتوں) سے برتنے کی کوئی چیزمانگو تو پردے کے باہر سے مانگو، اس میں تمہارے اور ان کے دلوں کیلئے بہت زیادہ اچھائی اور پاکیزگی ہے۔‘‘
اسی طرح کسی کے گھر میں بلاوجہ تاک جھاک کرنے سے بھی منع فرمایا گیا، حدیث نبوی ﷺ ہے کہ ’’ جو شخص کسی کے گھر میں بلاوجہ تاک جھاک کرتا ہے اور وہ اس پر اس کی آنکھ پھوڑ دیتے ہیں تو نہ اس کی دیت ہے اور نہ ہی قصاص ۔‘‘ ایک اور حدیث مبارکہ ہے کہ
’’ جس مسلمان کی کسی عورت کے محاسن پر نظر پڑے اور وہ اپنی نظریں نیچی کر لے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک عبادت کی توفیق( اجر وثواب) دیں گے جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں بھی محسوس کرے گا۔‘‘ (احمد ، طبرانی، بہیقی)
’’ عورت پر اچانک پڑ جانے والی نظر کے بعد دوسری نظر مت ڈالو، اس لیے کہ پہلی نظر تمہیں معاف ہے جبکہ دوسری ہرگز معاف نہیں کی جائے گی۔‘‘ (احمد،ابو اداؤد)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عورت پر اچانک پڑ جانے والی نظر کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا۔’’فوراً دوسری طرف پھیر لو۔‘‘ (مسلم، احمد، ابوداؤد)
ایک دفعہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ساتھ سواری پر بٹھا رکھا تھا وہ ایک عورت کی طرف دیکھنے لگے تو آپ ﷺ نے ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہر ہ دوسری طرف پھیر دیا۔‘‘ (بخاری شریف)
معروف نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک بار رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے اپنے پاس بیٹھی امہات المومنین حضرت ام سلمہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پردے کا حکم دیا اس پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تعجب سے عر ض کیا۔’’یارسول اللہ ﷺ! یہ صحابی تو نابینا ہے( ان سے پردے کی کیا حاجت ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا۔’’ کیا تم بھی نابینا ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھ رہی؟‘‘ (ترمذی، احمد، ابواداؤد)
حضرت ام خلادر رضی اللہ تعالیٰ عنھا کا واقعہ ہے کہ ان کا بیٹا شہید ہوا تو وہ دربار رسالت، خاتم النبوت ﷺ میں پہنچ کر اپنے بیٹے کے متعلق دریافت کرنے لگیں ، ان کے چہر ے پر نقاب دیکھ کر بعض صحابہ کوتعجب ہوا اور انہوں نے کہا۔’’ آپ اپنے شہید بیٹے کاحال دریافت کرنے آئی ہیں اور غم و اندوہ کی اس کیفیت میں بھی چہرے پر نقاب ڈال رکھا ہے؟ یہ سن کر وہ غیور ایمان کے لبادہ میں ڈھلی خاتون آنے والی نسلوں کیلئے اپنے ایک جملے میں سو سو پیغام چھوڑ گئی، مسلم ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو ایک عظیم درس دیا۔ فرمایا۔’’ میرا بیٹا ہی مارا گیا ہے میری شرم و حیا ء تو نہیں ماری گئی(میں نے اپنا بیٹا کھویا ہے عفت و حیاء تو نہیں کھوئی)۔‘‘
آج مسلمانوں کے دل ایمان و عمل سے خالی ہیں ، ذوق عبادت سے قلب و جگر غافل ہیں ، ایمانی معاشرت اور حسن اخلاق کا چہرہ نوچا جارہا ہے، اسلامی اقدار کو پامال کیا جا رہا ہے، نوجوانوں کو دین کے اندر بیجا شکوک و شبہات بنا کر بہکایا جارہا ہے، ماؤں بہنوں بیٹیوں کو اسلامی اقدار ، قرآن وسنت کی تعلیمات سے بے بہرہ کیا جارہا ہے مغربی تہذیب ،شیطانی معاشرت کو دنیا میں ڈھالنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، پردے کی جگہ بے حیائی و بے پردگی کو دین کہا جارہاہے، حیاء کی بجائے کھل کر سامنے آنے اور جسم کی نمائش کرنے کو دین سے تشبیع دی جارہی ہے۔ ایمان و عمل کی تعلیم کی بجائے مغربی تہذیب ،شیطانی معاشرت کے اسلوب سکھائے جا رہے ہیں ، پردے کے پیچھے رہ کر بات کرنے اور حجاب کو لازم رکھنے کو وقیانوسیت کہا جاتا ہے۔ آج جن قوموں نے پردے کو ترک کر دیا ہے ان کی اخلاقی حالت بھی انتہائی پست اور خراب ہو چکی ہے۔ آج معاشرہ میں جو فحاشی و عریانی ، بداخلاقی ، بے حیائی،بے شرمی و بے پردگی کی جو گرم بازاری ہے اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اس نئی تہذیب نے پردے کو ایک بیکار شے سمجھ کر ترک کرنے کی حمایت کی ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جو قومیں تباہ ہو گئیں ان میں شیطانیت حد سے زیادہ تجاوز کر چکی تھی، ان کے افسانے ، قصے ، کہانیاں وغیرہ اس پر گواہ ہیں اور جو قومیں آج بڑی تیزی سے تباہیوں اور بربادیوں کی طرف بڑھ رہی ہیں اس کی وجہ بھی شیطانیت کے سوا اور کچھ نہیں۔بے پردگی جس قدر عام ہوگی شہوانیت بھی اسی قدر پھلے اور پھولے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج معاشرہ میں عورت کو عورتوں کی صحبت سے زیادہ مردوں کی صحبت پسند ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ آج جسم کی نمائش کا شوق حد سے بڑھتا چلا جا رہا ہے؟آخر کیاوجہ ہے کہ آج عورت کا جسم ایک فحاش ، نیم عریاں لباس سے بھی باہر نکلتا ہوا نظر آ رہا ہے؟
آج کی بے حیائی و بے پردگی نے پورے معاشرہ کو بے حیا ء ، بے شرم اور بے غیرت بنا کے رکھ دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے نوجوان قومی کرکٹ ٹیم کے کوئی میچ ہار جانے پر تو خون کے آنسو بہاتا ہے مگر کشمیر، فلسطین، بوسنیا، چیچنیا وغیرہ میں ہزاروں مسلمان ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کی بندر نما یہودیوں ، عیسائیوں اور ہندؤوں کے ہاتھوں ہونے والی عزت کی پامالی پر ذرا غم و غصے کا اظہار نہیں کرتے، ان کے چہروں پر مایوسی و غمی کی ہلکی سی لہر تک بھی پیدا نہیں ہوتی ، قبلہ اول بیت المقدس پر بندر نمایہودیوں کا قبضہ دیکھ کر بھی ان کا خون جوش نہیں مارتا ، حرمین شریفین کے گرد امریکی و برطانوی افواج کی موجودگی ان کے اضطراب و قلق کاباعث نہیں بنتی ۔

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
اور کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

  1. مسلمان اور فحاشی دو متضادہیں, ۔فحاشی کیا ہے؟
    اس کی کوئی ایک وضاحت نہیں یہ معاشرے پر منحصر ہے ۔کوئی وقت تھا مغرب میں ستر اتنا ہی سخت تھا جتنا اسلام میں ۔عورتیں برہنہ نہیں ہوتی تھیں ۔بعد میں جب معاشرہ سرمایہ داری کی لپیٹ میں آیا تو عورت کا جسم بھی انویسٹ ہونے لگا اور پورنوگرافی بھی اچھا نفع بخش بزنس بن گیا
    زنا کے مغرب میں دو بڑے اقسام fornication آور adultry مروج ہوئے ۔فارنیکیشن ایسی زنا جس میں دونوں شریک غیر شادی شدہ ہوتے ہیں اور ایڈلٹری ایسی زنا جس میں دونوں یا کوئی ایک شادی شدہ ہوتا ہے ۔مغربی معاشرے نے فارنیکیشن کو قانون میں گناہ offence کی لسٹ سے نکال دیا صرف ایڈلٹری کو گناہ قرار دے کر سزا رکھی گئی ۔اس تبدیلی نے نوجوان نسلوں میں فحاشی کو پروموٹ کیا ۔ اسلام کی سب سے بڑی خصوصیت حیا ہے ۔مسلمان کبھی بھی ایسے معاشرے کو قبول نہیں کریں گے جس میں ماں باپ اپنے غیر شادی شدہ بیٹوں اور بیٹیوں کو زنا کرنے کی اجازت دیں نہ ہی مسلم معاشرہ فارنیکیشن کو حلال کر سکتا ہے ۔ آخر زنا کی آزادی کو اخلاقیات کا حصہ کیسے قرار دیاجاسکتا ہے ؟کیا کوئی بھی نوجوان بیٹیوں بیٹوں اور بہنوں کے لئے پسند کرے گا کہ وہ بے راہ روی اختیار کرکے زنا کے قریب جائیں کیونکہ یہاں مغربی آزادی پیدا کرنی ہے۔۔یہ ممکن نہیں ہے کے سارے مسلمان مرد اور عورتیں حیا اور شرم سے زندگی گزارتے ہیں بہت ایسے ہیں جو بے حیائی کرتے ہیں اس کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ وہ مغربی سرمایہ دارانہ معاشرے کی پیدا کردہ برائیوں کا شکار ہیں ۔ان کا ایک سبب حقوق سے محرومی بھی ہے جو مذہب نے ان کو دیئے ہیں ۔اور اس کے علاوہ معاشی اور معاشرتی کمزوریاں بھی ہیں جس میں غربت اور جہالت اہم ہیں ۔لیکن اس حالت سے متاثرہ فحاشی یہاں کے سب باشندوں میں ہے جن میں ہندو عیسائی بھی شامل ہیں ۔

متعلقہ

Back to top button
Close