گوشہ خواتین

پردہ: تحفظ، عزت، اور وقار کا ضامن 

ذوالقرنین احمد

دنیا بھر میں  کچھ ملکوں میں ۴ ستمبر کو عالمی حجاب ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے اور کچھ ملکوں میں ۱ فروری کو ورلڈ حجاب ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے جس میں پردہ کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے غیر مسلم خواتین کو بھی مدعو کیا جاتا ہے اور پردے کے فوائد کو بیان کیا جاتا ہے حجاب کیسا ہونا چاہئے اس پر روشنی ڈالی جاتی ہے موجودہ پر فتن  حالات میں پردہ کتنا اہمیت کا حامل ہے آج کل بنت حوا کو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ پردہ دنیاوی تعلیم و ترقی میں ان کیلئے آڑ ہے لیکن ایسا نہیں پردہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جب انسان کوئی نئی چیز دنیا میں تخلیق کرتا ہے تو اس کے استعمال کا طریقہ بنانے والے سے زیادہ بہتر کوئی نہیں جانتا کیونکہ جس نے بنایا اسے ہی پتہ ہے کہ وہ کس مقصد کیلئے بنائی گئی ہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ نے دنیا کو وجود بخشا اور اپنے بندوں کیلئے ضابطہ حیات قرآن و حدیث کی شکل میں مقرر کر دیے جب انسان ان شراعی قانون پر عمل کریں کا تبھی دونوں جہان میں کامیاب ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے انسانوں کیلئے کیا ضروری ہے اور کیا نہیں کیونکہ کائنات کو تخلیق کرنے والا اللہ ہے۔

آج کل پردہ کو بوجھ سمجھا جانے لگا ہے دنیا کی ترقی کی دوڑ میں اسے رکاوٹ سمجھا جاتا ہے جب کہ پردہ خواتین کو اپنی عزت عصمت کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور پورے وقار کے ساتھ سماج میں جینے کا حق دیتا ہے کیونکہ حوس پرستوں کی نگاہوں سے خواتین کا تحفظ ہو سکے اور سماج میں عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگیں کہ عزت دار گھرانے کی خواتین ہے جو پردہ کرتی ہیں۔

مردوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے کہ جب غیر محرم پر نگاہ پڑھ جائیں تو فوراً اپنی نگاہوں کو نیچی کر لیں، لیکن آج کل عجیب حالات بنے ہوئے ہیں نوجوان لڑکے لڑکیاں سوشل میڈیا پر رقص کرتے ہوئے اپنی ویڈیوز اپلوڈ کرتے ہیں ابھی ایک نئی ایپ کا بڑا شور ہے جسے ٹک ٹاک کے نام سے جانا جاتا ہے ہر شخص کے موبائل میں یہ چند افراد کو چھوڑ کر اور اسکے اندر اپنے پسند کی موسیقی پر رقص کرتے ہوئے ویڈیوں بنائی جاتی ہیں جو ساری دنیا میں پھیل جاتی ہیں کالج یونیورسٹی یہاں تک کے اسکول کے لڑکے لڑکیاں بھی اس پر ناچتے تھرکتے ہوئے نظر آرہے ہیں جس میں ماں باپ بھی خوش ہوتے ہیں کہ میرا بچہ کیا خوب ڈانس کر رہا ہے چاہے پردہ میں رقص کریں یا بغیر پردہ کہ غیر محرم کو دیکھنے کی ہی اجازت نہیں ہے اور ہماری قوم کے نوجوان ایسی ایسی بے ہودہ ویڈیوز اپلوڈ کر رہے ہیں ایسے لگتا ہے آنے والا مستقبل کتنا اندھیر ہوگا۔

بہت سی خواتین کہتی ہے پردہ نگاہ اور دل کا ہوتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ پھر لباس ہی کیوں پہنا جائے آنکھیں کو ہی چپا لیا جائے ہوگیا پردہ نہیں ایسا نہیں ہے بنت حوا کو اپنی سوچ کو اسلامی نقطہ نظر پر ڈھالنا ہوگا کیونکہ ہر طرف حوس کے پوجاری کھلے عام گھوم رہے ہیں پردہ کسی کے ڈر و خوف سے نہیں کرنے کیلئے کہاں جارہا ہے بلکہ یہ اللہ کا حکم اس لیے فرض ہے اور موجودہ حالت کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ جب فحاشی و عریانیت عروج پر پہنچ چکی ہے تو ایسے حالات میں اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے چاہے مرد ہو یا عورت اسے بہکنے کیلئے زیادہ دیر نہیں لگتی جب شیطان آدم علیہ السلام و حوا علیہ السلام کو بہکا سکتا ہے تو اس دور کے لوگ کونسی کھیت کی مولی ہیں۔

پردہ کے بغیر تحفظ ممکن نہیں ہوسکتا اس لیے شرعی حیثیت کے مطابق خواتین کو پردہ کرنا ضروری ہے ہر انسان کے اندر نفس اس کا شیطان موجود ہے جو خواہشات کی طرف ابھارتا ہے اس لیے معاشرے کی حوس بھری نگاہوں سے بچنے کیلئے اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کیلئے پردہ کو لازم کریں اور شرعی حیثیت کے مطابق پردہ کریں فیشن و نمائش و آرائش والے برقعے پہن کر پردہ نہیں ہوتا بلکہ وہ مردوں کو اور اپنی طرف متوجہ کرنے سبب بنتا ہے اس لیے پردہ ایسا ہو جس میں خواتین اپنے آپ کو مکمل محفوظ محسوس کریں ورنہ اگر خواتین آزادی نسواں کے نام پر مغربی کلچر کے پیش نظر میرا جسم میری مرضی کو فروغ دیں تو پھر معاشرے میں جنسی درندگی پھیلتی رہی گی اللہ تعالیٰ تمام خواتین  کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

مزید دکھائیں

ذوالقرنین احمد

Freelance journalist Article writer Social Activitist مہاراشٹر۔انڈیا

متعلقہ

Back to top button
Close