گوشہ خواتین

پردے کی اہمیت

معروفہ نبی
آیات حجاب (ترجمہ):۔ اور جب ان سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کیلئے بہتر طریقہ ہے۔
اس آیت کو پردے کی آیت کہا جاتا ہے۔ بخاری میں حضرت انس بن مالکؓ کی روایت ہے کہ عمرؓ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کئی بار حضورﷺ سے کہہ چکے تھے کہ یا رسول ﷺ آپ کے پاس بھلے برے سب ہی قسم کے لوگ آتے ہیں اچھا یہی ہے کہ آپ اپنی ازواج مطہرات (پاک بیویوں) کو پردہ کرنے کا حکم دیں۔
کہ ایک بار عمرؓ نے حضور ﷺ کی بیویوں سے کہا کہ ’’اگر آپ کے حق میں میری بات مانی جائے تو کبھی میری نگاہیں آپ کو نہ دیکھیں۔ لیکن نبیﷺکے حکم کے بغیر کوئی قانون بنا نہیں سکتے تھے۔ اس لئے اﷲ کے حکم کا انتظار کرتے تھے۔ آخرکار یہ حکم آگیا کہ جس کو بھی خواتین سے کام ہو وہ پردے کے پیچھے سے بات کرے اس حکم کے بعد حضورﷺ کی بیویوں کے گھروں کے دروازوں پر پردے لٹکا دئے گئے۔
حضور ﷺ کا گھر تمام مسلمانوں کیلئے نمونہ کا گھر تھا اس لئے تمام مسلمانوں کے گھروں پر بھی پردے لٹک گئے۔
جدید دور کے حالات:۔
اب ذرا آج کے حالات کو سامنے رکھ کر سوچئے جب اﷲ تعالیٰ مردوں اور عورتوں کو آمنے سامنے بات کرنے سے روکتا ہے تو اسکو یہ پسند کیسے آسکتا ہے کہ عورتوں مردوں کی مجلسوں میں گڈصڈ ہو کر بیٹھیں یا دفتروں میں مردوں کے ساتھ کام کریں یا کالجوں میں کلاسوں کے اندر مردوں کے ساتھ بیٹھ کر تعلیم حاصل کریں۔ جو لوگ، دفتروں کالجوں اور عورتوں مردوں کی ملی جلی محفلوں کے حالات سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔ غیر ممکن ہے کہ ایسی جگہوں پر دلوں میں پاکیزگی قائم رہے۔
لفظ عورت کے معنٰی(چُھپنے کی چیز):۔ عورت نے اپنے آپکو اتنا گرا دیا کہ سر سے ڈپتہ کیا برقع بھی ہٹا دیا ۔
پردے کا حکم:۔’’ اور مومن عورتیں اپنی زینت کو سج دھج کے نہ دکھائیں لیکن کسی مجبوری سے جو آپ سے کھل جائے وہ معاف ہے اور اپنے سینوں پر اپنی چادروں کو ڈالے۔ اپنے پاؤں کو زمین پر اترائے کہ جو زینت انہوں چھپا رکھی ہوں اسے لوگ جان سکے‘‘۔
خوشبوں اور آواز بھی پردے میں ہیں:۔ ایک حدیث میں ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک بار دیکھا؛ ایک عورت مسجد سے نکل کر جارہی تھی، ان کے پاس سے گذری ان کو خوشبوں آئی۔ عورت کو روکا کر پوچھا۔ اے اﷲ کی بندی کیا تو مسجد سے آرہی ہے؟ بولی ہاں جی، ابو ہریرہؓ نے اسے بتایا کہ میں نے اپنے محبوب ابو القاسم ﷺ (یہ حضور کی کنیت)کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت مسجد میں خوشبوں لگا کر آئے اسکی نماز اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک وہ گھر جا کر غسل جنابت نہ کرے۔
اور وہ عورت جو گھر سے باہر خوشبو لگا کر نکلتی ہے۔ حضورﷺ نے عورتوں کو یہ ہدایت دی ہے کہ عورتیں ایسی خوشبو لگائے جس کا رنگ تیز ہو مگر اسکی مہک ہلکی ہو۔ حضورﷺ نے یہ بات بھی ناپسند فرمائی ہے کہ عورتیں بلا ضرورت اپنی آواز مردوں کو نہ سنائیں۔
پردے کا فائدہ:۔ کہ عورت غیر محرم کی نظر سے بچ جاتی ہے گناہوں سے بھی پاک رہتی ہے ذلت و رسوائی سے بھی بچ جاتی ہے۔ بے پردہ کے بغیر عورت شیطان کا جال ہے۔
جو مرد کسی عورت کی کلائیوں کی طرف نظر ڈالے یا نظر پڑھے گویا کہ اس نے اسکا سینہ دیکھا۔ کلائیوں کو سینہ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔
بھڑک دار برقع:۔ اب ہم ذرا اس سے ہٹ کر برقع کے بارے میں کچھ عرضیں کریں گے۔ بے شک برقع گھونگھٹ کی شکل ہے کہ جب برقع پر مرد کی نظر پڑھتی ہے تو مرد پھر اس عورت کی طرف مائل اس وقت ہوتا ہے۔ آج کل برقع پر وہ گلگاریاں اور بیل بوٹے بنائے جاتے ہیں کہ برقع خود خوبصورت بن گیا ہے۔ اسکا ڈایزائن عورت کیلئے خوبصورتی کا ذریعہ بن گیا ہے۔ شریعت ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہ برقع بھی دکھاوے کی چیز ہے۔ برقع ایسا ہو ناچاہیئے جو چست نہ ہو بلکہ ڈھیلا ہو برقع باڑی سے نہیں لگنا چاہیئے جس سے زینت کا حصہ ظاہر نہ ہو۔
پردہ کس سے:۔  یعنی باپ، داد، نانا، پرنانا، ان سے پردہ نہیں ہے۔ یہ سب محرم ہے ان کے علاوہ دوسرے بزرگوں سے پردہ ہے۔اپنے بیٹے، اپنے بیٹیوں میں پوتے پر پوتے، نواسے سب محرم ہے ان کو چھوڑ کر باقی سب رشتہ نا محرم ہیں۔
پردہ:۔ اﷲ جلہ شانہ نے مومن عورتوں کو قرآن میں حکم دیا ہے۔
آیت: وَقُلْ لَمُوْمِنَاتِ یَفُضْفِنَ مِنْ اَبْصَارِ ھِنَّ وَیَصْفَظْنَّ فُدُوْ جَھُنَّ وَلَا یُبْدِیَنَ زِ یَنَھْتُنَّ اِلَّا مَا ظَھَدِ مِنْھَاo
ترجمہ:۔ آپ ﷺ کہہ دیجئے ایمان والیوں سے کہ اپنے نظروں کو نیچے رکھیں:
عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اگر کسی ضرورت سے باہر نکلے تو نگاہ نیچی رکھے اور اپنے عزت و آبرو کی حفاظت کرے اور بن سنور کر نہ نکلے اور بغیر ضرورت کے اپنے جسم کو آرائش کا مظاہرہ نہ کرے۔
زمانہ جاہلیت میں عورتیں بن سنور کر نکلتی تھی۔ اپنے محاسن اور زیب و زینت کا کھلے مظاہرہ کیا کرتی تھی۔ اس کو کرنے سے انکو روکا کیا۔
ازواج مطہرات جو تمام امت کی مائیں ہے ان کے بارے میں کوئی غلط تصور بھی نہیں کر سکتا ہے۔ آیت میں خطاب سب کو ہے کہ جب عورت سے گفتگو کرنا ہوتو پردے کی آڑ میں گفتگو کرو۔ ایک موقعہ پر ایک نابینا صحابیؓ حضورﷺ کے گھر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ان کو پردہ کرنے کا حکم دیا کہ اے ازواج مطھرات تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اﷲﷺ وہ تونابینا ہے۔ ہمیں نہیں دیکھ سکتے تو آپﷺ نے کہا کہ وہ تو نابینا صحابی ہے مگر تم اسکو دیکھ تو سکتی ہو۔ یعنی جس طرح مرد غیر عورت کو نہ دیکھ سکتا ہے اسی طرح عورت غیر مرد کو بھی نہ دیکھ سکتی ہے اسی لئے تم اس سے پردہ کرو کیونکہ شیطان انسان کو بہکاتا ہے اور عورت کمزور طبیعت کی مالک ہے۔ اس لئے شریعت نے ہر ایسے راستے کو بند کیا جہاں سے کسی خرابی کے پیدا ہونے کا امکان ہو۔ اگر کسی ضرورت سے عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو خواہ وہ نبی ﷺ کی بیوی ہو، یا ولی کی، عام کی بیوی، یا مرید، پیر کی بیوی ہر ایک پردہ کے بغیر نہیں نکلتا ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ جب عورت گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اُس کو تانکتا اور جانکتا ہے اور اپنے پیروکاروں کو اسے دیکھنے سے اُبھارتا ہے اور اپنے فریب اور مکر کے ذریعے دونوں کو حرام میں گرفتارکر دیتا ہے اسی لئے نبی ﷺ نے عورت کو پردہ کا اہتمام کرنے کا حکم دیا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے کوئی چھوٹا بڑا انکار نہیں کر سکتا ہے کہ جس معاشرے میں پردے کا رواج ہے وہاں عورتوں کی عزت عام طور سے محفوظ رہتی ہے۔ جہاں پردہ کا رواج نہیں ہوتا ہے وہاں کی عورتویں دنیا و آخرت میں رسوائی اٹھاتی ہے تباہی میں مبتلا ہوتی ہے۔
اس لئے دل کی پاکیزگی اور حرام کاری سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ نگاہیں نیچی رکھی جائیں۔ عورتوں کو دیکھنے سے اجتناب کیا جائے تا کہ معاشرہ پاکیزہ بنے گا۔جب عورت کو مرد سے ضروری بات کرنی ہو تو رسیلی اور سریلی سے بات نہ کرے بلکہ کڑک دار آواز سے بات کرے تاکہ مردکو خوش فہمی نہ ہو۔
پردہ حفاظت کا ذریعہ ہے- تقویٰ حاصل کرنے کا ذریعہ:۔
پردہ کے ذریعے عورت متقی بن جاتی ہے۔ پردہ ایمان کی علامت ہے۔ بنو تمیم کی کچھ عورتیں باریک لباس پہن کر حضرت عائشہؓ کے پاس آئے، انہوں نے فرمایا کہ اگر تم مومن ہوتو ایسا لباس نہ ہو اس لئے کہ مومن عورتیں ایسا لباس نہیں پہنتیں اور اگر مومن نہیں ہو تو مزے کرو۔ حدیث میں آیا ہے کہ دنیا میں بہت سی لباس پہنچے دونوں برابر ہوگا ان کا لباس نہایت مختصر سے ہوگا یا چست ہوگا۔بے پردگی تمام فتنوں کی جڑ ہے اور بے حیائی اور بے حیائی کا زینہ ہے اسکی وجہ سے عورت حیاء کا دامن چھوڑ بیٹھتی ہے۔ بے پردگی ہو لناک تباہی کو دعوت دیتی ہے۔ بے پردگی موجب لعنت ہے۔ بے پردگی جہنمی عورتوں کی نشانی ہے۔

مزید دکھائیں

معروفہ نبی

مضمون نگار جامعہ اسلامیہ مہدُالمسلمات سرینگر میں عالمہ پنجم کی طالبہ ہیں

متعلقہ

Close