گوشہ خواتین

چہرے کا پردہ قرآن و سنت کی روشنی میں

اسامہ شعیب علیگ

اسلام نے خواتین کی فلاح و کام یابی کے لیے جو کچھ بھی تعلیمات پیش کی ہیں وہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے اور اس نے ان تعلیمات سے ان تمام ذرائع کا سدِّ باب کیا ہے جس سے معاشرے میں اخلاقی بے راہ روی پھیل سکتی ہے۔اسی لیے اسلام میں عورتوں کو غیر محرم مردوں کے سامنے بے حجابانہ جانے سے منع کیا گیا۔انسان کی عقلِ سلیم بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے ۔باغیرت خواتین نے اس حکم کی اطاعت بھی کی اوردورِ نبوی سے چودہویں صدی ہجری کے نصف تک انہوں نے بشمول چہرے کے پردہ کیا۔
مسلم خواتین پردے کے لیے چادر یا ڈھیلے ڈھالے عبایا اور برقع وغیرہ کا استعمال کرتی تھیں۔ مخالفینِ اسلام نے جب دیکھا کہ عبایا یا برقع کو ختم کرنا ناممکن ہے تو انہوں نے ایک دل فریب چال چلی۔انہوں نے ضعیف اور کم زور احادیث کا استعمال کر کے خواتین کو چہرہ کھلا رکھنے پر اکسایااور جب وہ ایسا کرنے لگیں تو حجاب کے لیے ڈریس ڈیزائنرس سے شوخ،رنگ دار،نقش و نگار،پھول اور بیل بوٹوں سے مزیّن کپڑے تیار کرائے گئے ،جن سے خواتین کی پیشانی ،بال اور چہرہ وغیرہ کو ایک خاص انداز سے دکھایا جاسکے اور اتنے ہی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ ایسے عبایا اور برقع تیار کرائے گئے جو بہرحال برقع تو ہیں لیکن اتنے چست اور تنگ ہوتے ہیں کہ جسم کے نشیب و فراز بخوبی نظر آتے ہیں اور ان کو مزید ڈیزائن دار اور دیدہ زیب بنایا گیاکہ اب جوعبایا یا برقع زینت چھپانے کے لیے اوڑھا جاتا تھاوہ بجائے خود زینت بن گیااور لوگوں کی نظریں ایسے ہی برقعوں کا تعاقب کرتی ہیں۔
یہ بیماری کب سے شروع ہوئی ؟تاریخ بتاتی ہے کہ چودہویں صدی کے نصف اخیر میں اسلامی حکومت کے خاتمے،دینی اقدار کے کم زور پڑنے اور مغربی تہذیب وتمدن کے غلبے سے متاثر ہو کر سب سے پہلے مصر کی مسلم خواتین نے چہرے کا پردہ اتارا۔والیِ مصر محمد علی پاشا کے دور میں رفاعہ طہطاوی نے فرانس سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد وطن پہنچ کر چہرے کے پردے کے خلاف ایک تحریک چلائی ،جسے مرقس فہمی،احمد لطفی سید،طہ حسین ،قاسم امین ،سعد زغلول اور احمد زغلول وغیرہ نے مزید آگے بڑھایا۔اس کے لیے باقاعدہ کتابیں اور میگزینس جاری کیے گئے۔جیسے’ تحریر المراۃ،المراۃ الجدیدۃ،المراۃ فی الشرق اورالسفور‘ وغیرہ،جس میں چہرے کے پردے اور برقع کے خلاف تحریریں لکھی گئیں اور فلمی اداکاراؤں کو خصوصی اہمیت دی گئی۔اس طرح سے یہ بیماری مصر،ترکی، شام، عراق سے ہوتے ہوئے رفتہ رفتہ پورے مسلم ممالک میں پھیلتی چلی گئی۔
جہاں تک چہرے کے پردے کی بات ہے تو عورت کے لیے چہرے کا پردہ واجب ہے۔کتاب و سنت میں اس کے متعدد دلائل موجود ہیں۔خود عہدِ نبوی سے لے کر خلافتِ راشدہ تک تمام مسلم خواتین کا اسی پر عمل رہا ۔
قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
و لا یبدین زینتھن الا ما ظھر منھا(النور:31)
’’اور وہ (خواتین)اپنی زینت ظاہر نہ کریں،ہاں مگر وہ زینت جو ظاہر ہو جائے‘‘۔
یہاں پر زینت سے مراد وہ چیزیں ہیں جو خود بخود ظاہر ہو جاتی ہیں۔جیسے عورت کے بدن کا خاکہ یا خدّوخال،یا ہوا کی وجہ سے کبھی برقع یا چادر کھسک جائے توجو ظاہر ہو جائے ۔یعنی بلاارادہ خود سے جو کچھ بھی ظاہر ہو، وہ اس میں شامل ہے۔لیکن چہرے کو اس میں شمار نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ وہ اس کوجان بوجھ کر ہی کھولے گی۔اسی مفہوم کو عبداللہ بن مسعودؓ، حسن بصریؒ ،ابن سیرین،ابراہیم نخعی اور سید ابوالاعلی مودودیؒ وغیرہ نے بیان کیا ہے۔
ایک اور جگہ اللہ تعالی نے فرمایا:
یا ایھا النبی قل لازوٰجک و بناتک و نساء المومنین یدنین علیھن من جلٰبیبھن ذٰلک ادنیٰ ان یعرفن فلا یؤذین و کان اللہ غفوراً رحیماً(الاحزاب:33)
’’ائے نبی!اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادر لٹکا لیا کریں،یہ (بات اس کے)زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لے جائیں اور انہیں ایذا نہ پہنچائی جائے،اور اللہ بہت بخشنے والا،نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘
صحابیات نے اس آیت سے مرادپورے بدن کے ساتھ ساتھ چہرہ ڈھکنا بھی لیا تھا۔حضرت ام سلمہؓ نے فرمایا:
’’جب یہ آیت نازل ہوئی تو انصاری خواتین سیاہ چادریں اوڑھے نکلیں۔‘‘(ابوداؤد:4101)
سورۃ نور میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
ولا یضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن(النور:24)
’’اور اپنے پاؤں (زمین پر)نہ ماریں تاکہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں‘‘۔
یعنی اگر عورت نے پائل وغیرہ پہنی ہوئی ہے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ زمین پر پاؤں مارتی چلے کہ مرد جھنکار سے اس کی طرف مائل ہو۔یہاں پر غور کرنے کی بات ہے کہ پائل تک سے تو منع کیا جا رہا ہے لیکن کیا ایسا ممکن ہے کہ چہرہ ہی جس میں سارا حسن اورکشش ہے، اسے یو ں ہی لوگوں کو اپنی طرف دعوت دینے کے لیے کھلا رکھنے کے لیے کہا جائے گا؟
حضرت جابرؓسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جب تم میں سے کوئی کسی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجے،اگر ممکن ہو تو اس کا وہ پہلو دیکھ لے جو اسے عورت کے ساتھ نکاح کرنے پر آمادہ کرے۔(اگر ایسا ممکن ہو تو)تو ضرور ایسا کرے‘‘۔
حضرت جابرؓ کہتے ہیں :
’’اس کے بعدمیں نے بنی سلمہ کی ایک خاتون کو نکاح کا پیغام بھیجا اور میں نے انہیں کھجوروں کے درختوں کے پیچھے چھپ کر دیکھنے کی کوشش کی ۔آخر کارمیں نے انہیں دیکھ لیا جس سے مجھے ان سے نکاح کی رغبت ہوئی اور میں نے ان سے شادی کر لی‘‘۔(ابوداؤد:2082)
قابلِ غور بات یہ ہے کہ اگر اس زمانے میں خواتین اپنے چہروں کو کھلا رکھتی تھیں تو حضرت جابرؓ کو اس خاتون کو چھپ کر دیکھنے کی کیا ضرورت تھی؟
حضرت اسما ء بنت ابی بکرؓسے روایت ہے :
’’ہم اجنبی مردوں سے چہرے چھپایا کرتے تھیں‘‘۔(المستدرک للحاکم:1/454)
شیخ الاسلام حافظ ابن حجر(852ھ)فرماتے ہیں:
’’قدیم و جدید دونوں دور میں خواتین اجنبیوں سے چہرے کا پردہ کرتی ہیں‘‘۔
امام غزالی کے مطابق:
’’مردوں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ چہرا کھلا رکھتے اور عورتیں نقاب اوڑھ کر نکلا کرتی تھیں‘‘۔(فتح الباری:9/337)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ چہرے کا پردہ کرنا دینی تقاضے کے تحت نہیں،بلکہ یہ محض ایک علاقائی روایت ہے۔لیکن عرب کے علاوہ ترکی،مصر،تیونس اور شام کی قدیم تصاویر سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلم خواتین چہرے کا پردہ کیا کرتی تھیں۔(ملاحظہ کریں :کتاب الطاہر الحداد و مسئلۃ الحداثۃ،احمد خالد)
فقہاء احناف جیسے امام ابوبکرجصاص،امام علاؤالدین،امام طحاوی اور حاشیہ ابن عابدین وغیرہ کے مطابق:
’’خواتین کے لیے اجنبی یا غیر محرم مردوں کے سامنے چہرہ کھولنا جائز نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ چہرہ ننگا کرنا فتنے کا باعث ہو سکتا ہے‘‘۔
مالکی مسلک کے حاملین اکابر فقہاء جیسے قاضی ابوبکر ابن العربی،قرطبی،امام ابن عبدالبراور امام آبی وغیرہ کے مطابق:
’’عورت کے لیے چہرہ کھولنا بوقت ضرورت ہی جائزہے اور اگر فتنہ کا ڈر ہو تو عورت کے لیے چہرہ اور ہاتھ دونوں کو چھپانا ضروری ہے‘‘۔(جواہر الاکلیل:1/1 4)
اورموجودہ دور میں تو کوئی کافر ہی فتنے سے انکار کرسکتا ہے کیوں کہ اس وقت نوجوان عورتیں تو دور،چھوٹی معصوم بچیاں بھی درندوں سے محفوظ نہیں ہیں۔
فقہاء شوافع جیسے اما م الحرمین جوینی،امام ابن رسلان،امام موزعی جیسے مشہور فقہاء کی رائے ہے کہ:
’’ فتنے کا خدشہ ہو یا نہ ہو،عورت کے لیے غیر محرم کے سامنے چہرہ کھولنا جائزنہیں ہے‘‘۔(روضۃ الطالبین:7/27)
بہرحال درج بالا دلیلیں توقرآن و حدیث سے تھیں لیکن اگر عقلی طور سے بھی دیکھا جائے تو ایک انصاف پسند آدمی بہت اچھے سے سمجھتا ہے کہ چہرہ ہی عورت کے حسن کا مرجع و منبع ہے اور فتنہ اسی کو دیکھنے سے ہوتا ہے۔چناں چہ وہ کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایک عورت کو ہاتھ پیر اور گردن وغیرہ کو چھپانا چاہیے کہ اس سے انسان آزمائش میں پڑتا ہے اور اس کے جنسی جذبات بھڑک اٹھتے ہیں،البتہ چہرے کو اپنے جلوہ اور تمام ترحشر انگیزیوں کے ساتھ کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور مرد اسے دیکھ کر قابو میں رہے گا۔
جو لوگ چہرے کاپردہ ضروری نہیں سمجھتے ہیں ان کو چاہیے کہ لڑکی کی منگنی کے وقت اس کاچہرہ دیکھنے کے بجائے صرف اس کا ہاتھ پیر ہی دیکھ لیا کریں،لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوں گے ۔ اس وقت چہرہ دیکھنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کا اصل حسن کس میں ہے؟
جو لوگ چہرے کے پردے کے قائل نہیں ہیں ،ان کی پہلی دلیل حضرت جابرؓ سے مروی یہ حدیث ہے :
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن اپنے خطبہ کے آخر میں خواتین کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو آپؐ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ایک’ میلے رخسار والی‘ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے پوچھا:ائے اللہ کے رسول !کیوں؟۔۔۔الخ‘‘(مسلم:885)
اس میں حضرت جابرؓ کا لفظ ’میلے رخسار والی‘سے ان لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ اس عورت کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس واقعہ کو حضرت جابرؓ کے علاوہ حضرت ابوہریرۃؓ،حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ،ابن عباسؓ،ابن عمرؓ اور ابوسعید خدریؓنے بھی بیان کیا ہے لیکن کسی نے بھی لفظ’میلے رخسار والی‘ کا استعمال نہیں کیا ہے۔اس لیے ممکن ہے کہ جابرؓ اس خاتون کو پہلے سے جانتے رہے ہوںیا حکمِ حجاب سے پہلے بھی انہوں نے اسے دیکھا ہویاہو سکتا ہے کہ وہ لونڈی ہوں کہ اس دور میں عموماً ایسی لونڈیاں ہوا کرتی تھیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ حکمِ حجاب سے پہلے کا ہو کیوں کہ یہ حکم 4ھ میں نازل ہوا اور عید کی نماز 2ھ ہی میں فرض ہو گئی تھی۔فقہ میں ایک اصول ہے کہ کسی روایت کی تشریح میں احتمال ہو تو اس سے استدلال کرنا اور اسے بطور دلیل لینا درست نہیں ہوگا۔
چہرے کے پردے کے منکر اپنی دلیل میں ایک یہ بھی حدیث پیش کرتے ہیں کہ خالد بن دریک نے حضرت عائشہؓ کے حوالے سے بتایا:
’’حضرت اسماء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو ان کے بدن پر بارک کپڑے تھے۔آپؐ نے منہ پھر کر فرمایا:اسماء!جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے چہرے اور ہاتھ کے سوا بدن کا کوئی حصہ نظر نہیں آنا چاہیے‘‘۔(ابوداؤد:4104)
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے کیوں کہ امام ابوداؤد خود لکھتے ہیں :
’’ یہ خالد بن دریک کی مرسل روایت ہے ،اس نے حضرت عائشہؓ کا زمانہ نہیں پایا تھا اور اس کی سند میں ایک راوی سعید بن بشیر ابو عبدالرحمٰن بصری ہے، جوضعیف ہے۔اس کے علاوہ اس میں دو راوی قتادہ اور ولید بن مسلم ہیں جو حدیث میں ’تدلیس ‘کے مرتکب ہوئے ہیں‘‘۔
اس طرح سے یہ حدیث ضعیف ثابت ہوتی ہے اور اس کو بطور دلیل پیش کرنا درست نہیں۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہؓ کے ساتھ بیٹھے ہوں اور حضرت اسماء جو حضرت عائشہ سےؓ ؓبڑی ہیں وہ آپؐ کے سامنے باریک کپڑوں میں آجائیں۔ان سے اس بات کی توقع کرنا نامناسب ہوگا کیوں کہ جاہلی دور میں بھی شرفاء کی خواتین پردہ کرتی تھیں تو اسلام آنے کے بعد تو بدرجہ اولیٰ اس پر توجہ دی گئی ہوگی۔
اسی ضمن میں ایک بات یہ بھی کہ بعض خواتین سے جب پردے کی بات کی جاتی ہے تو کہتی ہیں کہ اصل تو’ دل کا پردہ‘ ہونا چاہیے۔لیکن کیا ان کے دل امہات المؤمنین،نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں اور صحابہ کرام کی ماؤں اور بہنوں سے زیادہ صاف اور پاکیزہ ہیں؟ہرگز نہیں،لیکن اس کے باوجود ان خواتین نے بشمول چہرے کے پردہ کیا۔اگر اس’ دل کے پردے‘ کے مفروضے کو ایک پل کے لیے مان بھی لیا جائے تو پھر لباس ہی پہننے کی کیا ضرورت رہتی ہے ؟بغیر لباس کے بھی تودل کا پردہ ہوسکتا ہے۔۔۔ لیکن اس کے لیے کوئی راضی نہ ہوگا۔
ایسا بھی دیکھا جاتا ہے کہ ماں اور بیٹی ساتھ میں جارہی ہیں ،ماں تو برقع میں ہیں لیکن بیٹی صاحبہ بغیر پردے کے ہیں ،جب کہ پردے کی ضرورت ماں کے بالمقابل بیٹی کو زیادہ ہوتی ہے۔شاید اس میں اس رواج کا زیادہ دخل ہے کہ پردہ تو شادی کے بعد کرنا چاہیے،اس سے پہلے ضروری نہیں ہے ،مگر ہر سلیم العقل والا انسان بخوبی جانتا ہے کہ صنفِ نازک میں زیادہ حسن اور کشش شادی سے پہلے ہوتی ہے یا بعد میں۔ اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جو پردے کا حکم دیا ہے اس کو بے چوں چرا مان لیا جائے۔اسی میں دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی ہے۔
****

مزید دکھائیں

اسامہ شعیب علیگ

مضمون نگار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے گیسٹ فیکلٹی ہیں۔ آپ نے ایک کتاب کے علاوہ ۱۵ مقالے اور ۷۰ کے قریب مضامین تصنیف کیے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close