گوشہ خواتین

کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی؟

صدف ثناء الحق

(فاضلہ معہد عائشہ صدیقہ قاسم العلوم للبنات دیوبند)

میں خوشی سے جھوم رہی ہوں 8؍فروری عالمی یوم خواتین ہے، ہمارے ملک ہندوستان میں ایک سال قبل وزیر اعظم مودی کے فرمان کے بعد ملک میں خواتین کو ان کے حقوق فراہم کردیئے گئے ہیں ان کا ذہنی اور جسمانی استحصال نہیں ہوتا، دلی کی سڑکیں ہوں یا پھر بنارس ہندو یونیورسٹی، بنگلور ہو یا جے پور ہر جگہ خواتین آزاد ہیں۔ آزادی سے ایک جگہ سے دوسری آجا سکتی ہیں، جہیز کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے، بیٹی کی پیدائش پر حکومت کی جانب سے اس کی تعلیم اور تربیت کے اخراجات پورے کئے جاتے ہیں اس لئے لوگ بیٹیوں کو مادر رحم میں مارے جانے کی بات دور پیدائش کی دعائیں کررہے ہیں، مودی جی اپنی پتنی جشودا بین کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں، ملک میں خواتین اور بچہ مزدوری کا تصور ختم ہوچکا ہے، چوری ڈکیتی، زنا کا تصور عنقاء ہوچکا ہے، امن وامان کا بول بالا ہے، گاندھی جی، بھیم رائو امبیڈکرکی مورتیوں کو صبح صبح عوام الناس پھولوں کی مالا پہناتے ہیں سب کچھ بدل چکا ہے، مسلم خواتین کو انصاف دلادیا گیا ہے ان کی تعلیم کا بندوبست ان کے مذہب کے مطابق دینی ماحول میں کیا گیا ہے، مسلم بہنیں اب ڈاکٹر، انجینئر اور وکیل بن کر ترقی کی نئی راہیں قائم کررہی ہیں چہار جانب وکاس ہورہا ہے۔

میں نے بھی آج پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلی ہے ابھی میرے یونیورسٹی کی وائس چانسلر مجھے ڈگری دینے والی ہیں میں خوشی خوشی جھوم رہی ہوں میرے چہار جانب نقاب پوش خواتین موجود ہیں کیونکہ مودی جی کے ذریعہ قائم اسلامی یونیورسٹی میں میرا داخلہ ہے، جہاں اسلامی ماحول میں تعلیم دی جاتی ہے بیٹی پڑھائو اور بیٹی بچائو کا نعرہ کامیاب کیا جاتا ہے، اور سب کا ساتھ سب کا وکاس ہورہا ہے۔ اچانک میرے نام کا اعلان ہوتا ہے میں اپنی ڈگری لینے کے لئے اپنی کرسی سے اٹھتی ہوں اور دوڑتے ہوئے اسٹیج کی جانب جاتی ہوں کہ اچانک ایک آواز’’ ارے صدف اٹھو فجر کی نماز کا وقت ہوگیاہے ‘‘مجھے بیدار کردیتی ہے اور میرے سارے سپنے جو چکنا چور ہوجاتے ہیں گویا کہ یہ ملک جو ابھی میں نے دیکھا تھا یہ صرف میرا خواب تھا حقیقت اس کے برعکس ہے اوروہ انتہائی خطرناک ہے۔ مودی جی کا جملہ صرف جملہ ہی رہ گیا ہے ملک کی صورت حال بھیانک سے بھیانک ہوتی جارہی ہے۔ آج 8؍فروری کو جب دنیا عالمی یوم خواتین منارہی ہے بھارت کی خواتین اسی ظلم وستم کا شکار ہے اس کے لئے کچھ نیا نہیں ہے، پیٹ بھرنے کے لئے آج بھی وہ مزدوری کررہی ہے، جی ہاں یہ ہمارا ملک بھارت ہے جہاں آج تک کے سروے کے مطابق ہر پندرہ منٹ پر ایک خاتون کی عصمت ریزی ہوتی ہے، ہر گھنٹے چار خواتین اپنی عصمت گنواتی ہیں اور ہر چار گھنٹے میں ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی آبرو ریزی ہوتی ہے ، ہر چوتھے دن پولیس محافظین کی حفاظت میں ایک بھارتیہ ناری کی عزت لوٹی جاتی ہے، ایک سال میں تقریباً 2113؍اجتماعی آبرو ریزی کے معاملات درج کئے جاتے ہیں، پورے سال میں 34651خواتین کی عصمت وعفت کی چادر تار تار کی جاتی ہے۔

یہی نہیں بلکہ زنا کے 32فیصد معاملات ابھی زیر التوا ہیں اور جبکہ 29؍فیصد میں سزا سنائی گئی ہے۔ ملک میں 95؍ہزار زنا بالجبر کے معاملات درج ہیں۔ یہ اعداد وشمار ان معاملات سے الگ ہیں جن کو پولیس میں درج نہیں کرایا جاتا اوروہ جو محبت اور عشق کے نام پربیٹیوں کی عصمت وعفت کو تار تار کیا جاتا ہے وہ اس سے الگ ہے جی ہاں ہم اس بھارت کی خواتین ہیں جو بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق عورتوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کے معاملے میں 19؍نمبر پر ہے جبکہ سعودی عربی، جرمنی، برسٹین، آسٹریلیا، فرانس عورتوں کو حقوق فراہم کرنے میں اس سے بلند مقام پر ہیں، سعودی جس پر قدامت پسندی کا لیبل لگایا جاتا ہے وہ بھی ہمارے ملک سے بلند مقام پر ہے۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت نے 2016میں ایک سروے کرایا تھا جس کے مطابق ملک کی 28فیصد خواتین ایسی ہیں جنہوں نے کبھی نا کبھی اپنے شوہر کے ہاتھ مار کھائی ہے۔ اس کے علاوہ ساڑھے تین فیصد عورتیں دوران حمل بھی شوہر کے تشدد کا نشانہ بنی ہیں، سروے کے مطابق صرف 24؍فیصد خواتین ایسی ہیں جن کو وقت پر مزدوری مل جاتی ہے۔ سروے کے مطابق 53؍فیصد عورتوں کے پاس ہی بینک کا کھاتا ہے۔ 40؍فیصد بچیاں 19؍سال سے قبل ہی تشدد کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اگر عورتوں کی صحت کی بات کریں تو 53؍فیصد عورتیں انیمیا یعنی خون کی کمی کا شکار ہیں علاوہ ازیں بھارت میں خواتین فیکٹریوں پر بھی کام کرنے پر مجبور ہیں جہاں انہیں مناسب اجرت نہیں دی جاتی ہے بھٹہ مزدوری کا سروے پیش کرتے ہوئے، تھامسن روئٹرز فائونڈیشن کے ارکان نے بتایا کہ ان خواتین کو مردوں کے برابر تنخواہ اوررہائش کی بہتر سہولیات نہیں دی جاتی ہے۔

بیٹی بچائو اور بیٹی پڑھائو کا نعرہ دینے والے ہمارے اس ملک میں بیٹی کی تعلیم کا بھی کوئی نظم نہیں ہے وہ بہتر تعلیم کے حصول کے لئے بعض مرتبہ جنسی استحصال کا بھی شکار ہوجاتی ہے حال یہ ہے کہ ملک کی 65؍فیصد ہی خواتین تعلیم یافتہ ہے۔ ہزاروں بچیاں اور مائیں جہیز کے نام پر زندہ جلادی جاتی ہیں۔ ملک کی 87؍فیصد خواتین ہمیشہ ذہنی تنائو کا شکار رہتی ہیں، ان کو باتوں میں نہیں کہہ رہی ہوں بلکہ ملک کی الگ الگ ایجنسیز اور نیوز پورٹل کے سروے یہ سب بتارہے ہیں اور ملک کے پردھان سیوک ان مسائل پر بات نہ کرکے صرف طلاق ثلاثہ کی بات کررہے ہیں اور کہہ رہے کہ ہم مسلم بہنوں کو انصاف دلائیں گے انہیں شاید یہ چیزیں نظر نہیں آرہی ہیں یا پھر وہ کسی اور ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ملک میںمختلف سروے کے مطابق مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے ان میں طلاق کی شرح بہت زیادہ تو صرف ایک فیصد ہے جبکہ حکومت کے اپنے کرائے ہوئے سروے کے مطابق جو کہ چند ہزار خواتین پر کرایا گیا ہے 11؍فیصد ہے۔

اگر اس کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو تعلیم، روزگار، صحت اور عصمت ریزی کے تناسب کے مقابلے میں یہ تناسب بہت کم نظر آتا ہے لیکن آر ایس ایس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے ملک کے پردھان سیوک کو ملک کی خواتین کا درد نظر نہیں آرہا ہے بلکہ صرف ایک خاص فرقہ کو ٹارگیٹ کرنا ہی ان کا مقصود ہوگیا ہے یہی وجہ ہے کہ ملک کی پیڈ میڈیا اور حکومتی ادارے گذشتہ چند مہینوں سے طلاق کے مدعاکو اس طرح اٹھائے ہوئے گویا کہ ملک کا سب سے بڑا معاملہ اور اہم معاملہ یہی ہے ترقی کی راہ میں اس سے بڑی کوئی رکاوٹ نہیں ہے جبکہ ملک کی مسلم خواتین نے صاف اعلان کردیا ہے کہ انہیں اپنی شریعت عزیز ہے اور وہ اسی پر عمل کریں گے۔ حیرت ہے خواتین کے تحفظ کے نام پر بل لایا جاتا ہے اور اس میں ملک میں لٹتی پٹتی خاتون کا تذکرہ نہیں ہوتا بلکہ صرف ملک کی ایک فیصد خواتین کی بات ہوتی ہے ان 90ہزار کی بات نہیں ہوتی جو اپنی عصمتیں لٹا چکیں ہیں اور انصاف کے انتظار میں در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں۔

بک رہی ہوں جنوں میں کیا کیا میں

کچھ نا سمجھے خدا کرے کوئی

مزید دکھائیں

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close