گوشہ خواتین

عورتوں  کے ساتھ چھیڑ خانی اور عصمت دری کے واقعات

 اس میں  کوئی شک نہیں  کہ عورتوں  پر ملک بھر میں  مظالم ہورہے ہیں۔  اس کے تدارک کی کوششیں  بھی کی جارہی ہیں  مگر اس میں  سخت سے سخت قانون بنانے کے باوجود کمی نہیں  ہورہی ہے۔ پولس اور انتظامیہ کی موجودگی بھی مظالم کو کم کرنے سے قاصر ہے۔ یہ ایک افسوسناک پہلو ہے۔ اس سے بھی افسوسناک دوسرا پہلو ہے کہ ملک کا سوچنے اور سمجھنے والا طبقہ کیوں  کمی نہیں  ہورہی ہے؟ اس پر سرے سے غور و فکر کرنے کیلئے تیار نہیں  ہے۔ یہ جہل خرد کا طبقہ کی ایک کوشش ہے یہ باور کرانا کہ سارا قصور لڑکوں  یا مردوں  کا ہے اور لڑکیاں  یا عورتیں  بالکل بے قصور ہیں  اور دوسرا یہ کہ پولس اور انتظامیہ ناکام ہے یا چشم پوشی سے کام لیتی ہے۔

بنگلور کی شاہراہوں  پر نئے سال کے استقبال میں  جو تقریب ہر سال منائی جاتی ہے ہر سال لڑکیوں  کے ساتھ چھیڑ خانی کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔  اس سال بھیانک واقعات رونما ہوئے جو میڈیا خاص طور سے خاص طور سے انگریزی نیوز چینلوں  نے جو بحث و مباحثہ کا انداز پیش کیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو اپنے چینلوں  کی مقبولیت بڑھانے سے زیادہ دلچسپی ہے، جرائم کم کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں  ہے۔

  سماج وادی پارٹی مہاراشٹر کے ایک ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی اور کرناٹک حکومت کے وزیر داخلہ پرمیشور کی باتوں  کو انگریزی نیوز چینل نہایت بے تکے انداز سے پیش کرتے رہے، جیسے ان لوگوں  کی باتوں  میں  کوئی وزن ہی نہیں  ہے۔ ابو اعظمی نے نہایت درست بات کی کہ لڑکیوں  یا عورتوں  کو رات کے وقت دس گیارہ بجے یا ایک دو بجے اکیلے جانا نہیں  چاہئے۔ اگر جائیں  بھی تو اپنے شوہر، بھائی یا سرپرستوں  کے ساتھ جائیں۔  انھوں  نے یہ بھی کہاکہ عورتوں،  لڑکیوں  کو حفظ ما تقدم کے طور پر ایسے نیم لباس اور برہنہ پن سے بھی پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ ہندستان میں  مغربی تہذیب کو برآمد کرنا اچھا نہیں  ہے۔ اس پر چینلوں  پر بیٹھے اینکروں  کا رویہ نہایت غلط تھا کہ وہ ابو اعظمی کو ڈانٹ پھٹکار رہے تھے کہ ’’آپ کون ہوتے ہیں  کہ لڑکیاں  کب جائیں ؟ کیسے جائیں ؟ کس کے ساتھ جائیں  اور کس طرح کا لباس زیب تن کریں ؟‘‘ ابو اعظمی کا جواب تھا کہ وہ اپنی ماؤں،  بہنوں  کی عزت و حرمت کیلئے یہ باتیں  کہہ رہے ہیں۔  وہ محض مشورہ دے رہے ہیں ،  گزارش کر رہے ہیں۔  ایسا لگتا ہے کہ نیوز چینلوں  کے اینکروں  کو اپنے مالکوں  اور مغرب کے آقاؤں  کی طرف سے اشارہ ہے کہ وہ مغربی کلچر کو فروغ دیں۔  اگر کوئی کہتا ہو کہ آبادیوں  میں  شراب خانے کی دکانیں  نہیں  ہونی چاہئیں  یا اس طرح کی چیزیں  نہیں  ہونی چاہئیں  جس سے برائی کرنا لوگوں  کیلئے مشکل کے بجائے آسان ہوجائے تو اس کی پکڑ میڈیا کی طرف سے یا بڑے بڑے اخبارات کی طرف سے ہونے لگے تو کس قدر احمقانہ بات ہوگی۔

 سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ حال ہی میں  سنایا ہے کہ سڑکوں  پر شراب کی دکانیں  نہیں  ہونی چاہئیں۔  اس کیلئے کسی نے سپریم کورٹ کو ملعون و معتوب نہیں  کیا کہ سپریم کورٹ ہوتا ہے کون؟ سپریم کورٹ نے بھی لاری یا بس ڈرائیورو کی طرف سے آئے دن حادثات کی وجہ سے یہ کرنے پر مجبور ہوا ہے مگر یہ بھی ایک سطحی فیصلہ کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ لاری یا بس کے ڈرائیور اگر راستوں  پر شراب کی دکانیں  نہیں  ملیں  گی تو وہ پہلے سے ہی جہاں  شراب دستیاب ہوگی وہاں  سے خرید کر گاڑیوں  میں  رکھ لیں  گے یا ایسے لوگوں  کی کمی نہیں  ہے جو مفت سروس کے طور پر پینے والوں  کے گھروں  اور گاڑیوں  میں  شراب آسانی نہ پہنچا دیں  پھر بھی اس فیصلہ کو اچھی نظر سے دیکھنا چاہئے کہ برائی کے اڈہ کو مشکل بنانے کی کوشش تو کی گئی۔ اسی طرح اگر عورتوں،  مردوں  کے آزادانہ میل جول (Free mixing) پر کوئی نکتہ چینی کرتا ہے تو اس کی زبان کھینچ لینے کی کوشش کرنا کس قدر حماقت اور نادانی ہے۔

 جہاں  تک راستہ چلتے کسی مہذب خاتون یا لڑکی سے چھیڑ خانی کرنا یا اسے دق کرنا پریشان کرنا ہے۔ اس کی زبردست روک تھام ہونی چاہئے۔ عوام میں  بھی بیداری ہونی چاہئے تاکہ اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوں  لیکن بنگلور یا کسی اور شہر کی شاہراہوں  پر مغربی طرز کی تقریبات ہوں  جس میں  مردوں  اور عورتوں  کا لڑکے اور لڑکیوں  کا اختلاط ہو اور تحفظ کا بھی بندوبست ہو۔ یہ تو ایسا ہی ہوا جیسے آگ بھی ہو اور تیل بھی ہو۔  دونوں  کے ملنے ملانے پر پابندی نہ ہو اور آگ لگنے کا بھی خطرہ نہ ہو، یہ دونوں  چیزیں  بالکل الگ الگ ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ پوری دنیا میں  بے حیائی اور حیا کا مقابلہ ہورہا ہے۔ جو لوگ حیا کے حق میں  ہیں  ان کو زیر کرنے کی ہر طرح کی کوشش ہورہی ہے، جس کی وجہ سے بے حیائی کا سیلاب بڑھتا چلا جارہا ہے۔ بے حیا لوگوں  کی تعداد بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ وسائل اور ذرائع بھی بے حیا لوگوں  کے ہاتھوں  میں  آگئے ہیں۔  ننگی تصویریں،  فحش فلمیں،  جنسی رسالے اور اب تو انٹرنیٹ اور موبائل پر بلو فلموں  کی بھرمار ہے۔ اس طرح سے لڑکے اور لڑکیوں  میں  جنسی جذبات کی آگ بھڑکانے والی بے شمار چیزیں  دستیاب ہیں۔  ان حالات میں  لڑکے لڑکیوں  کی گمراہی، بدچلنی اور بے حیائی کے واقعات کا ہونا غیر فطری چیز نہیں  ہے۔ جو لوگ عیش و عشرت کی محفلوں  کو سجانا چاہتے ہیں،  ننگے پن اور بے حیائی کے مظاہرے کو پسند کرتے ہیں،  دنیا کے وسائل و ذرائع ان کے ہاتھ میں  آگئے ہیں۔  اس لئے بے حیائی اور بدتمیزی کے سیلاب کو آسانی سے روکنا مشکل ہے۔ جب تک کہ ایسے لوگوں  کے ہاتھوں  میں  وسائل و ذرائع نہیں  آتے جو حیا پسند ہیں،  جو تہذیب و شائستگی کو فروغ دینا چاہتے ہیں،  جو بے شرمی اور بے حیائی کے سخت مخالف ہیں ۔  اسلام میں  حیا کو نصف ایمان کا درجہ دیا گیا ہے۔ بے حیائی کو ہر طرح سے روکنے کے اصول و ضوابط مقرر کئے گئے ہیں۔

 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اذا لم تستحی فاصنع ماشئت ’’جب تجھ میں  حیا نہیں  تو جو تیرا جی چاہے کر‘‘ کیونکہ جب حیا نہ ہوگی تو خواہش جس کا مبداء جبلّتِ حیوانی ہے تجھ پر غالب آجائے گی اور کوئی منکر تیرے لئے منکر ہی نہ رہے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close