گوشہ خواتین

اسلام میں عورت کا مقام ومر تبہ

عورت کی ناموس اور اس کی عصمت کاتحفظ صرف اسلامی سماج میں ہے، سماج کو بے حیائی، بد کرداری، فحاشی، جنس پرستی، اغوا، بد کار ی، اور زنا بالجبر جیسے واقعات جرائم سے پاک کرنے کی ضمانت صرف اسلام میں ہے، دنیا کی تمام تحریکات اور تمام نظریات فطرت سے بغاوت کی وجہ دم توڑ چکے ہیں، اسی لئے دنیا کو ایک بار اسلام کا تجربہ بھی کر نا چاہئے ۔

مزید پڑھیں >>

خواتین اپنی اہمیت سمجھیں اور مردوں کے لیے معاون و مددگار بنیں!

تین طلاق پر سپریم کورٹ کا جو فیصلہ آیا ہے اس سے وہ خواتین خوش ہیں جن کے یہاں مذہب کو ثانوی حیثیت حاصل ہے اور جو انگریزی تعلیم حاصل کر کے روشن خیال تو ہوگئی ہیں لیکن انہیں ہر وقت اپنا وجود خطرے میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے نہ تو سیرت نبویؐ کا مطالعہ کیا ہے اور نہ ان صالح خواتین کے کردار و عمل کو دیکھا ہے جنہوں نے مردوں کو قدم قدم پر سہارا دیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ذراسا موسم بدلتا ہے اور ان کی پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ وہ احساس کمتری سے کیوں نہیں نکلتیں؟

مزید پڑھیں >>

انسانی تاریخ کے عروج و زوال میں بنت حوا کاکردار

اکیسویں صدی کی اس فرعونیت سے پہلے یہ کارنامہ اسی مصر میں جمال ناصر اور شام میں حافظ الوحشی کے ذریعےانجام دیا گیا۔ مشہورو معروف سماجی خدمت گار زینب الغزالی کو نو سال اور شام کے ایک کالج میں زیر تعلیم ایک مسلم دوشیزہ مریم دباغ کو پانچ سال تک سلاخوں کے پیچھے جس خوفناک اذیت اور تشدد سے گذارا گیا یہ پوری داستان انہیں کی زبانی ان کی تصنیف "زنداں کے شب وروز" اور "صرف پانچ منٹ" میں پڑھا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

حجاب کے خلاف فلم کا حقیقت پسندانہ جائزہ

آہ!بیچاروں کے اعصاب پہ‘‘عورت’’ہے سوار برقعہ وحجاب کے خلاف بنائی گئی فلم کا حقیقت پسندانہ جائزہ     ایک بار پھر انسانیت شرمسار ہوگئی،عفت وحیا کا جنازہ نکل گیا،مساوات کے نام پرصنف نازک کی عزت وعصمت سرعام نیلام  کی گئی اورمغرب …

مزید پڑھیں >>

حقوق نسواں کی مجموعی صورت حال

آزادی کے بے لگام تصور نے مغرب کی عورت کومزید ایسے مسائل سے دوچار کر دیا ہے جن سے ہزار خرابیوں کے باوجود مشرق کی عورت آج بھی نسبتاً محفوظ ہے۔  لیکن مشرق میں عورت کے اپنے مسائل ہیں جس کا سبب معاشرے میں ظلم کا سرایت کر جانا ہے۔  عورت کو مردوں کے مقابلے میں تیغ بے نیام اور بے حیا بنا دینا اس کا علاج نہیں ۔ عدل و انصاف کا عمومی قیام اس کا حل ہے۔  عورتوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافی، در حقیقت سماجی عدم انصاف ہی کا ایک مسئلہ ہے۔  معاشرے میں عدل کا نفوذ ہو جائے تو صرف  خواتین ہی نہیں  سماج کے سبھی مظلوم طبقوں کے مسائل  حل ہو جائیں گے۔ 

مزید پڑھیں >>

حفاظت نسواں کے دعوے کیا ہوئے؟

اس مسئلہ میں ہماری حکومت کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور عورتوں کی حفاظت کے پختہ انتظامات کرنے ہوں گے ،عام طور پر اس طرح کے واقعات نشہ کی حالت میں انجام دئے جاتے ہیں ،اس لئے شراب بندی کے تعلق سے بھی غور و فکر کرنا ہوگا تاکہ ریاست کو صاف و شفاف فضاء مہیا کی جاسکے ،اور جرائم کا خاتمہ کیا جاسکے۔

مزید پڑھیں >>

جموں میں پولیس افسر کے ہاتھوں خاتون کی جنسی زیادتی کا معاملہ!

ضرورت اس بات کی ہے کہ ان الزماات کی گہرائی سے غیرجانبدارانہ طور پر چھان بین کی جائے ، اگر یہ صحیح ثابت ہوتے ہیں ،جوکہ بادی النظر میں صدفیصد یقینی ہے، تو اس پولیس افسر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے تاکہ آئندہ کوئی قانون کا محافظ ایسا کرنے کی جرعت نہ کرے ۔ پولیس کے تئیں خواتین کے کھوئے ہوئے اعتماد کی بحالی کیلئے ایسا کرنا وقت کا تقاضا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ظلم و زیادتیوں کی شکارہندوستانی عورت!

بلقیس بانو اور نربھیا دو ایسی متاثرہ ہیں جن کے ساتھ دو الگ الگ مقامات پر بدسلوکی کی گئی۔ان کی عفت و عصمت سے اجتماعی طور پر کھلواڑ کی گئی۔اور ان کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی نے پورے ملک کو شرمسار کیا ہے۔اس کے باوجود یہ دو واقعات پہلے نہیں ہیں اور نہ ہی آخری ہیں ۔ہاں یہ الگ بات ہے کہ ان واقعات نے میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔اور ہم سب جانتے ہیں کہ میڈیا بھی اپنا نظر کرم اسی وقت کسی واقعہ کی جانب کرتا ہے جبکہ اسے حد درجہ عوام کا اعتماد حاصل ہو۔

مزید پڑھیں >>

خواتین پر تشدد: اسباب اور حل 

جنسی اس بے راہ روی کے سیلاب پر بند لگانا ہے تو مسلم معاشرہ کوبھی آگے آنا ہوگا جونوجوان معاشی کمزوری کی وجہ سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتے ہوں ان کی امدادواعانت کرنی ہوگی،زکاۃ اور دیگر اسلام کے مالی واجبات کے ذریعہ ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرناہوگا، ان کوآمادۂ نکاح کرنا ہوگا،اسطرح معاشرہ عفیف اور پاکیزہ ہوگا،جس کے اچھے اثرات نہ صرف اس فردِواحد سے وابستہ ہونگے،بلکہ سارامعاشرہ ان اچھے اثرات سے مستفید ہوگا،خودمسلمانوں کی فلاحی اور رفاہی تنظیموں کوبھی اجتماعی شادیوں کے نظم کے ذریعے سماج اور معاشرہ کی ایک بڑی ضرورت کو پوراکرناہوگا۔

مزید پڑھیں >>