گوشہ خواتین

کیا ہماری بہنیں محفوظ ہیں؟

مسلم لڑکیوں کو ورغلانے کے لیے بہت ہی خطرناک منصوبے کے تحت کام ہو رہا ہے۔ اس کے لیے باضابطہ نوجوان لڑکوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے۔ انہیں خاص طور سے اردو زبان سکھائی جاتی ہے۔ لڑکیوں کے اندر جلد متاثر ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ لہذا جب وہ غیر مسلم لڑکوں کی زبان سے اردو زبان کے الفاظ اور اشعار سنتی ہیں تو فطری طور پر متاثر ہوتی ہیں اور یہیں سے ان کی بربادی کی داستان شروع ہو جاتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

چھتیس گڑھ میں محفوظ زچگی مہم: ایک نیا تجربہ

ہر حاملہ عورت کی معیاری زچگی، ولادت سے قبل جانچ،پیچیدہ امراض کی وقت سے پہلے پہچان اور علاج کرنے کیلئے بھارت سرکار نے ’’محفوظ زچگی مہم‘‘ شروع کی ہے۔ اس مہم کے تحت ضلع اسپتال، کمیونٹی وپرائمری ہیلتھ سینٹروں میں ہرماہ کی 9تاریخ کو ہیلتھ افسران کے ذریعہ حاملہ خواتین کی بچہ پیداہونے سے پہلے مکمل مفت جانچ کی جاتی ہے۔ اس مہم کو خود وزیراعظم نریندرمودی نے ہری جھنڈی دکھائی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ محفوظ زچگی ہرحاملہ عورت کا بنیادی حق ہے۔ اس کا مقصد بچے کی ولادت کے وقت ہونے والی تکلیفوں سے عورتوں کو بچانا ہے۔

مزید پڑھیں >>

رسولِ رحمتؐ اور حقوقِ نسواں

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس معاشرے میں مبعوث ہوئے وہ مکمل طور پر ’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘ کا نمونہ پیش کرتا تھا۔ طاقت ور قبائل اپنے سے کمزور قبائل کو دبالیتے اور ان کے حقوق سے انھیں محروم کر دیتے۔ اسی طرح شخصیات کا معاملہ تھا۔ جو شخص جتنی قوت اپنے پاس رکھتا تھا، اتنا ہی معتبر، معزز اور قابل احترام شمار ہوتا تھا۔

مزید پڑھیں >>

 خاتون جنت:حضرت فاطمہ ؓ

اس نیلے آسمان کے نیچے اور زمین کے اس سینے پر محسن انسانیت ﷺکو سب سے عزیزترین اگر کوئی شخصیت تھی تو وہ آپﷺ کی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالی عنھاہی تھیں ۔آپ ﷺنے اپنی اس جگرگوشہ کوجنت میں عورتوں کی سردار قرار دیا۔ایک روایت کے مطابق آپﷺ حضرت فاطمہ الزہرارضی اﷲتعالی عنھاکی خوشبو سونگھ کرفرماتے کہ ان میں سے مجھے بہشت کی خوشبوآتی ہے کیونکہ یہ اس میوہ جنت سے پیداہوئی ہیں جو شب معراج جبرائیل نے مجھے کھلایاتھا۔ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری رضی اﷲتعالی عنھاکے بطن سے آپﷺ کی کل چار شہزادیاں تھیں ،حضرت زینب،حضرت رقیہ ،حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ الزہرارضی اﷲتعالی عنھن،ان میں سے حضرت فاطمہ سب سے چھوٹی اور سب سے زیادہ لاڈلی تھیں ۔بڑی تینوں آپﷺ کی عمرعزیزمیں ہی انتقال فرماگئی تھیں ،صرف حضرت فاطمہ الزہرارضی اﷲتعالی عنھاوصال مبارک کے وقت موجود تھیں ۔

مزید پڑھیں >>

تعلیمِ نسواں

ہمارے یہاں جو تعلیمی نصاب رِواج میں ہے اس پر مغربیت غالب ہے جو عورت میں خود اعتمادی تو پیدا کرتی ہے مگر ساتھ ساتھ بے حیائی بھی سکھاتی ہے ۔ گمراہ بھی کرتی ہے ۔ اس کی تقلید سے بچتے ہوئے اپنی مشرقی اور مذہبی قدروں کو بنیاد بناتے ہوئے تعلیم کوحاصل کیا جائے تاکہ عورت اپنے صحیح مقام سے گرنے نہ پائے۔

مزید پڑھیں >>

اپنے حق کی جدوجہد کرتی آدھی آبادی!

آدم کی پسلی سے حوا کی ابتدا مانیں یابھارت کی ثقافت کے مطابق مرد کا آدھا حصہ، حوا کی یہی بیٹیاں ملک کی آدھی آبادی کی نمائندگی کرتی ہیں ۔ انہیں کے دم سے کائنات میں رونق ہے۔ ان کی بدولت ہی انسان ماں ، بہن بیٹی، دادی، نانی، بوا، موسی اور بیوی کے رشتوں میں بندھا ہے۔ عورت کے سہارے ہی زندگی آگے بڑھتی ہے اور سماج تعمیر ہوتا ہے۔ لیکن عورت کو صدیوں سے اپنے وجود کیلئے جدوجہد کرنی پڑرہی ہے، زمانہ قدیم میں لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔

مزید پڑھیں >>

ان چاہی بیٹیاں

ہم ایک ایسے ذہنیت والے معاشرے رہتے ہیں جہاں لڑکوں اور لڑکیوں میں فرق کیا جاتا ہے. یہاں لڑکی ہوکر پیدا ہونا آسان نہیں ہے اور پیدا ہونے کے بعد ایک عورت کے طور پر زندہ رہنا بھی اتنا هي بہادری کا کام ہے. یہاں بیٹی پیدا ہونے پر اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کی خوشی کافور ہو جاتی ہے. نئی ٹیکنالوجی نے اس مسئلہ کو اور پیچیدہ بنا دیا ہے اب پیٹ میں بیٹی هے يا بیٹا یہ معلوم کرنے کے لئے کہ کسی بابا کے پاس نہیں جانا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

عورت: ذرا اس کو ڈھونڈ کے لا دو!

میں اسے دیکھنے اور تلاش کرنے کی کوشش میں ہر بار ہار جاتی ہوں . سال میں ایک دن، 8 مارچ وہ ملتی بھی ہے تو ایسے ملتی ہے جیسے اس کا مذاق اڑایا جا رہا ہو. آدم -حو ا کی تاریخ میں اب تک اس کی کامیابیاں گنوانے کے لئے ،مرد معاشرے کے پاس کچھ ایک گنتی کے ناموں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے . وہ ہے کہاں ؟ اس پوری کائنات، میں ؟ عالمی یا بین الاقوامی سطح پر؟ کہیں ہے تو دکھا دیجئے ؟ وہ اتنی کم کیوں ہے کہ آسمان کی وسعتوں تک نظر لے جانے کے باوجود بھی دکھائی نہیں دیتی.

مزید پڑھیں >>

عالمی یوم خواتین اور خوتین کا استحصال

آج 8؍ کو عالمی یوم خواتین ایسے ماحول میں انعقاد کیا جا رہا ہے ، جب ہمارے ملک میں ہر سمت ملک کے لئے شہید ہونے والے ایک جانباز فوجی کی بیٹی اور لیڈی سری رام کالج کی طالبہ گر مہر کور کی آبرو ریزی کی دھمکی پر طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے ۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کور کو صرف اس بات کے لئے اسے آبرو ریزی کی دھمکی دی گئی کہ اس نے مرکز میں برسر اقتدار پارٹی کی طلبہ یونین اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی غندہ گردی کے خلاف آواز اٹھائی اور ببانگ دہل کہاکہ ’میں دہلی یونیورسٹی کی طالبہ ہوں ، میں اے بی وی پی سے مہیں ڈرتی ہوں ، میں اکیلی نہیں ہوں ، ملک کا ہر طالب علم میرے ساتھ ہے‘۔

مزید پڑھیں >>

خواتین کاحق وراثت!

اللہ تعالیٰ کے احکامات کی روشنی میں معلوم ہوتاہے کہ بنیادی طورپرمردوعورت برابرہیں ،اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی بہترہے جواچھے اعمال اختیارکرے،دنیاوی زندگی میں کچھ مقامات پرعورت اٖفضل ہے توکچھ پرمرد،کچھ ایسے کام ہیں جومردکے بس کی بات نہیں توکچھ عورت کے دائرہ اختیارسے باہر ہیں ،یعنی حسن معاشرت مردو عورت کے پیارومحبت اورعدل وانصاف کے ذریعے ہی ممکن ہے،موجودہ معاشرہ مردوں کاہے اس لئے اکثرعورت ظلم و ستم کاشکارہے۔

مزید پڑھیں >>