گوشہ خواتین

انسانی تہذیب و تمدن میں عورتوں کا کردار

ہمیشہ کی طرح آج کی پورپی تہذیب کے انسانی عالی دماغوں نے بھی عورت کے مسانئل کا حل تلاش کیا اور پیش بھی کیا۔کم و بیش تین سو سالوں سے یورپی تہذیب نے عورت کو حقوق نسواں کے نام سے ایک آزادی دے رکھی ہے تاکہ اسکے مسائل حل ہو جائیں ،لیکن یہ آزادی بھی چونکہ ’’مردوں ‘‘نے ہی دی ہے اس لیے اسکی حقیقت بھی اس سے زیادہ نہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو ایک بار پھر دہرا رہی ہے۔عورت کو سرمیدان لا کر اسکی ذمہ داریوں میں کمی تو نہیں کی گئی لیکن معاش کا ایک اور بوجھ بھی اسکے کندھوں پر ضرور ڈال دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

عورت!

اسطرح تا ریخ انسانی میں اسلام نے پہلی با رعورت کو مرد کی طرح معاشرے کا کارآمد فرد مانا اس کے ما لی مفادات اخلا قی قانونی حقوق کا تحفظ کیا آج ہما ری ماڈرن عورتیں جو یورپ جیسی آزادی سڑکوں پر مانگتی ہیں تو اِن کی عقل پر ما تم کر نے کو دل کر تا ہے یو رپ جہاں عورت جنسی مشین سے زیا دہ کچھ بھی نہیں ‘جہاں عورت کا ہر بچہ پہلے سے مختلف نقش و نگا ر کا ہو تا ہے ‘جہاں عورتیں شادی سے پہلے ماں بن جا تی ہیں ‘جہاں عورت ماں بہن بیٹی نہیں بلکہ جنسی پا رٹنر ہیں۔

مزید پڑھیں >>

انسانی معاشرے میں خواتین کامقام!

خواتین انسانی معاشرے کا ایک لازمی اور قابل احترام کردار ہیں ۔کاروبار معاشرت میں مرد اور عورت ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں ۔کتنے آسان پیرائے میں یہ بات سمجھا دی گئی کہ جس سے نہ کسی کی اہمیت کم ہوئی اور نہ ہی ضرورت سے زائد بڑھ گئی۔قرآن مجید نے اکثر انبیاء علیھم السلام کے ساتھ انکے رشتوں کا بھی ذکر کیا ہے اور ان میں سے کچھ مردانہ رشتوں کے بارے میں تو بتایا گیا کہ وہ اپنے غلط عقائد کے باعث ان پراﷲ تعالی کی ناراضگی نازل ہوئی لیکن نبیوں سے منسوب کوئی نسوانی رشتہ ایسا نہیں ملتا جواﷲ تعالی کے غضب کا شکار ہوا ہو،بلکہ ایک برگزیدہ نبی کو گود لینے کے عوض فرعون جیسے دشمن خدا کی بیوی بھی دولت ایمان سے مالا مال کر دی گئی۔

مزید پڑھیں >>

آزادیء نسواں کا فریب 

بنت حوا کو آزادی نسواں کا نعرہ دیکر مغربی تہذیب نے اس جگہ لاکر کھڑا کر دیا ہے کہ غلط کام کوغلط تسلیم کر نے پر بھی راضی نہیں دین اسلام کے خلاف کام اور عوامل کو جدت پسندی آزاد خیالی کا نام دیکر انجام دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

عورت چراغ خانہ ہے، شمع محفل نہیں!

عصر حاضرکے مہلک و خطرناک سماجی دور میں "صنف نازک کا تحفظ "مشکل سے مشکل تر ہواجاتاہے۔ اس حساس مسئلہ کو لے کر ہز زندہ دل اور باحیا خاندان سماجی زبوں حالی کا شکوہ کررہاہے کہ نوجوان لڑکیوں کی کیسے حفاظت کی جائے ان کے کردار پرکوئی آنچ نہ آنے پائے۔ جبکہ انٹرنیٹ نے گھر گھر میں واٹس ایپ، فیس بک اور یوٹوب و۔۔۔کے ذریعہ برائی کی راہوں کو مزید ہموار کردیا ہے۔ جس کے چلتے وہ ایک اجنبی شخص سے ملاقات کرتیں ہیں اور۔۔۔ زناکاری ایک ایساپیچید ہ مسئلہ ہے جس کی پولیس شکایت کرنےسے زیادہ تر لوگ صرف اس لئے کتراتے ہیں کہ کہیں خاندانی وجاہت اورذاتی عزت پر کوئی آنچ نہ آجائے اور بعد میں دیگر مسائل کا سبب بن جائے۔ ۔۔!

مزید پڑھیں >>

حجاب دشمنی آخر کیا نتائج دے گی؟

مغربی با حجاب خواتین کے لئے برقعہ اور بکھنے کے ملاپ سے تیار کردہ لباس’’ برقینی‘‘ آج کل دنیا بھر میں موضوع بحث ہے، پچھلے ہفتے فرانسیسی ساحل پر سیکورٹی ریسک کی آڑ میں ایک مسلمان عورت کو سرعام برقینی اتارنے پر مجبور کرنے کے بعد مغربی معاشرے میں ایک مسلمان عورت کے لباس کا تعین ہر کس وناکس کے جانب سے کیا جارہا ہے، مغربی معاشرے میں ہر عورت کا لباس ہر گزرتے وقت کے ساتھ جدت اختیارکرتا رہتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

عورتوں  کے ساتھ چھیڑ خانی اور عصمت دری کے واقعات

اس میں کوئی شک نہیں کہ عورتوں پر ملک بھر میں مظالم ہورہے ہیں۔ اس کے تدارک کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں مگر اس میں سخت سے سخت قانون بنانے کے باوجود کمی نہیں ہورہی ہے۔ پولس اور انتظامیہ کی موجودگی بھی مظالم کو کم کرنے سے قاصر ہے۔ یہ ایک افسوسناک پہلو ہے۔ اس سے بھی افسوسناک دوسرا پہلو ہے کہ ملک کا سوچنے اور سمجھنے والا طبقہ کیوں کمی نہیں ہورہی ہے؟ اس پر سرے سے غور و فکر کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ یہ جہل خرد کا طبقہ کی ایک کوشش ہے یہ باور کرانا کہ سارا قصور لڑکوں یا مردوں کا ہے اور لڑکیاں یا عورتیں بالکل بے قصور ہیں اور دوسرا یہ کہ پولس اور انتظامیہ ناکام ہے یا چشم پوشی سے کام لیتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

ستائی جائیں گی حوّا کی بیٹیاں کب تک؟

آزادی نسواں کی تحریک کے مخلص خدام جو عورت کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے لئے قدامت اور مشرقیت جیسے اسباب کو ذمہ دار گردانتے تھے ان کی جدت پسندی نے کیا عورت کو عزت کے مقام مطلوب پر فائز کردیا ہے ؟ اگر ہاں تو کس قیمت پر ؟ اگر نہیں تو پھر اس تاریخی غلطی کی تلافی کے لئے کیا کرنا چاہئے ؟

مزید پڑھیں >>

مطلقہ و خلع یافتہ خواتین کے ساتھ ہمارا سلوک

اگرکوئی عورت اپنی ازدواجی زندگی میں خوش نہیں ہے تو اس کے سرپرستوں کو سنجیدگی سے اس معاملے کا جائزہ لینا چاہیے ۔ان کی اپنی بیٹی اگرغلطی پرہوتواسے سمجھایاجائے‘مفاہمت کی ہر کوشش کی جائے ‘ لیکن بدقسمتی سے اگرطلاق اور خلع ہی کا راستہ اختیارکرنا پڑے تو مطلقہ اور خلع شدہ عورتوں کے ساتھ ناکارہ اشیاء کی طرح سلوک نہ کیاجائے۔ سرپرست یہ خیال نہ کریں کہ ہم تو اس کا نکاح کرکے بری الذمہ ہوگئے تھے‘پھر سے ہم پراس کا بوجھ پڑگیا۔سرپرستوں اور مسلم معاشرہ کا یہ فرض ہے کہ وہ بیوہ ‘مطلقہ اور خلع یافتہ خواتین کادوبارہ نکاح کردیں‘ اورجب تک ایسا نہ ہو وہ ان کے محافظ ‘نگران اورکفیل بن جائیں‘ انہیں تنہاء آنسو بہانے کے لیے یا کوئی اور ناپسندیدہ راستہ اختیار کرنے کے لیے بے حسی کے ساتھ چھوڑنہ دیاجائے۔

مزید پڑھیں >>