آئینۂ عالم

جارج ڈبلو بش کی بیٹی لاؤرا بش کا قبولِ اسلام

عبدالعزیز 
کون نہیں جانتا ہے کہ جن ملکوں میں جس قدر اسلام مخالف تحریکوں اور مہموں کا زور ہے، اسی قدر وہاں مرد و عورت حلقہ بگوش اسلام ہورہے ہیں۔ امریکہ میں جس قدر اسلام کے خلاف پروپیگنڈا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کی جاتی ہے شاید ہی کسی ملک میں کی جاتی ہو۔ اوبامہ سے پہلے امریکی صدر جونیئر جارج ڈبلو بش مسلمانوں اور مسلم ملکوں کیلئے ابو جہل اور ابو لہب بنے ہوئے تھے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ (War at Terror) کے نام پر مسلم ملکوں پر دھاوا بول دیا ۔ افغانستان، عراق پر حملے کئے۔ دونوں ملکوں کو تہس نہس کردیا۔ دس لاکھ سے زائد مسلمان شہید کر دیئے گئے۔ تباہی جس پیمانے پر ہوئی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ جارج ڈبلو بش نے امریکہ کا صدارتی عہدہ سنبھالتے ہی کہا تھا کہ وہ دنیا کو نیا نظام (New Order) دیں گے اور یہ بھی کہا تھا کہ جو لوگ دہشت گردی کے خلاف ان کا ساتھ نہیں دیں گے انھیں دہشت گردی کا حامی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مخالف سمجھا جائے گا۔ بش کی وجہ سے پاکستانی جنرل پرویز مشرف بھی بشرف ہوگئے تھے۔ بش کا ایک فون آتا تو وہ ڈھیر ہوجاتے۔ اس طرح افغانستان کی تباہی و بربادی میں جنرل مشرف نے بھی بش کا دوست اور ہمنوا بن کر حصہ لیا۔ مشرف کو اپنے ہی ملک میں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ قید کی جگہ نظر بند رہے اور جب قید و بند کے آثار نظر آنے لگے تو ان کے ہم نواؤں نے انھیں پاکستان سے باہر کردیا۔ بش کا بھی اس وقت کوئی نام لیوا نہیں ہے۔
آج کے ابو جہل بش کو یقیناًاس وقت صدمہ ہوا ہوگا جب ان کی بیٹی لاؤرا بش (Laura Bush) نے مشرف بہ اسلام ہونے کا اعلان کیا ہوگا۔ لاؤرا بش جب کلمہ لا الٰہ الااللہ۔۔۔ پڑھ رہی تھیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔ اس سے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ کلمۂ حق کی ذمہ داریوں سے کما حقہ واقف تھیں ؂ چو می گویم مسلمانم دانم مشکلات لا الٰہ اللہ
ایک انٹرویو میں جو ’یو ٹیوب‘ میں دیکھا اور سنا جاسکتا ہے۔ انھوں نے اپنے اسلام لانے کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمضان کا مہینہ تھا، انھیں ایک مسلمان گھر میں جانے کا اتفاق ہوا۔
’’جب ایک عورت نے اپنا دروازہ کھولا تو میں نے دیکھا کہ اس کے چہرہ میں نورانیت اور متاثر کن چمک تھی جو مجھے کسی چہرہ میں پہلی بار محسوس ہوا۔ گھر میں داخل ہوتے ہوئے جائزہ لیا تو دیکھا کہ ایک چھوٹے سے کمرہ میں جو معمولی درجہ کا تھا کچھ کھانے پینے کا سامانا تھا۔ مجھے خاتون خانہ نے ایک معمولی سی کرسی پر بیٹھنے کیلئے کہا۔ میں بیٹھ گئی۔ دیکھا تھوڑی دیر میں ایک پلاسٹک کے پلیٹ میں چند چیزیں بطور ناشتہ پیش کیا۔ میں کھانے سے انکار کرتی رہی مگر اس کے اصرار پر کچھ کھالیا۔ اس کا اصرار مجھے اچھا لگا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ اس خاتون نے رمضان کا روزہ رکھا ہے تو میں نے پوچھا کہ اس نے روزہ کیوں رکھا ہے؟
جواب میں اس نے کہا ’’مجھے اللہ نے بہت سی چیزوں سے نوازا ہے۔ کیا میں اس کی شکر گزار نہ بنوں۔ اس نے قرآن مجید جیسی ہدایت کی کتاب اسی مہینہ میں نازل کی ہے۔ روزہ رکھ کر اس نعمت عظیم کا شکریہ ادا کرتی ہوں اور تقویٰ اور پرہیزگاری کی صفت بھی اس سے حاصل ہوتی ہے، ساتھ ہی غریبوں کی بھوک پیاس کا بھی روزہ کے دوران شدت سے احساس ہوتا ہے‘‘۔
جواب سن کر میں بیحد متاثر ہوئی۔ خاص طور سے ایک غریب گھر کی پڑھی لکھی مسلم خاتون کی اس بات سے کہ روزہ اسے غریبوں کی بھوک پیاس کا احساس دلاتا ہے۔ اس کے چہرے کی چمک دمک اور نورانیت اور اس کے روزہ کے مقصد کے بیان نے مجھے اسلام سے قریب کردیا اور پھر وہ دن آیا جب میں بخوشی مشرف بہ اسلام ہوگئی۔
چند ماہ پہلے برطانوی سفیر ’’سائمن پاؤل کولس‘‘ ایک بڑے عہدہ پر فائز ہوتے ہی دین اسلام کو قبول کیا اور اسی سال اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کا فریضۃ بھی انجام دیا۔ سائمن پاؤل کولس 2015ء سے سعودیہ میں سفیر کے عہدہ پر تعینات ہیں۔ سائمن پاؤل کولس 23فروری 1956ء میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 1967ء سے 1973ء تک برطانیہ کے شیفلڈ کے اسکول "King Edward VII School” سے تعلیم حاصل کی۔ بحرین، تیونس، ہندستان، اردن، دبئی اور بصرہ میں اسی عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، جبکہ 2004اور 2005ء میں قونصل جنرل بھی رہے ہیں۔ 2005ء سے 2007ء تک اردون میں بھی برطانوی سفیر رہ چکے ہیں۔فروری 2012ء میں اردن سے نکلے۔ 2012ء سے 2014ء تک عرا ق میں برطانوی سفیر کے عہدے پر فائز رہے۔ 3فروری 2015ء سے سعودی عرب میں برطانوی سفیر کے عہدہ پر کام کر رہے ہیں۔ 2016ء میں سائمن پاؤل کولس پہلے برطانوی سفیر ہیں جنھوں نے اسلام قبول کرلینے کے بعد حج کیا ہے۔ حج میں سائمن کی اہلیہ بھی ہمراہ تھیں۔ ان کی ٹوئٹر پر تصویر سعودی مصنف اور خاتون سماجی کارکن فوزیہ البکر نے اپنے پیغام میں لکھا کہ سائمن نے اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کیا اور وہ حج ادا کرنے والے پہلے برطانوی سفیر ہیں۔ برطانوی سفیر کو حج کی ادائیگی پر مبارکباد دینے والے ٹوئٹر پر صارفین میں سعودی شہزادی بسمہ بنت سعود بھی شامل ہیں۔ لوگوں کی جانب سے نیک خواہشات اور مبارکباد کے جواب میں برطانوی سفیر سائمن نے لکھا: ’’مختصراً یہ کہ میں نے 30 سال مسلمان معاشرے میں رہنے اور دین اسلام کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد اسلام قبول کیا ہے۔ یہ میرے لئے سب سے بڑا اعزاز اور خوشی کا مقام ہے‘‘۔
چند سال پہلے برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی خواہر نسبتی ’’لاؤرن بوتھ‘‘ نے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا : ’’اب میں شراب نہیں پیتی۔ نماز پڑھنے سے سکون ملتا ہے۔ حجاب پہن کر اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی ہوں۔ قرآن کی تلاوت سے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ میں اسلامی تعلیمات سے شدید متاثر ہوں۔ میں نے مسلمانوں کو مغربی پروپیگنڈے سے مختلف پایا ہے‘‘۔
جس دن ٹونی بلیئر کی سالی نے اسلام قبول کیاتھا اسی دن چینی کمپنی کے ایک اعلیٰ افسر نے بھی علی الاعلان اسلام قبول کرکے دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا۔ ان کے اسلام قبول کرنے کے واقعہ کو مغربی دنیا کے اخبارات نے شہ سرخیوں میں شائع کیا تھا۔ ان کے قبول اسلام کی وجہ قرآن پاک کا مطالعہ، غریبوں کی مدد، مظلوموں کی حمایت بنی۔
پاکستان کے روزنامہ اخبار کے ایک نامہ نگار اپنے مضمون میں رقم طراز ہیں: ’’یہ تحریر لکھتے وقت میرے سامنے ٹیبل پر مختلف زبانوں کے 27 کے قریب اخبار اور رسائل و جرائد رکھے ہیں۔ ان میں آٹھ خبریں اور رپورٹیں نو مسلموں کے حوالے سے ہیں۔ انہی میں سے ایک آسٹریا(یورپ) کے شہر لینز میں پیدا ہونے والی خاتون پروفیسر امینہ اسلام کی ہے‘‘۔ یہ کہتی ہیں : ’’جب میں 16 سال کی تھی تو اپنے عیسائی والدین کے ساتھ سلز برگ منتقل ہوگئی۔ مجھے عیسائیوں کی مذہبی مجالس میں شرکت کرنا نہ جانے کیوں عجیب لگتا تھا۔ مجھے عیسائی پادریوں کی انجمنوں اور چرچوں سے بھی وابستہ کیا گیا لیکن کچھ برس بعد جب میں بائبل کا خوب مطالعہ کرچکی تو میرے ذہن میں عیسائیت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے جو میرے فہم و ادراک سے مطابقت نہیں رکھتے تھے‘‘۔
روس سے تعلق رکھنے والی ’’مائیکل ڈیوڈ شاپیرو‘‘ نسلاً یہودی تھیں۔ 19 سال کی عمر تک انھیں مذہب سے کوئی لگاؤ نہیں تھا اور خدا کے وجود کے بارے میں بھی وہ تذبذب کا شکار تھیں لیکن قرآن مجید کے مطالعہ سے وہ مسلمان ہوگئیں‘‘۔
چند سال پہلے ہندستان کے متعصب ہندو گھرانے میں ایک معمر خاتون نے اسلام قبول کرلیا۔ یہ خاتون پورے خاندان میں بڑا مرتبہ رکھتی تھی۔ سب اس کی عزت کرتے تھے۔ اس کے قبول اسلام سے سارا خاندان لرز کر رہ گیا۔ گزشتہ دنوں رشی کیش کے ایک بڑے پنڈت کی بیٹی کے قبول اسلام کی ایمان افروز داستان پڑھنے کو ملی‘‘۔
یقیناًہم مسلمان ایسی خبروں سے خوش ہوں گے اور اسلام کی برتری کا بھی احساس ہوگا لیکن ہم جب اپنا اور اپنے معاشرہ کا حال دیکھتے ہیں تو خوشی کے بجائے غم ہوتا ہے اور یہ کہنا پڑتا ہے کہ ؂ نسبت تو بہت اچھی ہے گر حال برا ہے
اس حالِ بد کو بہتر بنانے میں ہم اپنی لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے احساس تک نہیں کرتے۔ یقیناًہم میں کچھ ایسے بھائی، بہن ضرور ہیں جن کے کردار و اخلاق سے کٹر سے کٹر کافی یا کافرہ متاثر ہوکر اسلام کی چوکھٹ تک پہنچتی ہیں اور پھر انھیں حق کی تلاش ہوتی ہے۔ قرآن مجید اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ انھیں اسلام کے گھر میں داخل کر دیتا ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم بھی اپنے ان بھائی بہنوں کیلئے اسلام سے قریب یا آغوش اسلام میں آنے کا سبب بنیں۔ خدا نخواستہ اگر ہمارے کردار و اخلاق کی خرابیوں کی وجہ سے کوئی غیر مسلم بھائی بہن اسلام سے بدگمان ہوتا ہے ، اسلام کے قریب آنے کے بجائے اسلام سے دوری کا راستہ اپنا لیتا ہے تو ہمیں اپنے ایمان کی خیر منانا چاہئے۔ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کیلئے بھی تیار رہنا چاہئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close