آئینۂ عالمعالم اسلام

اسرائیل، فلسطین اور بیت المقدس

اسلام کا سورج طلوع ہونے کے بعد ’’بیت المقدس‘‘ مسلمانوں کا قبلہ اول قرار پایا۔ جس کی طرف ہمارے آقا علیہ السلام رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔

شاہدؔکمال

جس دنیا میں ہم سانس لے رہے ہیں، یہ دنیا دیکھنے میں انتہائی خوبصورت و دلکش ہے۔ لیکن اس کا ظاہر جتنا خوبصورت ہے اس کا باطن اُسے کہیں زیادہ پُر فریب، وحشتناک اور سفاک ہے۔ اگر یہ دنیا اپنے اندرون کے ساتھ کسی انسان پر منکشف ہوجائے تو وہ انسان اس دنیا کو کبھی خاطر میں نہ لائے۔ اس واہمہ اندیش دنیا کی سب سے برہنہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی کرم وجہہ نے ارشاد فرمایا کہ’’میرے نزدیک یہ دنیا ایک مبروص کے ہاتھ میں سور کی اوجھڑی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ ‘‘لیکن اس کے برعکس دنیا پرست طاقتیں اپنی ہوس زدہ و خود فریب اَنا کی تسکین اور دنیا پر اپنا تسلط حاصل کرنے کےلئےذلت و رسوائی کی انتہائی سطح سے نیچی گرنے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ایسا صدیوں سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ تاریخ ایسی قوموں کی ذلت آمیز حکایتوں سے بھری پڑی ہے۔

اگر موجودہ عہد میں اس کی تازہ مثال دیکھنا چاہتے ہیں۔ تو آپ اپنے اطراف وجوانب میں مسلکی و مذہبی منافرت اور استکباریت کےسیاسی جبر سے رونما ہونے والے بدترین واقعات پرنہ صرف غور وفکر کریں، بلکہ اس کا سیاسی، سماجی، مذہبی و مسلکی بنیادوں پر تجزیہ کریں اور اس کے سد باب کے لئے مناسب اور بروقت اقدام کرنے کی کوشش بھی کریں۔ اس لئے کہ مذہب و عقائد کے خلا سے اٹھنے والی آواز آدمی کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو سلب کر لیتی ہے۔ یہ ایک افسوسناک المیہ ہے جس کا زہر آنے والی نسلوں کے خون میں پیوست کیا جارہا ہے۔ لہذا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا، تو ہمارے مہذب معاشرے کی تمدن یافتہ انسانی ثقافت جنت کا نمونہ تو نہیں، لیکن جنگل کی خود روتہذیب کی ایک زندہ علامت ضرور بن جائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو آدمی اپنی انسانی شناخت سے محروم ہوجائے گا۔ یہ پورے عالمی سماجیات کا سب سے حساس ترین مسئلہ ہی نہیں بلکہ ایک سلگتا ہوا موضوع بھی ہے۔ جس پر دنیا کے تمام دانشوروں کو سوچنا چاہئے۔

آیئے ہم اپنے موضوع کا عالمی پس منظر کے تناظر میں تاریخی تجزیہ کرتے ہیں۔ چونکہ ہمارا موضوع اسرائیل، فلسطین اوربیت المقدس ہے۔ لہذا اس پر گفتگو کرنے سے پہلے ہم مشرق اوسطی میں رونما ہونے والے تازہ ترین واقعات سے عبرت حاصل کریں۔ استکباری طاقتوں کی دجالی فکروں نے پورے عالم انسانیت کے امن و امان کو اس طرح سے زیر و زبر کر رکھا ہے، کہ آج ہر شخص نفسیاتی طور سے عدم تحفظ کا شکار ہوکر رہ گیاہے۔ اس کے اندر کا خوف اس بات کا متقاضی ہے اور اُسے اس کے لئے مجبور کرتا ہے کہ وہ کسی ایسے نجات دہندہ کی تلاش وجستجو کرے جو اس دنیا کے امن و امان کو بحال کرے اور اسے یہ یقین دلائے کہ آج سے تمہارےجان ومال آل و اولاد اور ناموس کی حرمت و تحفظ کے لئے ایک ایسا الہی نظام عدل کا قیام عمل میں آچکا ہے کہ اب تم سکون کی سانس لے سکتے ہو۔ ابھی تو کوئی ایسا راستہ نظر نہیں آتا لیکن اللہ کا اپنےبندوں سے کیا ہوا وعدہ ایک دن ضرور پورا ہوگا۔ جو اس دنیا میں نظام عدل و انصاف کا نفاذ کرے گا۔ لیکن اس کے لئے کہ ابھی ہمیں اور آپ کو انتظار کرنا ہوگا۔ لیکن ظلم و تشد د کے شکار ہر شخص کے دل کی سب سے پہلی آواز یہی ہوتی ہے کہ۔

میں چاہتا ہوں یہیں سارے فیصلے ہوجائیں

کہ اُس کے بعد یہ دنیا کہاں سے لاؤں گا میں

(عرفان صدیقی)

 یہ انسان کی فطری سرنوشت میں مقدر کیاجانے والا ایک ایسا جذبہ ہے۔ جس کا اظہاروہ سردست چاہتا ہے۔ جسے ہم مظلوم کی آہ اور فریاد سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن یہاں پر مسئلہ اس بات کا ہے کہ وہ کمزور ممالک جو طاقتور ملکوںکے دست نگر ہیں۔ اُن کے تحفظ کا ابھی کوئی قوی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔ خاص کر فلسطین جیسی کمزور ریاست جو صیہونیت اور استعماریت کے ظلم و تشدد کا ایک عرصہ دراز سے شکار ہے۔ یہاں تک کہ انسان ہونے کے ناطے بھی اُن کو دی جانے والی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم کردیا گیا ہے۔ آج ان کی جان و مال عزت و آبرو کے تحفظ کاتصور ایک لایعنی شی بن کر رہ گیا ہے۔ آج جو فلسطینی عوام سڑکوں اور چوراہوں پر سراپا احتجاج نظر آتے ہیں، یہ اُن کی مجبوری ہے کہ وہ کسی بڑی طاقت کے مداخلت کا انتظار نہیں کرسکتے اس لئے کہ وہ اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ چکے ہیں کہ اُن کی مدد کے لئے کوئی نہیں آنے والا۔ لہذا انھیں یہ اپنی جنگ خود لڑنی ہوگی اپنی ارضی سالمیت اور اپنے حقوق کی بازیابی اپنے گھر بار، کھیت، کھلیان، اور باغات کو بچانے کے لئے اپنے جگر کے ٹکڑوں کی خون میں ڈوبی ہوئی لاشوں کو انھیں خود ہی اٹھانا ہوگا۔ ان نہتے اور مظلوم فلسطینوں پر مظالم کی انتہا یہاں تک آن پہونچی ہے کہ اسرائیل جیسا جارحیت پسند ملک اپنے غاصب ملک کی سرحدوں کی توسیع میں مزاحم ہونے والے نہتے اور مظلوم لوگوں پر بموں اور راکٹوں سے حملہ کرنے سے بھی دریغ نہیں کررہے۔ اب اس سے زیادہ افسوسناک صورت حال کیا ہوسکتی ہے۔

سوشل میڈیا اور دوسرے ذرائع ابلاغ سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق دودھ پینے والے بچوں پر بھی رحم نہیں کیا جاتا بلکہ ان بچوں کو اُن کی ماں کی آغوش میں ہی گولیوں کا ہدف بنایا جارہا ہے۔ اس سلسلے سے اسرائیل کے اراکین وزارت کے ایک اہم رکن سے کسی میڈیا والے نے سوال کیا، کہ آپ کی دشمنی اوربراہ راست جنگ تو وہاں کی دفاعی تنظیموں سے ہے۔ لیکن جب وہاں کے عوام اپنے  ذاتی حقوق کے لئے پُر امن احتجاج کرتے ہیں، تو آپ ان عوام پر کیوں گولیاں چلاتے ہیں اور خاص کر معصوم بچوں پر، تو اس نے جواب دیا کہ ہم نہیں چاہتے کہ فلسطین کی مائیں بچے جنیں جو بڑے ہوکر ہم سے جنگ کریں۔ اب اس سے بڑی انسانیت کی تذلیل اور کیا ہوسکتی ہے۔ اس سےبڑی تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اسرائیل فلسطین کے مظلوم و مقہور عوام پر مستقل ظلم و تشدد کو روا گردانتا ہے۔ لیکن ہیومن رائٹس واچ کمیشن اور اقوام متحدہ ان کے ظلم و جنایت و بربریت کو دیکھنے کے بعد بھی خاموش تماشائی ہے۔ جہاں تک مسلمان ممالک کی بات ہے تو یہ ایک تاریخی حقائق ہے جسے ہم ایک تاسف ناک المیہ بھی کہہ سکتے ہیں، کہ مسلم بادشاہوں و سلاطین نے کبھی بھی اپنے عوام پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز نہیں بلند کی جب تک کہ اس میں ان کا ذاتی مفاد شامل نہیں رہاہو۔ موجودہ صورت حال میں عرب ممالک کی مصلحت آمیز خاموشی اس بات کی غماز ہے۔ کہ انھیں نہ تو اسلام سے کچھ لینا دینا ہے اور نہ ہی مسلمانوں سے کچھ غرض ہے۔ اس لئے کہ ان کا مذہب بادشاہت، ان کا ایمان درہم و دینار، اور اِ ن خدا امریکہ اور اسرائیل ہے۔ اس لئے وہ اپنے ان خداؤں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے یہی وجہ ہے کہ ان کے حکم کی اطاعت و فرمانبرداری سے از سر مو انحراف و انصراف کرنے کو گناہ عظیم تصور کرتے ہیں۔

ان ممالک کی مصلحت آمیز خاموشی کو صیہونیت و استعماریت اپنے سب سے بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے۔ اپنی بادشاہت، تخت وتاج کے نخوت و غرور میں مبتلا ان حکمرانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ، بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے، اور فلسطین کی سرزمین انبیا کی سر زمین ہے۔ اس پر بہنے والے مظلوموں کے خون کے ایک ایک قطرہ کا حساب انھیں دینے ہی پڑے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان مظلوموں کے خون کے سیلاب میں یہ آمریت پسند حکمراں اپنے تخت و تاج سمیت غرق نہ ہوجائیں۔ یہ امر بعید از امکان نہیں۔ اس لئے کہ فلسطین کی سرزمین گزشتہ انبیا کی پناہ گاہ رہی ہے۔ اس بنیاد پر اس کا احترام ہر مسلمان پر ضروری ہے۔ فلسطین کی تاریخ انبیا ئے کرام کی زندگی کے معجزات و کرامات کی چشم دید گواہ رہ چکی ہے۔ یہاں پر جناب یعقوب علیہ السلام کی نسل میں پیدا ہونے والے زیادہ تر انبیا کا تعلق اسی سر زمین سے رہا ہے۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے تقریبا دوہزار سال سے پہلے حضرت داود علیہ السلام نے یروشلم کو آزاد کرایا تھا۔ اس کے بعد وہیں پر ’’بیت المقدس کی تعمیر اپنے ہاتھوں سے شروع کی اور اس کی تکمیل اُن کے فرزند، جلیل القدر نبی حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں ہوئی۔ حضرت داود علیہ السلام کا سلسلہ نسب معمار خانہ خدا یعنی ’’کعبۃ اللہ ‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے چودہ نسلوں پر جاکر منتہی ہوتا ہے۔ اس لئے حرمت ’’بیت المقدس‘‘ اپنے احترام و شرف میں ’’خانہ کعبہ‘‘ کے مترادف ہے۔ یہی وجہ تھی کہ’’بیت المقدس ‘‘ کو مسلمانوں کا قبلہ اول کا شرف حاصل ہوا۔

’’بیت المقد س‘‘ ہی وہ جگہ ہے جہاں پر وہ تابوت جس میں جناب موسی علیہ السلام کی ماں نے فرعون کے شر سے اپنے بچے کو بچانے کے لئے اللہ کے حکم سے جس تابوت (تاریخ میں اس تابوت کا نام تابوت سکینہ بیان کیاگیا ہے۔ )میں رکھ کردریائے نیل کے حوالے کیا تھا، جب جناب موسی علیہ السلام جوان ہوئے تو اس تابوت میں، الواح نبوت کے ساتھ اپنی نبوت کی دیگر نشانیوں کو اسی میں رکھتے تھے۔ جب جناب داود علیہ السلام کا دور آیا تو جناب داؤد علیہ السلام نے اس تابوت کے بیرونی اور اندرونی حصہ کو سونے سے مزین کیا، اور اسے کوہِ صیہون پر لاکر نصب کردیا تھا۔ اس کی حفاظت کا پورا خیال کیا جاتا رہا۔ لیکن جب ’’بیت المقدس کی تعمیر مکمل ہوگئی تو اس تابوت کو ’’بیت المقدس‘‘ میں منتقل کردیا گیا۔ یہاں پر جناب سلیمان علیہ السلام کی چالیس سالہ حکومت کے دورانیہ میں مکمل سکون و اطمینان کی فضا قائم رہی۔

اسلام کا سورج طلوع ہونے کے بعد ’’بیت المقدس‘‘ مسلمانوں کا قبلہ اول قرار پایا۔ جس کی طرف ہمارے آقا علیہ السلام رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ اس لئے ’’ تاریخی حیثیت سے ’’بیت المقدس‘‘ اسلام کی عظیم الشان تاریخی آثار و باقیات کا ایک اہم جز ہے۔ جس سے کوئی مسلمان دست بردار نہیں ہوسکتا۔ اسی ’’بیت المقدس‘‘ کو لے کر عیسائیوں سے تقریبا سات جنگیں ہوئیں اور ان جنگوں کا سلسلہ خلافت عثمانیہ تک پہونچا یہاں تک کی 1387 ھ کو اسرائیلیوں نے غیر متوقع طور پر عرب ممالک پر حملہ کردیا چھ روز تک مسلسل چلنے والی اس جنگ میں اسرائیلیوں نے عرب کے بعض ممالک پر قبضہ کرلیا، جس میں مصر، اردن اور شام بھی شامل تھا۔ اس کے بعد اسرائیل نے بڑی سرعت کے ساتھ اپنی بازآباد کاری کا کام شروع کردیا، اور اپنی سرحدوں کی وسعت پر بھی کافی زور دینا شروع کیا۔ یو این یو کی قرارداد کے باوجو د اسرائیل نے اپنے موقف میں کوئی تبدیل نہیں کی۔

یہودیوں کی مسلسل بڑھنے والی تخریبی کاروایوں اور عرب ممالک کی شکست نے اسے مزید شہ زور بنادیا۔ لہذا عربوں میں کچھ غیرت بیدار ہوئی تو انھوں نے یہودیوںسے اپنا انتقام لینے کے لئے 1948 میں فلسطینیوں کی مزاحمتی تنظیموں کے اشتراک سے شہر’’ کرامہ‘‘ جو اردن کے دارالسلطنت عمان سے پچیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ایک جنگ لڑی لیکن اس کرامہ شہر میں صیہونیوں کے طرف سے ہونے والی جنگ میں کچھ خانما ں برباد اور آوارہ سر پناہ گزیں فلسطینیوں کی جان کے زیاں کے ساتھ ان کے مال و اسباب بھی جل کرخاکستر ہوگئے۔ صیہونیوں کی اس بے دریغ آتش زنی اور متشددانہ حملوں سے مرنے والوں کی تعداد پچیس ہزار سے زیاد ہوگئی۔ لیکن فلسطین کی مزاحمتی گروہ’’تنظیم الفتح‘‘ نے اپنی منصوبہ بند حکمت عملی سے صیہونیت کی نیندیں اڑا کر رکھ دیں۔ آخر کار اس تنظیم نے اسرائیل کی مسلسل دھمکیوں کے جواب میں یہ طے کر لیا کہ ہم اپنی ارضی سالمیت اور حبی الوطنی کے جذبے کو ایک نئے انقلاب کی تاریخ سے عبارت کریں گے۔ اس لئے ہمیں ان اسرائیلیوں کے مقابلے پر اپنی زندگی کی آخری سانس تک مقابلہ کرنا ہوگا۔ ادھر اسرائیل اپنی مکمل فوجی سازوسامان کی بھر پور تیاریوں کے ساتھ ایک بار پھر ’’کرامہ‘‘ شہر پر حملہ آوار ہوا لیکن ’’تنظیم الفتح ‘‘ کے 300 الوالعزم جوانمرد مزاحمت کاروں سے اسرائیل کو ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ جس کے نتیجے میں بہت سے اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے، اور ان کے بنے بنائے منصوبے خاک میں مل گئے،اور آخر کار اسرائیلیوں کو اپنے شکست تسلیم کرتے ہوئے وہاں سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ ان مزاحمت کاروں کی شاندار کامیاب کی وجہ سے فلسطینیوں کو وسیع پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہوئی۔

ان تاریخی حقائق کی روشنی میں اگر موجودہ صورت حال کا منطقی تجزیہ کیا جائے تو اسرائیل کی عسکری طاقت کوئی ایسی ناقابل تسخیر قوت نہیں کہ جسے مسلمانوں کے آپسی اتحاد سے اس کے غرو و نخوت کو خاک میں نہ ملا یا جاسکے۔ لیکن اس مسئلہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں کے درمیان آپسی نااتفاقی اور زیادہ تر مسلکی اختلافات ہیں جو انھیں صیہونیوں کا ایک پھیلایا ہوا جال ہے۔ جس میں مسلمان الجھ کر رہ گیا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب اور خاص کر وہ اسلامی ممالک جو سعودی بادشاہت کی حمایت میںاپنے گلوں میں امریکہ کی غلامی کی زنجیر پہن رکھی ہے۔ فلسطین کے عوام پر اسرائیل کی طرف سے ہونےوالے آئے دن کی تشدد آمیز کاروائیاں ان عرب ممالک کی بزدلی اور مصلحت پسندی کا ایک سب سے بڑا المیہ ہے۔ اُس وقت تک بیت المقدس اور فلسطین صیہونیت کے خونی پنجوں میں یوں ہی سسکتی رہے گا۔ جب تک کہ ان آمریت نواز اور ملوکیت پسنداور نام نہاد اسلامی ممالک متحد نہیں ہوتے۔ میں مفکر اسلام علامہ اقبال کے اس شعر پر اپنی گفتگو کا اختتام چاہتا ہوں۔

اگر چہ بت ہے جماعت کی آستینوں میں

مجھے ہے حکم اذاں لاالہ اللہ

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close