آئینۂ عالم

اسرائیلی بربریت کے 70سال اور مسلم ممالک کے اتحاد کی تلاش

دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعتا مسلم ممالک متحد ہوکر فلسطین کے حق میں عملی اقدام کریں گے یا کانفرس اور میٹنگ ہی کی حد تک وہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہ جائیں گے۔

برہان احمد ابو نبراس

آج سے 70 سال پہلے 15 مئ 1948 کو صہیونی درندہ صفت فوجیوں نے تقریبا 400 سے 600 فلسطینی شہروں قصبوں اور گاؤں میں لوٹ مار اور قتل وغارتگری جیسے جرائم کا ارتکاب کیا تھا۔ اس دوران انسانیت کی تمام حدوں کو پار کردیا گیا تھا۔ بنت حوا کی عصمت کو تارتار کیا گیا اور معصوم بچوں اور کمزور بوڑھوں کا بے دریغ قتل کیا گیا تھا۔ اس دوران تقریبا سات لاکھ پچاس ہزار فلسطینی شہریوں کو اپنی ہی سرزمین سے ملک بدر کردیا گیا تھا۔ اس دوران نہتے فلسطینی اپنی جان بچا کر کسی طرح قرب وجوار کے نام نہاد مسلم ممالک کی طرف بھاگے تو اس وقت وہ پوری طرح لوٹے جاچکے تھے، نہ سرمایہ بچا تھا نہ مال و متاع باقی رہا تھا، حالات سے مجبور یہ فلسطینی اپنے رہنے کے ٹھکانوں پر چھت ڈالنے کے بجائے ٹینٹ تاننے پر مجبور ہوگئے تھے۔ جبکہ خود ان کی اپنی سرزمین اور ان کی اپنی آبادیوں پر یہودیوں کو لاکر آباد کردیا گیا تھا۔ فلسطینیوں کے خون پسینے کی محنت غاصب اسرائیلیوں کے درمیان تقسیم کردی گئی تھی۔ اسرائیل کی پہلی حکومت ہی نے ایسے قوانین وضع کر دیئے تھے کہ فلسطینیوں کی اپنے گھر واپسی کبھی نہ ہوسکے۔ اس تمام آفت ناگہانی اور برپا کہرام کو "النکبہ” کہا جاتا ہے۔

15 مئ 2018 کو اس "النکبہ” کے 70 سال مکمل ہوئے، یہ ستر سال کا عرصہ اسرائیل کے ظلم وجارحیت کا بدترین زمانہ ہے۔ وہیں تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ان ستر سالوں میں جواں ہمت فلسطینی قوم نہ تھکی نہ رکی، بلکہ اپنی آزادی کے حصول کے لیے وہ ہمیشہ سرگرم عمل رہی۔ اس مناسبت سے النکبہ کو یاد کرنے اور اس کہرام کی داستان کو زندہ رکھنے کے لیے فلسطینی غزہ اور اسرائيل سرحد سے سیکڑوں میٹر دور احتجاج کے لئے جمع ہوئے تھے۔ بے حس اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے برابر اس کی مزاحمت ہوتی رہی۔ احتجاجیوں کی تعداد اس وقت مزید بڑھ گئ جب امریکہ نے "القدس”(یروشلم) میں اپنے سفارت خانے کے افتتاح کا اعلان کردیا۔ واقعہ کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے احتجاجیوں پر جان لیوا حملے کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی۔ نتیجتا الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 62 فلسطینی شہری شہید ہوگئے جس میں 5 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 2700 فلسطینی عوام زخمی ہوئے۔

اس قتل و غاتگری پر چراغ پا ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے organisation of Islamic cooperation کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ اس کانفرس میں شریک مختلف مسلم ممالک کے رہنماؤں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔  ترکی کے صدر نے کہا: مسلم قائدین کو متحد ہوکر اسرائیل کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ "غاصب اسرائیلیوں کی جانب سے نہتے فلسطینیوں کے بہیمانہ قتل پر موثر اقدام کرکے ہم دنیا کو دکھائیں کہ ابھی انسانیت کا جنازہ نہیں نکلا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں امریکہ کا "القدس”(یروشلم) میں اپنے سفارت خانے کو منتقل کرنا اسرائیل کی ان مذموم حرکتوں پر پردہ ڈالنے کا کام کر رہا ہے”۔

قطر کے امیر شیخ تمیم نے کہا: غزہ کی سرزمین کو پابندیوں اور فوجی دستوں نے وہاں مقیم لاکھوں فلسطینیوں کے لئے حراستی کیمپ میں تبدیل کردیا ہے۔ وہاں کے باشندے بنیادی حقوق؟ تعلیم، نقل وحمل، مواقع تجارت اور علاج ومعالجے کی سہولیات سے محروم ہیں۔ جب ان نوجوانوں کے سامنے ہتھیار اٹھانے کے علاوہ کوئ راہ نہیں بچتا تو انھیں دہشت گرد کہہ دیاجاتا ہے اور جب وہ پرامن مظاہرے کے ذریعے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو انھیں شدت پسند قرار دیا جاتا ہے۔”

فلسطین کے وزیراعظم رامی حمداللہ نے اپنے خطاب میں کہا: "امریکہ کی دلچسپیاں مسائل کو حل کرنے کے بجائے مسائل کو بڑھانے میں ہوگئی ہیں”۔ اس نے القدس (یروشلم)میں اپنے سفارت خانے کو منتقل کرکے فلسطین میں آباد مسلم اور عیسائی عوام پر حملہ کیا ہے”۔

جارڈن کے بادشاہ عبداللہ ثانی نے بالفور فلسطینیوں پر لگائی گئی پابندی اور حصار کو توڑنے کے لئے اقدامات کرنے کو کہا تو وہیں ایران کے صدر حسن روحانی نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف سیاسی و معاشی کاروائی کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعتا مسلم ممالک متحد ہوکر فلسطین کے حق میں عملی اقدام کریں گے یا کانفرس اور میٹنگ ہی کی حد تک وہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہ جائیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close