آئینۂ عالمخصوصی

اسرائیل اور افغانستان

صفت فرعون کی تجھ میں ہے، میں موسیٰ کا حامی ہوں

ڈاکٹر سلیم خان

جہاد افغانستان  اور اس میں دو سپر پاورس کی یکے بعد دیگرے  شکست عصر حاضر کا عظیم معجزہ  ہے لیکن افسوس کہ عالم ہست و بود اسرائیل کی فسوں کاری میں گرفتار ہے۔ جہان ِمغرب و مشرق میں   اگر سروے کیا جائے کہ دنیا میں سب سے کامیاب ملک کون ساہے؟ تو بہت سارے لوگ فخر کے ساتھ اسرائیل کا نام لیں گے اور  جب یہ سوال کیا جائے  گاکہ ناکام ممالک میں سرِ فہرست کون ہے تو اتفاق رائے سے افغانستان کا نام سامنے آئے گا۔ اسی طرح دنیا کی سب سے ترقی یافتہ قوم اور بااثر تحریک کی بات کی جائے تو  یہودی اور صہیونی  سب سے آگے ہوں گے نیز پسماندہ ترین اقوام اور تحریکات میں  میں مسلمانوں اور طالبان کا شمار ہوگا۔  یہ ضروری نہیں ہے کہ جائزہ مسلم دشمن علاقوں میں کیا جائے۔ مسلمان خود بھی اسی رائے کی تائید کریں گے اس لیے کہ شہروں میں رہنے والی مسلمانوں کی بڑی تعداد کا دماغ  ذرائع ابلاغ نے ماوف کردیا  ہے۔ انگریزوں  کی ذہنی  غلامی  نے نقطۂ نظرتبدیل کردیا ہے ۔ ٹھوس حقائق کی روشنی میں ان مفروضات کی جانچ پڑتال وقت کی اہم ترین ضرورت ہےتاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کے اسرائیل اور فرعون کے موازنہ پر افضل الہ بادی کا یہ شعر صادق آتا ہے؎

صفت فرعون کی تجھ میں ہے میں موسیٰ کا حامی ہوں       

کبھی تسلیم میں تیری خدائی کر نہیں سکتا

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو گزشتہ ہفتہ اپنا  آسٹریا کا دورہ منسوخ کرنا پڑا کیونکہ  وزیردفاع ایویگڈور لیبر مین نے استعفیٰ دے دیا۔ وزراء تو آتے جاتے رہتے ہیں۔ ہندوستان میں گوا جیسے غیر اہم صوبے کا وزیراعلیٰ بننے کی خاطر وزیردفاع منوہر پریکر کومستعفی ہونا پڑتا ہے۔ وزیر مملکت برائے امور خارجہ ایم جے اکبر کو تو ’می ٹو‘ کا الزام لگانے والی صحافیہ گھر بھیجتی ہے لیکن مودی جی پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ہندوستان میں اگر ایسا ہے تو دنیا کی سب سے ذہین قوم کے وزیراعظم کی ہوا اتنی جلدی کیوں  نکل جاتی ہے؟  اس کی وجہ اسرائیل سیاسی عدم استحکام ہے۔ دورِ جدید میں سیاسی استحکام کی شاہِ کلید جمہوریت کے پاس ہونے کا دعویٰ بڑے زور و شور سے کیا جاتا  ہے اور اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کی واحد حقیقی جمہوریت ہونے پر ناز ہے اس لیے  کیا وہاں پر اس کمزوری کا پایا جانا حیرت انگیز نہیں ہے ؟ اس سے پہلے کہ ناجائز  یہودی ریاست کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہیے کہ اسرائیل کے اندر جمہوریت کے آزادی و مساوات کی حقیقت دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہاں ظلم  و جور کا بازار گرم رہتا اس کے باوجود  چونکہ انتخابی تماشہ جاری ہے اس لیے اس کی جمہوریت کا سرٹیفکیٹ ہمیشہ  بحال رہتا ہے  بقول  مرتضیٰ برلاس ؎

نام اس کا آمریت ہو کہ ہو جمہوریت 

منسلک فرعونیت مسند سے تب تھی اب بھی ہے

بنجامن نیتن یاہو فی الحال جس مشکل میں گرفتار ہیں ایسا پہلی بار نہیں ہورہا ہے۔ معرض وجود میں آنے کے بعد گزشتہ۷۰سالوں میں اسرائیل کے اندراکثر سرکاریں  اپنی قانونی مدت مکمل  کرنے میں ناکام رہی ہیں جن میں سے ایک خود یاہو کی پچھلی حکومت بھی تھی جس نے درمیان میں دم توڑ دیا اورقبل از وقت الیکشن کا انعقاد کرنا پڑا ہے۔ ان کے آپسی سر پھٹول کا یہ حال ہے ۱۹۸۸؁ سے اب تک کسی بھی حکومت نے اپنی مدت کار مکمل نہیں کی۔ یہ لوگ درمیان ہی میں لڑ بھڑ کر اپنے پیر پر کلہاڑی چلا دیتے ہیں اور پھر انتخاب کی نوبت آن پڑتی ہے۔  اس بار پھر اسرائیل پر عدم استحکام کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ موجودہ کابینہ بھی جلد ہی تحلیل ہو  جائے گی  اور اسرائیل میں قبل از وقت پارلیمانی الیکشن منعقد ہوجائیں گے۔ سیاستداں چاہے ہندوستان کا ہو یا اسرائیل کا اس کے لیے انتخاب میں کامیابی زندگی اور موت کا سوال ہوتا ہے۔ اس پر اگر وہ مودی یا یاہو کی مانند بدعنوانی کے الزامات سے جوجھ رہا ہو تو جیل جانے کے خوف سے اس کی  ساری توجہات الیکشن پر مرکوز ہوجاتی ہیں۔

اسرائیلی جمہوریت  کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہاں کی ایوانِ پارلیمان میں ارکان کی تعداد کا تعین پارٹی کے حاصل کردہ ووٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے لیکن یہی خوبی سیاسی عدم استحکام کا اصل سبب بھی ہے۔ اس میں اصلاح کرنے کے لیے پہلے انہوں نے کم ازکم ایک فیصد ووٹ حاصل کرنے کی شرط کو ڈیڑھ اور پھر ۲ء۳ فیصد کردیاتاکہ  ۱۲۰ ارکان کے ایوان میں کسی جماعت کے ۴  سے کم ارکان نہ  ہوں۔ یہ حکمت عملی بھی جب کارگر نہیں ہوئی تو ان لوگوں نے وزیر اعظم کے براہ راست انتخاب کا طریقہ اپنایا اور تین مرتبہ وزیراعظم کو عوام نے چنا لیکن اس سے بھی بات نہیں بنی تو پھر سے پرانے نظام کی جانب لوٹ گئے۔ اسرائیل کی عوام نے اپنی  تاریخ میں صرف ایک بارکسی جماعت کے ۱۲۰ میں ۶۱ ارکان کو کامیاب کیا ہے۔ یہ ان کے معاشرے میں پائے جانے والے سیاسی  انتشار کا کھلا ثبوت ہے۔ اسرائیلی عوام کی  اکثریت کسی پارٹی  پر پورا اعتماد نہیں کرتی۔ ان کی رائے ہمیشہ منقسم ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہاں جوڑ توڑ سے سرکار بنانی پڑتی ہے اور اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے فلسطینیوں پر زیادہ زیادہ ظلم ڈھا کر عوام کو بے وقوف بنانا پڑتا ہے۔

  اسرائیل میں اگر کسی مطلق العنان  فرعون  کی فرمانروائی  ہوتی تو ممکن ہے  فلسطینی اس قدر ظلم وستم  کا شکار نہیں ہوتے۔ صہیونی رہنما ہٹلر کی مانند انتخاب جیت کر آتے ہیں اوراپنی مقبولت قائم رکھنے کے لیے  طرح طرح کے مظالم ڈھاتے ہیں۔ ہر انتخاب سے غزہ پر بمباری ہوتی ہے یا اس کا مطالبہ ہوتا ہے اور حالیہ  اختلاف کی بھی  بنیادی وجہ یہی  ہے۔اسرائیل کی غیر مستحکم سرکار کو حالیہ حکومت کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔  دسمبر ۲۰۱۴؁ کے اندر نیتن یاہو کے اپنےسینیر  وزراء زپی لیفنی اور جائرلیپڈ سے شدید اختلافات ہوگئے اور اس نے دونوں کو نکال باہر کیا۔ اس کے بعد برپا ہونے والا خلفشار حکومت کو لے ڈوبا اور تازہ انتکاب ہوئے۔ اسرائیل کے ذہین لوگوں کو چاہیے تھا کہ سیاسی استحکام  کی خاطر کسی ایک جماعت کو واضح اکثریت سے نوازتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وہاں پر ۱۰ جماعتوں کو ۹ء۳ سے زیادہ ووٹ مل گئے اور ان سب کے ارکان کامیاب ہو کر ایوان پارلیمان میں پہنچ گئے۔

بنجامن نیتن یاہو کی لیکڈ پارٹی کو ۴ء۲۳ فیصد ووٹ ملے  اور اس کے ۳۰ ارکان کا تقرر ہوا۔  دوسرے نمبر صہیونی اتحاد تھا جس کے ۲۴ ارکان تھے۔ نیتن یاہو چونکہ اقتدار میں ہونے کے باوجود ۱یک چوتھائی سے بھی کم ووٹ حاصل کرپائے تھے اس لیے انہیں اقتدار کی دوڑ سے باہر ہوجانا چاہیے تھا جیسا کہ نرسمھا راو نے کیا تھا کہ کانگریس کے سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود حکومت سازی کا دعویٰ نہیں کیا لیکن اقتدار کے حریص نتین یاہو اپنی پارٹی تو دور اپنے ذاتی دعویٰ سے بھی دستربردار نہیں ہوئے اور اپنی ۴۲ دنوں کی مدت کے خاتمہ سے چند گھنٹے قبل پانچ جماعتوں کے ۶۱ ارکان کو ساتھ لے کر حکومت سازی کی پیشکش کردی۔ ایک رکن کی اکثریت سے جب یہ حکومت بنی تو اس وقت لیبر مین کی جماعت یاہو کے ساتھ نہیں تھی۔ وہ بعد میں اپنے ۶ ارکان کے  ساتھ آئے اور وزارت دفاع کا اہم قلمدان ہتھیا لیا۔ یہ  ہےدنیا کا افضل ترین نظام سیاست اور اس کے  بہترین پیروکار۔ اب پھر انتخاب کے پیش نظر وہ اپنی حکومت کی قبر کھودرہے ہیں۔

موجودہ سیاسی بحران کی وجہ اسرائیل اور اسلامی مزاحمت کی فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان امن معاہدہ ہے۔ ۱۲ نومبر کو شروع ہونے والی  اسرائیلی افواج اور حماس کی شدید جھڑپوں کے دوران  حماس نے اسرائیل پر ۴۰۰ کے قریب راکٹ داغے  جس کے نتیجے میں ۳یہودی ہلاک اور ۸۵ زخمی ہو گئے۔اس کے بعد وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مصر کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش قبول کر لی۔ اس پر آگ بگولہ  وزیر دفاع اویگڈور لیبرمین نے استعفی دے کرحکومت کو متزلزل کردیا۔یاہو کے لیے  انتہائی قدامت پسند سیاسی جماعت اسرائیل بیت نو کی حمایت بڑیاہمیت کی حامل ہے۔ اس  لئے اس کے ناز اٹھائے جاتے ہیں اور وزارت دفاع کا اہم قلمدان دیا جاتا ہے۔

اسرائیلی حکومت کو درپیش سیاسی بحران اس وقت مزید شدید ہو گیا جب وزیرتعلیم  نفتالی بینیٹ نے اس نازک موقع پر یاہو کی مدد کرنے کے بجائے ابن الوقتی کا مظاہرہ کرتے ہوئےوزارت دفاع کے منصب پر اپنا دعویٰ ٹھونک دیا۔ نفتالی بینٹ نے وزیراعظم نیتن یاہو کو دھمکی دی کہ انہیں وزیر دفاع نہیں  بنا یا گیا تو وہ بھی اپنے ۸ ارکان کے ساتھ الگ ہوجائیں  گے۔ بنجمن نیتن یاہو اور نفتالی بینٹ کے مذاکرات  کی ناکام ہوگئے ان کی  یہودی ہوم  پارٹی بھی اسرائیلی وزیراعظم کو چھوڑ کر چلی گئی۔ ۔ ہندوستان کے اندر بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان ایسی ہی  خانہ جنگی جاری ہے۔ طالبان کے قندھار میں کبھی بھی  ایسا منظر دیکھنے کو نہیں ملتا۔ بنجمن نیتن یاہو اپنی حکومت بچانے اور قبل از وقت الیکشن کو روکنے کے لیے ہاتھ پیر ماررہے ہیں  لیکن وہ کوششیں کارگر ہوتی  نظر نہیں آتیں۔ اسرائیل میں جملہ ۳۴سیاسی جماعتیں ہیں۔ وہ سب کی سب موقع پرست ہیں اس لیے  ایک کو  پکڑو تو دوسرا بھاگتا ہے۔ہر کوئی دوسرے کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اپنا الو سیدھا کرنا چاہتا ہے۔

غزہ کے حوالے سے نفتالی بینٹ اور لیبر من کی رائےمتضاد ہے۔ گزشتہ ماہنفتالی نےاسرائیل  کی  ناتوانی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل میں حماس کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ انہوں  نے الزام لگایا تھا کہ غزہ کی سرحد پر جو کچھ رونما ہورہا ہے اس کے پیچھے اسرائیلی وزیر دفاع لیبر من کا ہاتھ ہے۔ لیبرمین کو  غزہ کے پڑوس میں واقع  یہودی بستیوں کی فکر نہیں ہے۔تل ابیب کے اندر منعقدہ  اجلاس میںوزیر تعلیم نےحزب اللہ اور حماس کے ہاتھوں ۲۰۱۴؁ کی   شکست  فاش کو تسلیم کیا اورکہا کہ اسرائیل غزہ جنگ میں حماس کو شکست دینے میں ناکام رہا تھا۔اسرائیل کےایک  اور سیاسی رہنما يواو گالانت نے اسرائیلی فوج کی مشترکہ کمان کے سربراہ بینی گاتز پر سخت تنقید کرتے ہوئے  کہا  تھاکہ مذکورہ  جنگ مکملتیاری کے بغیرشروعکردی گئی اور دوران ِ جنگ  بہت سستی سے کام لیا گیا۔ ماضی میں فوج سے تعلق رکھنے والےيواو گالانت کے مطابق سابق وزیر دفاع موشے يعلون کی نگرانی نا کافی تھی۔ ان کا دعوی ٰ تھا کہ اگر گاتز اور يعلون جنگ کے لئے اچھی تیاری کرتے تو اسرائیل کو حماس کے ہاتھوں  شکست نہ ہوتی۔

یہودی سیاستدانوں کی  الزام تراشی  کے جواب میں فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے اس ناکامی کا الزام حکومت پر تھوپ دیا۔ اس نےریڈیو اسرائیل پر  کہا کہ  غزہ کی جنگ کے دوران، اسرائیلی دفاعی کونسل  دو عشروں کی  بدترین کابینہ تھی۔ اسرائیلی فوج اور حکومت کی بابت یہ باتیں خود یہودی تو کہتے  ہیں لیکن  مرعوبیت کا شکار مسلمانوں نے وقفہ وقفہ  سے  گولڈامائیر کی داستان سناکر امت کو کوسنا  اور  ثواب کما نا اپنے اوپر لازمی کررکھا ہے۔ اس طرح کی  جوتم پیزار طالبان کے اندر کبھی نظر نہیں آئی اس لیے کہ انہیں کبھی ایسی کراری  شکست کا سامنا  ہی  نہیں ہوا۔ ایک مرتبہ کابل کے تخت سے  دست بردارضرور  ہونا  پڑا  لیکن فوراً  قندھار میں قدم جما لیے اور ایسے جمائے کہ بتدریج کابل کی جانب کامیابی و کامرانی کا سفر جاری و ساری ہے۔

اپنے آپ کو جنرل شارون کا وارث بتانے والالیبرمین جنگ بندی کا مخالف اور  بھرپور جنگ کی حامی  ہےلیکن حماس سے ٹکراؤ کے  سبب غزہ کی پٹی کے قریب مقیم اسرائیلی شہریوں کے اندر شدیدعدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا  ہے۔ حکومت کی اس  ناکامی پرشدید تنقید ہوئی اورفوج کا حوصلہ بھی پست ہو گیا۔داخلی صورتحال  بالخصوص فوج کی ابتر ی اور عوامی مظاہروں کے پیش نظرنیتن یاہونے جنگ بندی کردی تواسکوحکومت کی شکست قرار دیا گیا۔ مکافاتِ عمل نے اسرائیل کو ایک ایسے  وقت میں سیاسی بحران کا شکار کردیا   کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی حمایت  میں شمشیر برہنہ بن کرفلسطینیوں کے حوصلے پست کرنے کی خاطرسفارتخانہ تل ابیب منتقل کردیا۔

ٹرمپ کی اس جارحیت کے بعد اکثر سیاسی ماہرین اسرائیل کو  مشرق وسطی کی  سیاست کا محور قرار دینے لگے۔ عالمی ذرائع ابلاغ ایک طرف  فلسطین کے اندر   اسلامی مزاحمت کے خاتمےکی  افواہیں پھیلا رہا تھا  ایسے میں  جانب  جنگ بندی نے اچانک  سارے غباروں کو ہوا نکال دی اور بنجمن نیتن یاہو کو ہیرو سے زیرو بنا دیا ہے۔غزہ کے مٹھی بھر مجاہدین نے اسرائیل کا   سیاسی منظر نامہ   ایک ایسے وقت میں تبدیل کردیا کہ جب مصر، سعودی عرب اور اومان جیسے ممالک اسرائیل کے تئیں نرم رویہ اختیار کرنے لگے تھے۔ مشیت ایزدی نے نہ صرف مغربی  ممالک کے اندر اسرائیل کے اثر و رسوخ کو کم کیا بلکہ افغان طالبان سے اس کے دونوں دشمن امریکہ اورروس گفت و شنید پر مجبور کردیا ۔ افغان طالبان اور امريکی سفير زلمے خلیل زاد کے درمیان باہمی  امن مذاکرات کے اعلان نے ساری دنیا کے مبصرین کو چونکا دیا۔

افغانستان ميں امن قائم کرنے کے ليے جب سے امریکی انتظامیہ نے  خلیل زاد کی بطور سفير تعينات کیا ہے اس عمل ميں تيزی آئی ہے۔ امريکہ  گزشتہ  سترہ سال سے افغانستان کے اندر قدم جمانے کی ناکام  کوشش کررہا ہےلیکن  ملک کا نصف سے زیادہ  حصہ آج بھی  طالبان کے کنٹرول ميں ہے اور طالبان جنگجو برابر  امریکی تنصیبات پر  حملے کرتے  رہتے ہيں۔اس کے باوجود امريکی سفيرزلمے کے بقول اس وقت امن اور مفاہمت کا بہترين موقع ہےاور تمام فريقوں سے گفتگوہو رہی ہے۔قطر ميں طالبان سے گفت وشنید کے بعد امریکہ کے خصوصی ایلچی نے کہا طالبان يہ تسليم کر چکے ہيں کہ ان کے مقاصد کا حصول عسکری راستے سے ممکن نہیں  ہيں۔ یہ دراصل الٹی بات ہے۔ اس جنگ کا آغاز طالبان نے نہیں بلکہ امریکہ نے کیا تھا  اس لیے امریکہ کی  بات چیت پر آمادگی  اس کےبزور قوت مقاصد کے حصول کی حکمت عملی میں ناکامی  کا کھلا اعتراف  ہے۔

 امريکی انتظاميہ اب طالبان کے ساتھ سياسی سمجھوتے کی کھوج ميں ہے۔ واشنگٹن نے طالبان کے بہت سارے مطالبات میں  لچک دکھائی ہے مثلاً براہ راست مذاکرات اور  پاکستان ميں اسیر طالبان رہنما ونائب چیف ملاعبدالغنی برادر وملا عبدالصمد ثانی کا  رہائی۔ ان مثبت  اقدامات سے امن کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ افغانستان کے ليے امريکی سفير زلمے خلیل زاد کے بقول وہ محتاط انداز ميں پر اميد ہيں کہ  جلد ہی کسی  قابلِ قبول سمجھوتے تک پہنچا جا سکے گا۔امریکی انتظامیہ میں یہودیسفارتکاروں  کی بڑی تعریف و توصیف ہوتی  ہےلیکن امریکہ کو اپنی تاریخ کے طویل ترین تصادم سے باعزت نکالنے میںوہ سارے ماہرین ناکام ہوگئے۔ اس موقع پرایک افغانی مسلمانخلیل زاد کی خدمات حاصل کی گئیں۔ وہشمالی افغان  کےشہر مزار شریف میں پیدا ہوئے اور  امریکہ  کے اندرکئی   سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ روسی افواج کے خلاف جنگ کے دوران گلبدین حکمت یار سمیت دیگر مجاہدین سے ان کے قریبی تعلقات تھے۔ طالبان کے دور اقتدار میں بھی وسطی ایشیا سے تیل کی پائپ لائن پر مذاکرات کے دوران  وہ ان کے حامی تھے۔

جارج ڈبلیو بش نےخلیل زاد کوصدارتی  مشیرنامزد کیا تھا۔۱۱ستمبر ۲۰۰؁  کے بعد افغانستان پر چڑھائی کے  وقت وہ بش کے مشیر تھے۔ ۲۰۰۳ ؁ سے ۲۰۰۵؁ کے دوران  افغانستان میں انہیں  امریکہ کے سفیر بنایا گیا۔ اس کے بعد عراق میں فوج کشی کے وقت  سفیر بنا کر بغداد بھیجا گیا۔اقوام متحدہ میں جب  امریکہ کے لیے اپنے موقف کا دفاع مشکل ہوگیا تو خلیل زاد کو وہاں تعینات کیا گیا۔ امورِ خارجہ کے ماہر اس افغان نژاد سابق امریکی سفیر کا تعلق  ری پبلیکن پارٹی سے ہے اس لیےسابق صدر اوبامہ نے ان کی خدمات سے اجتناب کیا لیکن ٹرمپ کو مشکل کی گھڑی میں ان کی ضرورت پیش آئی ۔ ایک ایسے وقت میں جب  کہ امریکی فوج کے کمانڈر افغانی محاذ پر اپنی شکست تسلیم کر چکے ہیںخلیل زاد کو  پھر سے میدان میں لایا گیا ہے۔

اسرائیل  اور طالبانکے درمیان ایک  بنیادی فرق  تو یہ ہے کہ اول الذکر دنیا کی سپرپاورس کی گود میں کھیلتا ہے جبکہ دوسرا ان سےلوہا لیتا ہے۔ افغانیوں کو سب سے پہلے دہشت گرد قرار دینے کا سہرا  روسیوں کے سر ہے لیکن اب وہ بھی طالبان کے ساتھ امن مذاکرات پر آمادہ  ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے پچھلے دنوں  افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں  کا ماسکو کے اندر استقبال کرتے ہوئےاس کا مقصد دونوں فریقوں  کے درمیان معنی خیز مذاکرات کا راستہ ہموار کرنا بتایا۔لاروف  نے کہا کہ افغانیوں  نے مشکل وقت کا سامنا کیاہےاب  کوئی نہیں چاہتاکہ افغانستان بیرونی دنیا کیلئے میدان جنگ بنا رہے۔ کشمیری  علٰحیدگی پسندوں  سے گفت و شنیدسے کرنے انکارکرنے والا ہندیسفارتکار بھی طالبان کے ساتھ گفتگو  میں موجود تھا۔

اسرائیل اور افغانستان سے متعلق یہ واضح حقائق ہماری نظروں سے اس لیے اوجھل ہوجاتے ہیں اس لیے کہ ہم مغرب کی نگاہ سے حالات کو دیکھتے ہیں۔ مغرب اپنے عیوب کی  پردہ پوشی کرتا ہے اوراپنی کامیابی بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔مسلمانوں کی کامیابیوں کو نظر انداز کرکےاپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرتا ہے۔  ہم لوگ اسی کی لکیر پیٹتے رہتے ہیں۔ امت کو خواب غفلت سے جگانے کے زعم میں دن رات اس کو کوستے ہیں اور اسرائیل  جیسے ظالم و غاصب کی تعریف کرتے ہیں۔ اس سےملت کے اندرپیدا ہونے والااحساس کمتری آگے چل کر احساسِ جرم میں بدل جاتا ہے۔ اسرائیل کی کامیابی کا بکھان کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ  اسے یوروپ، امریکہ اور سوویت یونین تینوں نے کی پشت پناہی حاصل رہی ہے جبکہ وہ سب مختلف انداز میں  ملت سے دشمنی  کرتے رہےہیں۔

جرمنی کے اندر ہٹلر کے آگے  یہودی ۷ گھنٹے بھی نہیں  ٹک سکے جبکہ فلسطینی ۷۰ سال سےصہیونیت  کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ اسرائیل نے سوویت یونین کے زنگ زدہ اسلحہ سے لیس  مصر اور شام کے خلاف فتوحات درج کرائیں۔  اس کے باوجود دوران جنگ اس کو امریکہ سے مدد لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس کے برعکس طالبان نے براہِ راست سوویت یونین اور ناٹو کے ساتھ مقابلہ کیا اور ان کو شکست فاش سے دوچار کیا۔ یہ فتح مبین  ہمیں اس لیے نظر نہیں آتی کیونکہ مغرب کی عینک اس کو تاریک کرکے پیش کرتی ہے اور اسرائیلی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر خوشنما کردیتی ہے۔ اسرائیل کو گلاب کا پھول اور افغانستان کو ببول کا کانٹا سمجھنے والوں کو نسیم صبح کی مانند اپنا ضمیر روشن چاہیے۔ بقول اقبال  ؎

تمیز خار و گل سے آشکارا، نسیم صبح کی روشن ضمیری      

حفاظت پھول کی ممکن نہیں ہے،اگر کانٹے میں ہو خوئے حریری

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close