اسرائیل سے نفرت کیوں؟

0

عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

یہ  ایک ناقابل تریدتاریخی حقیقت ہے کہ یہود بےبہود کاشمار انسانیت کی مبغوض ترین قوموںمیں ہوتاہے۔ خداتعالیٰ کی ان گنت نعمتوں کاانکار،حق کی اتباع سے روگردانی واعراض  اورانبیاء کرام علیھم السلام جیسی برگزیدہ ہستیوں کے قتل میں ملوث یہ قوم، آج تک ابدی ذلتوں اورخدائی پھٹکارکا سامنا کررہی ہے۔ تمام تر مادی،عسکری،اقتصادی اورابلاغی اسباب ووسائل پر دسترس رکھنے کے باوجودنکبت وہزیمت اس کے گلے کاہاربنی ہوئی ہے۔ پچھلےآٹھ عشروں سے مسلمانوں کے قبلہ اول پرظالمانہ وجابرانہ تسلط جماکراہل فلسطین پرجس طرح عرصۂ حیات تنگ کیاگیا، وہ اظہرمن الشمس ہے۔ پوری دنیاسے دجالی پیروکاروں کو لالاکراسرائیل میں بساگیا، جس کاواحدمقصد شیطانی ریاست‘ اسرائیل’ کا استحکام اوربدی کے نمائندے دجال اکبر کے خروج کی راہیں ہموارکرناہے۔

اس دجالی اورطاغوتی لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنانے میں اگرکوئی چیز رکاوٹ ہے تو وہ مسلمانان قدس کا جذبہ ایمانی اورحمیت اسلامی؛جس کی حرارت وتپش سے آج بھی صہیونیت کے ایوانوں میں زلزلہ برپاہے۔ اگرچہ یہودی جارحیت اوردہشت گردی کی منہ زوریلغارنے ساکنان فلسطین کوسخت ترین مشکلات وتکالیف سے دوچارکررکھاہے،لیکن مصائب وآلام کے اس بھنور میں بھی فلسطینی مجاہدین استقامت وجواں مردی کاپہاڑبنے کھڑے ہیں۔ بلاشک وشبہ یہ سرفروش اورجانباز پوری امت مسلمہ کی طر ف سے فرض کفایہ کے طورپر،سرزمین انبیا کے تحفظ وسلامتی کی سنہری تاریخ، اپنے لہوکی سرخی سے رقم کررہے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو 130؍رکنی وفد کے ساتھ ہندوستان کےچھ روزہ دورے پرہیں، اس دوران مرکزی حکومت اور مسٹر نریندر مودی نےپروٹوکول کو پس پشت ڈال کرپرجوش، والہانہ استقبال اور ضیافت و مہمان نوازی میں ساری توانائی خرچ کردی۔

ایک طرف بھگوا حکمرانوں کا نتن یاہو کو لے کر غیرمعمولی جوش وخروش سامنےآیا اور دوسری طرف جمعیۃ علماء ہند،کاروان امن و انصاف سمیت متعدد مذہبی اور انسانی حقوق کی نتظیموں نے نیتن یاہو کے دورے کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرنے کے ساتھ ان کے واپس جانے کا مطالبہ بھی کیا۔

وزیر اعظم اسرائیل نےافتتاحی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے جہاں ملک کی سیاسی، دفاعی اورمعاشی مضبوطی کی اہمیت اور جمہوریت و تکثیریت کے فضائل گنوائے،وہیں براہِ راست اسلام کوبھی نشانہ بنایا اور کہا کہ ’’موجودہ وقت میں ہمیں، ہماری زندگی،ہماری ترقی پسندانہ سوچ اوراکتشافی نظریے کو ریڈیکل اسلام سے خطرہ ہے اور ایسے خطرات عالمی نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے؛چنانچہ ہمیں ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک ساتھ آگے آناچاہیے اور اپنے تعلقات کو مضبوط کرنا چاہیے‘‘۔

صرف مذکورہ بالا ایک اقتباس اسرئیل کی اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے تئیں نفرت انگیز اور تشددآمیز  جذبات کا اندازہ لگانے کےلیے کافی ہے۔

واضح رہے کہ ہمارا ملک ہمیشہ مظلوم فلسطین کے ساتھ کھڑا رہا اور اس نے ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کا موقف اختیار کیا۔ ابھی پچھلے دنوں اقوام متحدہ میں بھی ہماری حکومت نے حق و انصاف کا ساتھ دیتے ہوئے امریکہ و اسرائیل کے خلاف ووٹ دیا،اس صورت میں اسرائیلی وزیرآعظم کا دورہ فلسطینی کاز کے خلاف ہوگا،اور اس سے ہمارے وطن کا موقف بھی کمزور ہوگا اور ملک کے تمام انصاف پسند شہریوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔ ہمارا وطن عزیز ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پیش پیش رہا ہے،ایسے میں اسرائیل جیسی دہشت گرد ریاست کے ظالم سربراہ کا استقبال دہشت گردی کے خلاف ملک کے موقف کو کمزور کرے گا۔ عالمی برادری اسرائیل کو غاصب ظالم دہشت گرد مانتی ہے،اس نے فلسطینیوں کی زمین ہڑپ لیا،نیتن یاہو کی قیادت میں فلسطینی عورتوں، بچوں اور بے گناہ شہریوں کا قتل کیا جاتا ہے،نا بالغ بچوں تک کو جیلوں میں ٹھونسا جاتا ہے، ہمیں سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارا ملک کس طرح ایسے ظالم ڈکٹیٹر کے ساتھ اپنی روایت، سنسکرتی اور تاریخ کو فراموش کرکے کھڑاہے۔ فلسطین کے مظلوم لوگوں کے آنسو پوچھنے کے لئے اور فلسطینی کاز کو مضبوط و طاقتور بنانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہندوستان کے امن پسند شہری اس دورے کی سخت مخالفت کریں اور حق کی آواز بلند کریں اور یہ بتائیں کہ اسرائیل اور اس کے سربراہ نہ صرف یہ کہ ظالم و غاصب اور دہشت گرد ہیں بلکہ پوری عالمی برادری اور امن عالم کے لئے سخت خطرہ ہیں۔

سرزمین فلطین کا تاریخی منظرنامہ:

 آخر میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا جو کم و بیش نوے سال رہا اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے مسلسل معرکوں کے بعد اسے عیسائیوں کے قبضے سے آزاد کرایا۔ بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت تھا جو درمیان کے مذکورہ نوے برس کے عرصہ کے علاوہ حضرت عمرؓ کے دور سے مسلمانوں کے پاس ہی رہا ہے، حتیٰ کہ پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے دسمبر 1917ء میں اس پر قبضہ کر کے اس پر اپنا اقتدار قائم کر لیا۔

اس سے قبل فلسطین خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا، پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا تھا اس لیے جرمنی کی شکست کے ساتھ ہی خلافت عثمانیہ بھی شکست و ریخت کا شکار ہوگئی تھی اور اس کشمکش میں فلسطین پر برطانیہ کا قبضہ عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا۔ ’’گاڈ فرے ڈی بولون‘‘ نامی انگریز کمشنر نے 10 دسمبر 1917ء کو فلسطین کا اقتدار سنبھالا اور 15 مئی 1948ء تک فلسطین پر برطانیہ کا قبضہ رہا۔ خلافت عثمانیہ نے یہودیوں کو ویزے پر بیت المقدس آنے اور اپنے مقدس مقامات کی زیارت اور وہاں عبادت کی آزادی دے رکھی تھی مگر انہیں فلسطین میں زمین خریدنے، کاروبار کرنے اور رہائش اختیار کرنے کا حق قانونی طور پر حاصل نہیں تھا۔

اس دوران یہودیوں نے عالمی سطح پر ’’صہیونیت‘‘ کے عنوان سے ایک تحریک کا آغاز کیا۔ ‘ صہیون’ بیت المقدس کا ایک پہاڑ ہے جو یہودیوں کے ہاں بہت متبرک سمجھا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس پہاڑی پر حضرت داؤد علیہ السلام کی عبادت گاہ تھی۔ اس پہاڑ کے تقدس کو عنوان بنا کر یہودیوں نے تحریک شروع کی جس میں فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن قرار دے کر اسے واپس لینے کا عزم کیا گیا تھا۔ صہیونی تحریکوں کے لیڈروں نے اس وقت کے عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید دوم مرحوم سے درخواست کی کہ یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کا حق دیا جائے۔ سلطان نے اس سے انکار کر دیا، انہیں بیش بہا مالی مراعات کی پیش کش کی جو انہوں نے قبول نہیں کیں۔ سلطان عبد الحمید دوم نے اپنی یاد داشتوں میں لکھا ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ یہودی صرف فلسطین میں آباد ہونے کا حق نہیں مانگ رہے؛ بلکہ اس کی آڑ میں بیت المقدس پر قبضہ کرنے کا پروگرام رکھتے ہیں، اس لیے ان کی ملّی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ وہ یہودیوں کو اس بات کا موقع فراہم کریں۔ اس وجہ سے سلطان عبد الحمید دوم یہودیوں کے غیظ و غضب کا نشانہ بنے اور ان کے خلاف وہ تحریک چلی جس کے نتیجے میں وہ خلافت سے محروم ہو کر نظر بندی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگئے اور اسی نظر بندی میں ان کا انتقال ہوا۔

اس موقع پر برطانیہ کے وزیر خارجہ بالفور نے اعلان کیا کہ وہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کرتے ہیں اور موقع ملنے پر انہیں وہاں آباد ہونے کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں؛جسے اعلان بالفور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے عوض یہودیوں نے پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کے مالی نقصانات کی تلافی کرنے کا وعدہ کا تھا اور ان مالی مفادات کے باعث برطانیہ اور اس کے ساتھی ممالک نے فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

چنانچہ جب فلسطین برطانیہ کے قبضے میں گیا تو وہ قانون منسوخ کر دیا گیا جس کے تحت یہودیوں کو فلسطین میں زمین خریدنے اور سکونت اختیار کرنے سے روکا گیا تھا۔ اس کے بعد دنیا بھر سے یہودی وہاں آنا شروع ہوگئے اور فلسطین میں زمینیں اور مکانات خرید کر انہوں نے آباد ہونے کا آغاز کر دیا۔ اس موقع پر مفتی اعظم فلسطین الحاج سید امین الحسینیؒ نے فتویٰ جاری کیا کہ چونکہ یہودی بیت المقدس میں آباد ہو کر بیت المقدس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اس لیے فلسطین کی زمین یہودیوں پر فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں۔ برصغیر کے اکابر علماء کرام نے بھی جن میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اور مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ شامل ہیں اس فتویٰ کی تائید کی۔ مگر اس فتویٰ کے باوجود فلسطین میں یہودیوں پر زمینوں اور مکانات کی فروخت نہیں رکی۔ صرف اتنا ہوا کہ زمینوں کی قیمتیں بڑھ گئیں اور یہودیوں نے جو دنیا کے مختلف ممالک سے وہاں مسلسل آرہے تھے دُگنی چوگنی قیمتوں پر فلسطین کا ایک بڑا حصہ خرید لیا۔

اس طرح  اسرائیل بننے سے پہلے 1948ء کی اس خوفناک، خون آلود، دہشت گردی اور بربریت کی جنگ میں ہزاروں فلسطینی بے گھر ہوئے۔ خاندان تباہ ہوئے، فلسطینی خانہ بدوش، مہاجر کمپوں کے رہائشی بنے، بوڑھے، بچے، بیمار ناتواں پیدل سفر کی صعوبتوں سے جان کی بازی ہارگئے۔ متمول، متواضع اور متعبر افراد فلسطینی مہاجر کیمپوں میں خیراتی راشن کے لئے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوئے۔ جو فلسطین کے پشتوں سے شہری تھے ان کو زبردستی ملک بدر کرکے غیر ملکوں کو ان کے گھروں میں لاکر بسایا جارہا تھا۔ 1948ء کی اس جنگ، اس حادثے اور اس کھلی ناانصافی کو یہودی اسرائیلی جنگ آزادی کا نام دیتے ہیں؛جو قتل و غارت گری ایک سال تک جاری رہی۔ یہودیوں نے برطانیہ کا مینڈیٹ ختم ہونے سے پہلے ہی ایک مسلح آرمی تیار کرلی تھی، یہ آرمی دہشت گردی، لوٹ مار، غنڈہ گردی کی ماہر تھی۔ اور اپنی کاررائیوں سے عام عرب شہریوں کو متوحش کر رہی تھی، اس آرمی نے فلسطینیوں کے سینکڑوں گاؤں خالی کرا کر دوسرے ممالک سے ترکِ وطن کرکے آنے والے یہودیوں کے حوالے کر دیئے تھے۔ مئی 1948ء کے بعد اسرائیلیوں نے منظم سازش کے تحت بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کے لئے قتل گاہیں سجائیں، ان میں سے بدترین قتل گاہ دیریا سین نے 9 اپریل 1948 میں اس جنگ کے دوران اسرائیل نے فلسطین کے 78 فی صد علاقے پر قبضہ کرکے سات لاکھ پچاس ہزار فلسطینیوں کو ملک بدر کر دیا، یہ فسلطینی مہاجر لبنان، شام، اردن، ویسٹ بنک، غزہ، مراکش، تیونس، مصر اور دنیا کے کونے کونے میں جاکر پناہ گزیں ہوئے اور آج تک مہاجر ہیں۔ ان فلسطینی مہاجروں کو اپنے وطن میں واپس آنے کی اجازت نہیں ہے۔

ان ستم رسیدہ فلسطینیوں کے ساتھ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ اسرائیل نے بین الاقوامی نظروں کے سامنے سفاکی کے ساتھ فلسطینیوں کو اپنی دھرتی سے زبردستی ملک بدر کردیااوربین الاقوامی ضمیر سویا رہا یا مصلحتِ وقت کی بنا پر خاموش رہا۔ ادھر یہودی فلسطینیوں کی جائیداد، گھروں، باغات، فصل سے لدے ہوئے کھیتوں اور زمینوں کے راتوں رات مالک بن گئے۔ اسرائیل میں ایمرجنسی قوانین نافذ کر دیئے گئے جو آج تک لاگو ہیں۔

الغرض:1918ء سے 1948ء تک برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کی آمد اور آبادی کی سرپرستی کرکے ’’اعلان بالفور‘‘ کے ذریعہ کیا گیا وعدہ پورا کیا اور جب دیکھا کہ فلسطین کا ایک بڑا حصہ یہودی خرید چکے ہیں تو 15 مئی 1948ء کو فلسطین کا علاقہ یہودیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تقسیم کرنے کا اعلان کر کے برطانیہ وہاں سے چلا گیا۔ اس کے بعد فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان جنگوں اور جھڑپوں کا وسیع سلسلہ چل نکلا(جس کی ایک جھلک اوپر دکھلائی گئی)۔ یہودیوں نے اپنے لیے برطانیہ کی طرف سے مخصوص کردہ علاقے میں اسرائیل کے نام سے نئی سلطنت قائم کرنے کا اعلان کر دیا جسے امریکہ اور روس سمیت عالمی طاقتوں نے تسلیم کر لیا اور اقوام متحدہ نے بھی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حد بندی کر کے اسرائیل کو ایک آزاد ریاست قرار دینے کا اعلان کر دیا۔

اس کشمکش میں یہودیوں نے اچھے خاصے علاقے پر قبضہ کیا مگر بیت المقدس کا مشرقی حصہ جس میں بیت المقدس کا مقدس احاطہ ہے، اردن کے پاس رہا اور اس پر اس کا انتظامی حق تسلیم کر لیا گیا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے (مصر، شام اور اردن کے دیگر علاقوں کے ساتھ) یروشلم کے مشرقی حصے اور مسجد اقصیٰ پر بھی قبضہ کر لیا اور اس وقت سے یہ علاقہ اسرائیل کے قبضے میں ہے۔

اس کے بعد سے فلسطین اور بیت المقدس کے بارے میں عالمی سطح پر مسلمانوں کے دو موقف پائے جاتے ہیں۔ ایک موقف پاکستان، سعودی عرب اور بعض دیگر ممالک کا ہے کہ وہ سرے سے فلسطین کی تقسیم کو ہی تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی اسرائیل کو ایک قانونی ریاست کا درجہ دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک فلسطین ایک اکائی ہے اور اس پر صرف فلسطینیوں کا حق ہے۔ دوسرا موقف مصر، شام اور اسرائیل کو تسلیم کرلینے والے بعض ممالک کا ہے کہ وہ اسرائیل کو اقوام متحدہ کی تقسیم اور فیصلے کے مطابق ایک آزاد ریاست تسلیم کرتے ہین لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے طے کردہ نقشے کے مطابق 1967ء کی جنگ سے پہلے کی سرحدوں کی طرف واپس جائے، بیت المقدس کا قبضہ چھوڑ دے اور فلسطینیوں کی ان کے علاقے میں آزاد ریاست کو تسلیم کرے۔

اسرائیل نے اس دوران مسلسل کوشش کی ہے کہ بیت المقدس پر اس کے قبضے کو جائز تسلیم کیا جائے اور یروشلم کو غیر متنازعہ شہر قرار دے کر اسرائیل میں شامل قرار دیا جائے؛ لیکن عالمی رائے عامہ اس کے اس موقف کو قبول نہیں کر رہی۔ 1995ء میں جب اسرائیل نے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیا تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 5دسمبر 1995ء کو بھاری اکثریت کے ساتھ قرار داد منظور کر کے اسرائیل کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا اور واضح طور پر کہا کہ یروشلم کی حیثیت ایک متنازعہ شہر کی ہے اور باقاعدہ فیصلہ ہونے تک یہ متنازعہ شہر ہی رہے گا۔

حرف ا ٓخر:

ہندوستان نے جس طرح اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے لیے اپنے دیدہ و دل فرش راہ کر دیے اسے ہند۔ اسرائیل تعلقات کے فروغ میں کوئی اہم حیثیت حاصل ہو تو ہو لیکن اس کی خارجہ پالیسی میں اسے ایک بد ترین واقعہ کے طور پر دیکھا جائے گا۔ دونوں ملکوں میں بڑھتی ہوئی اس قربت کے بین السطور میں بہت کچھ پوشیدہ ہے جو آگے چل کر منظر عام پر آئے گا اور تب یہ محسوس ہوگا کہ ہندوستان نے اپنی سماجی ہم آہنگی کے لیے کتنا خطرناک قدم اٹھایا تھا۔ نیتن یاہو کے اس دورے میں سفارتی تعلقات کے استحکام،تجارتی فروغ اور دہشت گردی مخالف پالیسیوں پر زیادہ زور دیاگیا۔

علاوہ ازیں اسلامی دنیا کے بڑھتے ہوئے اسرائیل کے حالیہ تعلقات سے اگرچہ اسلامی دنیا کو عارضی کوئی فائدہ ہوجائے، لیکن نقصان کا خطرہ دائمی ہے۔ کیوں کہ یہودیوں کی سرشت میں بدعہدی اور حسد شامل ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہودیوں نے ہمیشہ اپنے وعدوں سے انحراف کیا اور پھر امت مسلمہ کے ساتھ یہود کی ازلی دشمنی سب پر عیاں ہے۔ ان حقائق سے یہ واضح ہوتاہے کہ اسرائیل کے اسلامی دنیا کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات سے خطرہ اسلامی دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک کوبہت زیادہ ہے۔ خدانخواستہ اگر یہ تعلقات مزید بڑھتے رہے تو گریٹراسرائیل کا راستہ ہموار ہوتاچلاجائے گا اور یکے بعد دیگر ے مشرق وسطی ٰ کے اسلامی ملک ٹوٹتے جائیں گے!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے