آئینۂ عالم

اسرائیل :قہرِ الہی کی لپیٹ میں

ظالموں سنبھل جاؤ،ظلم سے باز آجاؤ!
مفتی محمد صادق حسین قاسمی

بے قصور فلسطینیوں پر ظلم وستم کی تاریخ رقم کرنے والا اسرائیل اور جبر وتشدد ،سفاکیت ودرندگیت کا کھلے عام مظاہرہ کرنے والا اسرائیل خطرنا ک آگ کی لپیٹ میں ہے ،آگ کے شعلوں نے جنگلوں کے ساتھ آباد بستیوں کو بھی اپنا نشانہ بنایا اور اسرائیل کے بہت سے علاقے ہولناک قسم کی آگ سے متاثر ہوئے ہیں۔دودن قبل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے تیسرے بڑے شہر حیفہ میں شدید آتش زدگی کی وجہ سے تقریبا 80ہزار لوگوں کو گھر خالی کرنے کے لئے کہا گیا۔تین دنوں میں اس تیز رفتا ر آگ میں50 سے زائد اسرائیلی جل کر آگ کا ایندھن بن گئے ہیں ،آگ کے دھوئیں نے مختلف شہروں کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا اور لوگوں کو سانس تک لینے میں دشواری ہونے لگی ۔امریکہ و روس سمیت 10ملکوں کے جہاز آگ بجھانے کے عمل میں مصروف ہیں ،مگر ہوا کے دوش پر آسمان سے باتیں کرتے ہوئے آگ کے شعلے بستیوں اور شہروں کا رخ کررہے ہیں ،اسرائیل کا سب سے بڑا آرڈیننس ڈپو( اسلحہ کا ذخیرہ) اور ایٹمی اسلحہ بھی زد میں آنے کا خطرہ ہے،خوف زدہ یہودی پناہ لینے کے لئے بھاگ رہے ہیں۔
پوری دنیا جانتی ہے کہ ناجائز طور پر قائم ہونے والی اسرائیلی مملکت اور اس کے حکمرانوں نے فلسطینیوں کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ تاریخ کا ایک بدترین باب ہے ،آج بھی فلسطینیوں کو خود ان کی ہی سرزمین میں قید وبند کرکے رکھ دیا ہے ،معصوم بچوں ،بے قصور جوانوں ،عزت مآب ماؤں،بہنوں،نہتے مردوں ،کمزور بوڑھوں کے ساتھ اسرائیلی اپنے روزِ قیام سے ظلم ڈھاتے آرہے ہیں ،ان کے گھروں کو اجاڑنا،ان کے شہروں کو برباد کرنا،ان کی عمارتوں کو ڈھانا،اور ہر طرف خاک وخون کا دل سوز منظر برپا کرنا اسرائیلیوں کا مشغلہ رہا ہے ۔فلسطین کے لوگوں کے ساتھ ہر روز ایک نئے ظلم کا تجربہ کیا جاتا ہے۔ہر طرف سے فلسطین کے رہنے والوں کے عرصۂ حیات کو تنگ کرنے اور ان کی خوشیوں کو چھین کر غم و الم میں مبتلا کرنے کی اسرائیل نے شروع سے کوشش کی ہے۔اسرائیلی یہودیوں نے حیوانیت کا ایک ریکارڈ قائم کیا ہے ،جن کے سینے انسانی ہمدردی سے خالی اور جن کے دل پتھروں سے زیادہ سخت ہونے کی وجہ سے کسی معصوم پھول جیسے بچہ کا تڑپنا انہیں بے قرار نہیں کرتا،کسی بے قصور اور کمزور عورت کا ظلم کی بھینٹ چڑھنا انہیں معیوب معلوم نہیں ہوتا ،نہتے نوجوانوں کے لہو سے اپنی پیاس بجھاتے ہوئے انہیں شرم محسوس نہیں ہوتی ،ہنستے کھیلتے گلشن جیسے گھروں کو ویران کردینے میں ان کا ضمیر ملامت نہیں کرتا،کمزوروں اور ضعیفوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتے ہوئے ان کو کسی لمحہ خوف پیدا نہیں ہوتا۔اسکولوں پر تالے لگاتے ہوئے اور اسپتالوں میں مریضوں اور بیماروں کو پریشان کرتے ہوئے دواؤں کا محتاج بناتے ہوئے انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی ۔اسرائیل نے یقیناًاپنی طاقت کے نشہ میں اور اقتدار کے غرور میں مست ہوکر سرزمینِ مقدس فلسطین پر اپنی تباہی وبربادی کے وہ نقوش چھوڑے ہیں جسے دنیا کبھی نہیں بھلا سکتی ،مسجد اقصی پر غاصبانہ قبضہ اور اس میں داخلہ پرپابندی ان مکار یہودیوں کی سازش ہے ،آئے دن مسجد اقصی کے خلاف سازشیں ان کی شیطانی فطرت کی علامت ہے۔
غرض یہ کہ اسرائیلیوں نے فلسطین کے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں اور ڈھارہے ہیں وہ روح فرسا ہیں اور ایک انسان جس کے سینے میں انسانیت والا دل ہے وہ پگھل کر رہ جائے گا،اور جس کی آنکھوں میں مروت کی رمق باقی ہے وہ اشکبار ہوجائیں گی۔اسرائیل اور اس کے ظالم حکمرانوں نے بلاشبہ فلسطینیوں کو تختۂ مشق بنائے رکھا ہے ،آئے دن پابندیوں کی زنجیروں میں ان کو جکڑا جاتا ہے ،ابھی حال میں اذان پر پابندی عائد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ،اور مسلمانوں سے ان کا حق چھین کر انہیں محروم کردینے اور اپنا دستِ نگر بنادینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔اللہ تعالی کے یہاں دیر اندھیر نہیں ،سسکتی ماؤں کی آہیں ،تڑپتے بچوں کی لاشیں ،خاک وخون میں لت پت نوجوانوں کے جسم ،بوڑھوں مردوں اور عورتوں کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو،ملت اسلامیہ کی ستم رسیدہ بہنوں کے چیختے چلاتے نالے اور فریادیں رائیگاں نہیں جائیں گے ،اللہ تعالی ضرور ان آنسوؤں اور آہوں کے بدلہ ان کو تہس نہس کرکے رہے گا،ظالموں کے ظلم وجور سے اللہ غافل نہیں ہے اور نہ ہی انہیں بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے ،بلکہ اللہ تعالی نے انہیں مہلت دی ہے اور وہ ضرور ظالموں کواور اپنے بندوں کے ساتھ جبر و تشدد کرنے والوں کو سخت پکڑ میں لے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالی نے فرمایا:ولاتحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون انما یؤخر ھم لیوم تشخص فیہ الابصار۔(ابراھیم:42)’’اور یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ جو کچھ یہ ظالم کررہے ہیں ،اللہ اس سے غافل ہے ۔وہ تو ان لوگوں کو اس دن تک مہلت دے رہا ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔‘‘جن لوگوں نے دنیا میں ظلم وستم کیا اور خدا کے بندوں کے ساتھ جبر کا معاملہ کیا اللہ تعالی نے ان کو ایک مہلت کے بعد سخت عذاب میں مبتلا کیا۔اس کو بھی قرآن میں بیا ن کیا گیا۔فکلا اخذنا بذنبہ فمنھم من ارسلنا علیہ حاصبا ومنھم من اخذتہ الصحیۃ ومنھم من خسفنا بہ الارض ومنھم من اغرقنا وماکا ن اللہ لیظلمھم ولکن کانوا انفسھم یظلمون۔( العنکبوت:4۰)’’ہم نے ان سب کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ میں لیا ،چناں چہ ان میں کچھ وہ تھے جن پر ہم نے پتھراؤ والی ہوا بھیجی ،اور کچھ وہ تھے جن کو ایک چھنگاڑ نے آپکڑا،اور کچھ وہ تھے جن کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا ،اور کچھ وہ تھے جنہیں ہم نے پانی میں غرق کردیا ۔اور اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم کرتا ،لیکن یہ لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے۔‘‘
اللہ ظالموں سے انتقام لینے اور مظلوموں کی مدد کرنے کے لئے اپنی کسی بھی مخلو ق کو استعما ل کرسکتا ہے ،پوری کائنات اللہ ہی کی ہے اور تمام مخلوقات اسی کے حکم کے تابع ہیں لہذا وہ معمولی درجہ کی مخلو ق کے ذریعہ بھی بڑے بڑے دشمنوں کو ختم کرسکتا ہے اور ان کے غرور کو خاک میں ملانے پر قادر ہے ،اللہ تعالی نے فرعون کو پانی میں ڈبو کر مارا،قارون کو زمین دھنساکر ہلاک کیا،ابرہہ اور اس کے لشکر والوں کو ابابیل پرندوں کے ذریعہ عبرت ناک انجام تک پہنچایا۔آج جو اسرائیل میں آگ لگی ہوئی ہے وہ بھی خدا کی طرف سے ایک انتباہ ہے ،اور قہر خداوندی ہے ،مظلوموں کی آہوں کا نتیجہ ہے اور ظالموں کے لئے مقامِ عبرت ہے کہ وہ اپنی تمام تر ٹیکنالوجی اور جدید ترین آلات و اوزار کے باجود اس آگ کو بجھانے میں ناکام ہے اور دنیا کے مختلف ممالک سے مدد کی بھیک مانگ رہے ہیں۔جنگلوں سے نکل کر شہروں کی طرف بڑھتے ہوئے آگ کے شعلے خدائی قہر ہیں ،اللہ تعالی اپنے بندوں کو بہت زیادہ اور بہت دیر تک ظلم ہوتا ہوا نہیں چھوڑ دیتا ہے بلکہ اللہ ظالموں کو آفات ومصائب میں ڈال اور مختلف قسم کے عذابوں کو بھیج کر متنبہ ضرور کرتا ہے کہ وہ اپنے ظلم سے باز آجائیں۔اسرائیل اس آگ کو سیاست کا رنگ دے رہا ہے اور اسے دہشت گردی کی بدترین مثال قرار دینے کی کوشش میں لگا ہوا ہے لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ انسانوں کی لگائی ہوئی آگ پر قابو پایاجاسکتا ہے لیکن قہر خداوندی کی آگ بستیوں کو جلاکر راکھ کردیتی ہے۔اسرائیل کی یہ خطرنا ک آگ دنیا کے تمام ظالم حکمرانوں کو یہ پیغام دے رہی ہے اپنی شیطانی حرکتوں سے باز آجاؤ ،معصوم انسانوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک اور برتاؤ بند کردو۔شام کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ بھی حیوانیت اور بربریت کا ننگا ناچ کھیلنے والے ناعاقبت اندیش حکمران اور ان کی زندگیوں کو برباد کرنے والے خون آشام بھیڑیئے بھی اس سے سبق لیں۔یقیناًاسرائیل کی یہ آگ قہرِ ِ خداوندی ہے جو ان کے لئے تباہی کا سامان بنی ہوئی ہے۔اللہ مظلوموں کی حمایت فرمائے اور ظالموں کے ظلم سے انسانیت کو بچائے ۔آمین

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close