آئینۂ عالمخصوصی

اسلامی خلافت کی جانب رواں دواں ترکی کی عظیم پیش رفت

اس علامتی فتح میں ترکی کےدین  پسند عوام نے مصطفیٰ کمال اتاترک کے لادینی طوق  کو اپنے گلے سے نکال کر دریا برد کردیا۔

ڈاکٹر سلیم خان

پہلی جنگ عظیم کا آغاز  ویسےتو آسٹریا اور ہنگری کے ولی عہدشہزادہ فرانسس فرڈی ننڈ منڈ کے قتل کے بعد سربیا پر حملے سے ہوا مگر جرمنی اور برطانیہ کی شمولیت نے اسے عالمی جنگ بنا دیا۔ جنگ کے اختتام پر دونوں  فریقین نے خلافت عثمانیہ کو قربانی کا بکرا بنایا اور استنبول پر قبضہ کرکے ۳۰ اکتوبر ؁۱۹۱۸ کے معاہدہ مد روس اور اس کے بعد معاہدہ سیورے اور پھر فرانس اور برطانیہ کے بدنام زمانہ خفیہ معاہدے سائیکوس پیکوٹ کے ذریعے ترکی کے حصے بخرے کردیئے۔  مصطفی کمال پاشا نے مغربی استعمار کے خلاف  بغاوت کرکے  ترکی کو اس  سے  نجات دلائی اور  مقبول حکمراں بن گیا۔  آزادی کی آڑ میں اقتدار پر قابض ہوکر اُس بدخت نے   ؁۱۵۱۷ میں قائم ہونے والی خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ؁۱۹۲۴ کردیااس لیے کہ دین  اسلام ہر طرح کی آمریت کا دشمن ہے۔

مصطفی کمال اتاترک نے ترکی سے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کرنے کے بعد  سیکولر ازم کو فروغ دیا۔اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے اس نے  فوج اور دیگر حکومتی اداروں  میں صرف سیکولر نظریات کے حامیوں کی بھرتی شروع کردی۔آزادیٔ  نسواں کا بہانہ بناکر  حجاب پر پابندی لگادی اور عورتوں کوجبراً مغربی لباس زیب تن کرنے پر  قانون کے ذریعہ مجبور کیا۔ مذہبی قوانین کو کالعدم قراردے کر مصطفٰی کمال پاشا نے ترکی کے سرکاری اداروں میں اللہ اور اس کے رسول کا ذکر حرام ٹھہرا دیا– اس نے اسکولوں کے تعلیمی نصاب سے عربی رسم الخط کی جگہ  لاطینی رسم الخط رائج کروایا – اذان اور نماز کے کلمات کی عربی  میں ادائیگی پر پابندی لگاکر اس کا ترک زبان میں آغاز کیا۔ مدارس  بند کردیئے گئے، کئی  مساجد پر قفل چڑھا دیا  گیا۔

ترکی کو جدید ڈھانچے میں ڈھال کر یوروپ سے ہم آہنگ کرنے کیلئے سرکاری سرپرستی   میں فحاشی، عریانیت، رقص وسرود کے ادارے اور شراب خانے قائم کیے گئے –  برطانیہ اور جرمنی کے بعد ترکی کو شراب سازی  میں  تیسرامقام حاصل ہو گیا–  مغرب زدہ  اشرافیہ کے ایک جدید طبقہ عالم وجود میں لاکر اس کی مدد سے آمرانہ طرزِ حکومت کو مضبوط تر کردیا گیا۔ دین بیزار سیکولر آئین ترتیب دے کر اس کے تحفظ اور تنفیذ کی ذمہ داری  فوج کے سپرد کر دی گئی۔ فوج نے بزور قوت  سیکولر دستور، نظریات اور قوانین کو ترک عوام پر مسلط کیا، جسے بادلِ ناکواستہ ترک  عوام نے قبول کیا۔ یہ سارا ظلم و جبر ترک عوام کے دلوں سے دین اسلام کی محبت کو ختم نہیں کرسکا اوروہ اپنے  دل میں ایمان چھپائےروشن  مستقبل کے خواب  بنتے رہے۔

خالص سیکولرقوم پرست مصطفی کمال اتاترک ؁۱۹۳۸ میں وفات پاگیا ۔ اس نے اپنے  نام کے پہلے حصے مصطفی کو حذف کر کے اپنی شدت پسند اسلام دشمنی  کا پہلا ثبوت دیا تھا۔  وہ بالآخر یہ  وصیت کرکے دنیا سے گیا  کہ نہ  جنازہ  پڑھا جائے اور نہ اسلامی طریقے سے تدفین کی جائے۔جتنے سال اس نے حکومت کی اتنے ہی برس اس کی لاش بے گور و کفن محل میں پڑی رہی۔ ؁۱۹۵۳ میں اس لاش کو دفنایا گیا۔ اسلام پسندوں نے اتاترک کی موت کے بعد ؁۱۹۴۶ میں ڈیموکریٹک پارٹی قائم کی۔ اس جماعت کو ترکی عوام اتنی پذیرائی نصیب ہوئی کہ ؁۱۹۵۰ کے انتخابات میں اسے واضح اکثریت حاصل ہوگئی۔ یہ سلسلہ ؁۱۹۵۴  اور ؁۱۹۵۷ میں بھی جاری رہا۔  وزیراعظم عدنان مندریس نے ترکی میں سفید انقلاب برپا کرکے اذان، نماز، حج اور مساجد بنانے کے حوالے سے پابندیاں ختم کردیں۔   عدنان مندریس کی جانب سے اسلام پسند عوام کے حقوق اور آزادی کی بحالی سے سیکولر آئین کی محافظ  فوج نے جنرل کمال گروسیل کی قیادت میں  ؁۱۹۶۰ کے اندر  منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا اور وزیراعظم سمیت بے شمار  اسلام پسندوں کو غدار قرار دے کر پھانسی کے تختے پر  چڑھا دیا۔ اس طرح  بے دین نظام سیاست پرعلامہ اقبال یہ ارشاد حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا ؎

جلال  پادشاہی ہوکہ جمہوری تم تماشہ ہو     

جد ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

سیکولر  مارشل لاء کی مدد سے  پھر  ترکی کو تاریکی کی نذر کردیا گیا۔ لادینیت کے حاملیں کو نوازکراسلام پسندوں کے حقوق سلب کیے گئے نیز  ڈیموکریٹک پارٹی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ سلسلہ دو دہائیوں تک جاری رہا کہ جب بھی فوج  کو سیکولرازم  خطرے میں نظر آتا وہ  منتخب حکومتوں کو برخواست کرکے  مارشل لا لگا دیتے۔ ؁۱۹۸۱ کی فوجی حکومت نے ۵ لاکھ لوگوں کوگرفتار کیا اور ہزاروں کو پھانسیاں دی مگر  اسلام پسندوں کی جدوجہد جاری رہی۔ ؁۱۹۹۵ کے انتخاب میں   اسلامک ویلفیئر پارٹی مخلوط حکومت میں شامل ہوئی اور نجم الدین اربکان  کووزیراعظم کا عہدہ سونپا گیا۔ سیکولر فوج نے ۱۹۹۷؁  میں اس حکومت کا تختہ الٹ دیا اور اسلام پسند وزیراعظم نجم الدین اربکان پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگا دی۔ اربکان نے نئے نام کے ساتھ ’’ورچو پارٹی‘‘ قائم کی، اور وہ اس قدر  مقبول ہوگئی  کہ ۲۰۰۱؁ کے انتخاب سے قبل فوج اس پر بھی پابندی لگانے پر مجبور ہوگئی۔ اس کے بعد ’’سعادت‘‘ کے نام سے اسلام پسند منظم  ہوئے اور اس کے بطن  سے طیب اردگان اور عبد اللہ گل کی جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی  (اے کے پی) نے جنم لیا۔

؁۲۰۰۲ سے ؁۲۰۱۵ تک مسلسل چار انتخابابت میں اے کے پی نے کامیابی درج کرائی۔ میں اے کے پی کو ۳۴ فیصد ووٹ ملے تھے جو ۲۰۰۷؁میں بڑھ کر ۴۶ فیصد ہوگئے اور ۲۰۱۱ ؁ کے اندر ۵۰ فیصد تک پہنچ گئے۔ اس کی وجہ عوام کے لیے کیے جانے والے فلاح بہبود کے کام تھے اور ساری دنیا کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں اٹھائی جانے والی دلیر حمایت تھی۔ خاص طور پر غزہ کے فلسطینیوں  کی مددو استعانت۔ ترکی نے ایک ایسے نازک وقت میں اخوانیوں کا ساتھ دیا جب قطر کے علاوہ ساری مسلم دنیا ان کے خون کی پیاسی ہوگئی تھی۔  رجب طیب اردگان نے اپنے پیش رو عدنان میندریس اور نجم الدین اربکان روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے ترکی کو ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچا دیا۔

 ؁۱۹۹۴ سے ۱۹۹۸ ؁  تک جب اردگان   استنبول کے مئیر تھے  توانہوں نے  شہر کو مافیا، منشیات اور معاشی فراڈ سے پاک کیا۔ ٹریفک کا نظام درست کیا۔ شہر کو صفائی کے ذریعے آلودگی ختم کرکے ٹریفک کا مسئلہ حل کیا۔. شہری خزانے میں  دو بلین ڈالر کے خسارے ختم کرکے چار بلین ڈالر کا انفراسٹرکچر قائم کیا۔ استنبول صرف ۴ سالوں میں ترقی یافتہ اور تجارتی مرکز  بن گیا۔   قوم کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد انہوں نے انتظامیہ  کی بہتری، معاشی بحالی اور سماجی ترقی کے ساتھ  مذہبی تشخص کو بحال کیا  اور بتدریج فوج کے اختیارات میں کمی کرکے مقننہ کی  بالادستی قائم کی۔  ان اصلاحات کا عوام کو خاطر خواہ  فائدہ ملا۔ حکومتی نظام آن لائن ہونے کے سبب بدعنوانی کا  خاتمہ ہوا اور لوگوں کے مسائل گھر بیٹھے حل ہونے لگے، پولیس کے نظام کو بہتر کرکے اس کے معیار کو فوج جیسا بنایا گیا۔ اس طرح سماجی امور سے فوج کو بے دخل کردیا گیا۔

معاشی میدان میں غیر معمولی کامیابی درج کرائی گئی۔ قومی عمومی پیداواار کی شرح (جی ڈی پی) میں  ۴۳فیصد کا اضافہ ہوا، غربت ۱۳ فیصد سے کم ہو کر ۵ فیصد تک رہ گئی۔ لیرا کی قدرو قیمت  ڈالر کے نصف تک پہنچ گیا۔ہائوسنگ سیکٹر پر توجہ دے کر ملازمت کے مواقع کو فروغ دیا گیا۔ اس سے نہ صرف روزگار کا مسئلہ حل ہوا تو بلکہ  انفراسٹرکچر  میں بہتری آئی۔ بارہ سالوں میں ہوائی اڈوں کی تعداد ۲۶سے بڑھ ۵۰ ہو گئی اور زر مبادلہ کے ذخائر ۲۰۱۱ ؁  میں ۹۲ بلین ڈالر تک پہنچ گئے۔ سیاحت کو فروغ پر ۲۰ ارب ڈالر سالانہ اخرچ کیے گئے ایل لاکھ ۳۵ ہزار  کلومیٹر سڑکیں اور ایک ہزار ۷۶ کلومیٹر ریلوے کی لائنیں بچھائی گئیں۔ سرکاری و دیگر دفاتر میں پردے اور حجاب کے ساتھ کام کرنے  کی اجازت دی گئی۔ سودی بنکوں کے بجائے ’’ زراعت اسلامی بنک ‘‘ کو ترجیح دے کرعوام کو سود کی لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے پیش قدمی  کی گئی۔ قومی خزانے  میں ۶۴ فیصد اضافہ ہوا۔ معاشی ترقی کا ایک اشارہ ورلڈ بنک کے قرضہ جات کاصفر ہوجانا   ہے۔ ترکی نے آگے بڑھ آئی ایم ایف کو  قرض لینے کی پیشکش بھی کردی۔

  اس دوران تعلیمی اصلاحات کے نتیجے میں  اسکولوں کے طلباء کی تعدادساڑھے ۶ لاکھ  سے بڑھ کر ۸ لاکھ تک پہنچ گئی۔ ۱۲ سال کی عمر سےقبل طلباء پر  قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کی جو  پابندی عائد تھی اسے  ختم کر کے تمام درسگاہوں  میں قرآن و مذہبی تعلیم کی فراہمی کو  لازمی قرار دیا گیا۔ قومی یونیورسٹیوں کی تعداد ۹۸سے بڑھا کر ۱۹۰ کر دی گئی- تعلیمی بجٹ ۵ء۷ ارب لیرا سے بڑھا کر ۳۴ ارب لیر ا کر دیا گیا۔ ؁۲۰۱۱ کے سال میں ۱۷ ہزار نئی مساجد کی تعمیر کے علاوہ  پرانی مساجد کی بحالی کا کام کیا گیا۔ سرکاری دفاتر میں نماز باجماعت کے اہتما م ہوا۔ ترک شہریوں کو ملک کے کسی بھی ہسپتال میں مفت علاج کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ اس طرح  صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست کےخواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسلام پسندوں کی مقبولیت  سے خائف ہوکر سیکولر فوج ماضی میں  ۳ بار مارشل لاء لگانے کے بعد بھی عوام میں ان کی مقبولیت کو کم کرنے میں ناکام رہی تھی اس کے باوجود اپنی سابقہ روایات کو  جاری رکھتے ہوئے فوج کے ایک گروہ نے ؁۲۰۱۶ میں  رجب طیب اردگان کی منتخبہ  حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ بیدار ترک  عوام نے پہلی بار سڑکوں پر اتر کر  اس فوجی بغاوت کو ناکام بنا دیا گیا۔ جولائی  ؁۲۰۱۶ کی اس فوجی بغاوت نے اردگان کی توجہ سیاسی اصلاحات  کی جانب مبذول کرائی۔ اس بار    فوج کے اثرو رسوخ   کوکم کرنے کے لیے  اور مقننہ کے ہاتھ مزید مضبوط کرنے خاطر آئین میں نو بنیادی  قسم کی تبدیلیاں تجویز کی گئیں جن میں سے ایک پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بدلنا بھی تھا۔

خلافت عثمانیہ کے بعد وجود میں آنے والی جدید ترک ریاست کے سیاسی نظام میں ان  بڑی تبدیلیوں  کو نافذ کرنے کے لیے پارلیمانی جوڑ توڑ کے بجائے عوام میں جاکر براہِ راست  استصوابِ رائے کرانے کا راستہ اختیار کیا گیا۔ ؁۲۰۱۷  میں ہونے والے اس ریفرنڈم   میں عوام کو ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے کے حق میں یا  مخالفت میں ووٹ ڈالنے کا موقع دیا گیا۔ ان تبدیلیوں کے بعد ترک صدر کو صدارتی حکم نامے جاری کرنے، ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے، وزراء اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی تقرری کا اختیاربحال ہونا تھا۔ صدر رجب طیب اردگان صدارتی نظام کے حامی تھے۔ وہ سیاسی نظام کی تبدیلی کو  ملکی استحکام اور بے یقینی کی کیفیت کے خاتمے کے لیےضروری قرار دیتے تھےکیونکہ   گزشتہ ۹۳ سالوں میں ۶۵ حکومتیں بنی تھیں ۔

 حزب اختلاف  صدارتی نظام سے ملک میں اردگان کی  آمریت کا خدشہ ظاہر کررہا تھا۔ اس کا الزام تھا کہ اس سے طاقت کا توازن بگڑ جائے گا اور طاقتور اردگان کا اثر و رسوخ مزید بڑھ جائے گا حالانکہ یہ اختیارات کسی فردِ خاص کے لیے نہیں بلکہ  ہر منتخب صدر کے لیے تھے۔ اس طرح گویا ان لوگوں نے آئندہ انتخاب میں اپنی شکست بلاواسطہ  قبول کرلی تھی۔ اس ریفرنڈم میں حکمران جماعت ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی‘‘ (اے کے پی)اور اس کی حلیف نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (ایم ایچ پی) نے اپنے حامیوں سے ہاں پر مہر لگانے کی تلقین کی جبکہ  مخالفین میں  مصطفٰی کمال پاشا کی پارٹی( سی ایچ پی)، کرد نواز ایچ ڈی پی کے ساتھ  حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی  نےاپنے ووٹروں سے’ناں‘ کی مہر لگوانے کے لیے مہم چلائی۔ استصواب میں تقریباً اکاون اعشاریہ سات فیصد نے صدارتی اور اڑتالیس فیصد نے پارلیمانی نظام کے حق میں رائے دی ۔

آئینی ترمیمات  کی عوامی توثیق کے بعد جب پہلی بار بیک وقت صدارتی  اور پارلیمانی انتخابات کا انعقاد  ہوا تو سیاسی جماعتیں اسی طرح دو محاذ میں منقسم تھیں۔ اس بار پھر  رجب طیب اردگان  نے  صدارتی انتخابات میں فتح  حاصل کی ہےاور ان کے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی اور نیشلسٹ موومنٹ پارٹی کے اتحاد  نے ایوانِ  پارلیمان واضح اکثریت  حاصل کر لی۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق صدر اردگان دوبارہ ۶ء۵۲ فیصد ووٹ  کے ساتھ صدر منتخب ہو گئے۔ ان کے سب سے بڑے حریف  ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے امیدوار محرم انجے ۸ء۳۰ فیصد  ووٹ ملے۔ اس طرح  ۵۰ فیصد سے زیادہ ووٹ کے لیے دوسرے مرحلے کی ضرورت نہیں پیش آئی۔پارلیمانی  انتخابات  میں برسراقتدار محاذ کو ۶ء۵۳ ووٹ اور ۶۰۰ میں سے ۳۳۴ نشستوں پر کامیابی ملی  اس میں ۴ء۴۲ فیصد ووٹ اکیلے اے کے پی کے ہیں۔ حزب اختلاف کو جملہ ۱ء۳۴ فیصد ووٹ حاصل ہوئے جبکہ ری پبلیکن پپیلز پارٹی نے ۷ء۲۲ فیصد ووٹ حاصل کیے۔ اس علامتی فتح میں ترکی کےدین  پسند عوام نے مصطفیٰ کمال اتاترک کے لادینی طوق  کو اپنے گلے سے نکال کر دریا برد کردیا۔ تقریباً ایک صدی کے بعد تین سخت ترین مراحل سے گزر یہ شاندار کامیابی درج کرانے والے  اسلام پسند ترکی عوام اور ان کے  رہنما  بجا طور پرمحشربدایونی کے اس شعر کی مصداق ہیں؎

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ

جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close