آئینۂ عالم

اسپورٹس مین اسپرٹ

حفیظ نعمانی

انسان کی زندگی کے وہ خوبصورت 20  سال جو 15  سے 35  تک گذرے ہوں ان کا اثر ہمیشہ رہتا ہے۔ نہ جانے کتنے ایسے ہیں جنہوں نے پہلے دن سے سیاست کے بارے میں سوچا اور وہ اس میں لگ گئے۔ یہ کام تقدیر کا ہے کہ وہ کامیاب ہوئے یا ناکام۔ کسی نے کھیل کو اپنایا اور کامیاب یا ناکام یہ قیمتی سال اس میں گذار دیئے۔ آج جن کو موضوعِ گفتگو بنانا ہے یعنی عمران خان وہ کھیل کے میدان میں داخل ہوئے اور اس کی معراج جو کپتانی اور ورلڈ کپ کا حصول ہے اسے حاصل کرنے کے بعد اس سیاست میں کود پڑے جسے وہ ہمیشہ نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

عمران خان نے پاکستان کی مروجہ سیاست کے انداز پر زبردست حملے کئے اور قوم سے وعدے کئے کہ صاف ستھری سیاست کا نمونہ پیش کریں گے۔ عمران خان نے 22  سال کرکٹ جس جی جان سے کھیلی اسی محنت اور لگن سے وہ سیاست کرتے رہے۔ خود انہوں نے 2012 ء میں جو اپنی سوانح لکھی اس میں اعتراف کیا کہ کانٹوں بھری زمین میں پائوں ہر قدم پر زخمی ہوئے بار بار ناکامیاں مقدر بنیں لیکن وہ جو سوچ کر میدان میں اُترے تھے وہ جنون کم نہیں ہوا۔ عمران خان نے کرکٹ کھیلی تب بھی بقول ان کے پوری گرمیاں ہر سال انہوں نے یورپ میں گذاریں اور سردیاں پاکستان میں۔ وہ دوبار کرکٹ کو الوداع کہنے کے بعد پھر ایک بار ایک پیر فقیر کے اس اشارہ کے بعد کہ پروردگار چاہتا ہے کہ تم کھیلو اور وہ کھیلنے لگے۔ اور جب دوسری بار کرکٹ کو الوداع کہا تو صدر ضیاء الحق نے بلاکر ذاتی طور پر اصرار کیا کہ ابھی اور کھیلنا چاہئے۔

عمران خان کی والدہ معدہ اور جگر کے کینسر میں آخری درجہ کی تکلیفیں جھیل کر دنیا سے رخصت ہوئیں۔ ان کی تکلیفوں کو دیکھ کر عمران خان نے اپنی والدہ کی یاد میں ایصال ثواب کے لئے ایک کینسر اسپتال بنوانے کا بیڑہ اٹھایا جس میں غریبوں کے مفت علاج کا اعلان کیا۔ جو لوگ کینسر کے قیمتی علاج سے واقف ہیں وہ یہ نہیں مانتے تھے کہ کوئی مفت علاج بھی کرسکتا ہے اور اسی لئے چندہ دینے میں تکلف کرتے تھے یا نام کے لئے دے دیتے تھے۔ لیکن عمران خان نے جو بھی کیا اور کینسر کا اسپتال بناکر اور چلاکر دکھا دیا۔

عمران خان نے سیاست میں قدم رکھا تو اسے بھی کرکٹ کے ورلڈ کپ اور کینسر اسپتال کی طرح زندگی کا مقصد بنا لیا اور دنیا یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ نواز شریف اور آصف زرداری جیسے سیاست کے ماہر کھلاڑیوں کے منھ سے حکومت عمران خان نے چھین لی۔ انہوں نے جب وزیراعظم کا حلف لیا تو پاکستان کے ان تمام کرکٹ کھلاڑیوں کو جنہوں نے ان کے ساتھ برسوں کھیلا تھا ان سب کو بلایا اور دنیا میں جسے بھی بلایا ہو ہندوستان سے سنیل گواسکر، کپل دیو اور نوجیوت سنگھ سدھو کے ساتھ فلم نگری کے محترم اور دانشور عامر خان کو بھی بلایا۔ جس کے جواب میں سدھو ہی جاسکے۔ اور یہ اب معلوم ہوا کہ وہ یہ سوچ کر گئے تھے کہ اگر انہوں نے دیکھا کہ عمران خان وہی ہیں جو دشمن سمجھ کر اور یہ سوچ کر گیند پھینکتے تھے کہ سدھو کو آئوٹ کرنا ہے اور سدھو کوشش کرکے چھکا مارتے تھے کہ دکھا سکیں کہ تم پنجابی ہو تو ہم نے بھی پانچوں دریائوں کا پانی پیا ہے۔ اور جب کھیل ختم ہوجاتا تھا تو دونوں پنجابی دوست پیار محبت کی باتیں کرتے تھے۔

نوجیوت سنگھ سدھو نے سوچا تھا کہ اگر عمران خان بھی میری ہی طرح نہ بدلے ہوں گے تو ان سے پورے سکھ فرقہ کیلئے نانک بابا کے گرودوارے تک کا چار کلومیٹر کا راستہ کھولنے کی فرمائش کروں گا۔ اور سدھو نے جاکر دیکھا کہ عمران اس زمانہ کا ایمی آج بھی بالکل وہی ہے تو سدھو نے دوست کے سامنے ہاتھ پھیلا دیا اور عمران خان نے اشارہ دے دیا کہ تو دوست ہے اور بھی کچھ مانگے گا تو دوں گا سدھو نے واپس آکر دبے دبے انداز میں اس کا ذکر کیا لیکن ہمارے ملک میں ایک طبقہ ہے جس کے نزدیک جو پاکستان اور پاکستانیوں کو گالی نہ دے وہ بھارتی نہیں ہے۔ اور سدھو کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ اس طبقہ نے سدھو سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔ سدھو اپنی سی کوشش کرتے رہے اور آخرکار کامیاب ہوگئے۔ ہندوستان کی حکومت نے بھی اپنے علاقے میں گرودوارہ بابا گرو نانک کے لئے جانے والے کوریڈور کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور پاکستان نے بھی سنگ بنیاد کیلئے 28  نومبر مقرر کردی۔

پاکستان نے سدھو کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب اور ملک کی وزیر خارجہ سوشما سوراج کو دعوت نامے بھیج دیئے۔ میڈیا وہ ٹی وی ہو یا اخبار سب نے کہا کہ وزیرخارجہ اور پنجاب کے وزیراعلیٰ نے دعوت نامہ کو ٹھکرا دیا۔ اگر ٹھکرانے کا لفظ میڈیا کا ہے تو بدتمیزی ہے اور ان لیڈروں کا ہے تو بدتہذیبی ہے۔ عمران خان مسلمان ہیں اور اس گلیارے کا مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں دھرمیندر سنگھ سکھ ہیں اور سوشما ہندو ہیں لیکن ہندو ہی سکھ ہوتے ہیں ان میں آپس میں شادی یا غیرمذہب میں شادی نہیں مانی جاتی اور ایسے نہ جانے کتنے سکھ ہیں کہ ان کے بھائی ہندو ہیں ایسی صورت حال میں نہ جانے کا فیصلہ الگ بات ہے اور ٹھکرانے دوسری بات ہے۔ اگر عمران خان عام سیاست داں ہوتے تو کہتے کہ تو پھر پاکستان میں کچھ نہیں ہوگا۔

جن لوگوں نے پاکستان میں سنگ بنیاد کی تقریب ٹی وی پر دیکھی ہوگی وہ حیران رہ گئے ہوں گے کہ عمران خاں نے سدھو کو حکومت کا نمائندہ اور وزیراعظم کے جانشین کا درجہ دیا صرف اس لئے کہ یہ جو کچھ ہوا سیاست اور حکومت نے نہیں کیا دوستی نے کیا۔ ہندوستان میں جو سنگ بنیاد رکھا گیا اس میں بھی وزیر شریک ہوئے اور ان کو ہونا ہی تھا کہ ہندو سکھوں کو نظر انداز کیسے کرسکتے ہیں کہ وہ بازوئے شمشیر زن ہیں لیکن وزیراعظم یا وزیر داخلہ شریک نہیں تھے۔ پاکستان میں وزیراعظم، وزیرخارجہ دیگر وفاقی وزراء، وزیراعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب اور مختلف ملکوں کے سفیر بھی شریک تھے۔ عمران خان نے اپنے دوست سدھو کو وزیراعظم مودی کا نائب بناکر برابر میں کھڑا کیا اور کہا کہ دو ملکوں کی دوستی کے لئے یہ کیوں ضروری ہے کہ دونوں وزیراعظم بات کریں۔ اور انہوں نے وہ سب کہہ دیا جو مودی جی ہوتے تو کہتے۔ اور سدھو نے بھی اس مقام کی لاج رکھ لی جہاں ان کو کھڑا کیا گیا تھا۔ اس واقعہ پر ٹیڑھا منھ بنانے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب ملک کے سب سے بڑے لیڈر اٹل بہاری باجپئی بس لے کر نواز شریف سے بات کرنے گئے تھے تو حالات اس سے کہیں زیادہ خراب تھے اور کارگل کی جھڑپ کے ذمہ دار مشرف جب صدر بنے تو انہیں آگرہ میں بلاکر بات کی۔ آج ٹھکرانے کے بجائے یہ کہنا چاہئے کہ عوامی الیکشن قریب ہیں ایسے میں کوریڈور بن گیا یہی بہت بڑی بات ہے باقی الیکشن کے بعد۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close