آئینۂ عالم

اللہ کے دشمنوں سے دوستی کا عذاب!

یمن و سیریا، مصر و نائجیریا اور افغا نستان و پاکستان میں خود اپنوں ہی کو مسجدوں میں، اسپتالوں میں اور بازاروں میں مارتے ہیں اور پوری دنیا پر حکومت کرنے کے خواب دیکھتے ہیں!

عالم نقوی

غزہ اور یمن، سیریا اور نائجیریا، بحرین، الجیریا، اور رخائن سمیت پورا جنوبی ایشیا جس آگ میں جل رہا ہے وہ ڈیڑھ ارب اہل ایمان پر اللہ سبحانہ تعالیٰ کا نازل کردہ  کا عذاب ہے ۔ اُس کے رسول ﷺ اور دین فطرت کے دشمنوں (سورہ مائدہ ۸۴) سے دوستی کرنے  کا عذاب۔  انہیں اپنا ولی و سرپرست بنالینے، بنائے رکھنے اور اس پر شرمندہ ہونے کے بجائے اس پر فخر کرنے کا عذاب۔ حصول قوت کے قرآنی حکم (سورہ انفال ۶۰)کو نہ ماننے  اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے نہ تھامے رہنے(سورہ آل عمران۱۰۳)  کا عذاب۔ غیر مسلموں کو دائرہ اسلام میں لانے کی کوششوں کے بجائے خود مسلمانوں ہی کو دائرہ اسلام سے بخیال خود خارج کرنے کا عذاب۔ اور ظالموں کے بجائے مسلمانوں ہی کو کافر قرار دے کر منظم طریقے سے قتل کرنے اور اسے جہاد فی سبیل اللہ کا نام دینے کے ظلم  عظیم  کا عذاب۔ بنام ِاِسلام  مسلم دنیا (عراق و سیریا، یمن و نائجیریا، مصر و الجیریا اور افغانستان و پاکستان  وغیرہ ) میں فی سبیل لطا غوت  دہشت گردی کرنے اور اُسے  فی سبیل ا للہ جہاد سمجھنے کا عذاب۔ دہشت گردوں سے لڑنے والے اِخوانُ المسلمین، حماس، سرایا الجہاد اور حزب اللہ کی مدد کرنے کے بجائے اُلٹے اُنہیں کو دہشت گرد قرار دے دینےکی دہشت گردی کا عذاب۔

 یہ سب ہمارے اپنے کرتوتوں کا بدلہ ہے۔ ورنہ اللہ ظلم نہیں کرتا (سورہ انفال ۵۱)اور یہ سزا ہمیں اِس لیے مل رہی ہے کہ ’اللہ اپنی نعمت کو جو اُس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اُس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی  حالت کو نہ بدلیں اِس لیے کہ  اللہ سب سے زیادہ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ (سورہ آلِ عمران ۵۳)

قوموں کے عروج و زوال کا یہی قانون ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ کسی قوم کو عطا کی ہوئی اپنی نعمتیں اُسی وقت واپس  لیتا ہے جب وہ اُس کی ناقدری اور ناشکری کرتی ہیں ۔ اور خود کو اُس کا اہل ثابت کر نے میں ناکام رہتی ہیں ۔ امن و امان۔ خوش حالی۔ عزت اور اقتدار سب اللہ کریم کی عطا کردہ نعمتیں ہی تو ہیں ! لیکن جب کوئی قوم یا قومیں اللہ کا  شکر ادا کرنے کے بجائے سر کشی پر اتر آتی ہیں تو اللہ  پہلے اُن پر خوف و ہراس طاری کر تا ہے  اور پھر اپنی دی ہوئی نعمتیں چھین لیتا ہے۔ یہ آپس کی مار کاٹ، خانہ جنگیاں، یا  دشمنان دین کی مسلط کردہ جنگیں، قدرتی آفات، زلزلے ، طوفان اور وبائیں، پے در پے طرح طرح کے حادثات کا وقوع پذیر ہونا  یہ سب اللہ کا نازل کردہ عذاب  ہی تو ہیں !جن کا بنیادی سبب کفرانِ نعمت اور ناشکری  ہے۔ اگر تب بھی عقل نہ آئے اورعذاب میں مبتلا قوموں کے اَفراد اَپنے نفوس کوراہ ِراست پر لانے  اور فرداً فرداً خود اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش نہ کریں تو عزت و اقتدار بھی خطرے میں پڑجاتا ہے اور مُشرِک و مُسرِف اور مُترِف و ظالم قوموں کی ذلت انگیز  غلامی  میں گرفتار ہوجانا اور دوسرے بلکہ تیسرے اور چوتھے درجے کا بے حقوق شہری بننا  لازمی ہو جاتا ہے۔

کچھ دن قبل جاوید چودھری نے کیا غلط لکھا تھا کہ ’’ہم نے اپنی چودہ سو سالہ تاریخ میں اَغیار کو اِتنا فتح نہیں کیا جتنا ہم خود ایک دوسرے کو فتح کرنے میں مصروف رہے۔ مسلمانوں نے دنیا کا  ۹۵ فی صد علاقہ اسلامی عروج کی پہلی صدی ہی میں فتح کرلیا تھا لیکن اُس کے بعد مسلمان ساڑھے تیرہ سو سال اس علاقے کے لیے ایک دوسرے سے لڑتے  اور یکے بعد دیگرے ایک ایک کر کے انہیں گنواتے رہے۔ہمارے علم، فلسفے، سائنس اور ایجادات کی ۹۵ فی صد تاریخ بھی اسی ابتدائی ترین سو برسوں تک محدود رہی۔ ہم نے پچھلے ایک ہزار سال میں خود اپنوں ہی سے  لڑتے رہنے اور ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہنے کے سوا اور کیا کیا ہے؟

یہ ۲۰۱۸ ہے۔ آپ ایک ہزار سال پیچھے چلے جائیے آپ کو محمود غزنوی ہندستان پر حملے کرتا ملے گا۔ ہسپانیہ میں مسلمانو ں کے ہاتھوں آپ مسلمانوں ہی کے  گلے کٹتے ہوئے پائیں گے۔ ترکی میں آپ کو سلجوق تلواریں اُٹھائے  آپس ہی میں ایک دوسرے کو دہلاتے نظر آئیں گے۔ عرب میں آپ ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی دیکھیں  گے۔ سنی شیعوں کے اور شیعہ سنیوں کے سر اُتارتے نظر آئیں گے۔ مسلمان ہی مسلمانوں کی مسجدیں جلاتے دکھائی دیں گے اور مسلمان ہی مسلمانوں  کے سروں کے مینار بناتے مل جائیں گے۔

 اس طرح ۱۰۱۸ سے آپ جتنا آگے بڑھتے جائیں آپ کو مسلمان دوسرے مسلمانوں کا خون بہاتے اور درمیانی وقفے میں حرام خوری کرتے نظر آئیں گے۔ ہم نے ان ہزار برسوں میں حرام خوری کے سوا اور کیا ہی کیا ہے ؟ ہم ایک ہزار سال سے کنگھی سے لے کر نیل کٹر (ناخون کاٹنے کا چھوٹا سا آلہ ) تک اُن ہی لوگوں کا بنایا ہوا استعمال کر رہے ہیں جنہیں ہم دن میں پانچ بار بد دعائیں دیتے ہیں ۔

 ہم اپنی مسجدوں میں یہودیوں کے ایجاد کیے اور بنائے ہوئے بجلی کے پنکھوں اور ائیر کنڈیشنر (اے سی) لگا کر عیسائیوں کی بنائی ہوئی ٹونٹیوں سے وضو کر کے، کافروں کے بنائے ہوئے ساؤنڈ سسٹم پر اذان دے کر اور لا دینوں کی بنائی ہوئی جا نمازوں پر سجدے کر کے اُن ہی سب کی بربادی کے لیے دعائیں کرتے ہیں ! ہم دوائیں بھی یہودیوں ہی کی بنائی ہوئی کھاتے ہیں  بم اور بارود بھی کافروں ہی کا استعمال کرتے ہیں۔

 یمن و سیریا، مصر و نائجیریا اور افغا نستان و پاکستان میں خود اپنوں ہی کو مسجدوں میں، اسپتالوں میں اور بازاروں میں مارتے ہیں اور پوری دنیا پر حکومت کرنے کے خواب دیکھتے ہیں! ہم یورپی بندوقوں، ٹینکوں، توپوں، گولوں اور گولیوں کے بغیر حرمین شریفین کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے!

 ہم نے اگر قرآن مجید کی اشاعت کے لیے کاغذ۔ پرنٹنگ پریس اور سیاہی (اِنک) ہی بنا لی ہوتی تو شاید کچھ فرض کفایہ ادا ہوجاتا لیکن  ہم تو حرمین شریفین کے  لیے دنیا سب سے بڑا ساؤنڈ سسٹم اور ائیر کنڈیشننگ نظام بھی یہودی کمپنیوں ہی سے خریدتے ہیں ۔ یہاں تک کہ آب زم زم بھی اب کافروں کی کمپنیاں ہی نکالتی ہیں ! تسبیح اور جا نمازیں چین سے آتی ہیں اور احرام اور کفن جرمن مشینوں پر تیار ہوتے ہیں ۔ اگر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سعودی عرب کو بھیڑیں سپلائی کرنے سے انکار کردیں تو مسلمان حج پر قربانی تک نہیں کر سکیں گے۔ ہم آخر کس برتے پر خود کو دنیا کی عظیم ترین قوم سمجھے بیٹھے ہیں ؟‘‘

  اب ہمارا اور ہمارے تمام مسائل کا ایک اور صرف  ایک ہی علاج ہے کہ  سب سے پہلے ہم  سیدھے سچے اور خالص مسلم بن جائیں ۔ نہ شیعہ نہ سنی۔ نہ دیو بندی نہ وہابی۔ نہ بریلوی نہ خانقاہی۔ اور توبہ کریں فرداً فرداً اور اجتماعی۔

ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے بغیر۔۔ یاد رہے کسی مسلک اور مذہب کی نہیں صرف اور صرف   اللہ کی رسی کو ۔ ۔اور اسلام میں پورے کا پورا داخل ہوئے بغیر۔ اور قرآن  کو محض طوطے کی طرح پڑھ لینے اور یاد کر لینے کے بجائے  ایک ایک آیت کو  سمجھ کر پڑھنے اور کتاب ہدایت کی ہر ہر   ہدایت پر عمل کیے بغیر، اور کتاب ہدایت قرآن اور  نبی کریم  ﷺ  کے اُسوہ حسنہ کو اپنے کردار میں ڈھالے بغیر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل نہیں کر سکتے۔

اس کے سِوَا جو کچھ ہے وہ ابلیس کے وَسوَسے ہیں اور بس ۔ اس لیے کہ۔ ۔لا یغیرو ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم۔ ۔جتنی جلدی ہو سکے ہم جھوٹ بولنا چھوڑ دیں، ظلم اور کرپشن کے قومی دھارے سے باہر آجائیں ۔ نہ خود ظلم کریں نہ اپنے اوپر یا کسی اور ظلم ہونے دیں ۔ ظلم اور ظالم کے خلاف سر سے کفن باندھ کے کھڑے رہیں

اگر ہم جھوٹ ظلم اور بد عنوانی و بے ایمانی کو تین طلاق دے کر آگے بڑھے تو مستقبل عدل و قسط اور مستضعفین فی الارض کی پیشوائی کا ہے ظالموں، اور منافقوں کا نہیں ۔ و آخر دعوانا ان ا لحمد للہ رب العالمین۔ والسلام علی من ا لتبع ا لھدیٰ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

عالم نقوی

مضمون نگار ہندوستان کے معروف تجزیہ نگار اور سینیر صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close