آئینۂ عالم

امریکہ میں اسلام، مسلمان اور رمضان

ڈاکٹر سیّد احمد قادری
امریکہ، ادھر بعض نام نہاد مسلم تنظیموں کے ذریعہ کئے جانے والے کچھ ناخوشگوار سانحات ،صدارتی انتخاب اور ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکی مسلمانوں کے خلاف دئے گئے طرح طرح کے اوٹ پٹانگ نفرت انگیز بیانات سے سرخیوں میں ہے ۔ گرچہ امریکی صدر براک اوباما نے امریکہ کے مسلمانوں کو ماہ رمضان کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا حق حاصل نہیں ہے ۔ براک اوباما نے مذید کہا کہ مسلمانوں کی واضح اکثریت پُرامن، محنتی اور محب وطن ہے ۔ہم امریکی ایک ہی کنبہ ہیں ۔ جبکہ اکثر امریکی غلط طور پر اسلام اور دہشت گردی کو ایک ساتھ نتھی کرتے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں مذہبی آزادی ہر شہری کو حاصل ہے۔ اس لئے یہاں دوسرے کئی مذاہب کے ساتھ ساتھ اسلام مذہب بھی اپنی پوری خصوصیات کے ساتھ نہ صرف موجود ہے ، بلکہ متاثر کرنے میں بھی کامیاب ہے۔ جس کی خبریں اکثر میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ اگر یہاں کے پانچویں کلاس کے بچّوں کے نصاب میں شامل تاریخ کی کتاب پر بھروسہ کیا جائے تو یہ امریکہ ہی ہے ، جہاں سب سے زیادہ لوگ اسلام قبول کرتے ہیں، جس کی اہم وجہ یہاں کے مسلمانوں کا اسلامی شعار کو اپناتے ہوئے ایک مثالی مسلمان کی طرح زندگی گزارنا ہے۔
امریکہ میں مذہبی آزادی یہ عالم ہے کہ یہاں ہر مذاہب کے لوگوں کی تعداد کے تناسب سے ان کی عبادت گاہیں بھی موجود ہیں اور چونکہ امریکہ میں مختلف ممالک سے آکر بسنے والے مسلمانوں کی تعداد کافی ہے، اس لئے یہاں کے تقریباََ تمام شہر میں بے حد خوبصورت اور وسیع و عریض مساجد ہیں ، ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں اس وقت1900سو سے زائد مساجد اور اسلامک سنٹر قائم ہیں ، جہاں لوگ آزادانہ طور پر عبادات ، دینی تعلیمات، تحفظ ثقافت اور اپنے مذہبی پرب و تہوار میں مشغول رہتے ہیں ۔ امریکہ کی یہ مذہبی آزادی اور رواداری ہی ہے کہ یہاں کے بعض شہروں میں جہاں کے چرچ بعض وجوحات کی بنأ پر ویران ہو گئے ، ان چرچ کو یہاں کے مسلمانوں نے خرید کر مسجد میں تبدیل کر دیا اور اپنے مذہبی عبادات میں یہاں مشغول ہیں ۔ مذہبی اور ثقافتی کشادہ دلی کا ہی یہ فیض ہے کہ یہاں کے دفاتر اور تجارت گاہوں ( والمارٹ، کروگر، مال وغیرہ ) میں مسلمان مرد و خواتین اپنے پورے تشخص کے ساتھ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں ۔ مرد اپنی شرعی داڑھی اور روائیتی لباس اور عورتیں حجاب اور نقاب میں بھی یہاں خوب نظر آتی ہیں ۔ مساجد میں مختلف ممالک کی مسلم خواتین کی بھی اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے، ان کے لئے عبادات کے لئے الگ سے خصوصی انتظام رہتا ہے۔ مساجد میں چھوٹے بچوں اور بچیوں کی دینی تعلیم کے لئے الگ سے مدارس بھی قائم ہیں او ر درس و تدریس کے لئے باضابطہ مدرس بحال ہیں ، جہاں روزانہ عصر اور مغرب کے درمیان اور اتوار کو صبح سے ظہر تک دینی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان مساجد میں سے کئی مساجد ایسی ہیں ،جہاں مُردوں کو غسل اور تجہیز و تفکین کا انتظام رہتا ہے ۔
امریکہ سے شائع ہونے والے اردو اخبارات میں اکثر و بیشتر اسلامیات سے متعلق مختلف موضوعات پر مبنی مضامین خصو صیت کے ساتھ آتے رہتے ہیں اور یہاں کے کئی نجی اور مقبول ریڈیو پر اسٹیشنوں سے اسلامیات پر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ میں نے امریکہ کے کئی شہروں کا دورہ کیا اوربہت سارے گھروں میں رہنے، لوگوں سے ملنے جلنے کے ساتھ ساتھ مختلف تقریبات میں بھی شامل ہونے کا موقع ملا ۔ہر جگہ میں نے بہت شدّت سے اس بات کو محسوس کیا کہ امریکہ میں ہر مسلمان نہ صرف اپنے گھر، بلکہ گھر کے باہر بھی اپنے مذہب کا نہ صرف عقیدت و احترام کرتا ہے، بلکہ عملی مظاہرہ بھی کرتا ہے۔ حلال اور حرام کا بھی انھیں خوب خیال رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں باضابطہ بڑے بڑے فوڈ مارٹ ایسے ہیں ، جہاں حلال اور ذبیحہ کا بطور خاص خیال رکھا جاتا ہے ۔ یہاں کے ہوٹلوں میں بہت سارے ہوٹل ایسے ہیں ، جہاں بڑے بڑے ہورڈنگ حلال اور ذبیحہ کے لگے ہوتے ہیں ، اس لئے یہاں کے مسلمان ان فورڈ مارٹوں اور ہوٹلوں میں بلا جھجھک جاتے ہیں اوراسلامی پابندیوں کا خیال کرتے ہیں ۔ یہاں کے کئی ایسے فورڈ مارٹ ہیں، جو ر مضان ا لمبارک کے سایہ فگن ہوتے ہی روضہ داروں کے احترام میں اپنی دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رمضان میں استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں کافی کمی کر دیتے ہیں ، جو کہ یقیناًقابل تعریف عمل ہے۔ حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہاں کے مسلمانوں کی قوت خرید میں کوئی کمی ہے، ماشااللہ سب کے سب معاشی طور پر کافی خوشحال اور مخیر بھی ہیں۔جبکہ ہندوستان وپاکستان وغیرہ ممالک میں اس کے ٹھیک برعکس رمضان کے آتے ہی تمام خورد و نوش کی اشیأ کی قیمتیں آسمان چھونے لگتی ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ منافع خوروں کو رمضان کا اسی لئے انتظار رہتا ہے ۔
امریکہ میں ماہ رمضان المبارک کا استقبال بڑے پر تپاک انداز میں یہاں کیا جاتا ہے، مرد، عورتیں، بچے سبھی بڑے خشوع وخضوع کے ساتھ روزہ رکھتے ہیں ، یہاں کی مساجد کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں ۔ روزہ داروں کی روزہ کشائی کا ثواب حاصل کرنے کے لئے بڑے بڑے ہوٹل والے ، اور دیگر مخیر حضرات کی جانب سے روزانہ ہر مسجد میں افطار اور کھانے کا بہترین انتظام ہوتا ہے، افطار میں کھجوراور شربت کے ساتھ ساتھ پھل ، پھلکی ، پکوڑی ، جیلابی اور چنا وغیرہ ہوتا ہے ۔ افطار کے بعد مرد ،عورتیں ، بچے سبھی مغرب کی نمازادا کرتے ہیں اور نماز ختم ہوتے ہی کھانا چن دیا جاتا ہے، اور کھانا بھی بے حد پر تکلف، یعنی بریانی، نان، مرغ ،مٹن وغیرہ کے ساتھ ساتھ کوئی نہ کوئی میٹھا بھی ضرور ہوتا ہے۔ میں یہ بات واضح کر دوں کہ افطار و کھانا کی دعوت عام کسی کے بھی فطرہ یا زکوٰۃ کی رقم سے نہیں ہوتی۔ مخیر حضرات روزہ داروں کو افطار کھلا کر مسرت حاصل کرتے ہیں ۔ چونکہ یہاں کی بیشتر عورتیں جاب کرتی ہیں ، اس لئے وہ خود اور ان کے شوہر و بچے بھی نہ صرف افطار و کھانا کے لئے بلکہ نماز و تراویح کے لئے بھی مسجد آ جاتے ہیں۔ یہاں لوگوں کی رہائش دور دور پر واقع ہے اور لوگ کافی پھیلے ہوئے ہیں،اس لئے افطار کے وقت لوگوں کا ملنا جلنا بھی ہو جاتا ہے ۔ مساجد میں یوں تو پورے رمضان بھر ایک خاص طرح کا ماحول رہتا ہے، لیکن عصر سے عشاء تک کا ماحول بڑا ہی روح پرور ہوتا ہے۔ مساجد میں رمضان ا مبارک کے آخری عشرہ میں بیس بیس لوگ اعتکاف میں بھی بیٹھتے ہیں ، جنھیں ساری سہولیات مسجد کی کمیٹی کی جانب سے دی جاتی ہیں ۔مساجد کے امام کی تنخواہ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ بہت سارے لوگ امامت کو ترجیح دیتے ہیں ۔ جمعہ کو خاص اہتمام ہوتا ہے۔ اس دن امام یا پھر کوئی بڑا عالم دین خطبہ دیتا ہے۔ ایسے خطبہ دینے والے لوگوں میں زیادہ تر نوجوان ہوتے ہیں ، جن کے افکار و خیالات جدید تقاضوں سے مذّین ہوتے ہیں ۔مساجد میں لوگ دل کھول کر چندہ دیتے ہیں ، اس لئے مساجد کے انتظامات میں کسی طرح کی دشواری نہیں ہوتی ہے۔ یوں تو جہاں پر ملی جلی یعنی مختلف مسلکوں کے لوگ رہتے ہیں ، وہاں پر کسی خاص مسلک کی پیروی نہیں ہوتی ہے۔ لیکن جہاں پر کسی خاص مسلک کی آبادی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے، وہاں پر ان کی خاص مسجدیں ہوتی ہیں ۔ مثلاََ میں نے نیؤ یارک میں البانیوں کی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی ، جہاں کا منمبر کافی اُنچائی پر تھا ، اور امام نے البانی زبان میں تشریح و تقریر کی ۔ اسی طرح ہیوسٹن میں بہت عالیشان اور بہت شاندار بوہرہ کی مسجد بھی دیکھی۔
امریکہ کے تقریباََ ہر شہر میں عید کی چاند رات کا میلہ کا زبردست اہتمام دیکھا جاتا ہے۔ وسیع و عریض ہوٹلوں کے ہال میں طرح طرح کی دکانیں سجائی جاتی ہیں ، خاص طور پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس چاند رات میلہ کا خوب لطف اٹھاتے ہیں ، طرح طرح کے لباس، سجنے سنورنے کے سامان اور بھی بہت ساری چیزیں یہاں بکتی ہیں ، نوجوان لڑکے، لڑکیوں ، بچوں اور عورتوں کو اس چاند رات کا بہت شدت سے انتظار رہتا ہے، اس دن یہ لوگ بہت جم کر خریداری کرتی ہیں اور رات گئے تک چہل پہل رہتی ہے۔
عید افطر کی نماز، یوں تو مساجد میں بھی ادا کی جاتی ہیں۔ لیکن لوگ (مرد و خواتین ) عید افطر کی نماز کے لئے مجمع میں نماز کی ادائیگی کو ترجیح دیتے ہیں ، جہاں بیک وقت پچیس سے تیس ہزا ر سے زائد لوگ عید کی نماز ادا کرتے ہیں ۔ واضح رہے کہ نما زکے لئے کوئی بھی گراؤنڈ یا ہال یہاں مفت میں نہیں ملتا ہے بلکہ ہزاروں ڈالر دے کر کچھ گھنٹوں کے لئے کرایہ پر لیا جاتا ہے۔ نماز کے بعد، اسی جگہ لوگ مرد ،عورتیں سبھی اپنے احباب سے ملتے ہیں ، دوردور رہائش ہونے کی بنأ پر لوگ اس بھی جگہ مل لیتے ہیں ، کمیٹی کی جانب سے مفت میں ڈونٹ (مٹھائی) وغیرہ کا بھی انتظام رہتا ہے،جن کا لوگ کافی لطف لیتے ہیں ، بعض خواتین اپنے احباب کے لئے اپنے گھروں سے میٹھے پکوان لے جاتی ہیں اور اسی جگہ سب مل جل کر ایک ساتھ بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں ، یہ منظر آپسی محبت اور میل ملاپ کی بھرپور عکّاسی کرتا ہے۔
رمضان اور عید کے سلسلے میں ایک طرف جہاں بڑی تعداد میں لوگ Islamic Society of North America
نامی تنظیم ، جس کا مرکز انڈیانا ہے، کے فیصلوں کو ،جو سائنسی نظام پر مبنی ہوتا ہے، مانتے ہیں ، وہیں دوسری طرف کچھ لوگ ICNA کے ماننے والے چاند دیکھنے کو ضروری قرار دیتے ہیں۔امریکہ کے مسلمان ، جس اتحاد، اتفاق، یکجہتی، اخوت، خود داری، شائستگی اور اسلامی شعار کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے ہیں، وہ یقینی طور پر قابل تعریف ہے اور ان کی بعض تنطیمیں ، مخّیر خواتین و حضرات کے بھر پور تعاون سے،اپنے اپنے ممالک کے غریبوں، ناداروں ، مجبوروں اور بے کسوں کے لئے مالی امداد کرتے ہیں۔یہ سب ایسا انسانی اور دینی عمل ہے ، جس کی ستائش کی جانی چاہیے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سیّد احمد قادری

ڈاکٹرسیّد احمد قادری معروف کالم نویس ہیں۔

متعلقہ

Close