آئینۂ عالم

امریکی فوج کی انسانیت سوز درندگی

نہتے افغانوں کا شکار کرو اور اُن کی انگلی کاٹ کر تحفہ کے طور پر گھر لے چلو!!!

ڈاکٹر خلیل طوقار

آج معروف انگریزی اخبار  دی گارڈین  the GUARDIAN میں ایک خبر نظر نواز ہوئی۔ امریکی سپاہیوں نے ایک نیا گل کھلایا ہے۔ یہ لیجئے ترقی یافتہ اور انسانی حقوق کے علم بردار دنیا کے حامی و محافظ، سپر پاور  متحدہ امریکہ کے جدید ترین تعلیم یافتہ سپاہیوں کی تفریحی سرگرمیاں۔ ۔ ۔ نہتے افغان باشندوں کا شکار کرو اور ان کے اعضاء کوکاٹ کر یادگار کے طور پر گھر لے چلو۔

عراق کے بعد ایک اور شکارگاہ میں تفریح۔ ان سپاہیوں کو تو بڑا مزہ آیا ہوگا۔ مگر کیا کریں امریکہ کے معصوم اور سیدھے سادے سپاہی کیا کریں ؟ ملک ملک جاکر اپنے ملک کے مفادات کے لیے۔ ۔ ۔ غلطی معاف اپنے ملک نہیں تمام ترقی یافتہ دنیا کی اعلی اقدار کے تحفظ اور پس ماندہ، جاہل اور متعصب مشرقی لوگوں کے حقوق کے لیے۔ ۔ ۔ اپنی پیاری پیاری جانوں کا نذرانہ پیش کرکے جنگ لڑرہے ہیں۔ ذرا سیر و تفریح اور فارغ وقت میں خود ساختہ شکارگاہوں میں جاکر کھیلنے کا حق ان بےچارے سپاہیوں کو بھی پہنچتا ہے ناں ! ویسے بھی آس پاس تو دنیا کو گدلا کرنے والی غیر ضروری مخلوق یعنی نہتے مسلمان تو ہیں ہی۔ قتل کرو ان کو، صاف کردو میدان اور لے جاؤ ان کے جسم کے ٹکڑوں کو تحفہ کے طور پر اپنے گھر، گھر والوں کو خوش کرنا بھی لازمی ہے۔

اس طرح کی خبریں پڑھ کر میں سوچتا ہوں کہ کیا ان بے چارے سپاہیوں کی داعش والوں سے کوئی رشتہ داری بھی ہے۔ کیونکہ ان کے طریقہ صید اور داعش کے طریقہ قتل و غارت میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔ خیر غلطی معاف، ہرگز ترقی یافتہ رحم دل اور  انسانیت پسند، مغربی سپاہیوں اور داعش کے انسانیت سوز اور قاتل دہشتگردوں میں کسی بھی طرح کی مماثلت نہیں ہوسکتی۔ ایک فریق تو دنیا کو بچارہا ہے اور دوسرا  دنیا کو تباہ کررہا ہے۔ ان کے درمیان تو زمین و آسمان کا فرق ہے۔ لیکن کیا کروں شیطان لعیم تو نماز کے وقت بھی ہمارے آس پاس سے الگ نہیں ہوتا۔ اس معاملے میں بھی میرے دل میں وسوسہ ڈال کر ان دونوں طرفین کا زمین میں بھی، آسمان میں بھی رشتہ قائم کروا دیتا ہے۔ اللہ مجھے معاف کرے، میں تو مسلسل ”چار قْل” پڑھتا رہتا ہوں، مگر جب اس قسم کی خبریں نظرنواز ہوتی ہیں تو شاید تب ابلیس ملعون کے بہکاوے میں آکر ایسی الٹ پلٹ چیزیں سوچنے لگتا ہوں۔ نعوذ باللہ….. نعوذ باللہ….. نعوذ باللہ من ذالک۔

یقین جانیے دنیا کی جو بڑی انسانی حقوق کی انجمنیں، غیر سرکاری تنظیمیں، سرکاری ادارے، مغربی یا مغرب پروردہ سیاستدان اور پھر مغربی میڈیا اور مغرب کے دل دادہ اور مراعات یافتہ مشرقی میڈیا اور صحافتی دنیا اس سے پہلے کی خبروں کی طرح اس خبر سے بھی چشم پوشی کریں گے۔ ایک یا دو دن بعد بالکل اس کو بھلادیں گے۔ ویسے بھی وہ اس جیسی خبروں کو کیوں نہ بھلادیں، مرنے والے تو ادھر اُدھر کے کچھ غیر ضروری مسلمان ہیں، وہ ہوں یا نہ ہوں کس کو غم۔ ان پر تو ترکی کی ناکام بغاوت کے بعد گرفتار شدہ فوجیوں کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری پڑی ہوئی ہے۔ وہ اس عظیم الشان اور لاجواب سرگرمی میں بے حد مصروف ہیں۔

باغی فوجیوں نے اپنی منتخب حکومت کا تختہ الٹنا چاہا تو کوئی بات نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اس میں کیا برائی ہے؟ بس یہ باغی  مغرب کو تنگ کرنے والی ایک غاصب حکومت کو گرانے کے حکم کی تعمیل کررہے تھے۔ یہ تو ہمارے اچھے بچے ہیں۔ باغی فوجیوں کے حقوق کا تحفظ ہم پر نہ صرف واجب ہے بلکہ فرض العین ہے۔

باغی فوجیوں نے ترکی میں جمہوریت کے خاتمہ کے لیے جنگی ہتھیار کا استعمال کیا۔ ۔ ۔

کرنے دو بھائی۔ یہ  ہمارے اپنے ملکوں کی جمہوریت تھوڑی ہے۔ جس طرح مصر میں ہوا ہے ترکی میں بھی ہوجائے۔ گولی مارو ترقی یافتہ مغربی ممالک سے باہر ملکوں کی جمہوریتوں کو۔ کیونکہ یہ فوجی ہمارے اچھے بچے ہیں۔ ان کے حقوق کا تحفظ ہم پر نہ صرف واجب بلکہ فرض العین ہے۔

باغی فوجیوں نے ایف 16 لڑاکا طیاروں اور ٹینکوں جیسے جنگی ہتھیار استعمال کرکے ڈھائی سو نہتے باشندوں کو بدترین طریقے سے اور بے رحمی سے قتل کیا ہے اور مزید ڈھائی ہزار کے لگ بھگ زخمی ہیں۔ ۔ ۔ ۔

کوئی بات نہیں بھائی۔ یہ تو عام باشدے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ان کو کیا پڑی تھی کہ وہ  کوئی اسلحہ ساتھ لیے بغیر ایک مسلح فوج کے سامنے کھڑے ہوجائیں ؟ وہ بھی کیا ؟ اپنی جمہوریت اور منتخب حکومت کو بچانے کے لیے۔ ۔ ۔ سر جھکا کر اپنے گھروں میں چھپ جاتے تو ان کو کچھ نہیں ہونا تھا۔ لہٰذا جو ہوا ہے سو ہوا ہے۔ یہ باغی فوجی ہمارے اچھے بچے ہیں۔ ان کے حقوق کا تحفظ ہم پر نہ صرف واجب ہے بلکہ فرض العین ہے۔

اس عظیم الشان ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے پندرہ جولائی سے آج تک تمام مغربی سیاستدان، صحافی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ترک حکومت، ترکی کے صدر اور فوجی بغاوت کے خلاف سد راہ بننے والے ترکی کے عوام پر الزامات کی بوچھاڑ کے ساتھ ساتھ ایک پل بھی جھوٹی خبریں شائع کرنے سے نہیں جھجکتے۔ نہتے لوگوں کو قتل کرنے والے غدار فوجیوں کی مار پٹائی ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ سب کے سامنے ان کے کپڑے اتارے گئے۔ ۔ ۔ ۔ ان کو تو دن میں صرف ایک مرتبہ کھانا دیا جاتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ گرفتار ہونے کے بعد ان کو تھانے میں لے جایا گیا تو ان کو زمین پر بیٹھنے پر مجبور کیا گیا۔ ۔ ۔ ۔ واہ بھائی واہ۔ ۔ ۔ دیکھیں یہ ظالم ترکوں کو۔ ۔ ۔ ہمارے اچھے بچوں کے ساتھ کس طرح کا ناروا سلوک کرتے ہیں۔ ۔ ۔ پھر رپورٹوں پر رپورٹیں، جھوٹی خبروں پر جھوٹی خبریں، سوچے سمجھے بغیر دئیے گئے سیاسی بیانات (اب تو یہ بیانات دینے والے ایک ایک کرکے ترکی سے معذرت کرنے لگے ہیں۔ وہ الگ بات ہے۔ )

مگرمغربی میڈیا اور ان کے مراعات یافتہ مشرقی میڈیا کے کمال کی بھی داد دینا چاہئے۔ کیونکہ وہ اس پروپیگنڈا میں اس قدر کامیاب ہوئے ہیں کہ مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں ترک حاجیوں سے پاکستانی اور سینی گال والے حاجی حضرات یہ دریافت کرنے لگے ہیں کہ واقعی ترکی حکومت نے صدر مملکت رجب طیب ایردوغان کے حکم سے پچاس ہزار گلین تنظیم سے منسلک افراد کو قتل کیا ہے یا نہیں ؟ در اصل مرنے والے باغی فوجیوں کی تعداد صرف چوبیس ہے۔ وہ بھی پولیس اور فوج کے ہیڈکواٹرز پر ان کے اپنے حملے کے دوران فائرنگ کے تبادلے کے دوران۔ ۔ ۔

بہر کیف اب مغرب اس اہم مسئلے کا حل اور اپنے اچھے بچوں کی حفاظت میں مصروف ہے لہٰذا ان کے لیے تفریح کے لیے شکار ہونے والے اور پھر یادگار کے طور پر انگلی اور کان کٹ جانے والے افغانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ ایک دن یاد کریں گے۔ ۔ ۔ ۔ اگر کریں گے تو تب کی بات ہے۔ ۔ ۔ پھر اگلے دن اسے طاق نسیان پر رکھ دیں گے جیسے عراق میں کیا گیا ہے۔

واقعتاً میں یہ راز سمجھنے سے بالکل قاصر ہوں کہ ترقی یافتہ اور انسانی حقوق کے یہ نگہباں جو ہیں، ہر ایک قتل عام جس کو یا براہ راست وہ خود کرتے ہیں یا قتل عام کے ہونے کے لیے زمین تیار کرتے ہیں، وہ کس طرح ہر مرتبہ قتل عام کے فوراً بعد اپنے ہاتھوں پر لگا خون صاف کرکے پھر ایک اور قتل کرنا شروع کردیتے ہیں اور اس صورتحال کے باوجود اپنے آپ کوبالکل فرشتوں کی صورت پیش کرکے بزعم خویش "ابلیس” مسلمانوں کے پیچھے پڑجاتے ہیں ؟ اور ہم نہ صرف مسلمان بلکہ تمام باقی دنیا کے لوگ ان کے غلط، اکثر جھوٹے اور بامقصد پروپیگنڈے پر یقین کرکے کہتے ہیں کہ ارے ہم لوگ تو کتنے قاتل، غدار، بے انصاف اور نکمے لوگ تھے اور ہیں۔ ۔ ۔ گولی ماردیں ہمیں کیونکہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ ۔ ۔ "

کوئی باوثوق اور قابل اعتبار ثبوت نہ ہونے کے باوجود ترکوں پر پندرہ لاکھ آرمینیوں کی نسل کشی کے الزامات لگارہے ہیں۔ ان کے پاس کیا ثبوت ہیں ؟ ایک دو یادداشتیں، انگریزی اور امریکی حکومت ہائے زمانہ کے تیار کردہ پروپیگنڈے کے کچھ کاغذات اور  دو تین سو تصویریں، وہ بھی ایسی کہ جن میں سے کچھ قتل شدہ مسلمانوں کی ہیں۔ اس زمانے میں تمام آرمینی آبادی عثمانی سلطنت کے اندر ہے اور ان کی کل آبادی بارہ لاکھ ہے۔ معلوم نہیں عثمانی فوجیوں نے یہ اضافی اور غیرموجود تین لاکھ آرمینیوں کو نسل کشی کرنے کے لیے کہاں سے ڈھونڈ نکالا ؟ اس طرح اگر ہم نے یہ مانا کہ عثمانی فوج نے تمام آرمینیوں کی نسل کشی کی تو آج کل دنیا کے مختلف ملکوں میں موجود دو کروڑ آرمینی آبادی کن کی اولاد ہیں ؟ وہ تو آسمان سے اتارے نہیں گئے ؟  آج بھی ترکی کے مختلف علاقوں میں بالخصوص استنبول میں آرمینی آبادی موجود ہے اور آرمینیوں کے مذہبی مرکز اور ان کے مذہبی لیڈر، جنہیں آپ کتھولک مذہب کے پوپ کے برابر سمجھ لیجئے استنبول میں ہیں۔

مغرب والوں کے پاس ثبوت نہیں تو اس لیے وہ اپنی پارلیمنٹوں کو استعمال کرتے ہوئے آرمینیوں کی نسل کشی کو منوانے کے در پے ہیں۔ ایک دفعہ ترکی کے ایک وزیر نے کسی یورپین ممبر پارلمینٹ سے دریافت کیا تھا کہ آپ لوگوں کے پاس ٹھیک طرح سے ثبوت نہیں تو پھر آپ لوگ کیوں آرمینیوں کی نسل کشی کا بل پاس کرانا چاہتے ہیں تو ان کا جواب سن کر آپ انگشت بہ دنداں رہیں گے۔ ان یورپین حضرت نے فرمایا: ہمیں تاریخی حقیقتوں سے کوئی لین دین نہیں، جب تک آرمینی  اس واقعہ کو نسل کشی مانیں گے تب تک ہم اس کو نسل کشی ہی کہتے رہیں گے۔ ۔ ۔ ۔ ان اعلیٰ اقدار یافتہ یورپین ممبر پارلمینٹ کا کہنا ہے کہ یہ محض سیاسی بات ہے اور ہم اپنے مفادات کے لیے سفید کو سیاہ  اور سیاہ کو سفید دکھانے سے گریز نہیں کریں گے۔ ۔ ۔

اب ترکی ترقی کررہا ہے اور یہ ترقی یافتہ اور انسانی حقوق کے حامی یورپ کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ کس طرح ایک مسلمان ملک ان کے عزائم کے سامنے رکاوٹ بن سکتا ہے۔ شروع کریں ترکی کے خلاف ناقص معلومات اور جھوٹے الزامات سے بھر پور  منفی پروپیگنڈا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خواہ اس کے لیے آرمینیوں کے درد دکھ کا استعمال کرو، خواہ کردوں کو ہی قتل کرنے والے پی کے کے نامی دہشتگرد تنظیم کا استعمال کرو خواہ خود پروردہ داعش کا استعمال کرو۔ ۔ ۔ ۔ جو بھی کرو ترکی کو بدنام کرو۔ ۔ ۔ ۔

اس طرح آج کل میں بہت دکھ اور افسوس کے ساتھ یہ دیکھتا ہوں کہ کچھ یورپین تاریخ دانوں کواچانک ہندوستان میں ہونے والے تاریخی واقعات یاد آنے لگے کہ مسلمان فاتحین نے ہندوستان میں اتنی تعداد میں ہندووں کو قتل کیا تھا اور اتنے مندروں کو مسمار کیا تھا۔ وہ لوگ اعداد و شمار اس قدر وثوق سے کہتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے۔ اس جنگ میں ایک لاکھ اُس لڑائی میں ڈیڑھ لاکھ جیسے اس سے صدیوں برس پہلے ہونے والی جنگوں کے میدانوں میں جاکر وہ  حساب کتاب کرکے واپس آئے ہوں۔ اور ان کی دی ہوئی یہ معلومات ہندوستان کے کچھ اصحاب بھی ان کو اور زیادہ بڑھا چڑھا کر اپنے قارئین تک پہنچانے لگے ہیں کہ دیکھو دیکھو مسلمانوں نے ہمیں قتل کیا تھا باہر کردو ان کو ہندوستان سے۔ ۔ ۔ ۔ مگر یہ ہندو اصحاب کیا یہ نہیں جانتے ہیں کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں ہندوؤں نے بھی مسلمانوں سے زیادہ ہندوؤں کو قتل کیا تھا۔ ذرا بدھ مت مذہب اختیار کرنے سے پہلے اشوک اعظم کو دیکھئے، انہوں نے آخری جنگ میں لاکھوں جانوں کو تلف کیا تھا۔ ان ہلاک ہونے والوں کا تعلق ہندو مذہب سے تھا اور پھر اکثر مسلمان بادشاہوں کی فوجوں میں ہندو کمانڈر اور فوجی بھی موجود تھے کیونکہ اس وقت کوئی بھی بادشاہ مذہب کی جنگ نہیں لڑتے تھے۔ ۔ بس اُن کا اقتدار تھا اور اپنے خاندان کے مفادات، سامنے  چاہے ہندو ہو چاہے مسلمان وہ مخالف کو نیست و نابود کرتے تھے۔ چاہے وہ اُن کے اپنے سگے بھائی کیوں نہ ہوں۔

اور پھر اتنے سال بعد اگر یورپ والوں کو پرانے المناک واقعات کی یاد آئی۔ ۔ ۔ المناک اس لیے کہ جس واقعے میں بھی انسانوں کی جانیں تلف ہوئیں وہ واقعہ المناک بھی ہے قابل مذمت بھی۔ ۔ ۔ یورپی محققوں کے اس نئے رجحان کے پیچھے  ضرور کچھ اور مقاصد پوشیدہ ہوں گے۔ یا وہ انڈیا سے کچھ کروانا چاہتے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو ہندوستان کی فرقہ ورانہ ہم آہنگی کو خراب کرنا مقصود ہو۔ یا انڈیا میں ہونے والی کچھ تبدلیاں ان کو ناگوار گزرتی ہوں گی یا وہ انڈیا اور پاکستان کو لڑواکر اس خطہء زمین میں کسی وجہ سے اپنے لیے خلا پیدا کرنا چاہتے ہوں گے۔ یا پاکستان اور چین کے تعلقات کی بہتری کی وجہ سے ان کے دل میں ہندوستان کا استعمال کرکے پاکستان کو کمزور بنانے کی خواہشیں متلاطم ہورہی ہوں گی۔ جس طرح وہ آج "مسلمانوں نے ہندووں کا قتل عام کیا تھا”  کہتے ہیں تو ضرورت پڑنے پر یہ بھی کہیں گے کہ ہندووں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا یا کررہے ہیں۔

اس لیے ہم مشرق کے لوگوں کو اب یہ سمجھ آنی چاہئے کہ تاریخی معاملات کو تاریخ دانوں پر چھوڑکر آگے دیکھنا ہمارے  لئےبہتر ہو گا  وگرنہ ہم ان کے جال میں پہلے کی طرح پھنستے ہی جائیں گے۔

بات کہاں سے کہاں تک پہنچی؟ ہم نے  بات کا آغازامریکی سپاہیوں کا افغانستان میں نہتے مسلمانوں کا شکار کرکے ان کی انگلیوں کو کاٹ کے یادگار کے طور پر گھر لے جانے کی خبر سے کیا تھا اور اب پہنچے مغربی دنیا کے مسلمانوں کو بات بات پر قاتل اور دہشتگرد قرار دینے کے معاملے تک۔ ۔ ۔

ماشاء اللہ یہ مغرب کے ترقی یافتہ اور انسانی حقوق کی حامی قومیں کمال کی ہیں۔ وہ روم کی سلطنت سے لے کر صلیبی جنگوں تک، صلیبی جنگوں سے لے کر جنگ بلقان اور طرابلس تک، جنگ طرابلس سے لے کر پہلی اور دوسری جنگ عظیم تک اور پہلی اور  دوسری جنگ عظیم سے لے کر الجزائر کی جنگ آزادی، بوسنیا کی جنگ اور پھر عراق اور اب شام کی جنگوں تک خود قتل کرتے ہیں، قتل کرنے کے لیے ماحول تیار کرتے ہیں اور پھر جنگ کو جاری رکھنے کے لیے طرفین کو کبھی پیسے کے عوض، کبھی مفت اسلحہ اور جنگی مواد بھی فراہم کرتے ہیں اور پھر اپنے پروپیگنڈے کے  مضبوط جال کو استعمال کرکے بے دردی سے دوسروں کو اور آج کل زیادہ تر مسلمانوں کو مجرم اور قاتل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ پروپیگنڈے کے سلسلے میں تو وہ کمال کے ہیں اس میں شک نہیں۔ ۔ ۔ مگر بے وقوفی میں بھی ہم مسلمانوں کا کمال ہےاس میں بھی کوئی شبہ نہیں۔ اگر کوئی مغربی ہمارے سامنے سفید جھوٹ بھی بولے ہم سب یہ مان ہی لیتے ہیں کہ اگر مغربی نے کہا  تواس نے صحیح کہا ہوگا۔ ۔ ۔ گالی دو اپنے لوگوں پر۔ ۔ ۔ اب اس ذہنیت سے نہ صرف ہم مسلمانوں کو بلکہ تمام تر مشرقی لوگوں کو نکلنا چاہئے، کیونکہ پہلےعراق میں صدام اور لبیا میں قذافی حکومتوں کے خلاف  اور پھر مصر کی کامیاب فوجی بغاوت اور  ترکی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے بعد، یورپین اور امریکی حکومتوں اور سرکاری اور غیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے دئیے گئے بیانات نے اس امر کا ثبوت ہے کہ جس طرح وہ صدیوں سے اکثر و بیشتر جھوٹ بولتے تھے، جھوٹ بولتے ہیں اور  ضرورت کے وقت پرجھوٹ بولنے سے گریز نہیں کریں گے۔

معلوم نہیں کیوں مگر میں جب بھی مغرب  والوں کے بے رحمانہ رویہ سے متعلق کوئی تحریریا خبر پڑھتا ہوں تومجھے بسا اوقات 1857ء کے بعد دہلی اور لکھنوکی المناک صورتحال یاد آتی ہے۔ نجانے اس دوران کتنے سارے معصوموں کی جانیں تلف ہوئی تھیں اور کتنے گھرانے تباہ ہوئے تھے۔ لاکھوں۔ ۔ ۔ ۔ مگر مغربی محققین جو اس سے صدیوں پہلے کی جنگ کے میدانوں میں جاکر ہلاک شدہ فوجیوں کا حساب کتاب  کرلیتے ہیں اور سپاہیوں کے ہاتھوں مرے ہوئے  چار سو پانچ سو انگریزوں کی تعداد بار بار پیش کرتے ہیں وہ جاکر انگریزوں کے ہاتھوں مرے ہندوستانیوں کی تعداد کبھی بھی پیش نہیں کرسکتے ہیں۔ کیونکہ تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ جس کی رو سے ان کا  نسل کشی کا جرم ثابت ہوجائے۔

بہر صورت میں یہاں 1857ء کے مظالم اور نسل کشی کے چشم دیدہ گواہ نواب مرزا داغ دہلوی کے مرثیہء دہلی کو پیش کرنا چاہوں گا۔ یہ ذرا لمبی نظم ہے مگر میرے خیال میں وہ لوگ جو ٹی وی شوز اور اخباروں، رسالوں اور اپنی تحریروں میں مسلسل مغربیوں کی بالا دستی، انسان دوستی  اور حقوق پسندی کے محافظ بنے پھرتے ہیں۔ وہ آج کل کے اظہر من الشمس واقعات سے نہ سہی شاید تاریخ کے واقعات سے ہی کچھ  سیکھ لیں۔

مرثیہء دہلی:

فلک زمین و ملائک جناب تھی دلّی

بہشت و خلد میں بھی انتخاب تھی دلّی

جواب کاہے کو تھا لاجواب تھی دلّی

مگر خیال سے دیکھا تو خواب تھی دلّی

پڑی ہیں آنکھیں وہاں جو جگہ تھی نرگس کی

خبر نہیں کہ اسے کھاگئی نظر کس کی

فلک نے قہر و غضب تاک تاک کرڈالا

تمام پردہء ناموس چاک کرڈالا

یکایک ایک جہاں کو ہلاک کرڈالا

غرض کہ لاکھ کا گھر اس نے خاک کرڈالا

جلیں ہیں دھوپ میں شکلیں جو ماہتاب کی تھیں

کھینچیں ہیں کانٹوں پہ جو پتیاں گلاب کی تھیں

لہو کے چشمے ہیں چشم پُر آب کی صورت

شکستہ کاسہء سر ہیں، حباب کی صورت

لٹے ہیں گھر، دل خراب کی صورت

کہاں یہ حشر میں توبہ عتاب کی صورت

زبان تیغ سے پرسش ہے داد خواہوں کی

رسن ہے، طوق ہے، گردن ہے بے گناہوں کی

زمیں کے حال پہ اب آسمان روتا ہے

ہر اک فراق مکیں میں مکان روتا ہے

کہ طفل و عورت و پیر و جوان روتا ہے

غرض یہاں کے لیے اک جہان روتا ہے

جو کہیےجوشش طوفاں کہی نہیں جاتی

یہاں تو نوح کی کشتی بھی ڈوب ہی جاتی

برنگ بوئے گل، اہل چمن، چمن سے چلے

غریب چھوڑ کے اپنا وطن، وطن سے چلے

نہ پوچھو زندوں کو بچارے کس چلن سے چلے

قیامت آئی کہ مُردے نکل کفن سے چلے

مقام امن جو ڈھونڈا تو راہ بھی نہ ملی

یہ قہر تھا کہ خدا کی پناہ بھی نہ ملی

بنا ہے خال سیہ، رنگ مہ جمالوں کا

روتا ہوا ہے قد راست نو نہالوں کا

جو زور آہوں کا لب پر تو شور نالوں کا

عجب حال دگرگوں ہے دلّی والوں کا

کوئی مراد جو چاہی حصول بھی نہ ملی

دعائے مرگ جو مانگی قبول بھی نہ ملی

پئے محاسبہ پرسش ہے نکتہ دانوں کی

تلاش بہر سیاست ہے خوش زبانوں کی

جو نوکری ہے تو اب یہ ہے نوجوانوں کی

کہ حکم عام ہے بھرتی ہو قید خانوں کی

یہ اہل سیف و قلم کا ہو جب کہ حال تباہ

کمال کیوں نہ پھرے دربدر کمال تباہ

غضب ہے بخت بد ایسے ہمارے ہوجائیں

کہ ہیں جو لعل و گہر، سنگ پارے ہوجائیں

جو دانے چاہیں تو خرمن شرارے ہوجائیں

جو پانی مانگیں تو دریا کنارے ہوجائیں

پئیں کو آب بقا بھی تو زہر ہوجائے

جو چاہیں رحمت باری تو قہر ہوجائے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

خلیل طوقار

ڈاکٹر خلیل طوقار نسلاً ترک ہیں۔ ان کی پیدائش استنبول (ترکی) میں ہوئی۔ ترکی میں ہی انھوں نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ فی الوقت وہ استنبول یونیورسٹی کے صدر شعبۂ اردو ہیں۔ڈاکٹر طوقار کی تقریباً دو درجن کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ وہ ترکی سے شائع ہونے والے اردو کے واحد ادبی مجلہ”ارتباط” کے مدیر بھی ہیں۔ یورپین اردو رائٹرس سوسائٹی ، لندن نے سن 2000ء میں انھیں ”علامہ اقبال” ایوارڈ سے نوازا۔اس کے علاوہ عالمی اردو مرکز، لاس انجلس اور دیگر قومی وبین الاقوامی اداروں کی جانب سے انھیں اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔

متعلقہ

Close