آئینۂ عالمخصوصی

اندلس میں معاشی و معاشرتی ترقی

ڈاکٹرساجد خاکوانی

 اندلس خطہ ارضی میں یورپ کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔اسے اسپین یا جزیرہ نمائے آئیبیریا بھی کہتے ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے اندلس کے تین اطراف پانی  اور ایک جانب خشکی ہے۔اس خطہ کے مغرب میں بحر اوقیانوس، جنوب میں ابنائے جبل الطارق،مشرق میں بحیرہ روم اور شمال میں فرانس واقع ہے۔مسلمانوں سے پہلے اندلس کے شہروں مین جابجا دلدلیں اور غلیظ جوہڑ تھے اور گلیوں میں فضلے کے ڈھیر لگے رہتے تھے۔گھر کے تمام افراد اپنے مویشیوں سمیت ایک ہی کمرے میں سوتے تھے۔نہانا اتنا بڑا گناہ تھا کہ جب پاپائے روم نے سسلی اور جرمنی کے بادشاہ پر کفر کا فتوی لگایا تو سرفہرست الزامات میں یہ درج تھا کہ وہ ہر روز مسلمانوں کی طرح غسل کرتا ہے۔غلیظ جسم اور جوؤں کی یہ کثرت تھی کہ جب  برطانیہ کا لاٹ پادری اپنے گرجا سے نکلتا تو اسکی قبا پر سینکڑوں جوئیں چلتی پھرتی نظر آتی۔ فرانس میں ایک دریا کے کنارے انسانی گوشت کی کتنی ہی دکانیں تھیں۔ یورپ صدیوں تک وحشت،بربریت اورتہ بہ تہ  جہالت میں گرفتار رہااور وہاں تہذیب و اخلاق کا کوئی تصور نہ تھا۔گبن(Gibben)کے مطابق اتنے طویل تاریخی زمانے میں بدی کی یہ کثرت اور نیکی کی یہ قلت اور کہیں نظر نہیں آتی۔گاتھ قوم کے ایک مورخ کے مطابق ان وحشیوں کے ہولناک افعال کے ذکر سے تاریخ کے صفحات کو آلودہ نہیں کرنا چاہتا تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے خلاف انسانیت افعال کی مثال زندہ رکھنے کی ذمہ داری مجھ پر نہ ہو۔

فاران کی چوٹیوں سے چلنے والی راحت اور آسودگی سے بھری ٹھنڈی ہوا کے جھونکے یہاں بھی آن پہنچے اور صحرائے عرب کے شتر بان گھوڑوں کی پیٹھوں  پر بیٹھے ایشیا اور افریقہ کے جنگلات کو پاؤں تلے روندتے ہوئے یورپ کے ساحلوں پر لنگر انداز ہوئے”ہر ملک ملک ماست کہ ملک خدائے ماست”کی صدا میں نعرہ تکبیر بلند ہوا۔ ایران،روم اور اہل چین کی طرح فرزندان صلیب نے بھی مسلمانوں کے لہو کی گردش اور تلواروں سے نکلتی ہوئی بجلیاں دیکھیں جن کی چکاچوند سے تہذیب و تمدن کی ایک نئی دنیا جلوہ گر ہوئی۔ان کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے اور منہ کے بل گر کے ھواﷲ احد کہتے تھے،انہوں نے عالم عشق و مستی میں روشنی کی رفتار سے وقت کے صحیفوں میں عزم و ہمت کی داستانیں رقم کیں۔ اندلس اسلامی دور ماضی اور حال کے سیاہ یورپ کی تاریک شب میں دمکتا ہوا ماہتاب ہے۔عظیم اندلس کے علمی عظمت کے پہاڑ آج بھی انسانیت پر سایہ فگن ہیں۔ کائنات کے اسرار و رموز کی تلاش میں خلاؤں کی طرف سائنس کا یہ سفر ایسا ہے کہ جس کی بنیادوں میں آج بھی قرطبہ،غرناطہ اور اشبیلیہ کی جامعات کا رنگ بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔

 تاجداران اندلس نے جہاں جہالت اور ظلمت کو دور کرنے کے لیے جامعات قائم کیں اور ثقافتی لطائف پیدا کیے وہاں عوام کی خوشحالی میں اضافہ کرنے کے لیے اور ملک کی دھن دولت بڑھانے کے لیے صنعت و حرفت کی طرف بھی پوری توجہ دی۔اندلس کے شہروں میں ریشم کا کیڑا بڑی کثرت سے پالا جا تا تھا اور اس سے حاصل شدہ ریشم سے کپڑے بنے جاتے تھے۔ابن حوقل کا کہنا ہے کہ میں نے پوری دنیا میں اندلسیوں کے تیار کیے ہوئے کپڑے جیسے ملبوسات نہیں دیکھے اور نہ ہی اندلسیوں جیسے کاریگر روئے زمین پر موجود ہیں۔ ایس پی سکاٹ کے مطابق مسلمانان اندلس کو کپڑا بننے میں کمال حاصل تھا اور انکی کوئی ہم عصر قوم ایسا کپڑا نہیں بن سکتی تھی، نہ معلوم وہ کیسے غیر معمولی رنگ تھے  جن سے ان کپڑوں کے سوت بنے جاتے تھے۔اندازہ لگایا گیا ہے کہ اندلس میں ریشم کے کپڑے بننے والے کارخانوں کی تعدادلگ بھگ آٹھ سو تھی۔ان میں سے ہر کارخانے میں ہزاروں کاریگر کارکن کام کرتے تھے۔اندلس کی چار کروڑ کی آبادی میں سے ایک کروڑ آبادی صرف ریشمی کپڑا استعمال کرتی تھی۔جن دنوں اندلس کے عام شہری یہ کپڑا استعمال کرتے تھے،یورپ کے باقی حصوں میں یہ کپڑا صرف بادشاہوں کے لیے مخصوص تھا۔

 اندلس کے چند بڑے شہر کپڑے کی صنعت میں بہت مشہور تھے:

  المریہ:یہاں ریشمی کپڑا،کمخواب،زربفت اور دھوپ چھاؤں کا ایک سفید گلدار کپڑا تیار کیا جاتا تھا۔

 باجہ،قلعہ رباح:یہاں کپڑون کی کڑھائی کاکام بڑی نفاست سے کیا جاتا۔

  نیپلز:اس چھوٹے سے شہر میں ریشمی اور زری پارچے تیار ہوتے تھے۔

ان کے علاوہ حریر،دیبا،سمور،وبر اور پوستین سے بھی کپڑے تیارط کیے جاتے تھے۔سوتی کپڑے کے کارخانے چار ہزار سے زیادہ تھے۔اندلس کا سلک بھی اپنی مثال آپ تھا۔مرینہ میں پشم اور اون بھی بڑی بہترین تیار ہوتی تھی۔بعض کارخانے تو صرف شاہی لباس تیار کرتے تھے۔کپڑے کی صنعت پر اندلس کی ایک تہائی آبادی کا انحصار تھا۔اندلسی مسلمان چمڑے سے کپڑا بنا لیتے تھے، قرطبہ اس صنعت میں بہت مشہور تھا۔شاہی کتب خانوں کی کتابوں کی جلدیں انہیں کپڑوں سے تیار کی جاتیں۔ لیکن مسلمانوں کے بعد یہ صنعت دم توڑ گئی۔لوہے کی مرصع کاری کاکام،فلزات اور آلات حرب بنانے کی صنعتیں بھی اندلس میں خوب پھیلی ہوئی تھیں "لبرزی”جو فرانس کا علاقہ تھا اور عربوں کے تسلط میں تھا وہاں کی تلواریں بہت قیمتی تصور کی جاتی تھیں۔ چھریاں، قینچیاں اوردیگرنازک آلات،مریہ،طلیطلہ اور بلرم کے شہروں میں بنائے جاتے تھے۔اشبیلیہ کی زرہیں اپنی نظیر نہ رکھتی تھیں۔ اس شہر کی تلواریں لوہے کی موٹی سلاخ کاٹ دیتی تھیں، یہ تلواریں خوب دھاری دار ہوتیں اور ان پر سونے کی نقش و نگار کئے ہوتے۔امراء کی تلواروں پر جواہرات لٹکتے اور قرآنی آیات کندہ ہوتیں۔ اندلس کا مشہور شہر شاطبہ روزانہ کئی ہزار ٹن کاغذ تیار کرتا تھا۔شاطبہ کی آدھی آبادی کا روزگارکاغذ کی صنعت سے وابسطہ تھا۔گھروں میں چھوٹے چھوٹے کارخانے بھی موجود تھے جو ہلکا کاغذ تیار کرتے۔علم و ادب کی سرپرستی کی وجہ سے کاغذ کی سب سے بڑی خریدار حکومت وقت تھی۔شاطبہ کاکاغذ موجودہ دور کے کاغذ سے کسی طرح بھی کم نہ تھا۔اندلس میں جو کاغذ بچ جاتا وہ یورپ کو برآمد کر دیا جاتا۔قرطبہ میں بیس ہزار تاجر صرف کاغذ کر کاروبار تجارت سے وابسطہ تھے۔کاغذ کی صنعت میں عربوں نے چیتھڑوں کی بجائے روئی سے کاغذ بنانے کی ٹکنالوجی کا آغاز بھی کیا۔اندلس کے لوگوں نے بجلی کاکام پانی سے لیا۔وہ دریاؤں پر عجیب قسم کے بند باندھ کرپانی کو اوپر لے جاتے اور پھر بہتے ہوئے پانی کی شدت سے اپنے کارخانے چلاتے۔ قرطبہ میں اکثر کارخانے پانی سے ہی چلتے تھے۔غرناطہ کی شہر پناہ کے اندر اور باہر ایک سو تیس پن چکیاں چلتی تھیں۔

 لکڑی کے کام میں سیپ اور ہاتھی دانت کااستعمال وہ صنعت ہے جسے اندلسیوں نے اوج کمال تک پہنچایا۔مساجد کے دروازے،ممبر،چھتیں، تختے،باریک جالیاں، کھڑکیاں اور کڑوں میں نہایت نفاست سے ہاتھی دانت لگائے جاتے۔ عربوں نے ہاتھی دانت پر کندہ کاری بھی خوب کی۔ہاتھی دانت پر بادشاہوں کے نام اور تصاویر بھی کندہ کی جاتیں۔ کانیں معدنیات کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتی ہیں، اندلسیوں نے لوہے اور چاندی کی کانیں دریافت کیں اس کے علاوہ پارہ کی کان سے پارہ بھی نکالتے تھے اور دواؤں میں استعمال کرتے تھے پارہ کی کانوں میں ایک ہزار مزدور کام کرتے تھے اور ان مزدوروں کو بے شمار اجرتیں اور مراعات دی جاتی تھیں۔ "بجاویکا”کے پاس کانوں سے یاقوت نکلتا تھا۔سواحل اندلس کے قریب مرجان اور "طراغونہ”کے قریب سمندر سے موتی بھی نکالے جاتے تھے۔انہوں نے سونا، چاندی،لوہا،تانبا،شیشہ اور قیمتی پتھر خوب نکالے اور ملک کی دولت میں اضافہ کیا۔اندلس میں چینی اور شیشے کے بہت ہی عمدہ برتن بنتے تھے جو دوسرے ممالک کو بھی برآمد کیے جاتے۔ شیشے کے برتنوں کی صنعتیں دانیہ،غرناطہ،بطلہ اور طلیطلہ میں تھیں۔ کانچ،شیشہ اور لوہے کے برتن المریہ میں بھی بہت بنتے تھے۔ملاغنہ میں ایک سو سے زائد کارخانے ایسے تھے جہاں صرف چینی کے برتن تیار ہوتے تھے۔برتنوں پر عجیب و غریب قسم کے بیل بوٹے ہوتے،بعض برتنوں کے کنارے پرسونے اور چاندی کی پتیاں بنی ہوتی تھیں اور ان پر رنگ کیا جاتا۔دنیا بھر کے بازاروں میں ملاغنہ کے برتنوں کی منڈیاں تھیں۔

اندلس میں ایسے کارخانے تھے جنہیں دارالصناعہ کہتے۔ ان میں تیر سے لے کر توپ تک ہر چیز بنتی تھی اور وقت کی جدید ترین ٹکنالوجی استعمال کی جاتی تھی۔لوہے کی صندوق سازی میں اندلسی ساری دنیا سے بازی لے گئے تھے۔کئی سوسال بعد یورپین کاریگر یہ صندوق دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے اور لاکھ کوشش کے باوجود ایسے صندوق نہ بنا سکے۔ان صندوقوں کے خانے اس قدر پیچیدہ ہوتے کہ چابیوں کے باوجود ناواقف انسان انہیں نہ کھول سکتا۔اگر چابی گم ہو جاتی تو وہی صناع تلاش کرنا پڑتا جس نے اسے بنایا تھا۔دورخلافت میں ایک پریس بھی کام کرتا تھا جس میں عبدالرحمن الناصر کے احکامات چھپتے تھے۔باوجود تلاش کے اس پریس کے بارے میں خاطر خواہ مواد نہیں مل سکا۔چٹائیاں ایک خاص قسم کے گھاس سے تیار کی جاتیں اور مسجد میں استعمال ہوتیں۔ گھروں کے لیے قالین بنائے جاتے جن پر رنگ برنگ گل بوٹے اور تصاویر ہوتیں۔ یہ صنعت معسیہ،لقنت اور لونکہ میں تھی۔ساراگوسہ کے پہاڑوں سے بہترین نمک حاصل کیا جاتا یہ دوسرے شہروں اور لوبزا کے جزیرے میں بھی دستیاب تھا۔نمک ٹکنالوجی کے ذریعے بھی حاصل کیا جاتا۔اندلس میں پانی سے چلائی جانے والی تیل صاف کرنے کی چکیاں بھی تھیں۔ ہسپانوی عربوں کے تیل صاف کرنے کے طریقے نے تیل کے معیار کو بہت بڑھا دیا تھا۔چنانچہ یہاں کی تیل کی طلب دوسرے ممالک میں بھی تھی۔

لسان الدین ابن خطیب کے بقول:

"شہر غرناطہ بڑے بڑے شاہی باغوں اور گھنے درختوں میں گھرا ہوا ہے ہر طرف باغ ہی باغ ہیں گویاوہ کسی حسین کا چہرہ ہے اور باغ اسکے رخساراور اسکی  وادی کسی نازک کلائی کی مانند ہے۔شہر کے اطراف میں کوئی جگہ انگوروں کی بیلوں سے خالی نہیں۔ شہر کا نشیبی حصہ اس قدر سرسبز ہے کہ اسکی قیمت کا اندازہ نہیں۔ شاہی باغات ایک سو کی تعداد میں ہیں اور اپنے خوبصورت مناظر، سرسبزی،سیرابی،زمین کی عمدگی اور اشجار کی کثرت کے لحاظ سے بے مثل ہیں۔ وادی سنجل پر نظر نہیں ٹکتی اور زبان اسکی تعریف سے قاصر ہے۔اسکی نہریں ہر وقت لہریں لیتی ہیں، جب ان میں اشجار کا عکس اور بلند مقامات کی روشنی پڑتی ہے تو ان میں  باغوں کی تصویر اتر آتی ہے،ان باغات میں ایسے درخت بھی ہیں جو بار بار پھل لاتے ہیں۔ وادی غرناطہ کے پانی کا بہاؤ ایسی ریت پر ہے جو زراعت کے یے اکثیر ہے اس پر درختوں کی چھاؤں ہمیشہ رہتی ہے۔اہل شہر ان باغات میں فراغت کے اوقات گزار کر لطف و لذت حاصل کرتے ہیں۔ جب باد نسیم چلتی ہے تو غرناطہ کے اشتیاق میں سوزش قلب اور شوق دید پیدا ہوتا ہے، یہ وہ خلا ہے جس میں حسن رچ گیا ہے”۔

 اندلسی مسلمان عربوں نے فن زراعت اور باغبانی سے پورے اندلس کو جنت ارضی میں بدل دیا، زمینوں کو سرسبزوشاداب کر دیا، کوئیں کھود کر پانی کی کمی پوری کر دی گئی اور ایک ایک میل کے درمیاں کئی کئی کوئیں کھد دیے گئے۔پانی کو اکٹھا کرنے اور بوقت ضرورت استعمال میں لانے کے لیے  زمین پر مناسب فاصلوں پر تالاب بنائے، ان تالابوں کا طول تین میل اور گہرائی پچاس فٹ تک ہوتی۔ یہ تالاب ایک طرح سے قدرتی جھیلوں کا کام کرتے۔دریاؤں پر کئی کئی بند باندھے گئے،جو بہت اونچے اور مضبوط ہوتے۔ "الخے”کے بند کی لمبائی 264فٹ اور اونچائی 52فٹ تھی۔مرسیہ کے قریب "دریائے صفورہ”پر جو بند باندھا گیا وہ760فٹ لمبا اور 36فٹ اونچا تھا۔بلنسیہ کے ایک اور بند کی لمبائی 720فٹ تھی۔اندلس میں زیر زمین نہریں بھی تھیں جنہیں آب دوز کہتے تھے "المنزورہ”کے آب دوز کی لمبائی500فٹ اور قطر6فٹ تھا۔”مراویلا”کا زیر زمین ترناب ایک میل لمبا اور تین فٹ چوڑا تھا۔”کری کونٹ”کے ترناب کی لمبائی5595فٹ تھی اور چوڑائی30فٹ۔ان آبدوزوں کے ذریعے اندلس کے چپے چپے کو سیراب کیا گیا تھا۔آب رسانی کی تقسیم کے لیے حکومت کا دیانتدار عملہ کام کرتا تھا۔پانی کی تقسیم میں ہونے والے جھگڑوں کو کاشتکاروں کی پنچائت حل کرتی جس کا اجلاس ہر جمعرات کو مسجد کے دروازے پر ہوتا،حکومت اس پنچائت میں ہونے والے فیصلوں کا احترام کرتی۔اندلس میں زمینی پیداوار بڑھانے کے لیے کھاد استعمال کی جاتی تھی۔ حکومت نے ہر بستی میں بڑے تالاب بنائے تھے جن میں کوڑا کرکٹ جمع کیا جاتا، تالاب بھر جانے کے بعد کاشتکاروں میں تقسیم کر دیا جاتا۔اندلسی مسلمان فصلوں اور پھلوں وغیرہ کو نقصان پہچانے والے کیڑوں کو مارنا بھی خوب جانتے تھے، ان کے ہاں ایسی دوائیاں استعمال ہوتی تھیں جواس طرح کے کیڑوں کے لیے زہر کاکام دیتیں۔ زراعت میں جدید تکنالوجی کے فروغ کے لیے دیہاتوں میں شام کے اوقات میں کلاسز ہوتیں  جہاں کاشتکاروں کو تعلیم دی جاتی۔انہیں پودوں کے خواص اور پیداوار بڑھانے کے طریقے سمجھائے جاتے۔ہر کاشتکار اپنے فن میں مولا تھا اور پودوں کی بیماریوں کو جاننے کے ساتھ ساتھ انکا علاج بھی جانتا تھا۔اندلس کے ہر بڑے شہر میں زراعتی کالج اپنی وسیع تجربہ گاہوں اور کتب خانوں کے ساتھ موجود تھے۔

 اسلامی اندلس کے دوسوسال بعد غلے کے ایسے ذخیرے دریافت ہوئے جہاں غلہ اپنی اصلی حالت میں موجود تھا۔اس گندم سے تیارکی ہوئی روٹی تازہ گندم سے تیار کی ہوئی روٹی مانند تھی۔ان اقدامات سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ لوگ زرعی تکنالوجی میں کتنا آگے نکل چکے تھے۔ان ذخیروں میں پھلوں کو بھی محفوظ کیا جاتا اور تازہ پھل اور ذخیروں سے نکلے ہوئے پھلوں میں امتیاز مشکل ہوتا۔اندلس میں مشہور  لیموں، شہتوت،کھجور،کیلا،انار،پستہ،بادام،چاول،تل،پالک،سیاہ مرچ اور زعفران وغیرہ تھیں۔ شکر عربوں کی ایجاد ہے،انگور کی فصل کو خوب تقویت ملی،ایک ناشپاتی ڈیڑھ کلو وزن تک کی بھی ہوتی تھی،سیب اور خربوزے بھی اسی طرح تھے اور زیتون کی پیداوار کئی لاکھ گیلن تھی۔گھوڑوں کی پرورش،ریشم کے کیڑوں کی نگہداشت اور شہد کی مکھیاں پالنے میں بھی  اندلسی سب سے آگے تھے۔ملاغنہ اور المریہ کے وسیع رقبوں میں شہتوت کے باغات تھے جن میں ریشم کے کیڑے پالے جاتے تھے۔بھیڑوں کو پالنے کے لیے الگ محکمہ تھا جس کی محت کی وجہ سے  بھیڑوں سے نرم اور گرم اون حاصل کی جاتی۔

حکومت کے بے شمار میدانوں میں عوام کی عمومی دلچسپی کا میدان صرف رفاہ عامہ کے کام ہوتے ہیں۔ اندلس میں رفاہ عامہ کے کاموں کی وجہ سے عام شہری خوش و خرم اور ہر قسم کے معاشی غم سے آزاد تھا۔علامہ مقری کے مطابق اندلس میں 80بڑے شہر تھے اور تین سو چھوٹے شہرجبکہ صرف ایک دریا کے کنارے بارہ سو گاؤں آباد تھے۔اندلس کی آبادی دور خلافت میں ایک ملین سے زیادہ تھی جبکہ ایم سی کیب کے مطابق اندلس کی آبادی تین کروڑ تھی اور دنیا کی دو تہائی دولت صرف اس آبادی کے پاس تھی۔اندلس کی آبادی درج ذیل گروہوں پر مشتمل تھی:

 ۱۔مسلمان(عرب اور بربر)

۲۔غلام(مسلم اور غیر مسلم)

  ۳۔نومسلم(مقامی اندلسی)

  ۴۔عیسائی

۵۔یہودی

 امیرالمومنین عبدالرحمن الناصرسب سے زیادہ جاہ و حشمت والا حکمران گزرا ہے۔یہ انتہائی ذہین اور مدبر انسان تھا۔ہر کام خود کرتا تھا اور سلطنت کے امور میں گہری دلچسپی رکھتا تھا۔اس نے امرا پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا تھا،عوام کے ساتھ اسکا رویہ بہت بہتر تھا۔اس نے سارے ٹیکس معاف کر دیے، کاشکاروں کو غیر معمولی سہولتیں دیں، نہروں کے جال بچھائے اور کاشتکاروں کو ان نہروں کا پانی فیاضی سے بانٹا جاتا۔نہر کے ہر ٹکڑے کا انتظام بھی مقامی لوگوں کے پاس ہوتا۔جہاں نہر نہ جاسکی وہاں پائپ بچھا دیا گویا ہر جگہ پانی کی فراوانی تھی۔تجارت کی سہولت کے لیے تجارتی بیڑہ بنایاجس میں اندلس کے تجار دنیا بھر کا گشت کرتے۔اس بادشاہ کے دور میں اندلس میں میونسپل کمیٹیاں کام کرتی تھیں۔ شہر کے ہر گلی کوچے میں پکے فرش تھے۔نالے ڈھکے رہتے تھے اور بعض نالے تو اتنے بڑے تھے کہ ان کے نیچے سے بیل گاڑی بھی گزر جاتی تھی۔گلی کوچوں میں صفائی کا معقول انتظام تھا اور رات کے اوقات میں سارا شہر بقعہ نور بن جاتا۔آمدورفت اور ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے الگ سے پولیس تھی۔ڈاک کا انتظام تیز رفتارگھوڑوں کے ذریعے کیا جاتا اور ملک بھر میں کوئی مزدور، کاریگریا صناع  بے کار نہ تھا۔ملک کے ہر حصے میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عمارتیں بنی رہتی تھیں۔ نئے نئے پل اور نہریں بھی تیار ہوتی رہتیں۔ ملک بھر میں سرکاری خرچ سے ایسے ادارے قائم تھے جہاں محتاج، اپاہج،بیمار اور اسی طرح کے دوسرے لوگ رہتے تھے اور ان کا تمام خرچ حکومت کے ذمے ہوتا۔اندلس کے معذور لوگوں کے اخراجات بادشاہ اپنی جیب خاص سے ادا کرتا۔صرف قرطبہ میں ایسے کئی سو ادارے تھے جو یتیموں کی پرورش کرتے تھے۔

قرطبہ شہروں کی دلہن تھی۔یہاں ایک لاکھ تیرہ ہزار اعلی درجے کے پکے مکانات تھے،ساری سڑکیں پتھر کی تھیں، گرمیوں میں ہر جگہ خیمے تان دیے جاتے تاکہ مسافروں کو تنگی نہ ہو۔اسی ہزار چار سو دکانیں، سات سو مساجد،نو سو حمام اور چار ہزار تین سو گودام صرف قرطبہ میں تھے۔شہر کے گرد مضبوط فصیل تھی۔ڈھائی فرسنگ سے ایک پائپ لائن شہر میں لائی گئی تھی جو پانی کی فراہمی کا ذریعہ تھی۔گھر گھر فوارے اور چوکوں پر حوض بنے تھے۔شاہی محلات جانے کو وادی کبیر کے پل سے گزرنا پڑتا تھا۔ شہر بھر میں کوئی شخص پھٹے پرانے کپڑوں میں یا بھیک مانگتے ہوئے نہ دیکھا گیا تھا۔شہر کے مضافات میں سات آبادیاں مزید تھیں۔ ہر طرف نہریں بہ رہی تھیں اور نہروں کے کنارے پھولوں کی کیاریاں تھیں۔ اندلس میں تعلیم مفت تھی۔ہر درجہ کا شہری اعلی تعلیم مفت حاصل کر سکتا تھا۔تحقیقات کے لیے حکومت کی طرف سے مفت سہولیات مہیا کی جاتی تھیں، کتابوں کی اشاعت حکومت کے ذمے تھی۔ماہرین علوم و فنون کو کتب خانوں اور تجربہ گاہوں کی وسیع پیمانے پر سہولت میسر تھی۔اہل علم افراد کو بڑے بڑے انعامات اور وظائف و مشاہیر ملتے تھے۔امیر المومنین الحکم(ثانی)کے دور میں اہل علم کے وارے نیارے ہوئے۔اندلس کا ہر فقیہ،محدث،فلسفی،عالم اور شاعر شاہی خزانے سے وظیفہ پاتاتھا۔اس بادشاہ نے بستی بستی درسگاہیں کھول دیں چنانچہ ہر شخص لکھنے پڑھنے سے آشنا ہو گیا۔اس بادشاہ کو تعمیرات کا بھی بہت شوق تھا۔

 لیون کی فتح کے بعد ابن ابی عامر المنصور جب واپس قرطبہ پہنچا تو اس نے دونوں ہاتھوں سے شہریوں میں دولت بانٹی۔اس نے بہت سی عمارتیں بنوائیں، مسجدیں تعمیر کیں، جامع مسجد قرطبہ کی توسیع کی،قرطبہ کے دریا پر ایک نیا پل بنوایا اور اس پر اس زمانے میں ایک لاکھ چالیس ہزار دینار خرچ کیے۔المنصور نے ایک اور پل اشتجر میں دریائے شنیل پر بھی بنوایا۔یہ حکمران رات کو کم سوتا تھا اور قرطبہ کا گشت کر کے جرائم کی ٹوہ لگاتاچنانچہ اس کے دور میں رعایا خوشحال تھی۔

 مسلمانوں سے قبل کا اندلس حمام سے ناآشنا تھا۔مسلمانوں نے یہاں گرم پانی کے حمام قائم کیے۔نہ صرف شہروں میں بلکہ دیہاتوں میں بھی حمام تعمیر کیے گئے۔قرطبہ جو نصف سے ایک ملین آبادی کا شہر تھا یہاں تین سو حمام عبدالرحمن(سوئم)کے وقت اور چھ سو حمام المنصور کے عہد میں موجود تھے۔دسویں سے بارہویں صدی کے دوران صرف قرطبہ میں چالیس سے پچاس ہسپتال موجود تھے۔عبدالرحمن(دوئم)کے زمانے میں عراق کے تربیت یافتہ اطباء نے قرطبہ میں کلیۃ الطبیہ کھولا، جہاں سے اندلس کو بہت سے سرجن اور طبیب میسر آئے۔

اسلامی اندلس میں فنون لطیفہ

 اندلس کا آسمان اس بات پر گواہ  ہے کہ اس سرزمین پر مسلمانوں کے عظیم کارناموں نے خوب جگہ پائی،وہاں کی عمارات،خوش و خرم چہرے ہواؤں میں رچی بسی خوشبو اور بہتے دریا ہنوز کسی عظیم کاروان کے گزرگاہ کے گن گاتے ہیں۔ مسجد قرطبہ کے مینار اپنی خاموش صداؤں سے عبدالرحمن الداخل کی داستان عزم و ہمت سنا رہے ہیں، جبل الطارق ی پہاڑیاں عظمت رفتہ کی یادگار ہیں اوریورپ کی ساحلوں کی تشنہ کام آب و ہوا ایک بار پھر جلتے ہوئے جہازوں کے دھوئیں میں معطر ہوا چاہتی ہے۔اندلس میں مسلمانوں کی آمد صفحہ انسانیت پر ایک نئی ثقافت کا باب ثابت ہوئی۔ثقافت ایک ایسی جامع اصطلاح ہے جس میں طرز معاشرت یا طریق زندگی کے تمام نمونے آ جاتے ہیں۔ اصطلاحاثقافت کے مفہوم  میں ذہنی ترقی شامل ہو جاتی ہے۔ثقافت پر عقائد،سماجی  معیار تعلیم،ادب، تجربہ اور مذہب وغیرہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ تہذیب سے مراد انسانی دل و دماغ کی آراستگی ہے،عام طور پر تہذیب سے مراد سلیقہ ادب، تعلیم،رکھ رکھاؤ اور تمدن مراد لیے جاتے ہیں گویا ایک اجڈ شخص اپنی اصلاح کے  بعد مہذب ہو جاتا ہے۔ اصطلاحا تہذیب میں تحریر کا استعمال، شہروں کا وجود سیاسی ردوبدل  اور پیشہ ورانہ تخصیص شامل ہے۔

مسلمانوں سے قبل اندلس تہذیب و تمدن سے نا آشنا تھا،وحشی گروہ کی حکمرانی تھی اور جس کی لاٹھی اسکی بھینس کا قانون رائج تھا۔علم و ادب سے عام لاتعلقی تھی،امیر لوگ درہم و دینار کے پجاری تھے اور غریب لوگوں کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔انسانی شہرجنگل کی بستیوں کا پتہ دیتے تھے۔انسانی رویوں میں درندگی رچ بس گئی تھی۔فنون لطیفہ اور عم و ادب کا نام و نشان تک نہ ملتا تھا بلکہ ان کی جگہ ظلم و جور اورغلامی  کے طوق نے لے لی تھی۔

اندلس خطہ ارضی میں براعظم یورپ کاایک خوبصورت حصہ ہے۔اسے اسپین،ہسپانیہ یا جزیرہ نمائے آئبیریا بھی کہتے ہیں۔ جغرایائی اعتبار سے اندلس کے تین اطراف میں پانی اور ایک طرف خشکی ہے۔اس خطے کے مغرب میں بحراوقیانوس،مشرق میں بحیرہ روم،جنوب میں ابنائے جبل الطارق اور شمال میں سرزمین فرانس واقع ہے۔اندلس کی وجہ تسمیہ اندلس بن طومان بن یافث بن حضرت نوح علیہ السلام ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے اس بزرگ نے براعظم یورپ کا رخ کیا تھا اور رہائش کے لیے اندلس کو بطور وطن  اختیار کیا تھا۔اندلس کے قدیم باشندے قوم سلٹ سے تعلق رکھتے تھے اور فرانس سے آئے تھے۔ان کے علاوہ دوسری اقوام جو اندلس میں آباد تھیں ان کی اصلیت بخوبی معلوم نہیں۔ دوسری صدی قبل مسیح یہاں ایک بہت بڑی جنگ ہوئی جس کے بعد یہ ملک سلطنت روما کا حصہ بن گیا۔رومیوں کے دور میں یہ خطہ نہایت سرسبزوشاداب اور خوشحال تھا۔پانچویں صدی مسیحی میں شمال سے اٹھنے والی وحشی اقوام نے فرانس کو تاراج کرنے کے بعد اس ملک پر بھی قبضہ کر لیا۔مسلمانوں کے حملوں تک یہی وحشی گروہ یہاں قابض تھے۔

 طلوع اسلام:

        اندلس موسی بن نصیر کے آزاد کردہ غلام طارق  بن زیاد کے ہاتھوں 92ھ میں فتح ہوا۔دمشق میں تخت خلافت پر عباسیوں کا قبضہ ہوا تو عبدالرحمن بن معاویہ مشرق سے فرار ہو کراپنی ذہانت سے اندلس کے اقتدار پر قابض ہو گیا۔تاریخ نے اس عبدالرحمن کو الداخل کا خطاب دیا۔138ھ سے428ھ تک مروانی خاندان کے اس شہزادے کی نسل سے تیرہ بادشاہ تخت نشین ہوئے۔ یہ لوگ علم و ہنر اور دانش و فن کی قدر افزائی میں شہرہ آفاق تھے۔انہوں نے اندلس کو دلہن کی طرح آراستہ کیا۔یہ لوگ رزم وبزم دونوں کے بادشاہ تھے۔ اور مجموعی طور پر مسلمانوں کے مختلف خاندانوں نے آٹھ سو سال تک اندلس پر حکومت کی۔مسلمانوں نے اندلس میں ایک نئی تہذیب و ثقافت کو جنم دیا،علوم و فنون کی پرورش کی اوریورپ کی تاریخ پر انمٹ نقوش کندہ کیے۔اندلس میں طلوع اسلام نے انسانوں کو انسانیت کا سبق پڑھایا۔دنیا کی بندگی سے خدائے واحد کی اطاعت کی طرف دعوت دی،اسلام کے جس نے عرب جیسی شتر بے مہار قوم کو منزل آشنا کر دیا۔اس دین رحمت نے اندلس کو بھی تہذیب و تمدن کا گہوارہ بنایا۔اور ادارہ خلافت نے اس مہذب اندلس کو ثقافت کی اوج ثریا سے ہمکنار کیا۔تاریخ انسانی میں اسلامی اندلس اپنی نوعیت کی تاریخ خود رقم کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

 سرزمین اندلس:

        "ملک اندلس بہترین ملکوں میں سے ہے۔اس کی آب و ہوااور سرزمین نہایت معتدل، اس کا پانی بے حد شیریں، ہواپاکیزہ اور حیوانات و نباتات نفیس ہیں۔ یہ ملک اوسط الاقالیم میں سے ہے اور خیرالامور اوسطھا ایک مشہور مثل ہے۔ملک اندلس پاکیزگی میں شام ہے،ہوا لے لحاظ سے یمن،معتدل مطلع کے لحاظ سے ہند،عمدگی اور لطافت میں اہواز اور زرخیزی میں چمن کی مانند ہے۔اس کے سواحل اور اسکے معادن میں طرح طرح کے قیمتی جواہر مخزن ہیں۔ آثار قدیمہ بھی بکثرت ہیں۔ بحر اندلس کے ساحل میں عمبر بکثرت پیدا ہوتا ہے اس کے علاوہ چاندی اور پارہ کی بکثرت کانیں ہیں۔ زعفران بھی پیدا ہوتا ہے،غرض یہ کہ اندلس کیا ہے ایک جنت ارضی ہے۔”(ترجمہ)

اسلامی اندلس کی سرزمین بہترین تھی۔ حیوانات و نباتات کی بہتات تھی۔بحر اندلس کے ساحل پر عنبر بکثرت پیدا ہوتا تھا اسکے علاوہ پارہ کی متعدد کانیں تھیں، زعفران آج بھی یہاں کا مشہور ہے۔جزیرہ نمائے اندلس مثلث کی شکل میں تھا جسے تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا تھا۔وسطی حصے میں قرطبہ،طلیطلہ،جبان،غرناطہ،المریہ اور الغد وغیرہ تھے۔بظاہر یہ چھ شہر تھے لیکن ہر ایک مستقل مملکت کادرجہ رکھتا تھا۔قرطبہ کے اطراف میں استنجہ،بلکونیہ،بیانیہ،جنا اور کثیر وغیرہ چھوٹے شہر تھے۔شرقی حصے میں صوبہ جات مرسیہ،سلیینہ،دانیہ،سہلما اورنقرا علی تھے۔دانیہ کے چند اور شہر بھی تھے جو دست برد زمانہ سے ویران ہو گئے۔اندلس کا تیسرا حصہ غربی تھاجس میں چند جزائر تھے۔ملک اندلس مثلث کی شکل میں تین حصوں، وسطی،شرقی اور غربی پر مشتمل تھا۔ان کے علاوہ چھوٹے جزائر بھی بکثرت تھے۔اندلس کا طول تیس دن کی مسافت کا تھا اور عرض نو دن کی مسافت کا۔ سرزمین اندلس کو چالیس بڑی بڑی نہریں چند حصوں میں تقسیم کرتی تھیں۔ نہروں کے علاوہ بہت سے قدرتی چشمے بھی تھے اورمعدنی ذخائر کی فراوانی تھی۔دارالحکومت کے اسی شہر تھے،دیہاتوں اور قصبوں کا شمار نہ تھا۔صرف نہر اشبیلیہ کے کنارے بارہ سو دیہات آباد تھے۔قدم قدم پر مسافروں کی سہولت کے لیے مسافر خانے،بازار اور سرائے ملتے تھے۔مسافر دو کوس بھی  جنگل اور ویرانے میں نہ چل پاتا تھا کہ اسے آرام گاہ مل جاتی۔

اندلس کی تہذیب اور اہل اندلس آسودی کا ذکر کرتے ہوئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عبدالرحمن (سوئم) کو ملنے والے ایک نذرانے کا ذکر کیا جائے جو اسکے نومقرر کردہ وزیر نے بطور شکرانہ پیش کیا تھا۔عبدلرحمن ابن خلدون نے ابن حبان کے حوالے سے اس نذرانے کا  تفصیلی ذکر کیا ہے۔چند اقتباسات ملاحظہ ہوں :

   "سونا خالص عمدہ پانچ لاکھ مثقال(58من چوبیس سیر)،چاندی خلاص400رطل(چار من پانچ سیر)چاندی کے سکے دو سو توڑے بارہ رظل عود ہندی جو محفل میں بطور خوشبو کے جلائی جاتی تھی،تین سو اوقیہ  برادہ عنبر اور کافور،تیس ریشمی تھان جن پر سونے کی تاروں کا کام کیا گیا تھا،قیمتی نفیس کھالوں کی دس پوستینیں، چھ عراقی پردے اڑتالیس ریشمی طلائی کی بغدادی جھولیں گھوڑوں پر ڈالنے کے لیے انیس بڑی جھولیں اونٹوں پر ڈالنے کے لیے،دس قناطیر سمور جن میں ایک سو کھالیں تھیں، سوا اکتالیس بن بنا ہوا ریشم، مختلف اقسام کے ایک ہزار قیمتی فروش،بہت سی نفیس جائے نماز،مختلف قسم کی ایک لاکھ سلطانیہ ڈھالیں، عمدہ اور نفیس تیروں کے ایک لاکھ پھل،شاہی سواری کے لیے پندرہ عربی النسل گھوڑے،چالیس باسلیقہ خدام اور لباس و زیورات کے ساتھ بیس نوخیز خادمائیں  اور ان کے علاوہ نایاب پتھر،تعمیرات کا سامان اور عمارتی لکڑی وغیرہ۔”

اس ہدیے کے بھیجنے پر چالیس لاکھ پانچ ہزار روپے خرچ ہوئے۔خلیفہ نے وزیر سلطنت کا شکریہ ادا کیا اور اسکی قدر افزائی کی۔

  اندلس کی تہذیب کا ذکر کرتے ہوئے  بہت سے ایسے نذرانوں اور تحفوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ان میں سے اکثر نذرانے مسیحی حکمرانوں کی طرف سے بھی پیش  کیے جاتے تھے۔336ھ میں شاہ قسطنطین نے اظہار عقیدت کے لیے اپنا سفیر بھیجا اور اسکے ہمراہ تحائف اور نذرانے بھی روانہ کیے۔ خلیفہ نے دربار عام میں اسکی سفارت پیش کرنے کا حکم صادر کیا، چنانچہ تمام افسران فوجی و ملکی  کے نام فرامین جاری کیے گئے کہ دربار عام میں مناسب فوجی ہتھیار لگا کر آئیں، قصر خلافت شاہانہ شان و شوکت سے آراستہ کیا گیا،دروازوں اور مہرابوں پر عمدہ عمدہ پردے لٹکائے گئے،درمیان میں تخت خلافت  بچھایا گیا جس پر بہت سے آبدار ہیرے جڑے تھے۔تخت کے اردگرد خلیفہ کے بیٹے، بھائی،چچا،رشتہ دار،وزرا اور خدام اعلی بقدر مراتب درجات کھڑے تھے۔بادشاہ قسطنطین کا سفیر جب دربار میں داخل ہوا تو خلافت کی شان اور خلافت ماب کی سطور و جبروت دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا۔

باشندگان اندلس:

"بلاد اندلس کے باشندے خوش خور،خوش پوش،صفائی جسم کا خیال رکھنے والے،طہارت طبیعت کے بڑے شوقین اور کھیل کود اور گانے بجانے کے مشتاق ہیں۔ اندلس کے باسی نسب،عزت،علو ہمت،فصاحت زبان،پاکیزگی نفوس،نفوت ظلم،احتمال ذلت سے نفور،کمینہ باتوں سے دور اور خواری سے گریزاں ہونے میں عرب کی خاصیت رکھتے ہیں، محبت و شوق اور اکتساب بحث و علوم میں ہندی ہیں، سنائی ظرافت،حسن اخلاق،ذہانت و ذکاء،حسن نظر و جودت عقل اور لطافت دماغ و تیزی فکر میں بغدادی ہیں۔ باغت و چمن بندی، خاصیت آب کے پہچاننے،مختلف قسم کے پھل اگانے،اون کی پرورش کرنے، اشجار کی ترتیب اور طرح طرح کی سبزیوں اور پھلوں سے باغ کو سجانے میں یونانی ہیں۔ اہل اندلس صنائع عملیہ میں اور مشقت ظاہری میں چینی ہیں اور فن حرب اور آلات حرب میں ترک ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سے کوئی قوم سبقت نہیں لے جاسکتی۔”(ترجمہ)

   اندلس کے باشندے علوم و فنون،صنعت و حرفت اور اخلاق میں اہل فرنگ سے بدرجہا لائق و فائق تھے۔جنگ و جدل کی عادت نے انہیں اپنی نظر میں نہایت وقیع و گرانقدر بنا دیا تھا۔اس لیے عزت نفس کا جذبہ ان میں نہایت شدت سے پایا جاتا تھا۔وہ لوگ اپنے خاندان کے بزرگوں مطیع و فرمانبردار رہتے تھے،اپنے خاندان کی عزت و ناموس میں انکے ہاں امیر و غریب یکساں تھے۔حکمران اپنی رعایا کو کاروبار زندگی میں مشغول رہنے کا شوق دلاتے تھے۔علوم و معارف کی لذت سے وہ لوگ آشنا تھے،ان کا قائدہ تھا کہ عمارات پر معمار کا نام بھی کندہ کراتے۔اندلسی مسلمان اپنے دور کی تمدن آشنا اقوام میں سب سے آگے تھے،مگر چونکہ ان میں اختلاف اور نا اتفاقی رہا کرتی تھی اس لیے آتش جنگ ہمیشہ بھڑکتی رہی۔

 فنون لطیفہ:

 فنون لطیفہ کسی بھی تہذیب کی روح تک پہنچنے کے بہت بڑے ذرائع ہیں۔ دسویں صدی عیسوی میں اندلس میں ایک نئے تہذیبی دور کا آغاز ہوا۔مسلماں حکمرانوں کے دور خلافت کاسورج اندلسی تہذیب و ثقافت کا مطلع انوار ثابت ہوا۔جرمن شاعر،ہارس متھا،نے قرطبہ کو دسویں صدی کا جوہر ارضی کہا ہے۔تمام دنیا کے نمائندے قرطبہ میں موجود ہوتے تھے اور تہذیبی و ثقافتی معیار اس قدر بلند تھا کہ اندلس کا ہر باشندہ نہ صرف یہ کہ لکھنا پڑھنا جانتا تھا بلکہ ملاح اور نان بائی جیسے پیشوں کے لوگ بھی فی البدیہ اشعار میں گفتگو کیا کرتے تھے۔

 فن تعمیر

  مسلمانوں نے اپنے دور امامت انسانیت میں  ایک دنیا کا سفر کیا اور ایسے بے شمار مقامات کا مشاہدہ کیا جہاں ایک عرصہ تک تہذیب و ثقافت نے ڈیرے ڈالے رکھے تھے۔انہوں نے بازنطینی دربار کی عظمت،ایرانی سلطنے کا جاہ و جلال اور فن تعمیر کی شان و شوکت بنظر غائر دیکھیں تھیں۔ ماضی کی ہرقوم اپنا ایک خاص تعمیراتی ذوق رکھتی تھی جوآنے والی نسلوں میں اسکی پہچان بنی۔بعض اقوام کے فن تعمیر کا ذکر تو قرآن مجید تک میں موجود ہے۔مسلمان چونکہ ان تمام جذبات کے حامل تھے جن کا وجود پرورش تہذیب و ثقافت کے لیے ضروری ہوتا ہے اس لیے انہوں نے اپنی ذات  استعداد و حسیات لطیفی کے اوراق سے ایسے اضافے کیے کہ ایک مخصوص طرز تعمیر کی بنیاد پڑ گئی جو اسلامی طرز تعمیر کہلایا۔اندلس میں تعمیرات عہد اسلامی آج بھی ایام گزشتہ کی یاد تازہ کیے ہوئے ہے۔

 تعمیری مصالحہ:

 اندلس میں مسلمانو ں نے سب سے پہلے اینٹوں کی بجائے پتھروں کا استعمال کیا۔دنیا کے اعلی قسم کے پتھر انہوں نے اپنی تعمیرات میں استعمال کیے۔پتھروں کے علاوہ اندلسی مسلمانوں نے سلفیٹ آف لائم کا استعمال بھی کیا،اسکی خاصیت یہ ہے کہ پانی ملانے پر نرم ہوجاتا ہے اور کچھ دیر بعد پتھر کی طرح سخت۔سیمنٹ اس ایجاد کی ترقی یافتہ شکل ہے۔اس کے علاوہ مٹی، چونا،ریت اور چھوٹے چھوٹے پتھروں کا مصالحہ بھی استعمال کیا جاتا، یہ نہایت پختہ اور پائدار ہوتا۔

ستون پرکالے اور محرابیں :

 اندلسی مسلمانوں کی عمارتوں میں بے شمار ستون نظر آتے ہیں۔ یہ ستون مختلف اقسام کے ہیں۔ شروع میں یہ ستون ایرانی طرز کے بنائے جاتے تھے لیکن بعد میں عربوں نے ان میں جدت پیدا کی اور نئی طرز سے بنائے جانے لگے۔نکیلی اور پھیلی ہوئی محرابیں عربوں کے تعمیراتی ذوق کی سب سے بڑی نشانی ہیں محراب آخر میں جاکر نکیلی ہو جاتی ہے،لیکن کاریگری سے اس میں حسن پیدا کر دیا جاتا تھا۔محرابیں عربوں سے قبل کی تعمیرات میں بھی ملتی ہیں لیکن عربوں کی تعمیر کردہ محرابیں دور سے ہی پہچانی جاتی ہیں۔

مینار گنبد اور آرائشی طاقچے:

 مینار مسلمانوں کی مذہبی ضرورت ہیں۔ موذن کی آواز کو دور تک پہنچانے کے لیے مینار کی بلندی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔چنانچہ یہ مذہبی ضرورت مسلمانوں کے تعمیراتی ذوق کا حصہ ٹہری۔اندلس میں اکثر مینار مربع قسم کے ہیں، ان پر خوبصورت نقش و نگار بھی کیے ہوئے ہیں۔ سقوط غرناطہ کے بعد فرزندان تثلیث نے ان میناروں کو کاٹ کر صلیب کی شکل دے دی۔گنبد کاوجودمحراب کا ایک خوبصورت بیرونی نظارہ ہوتا تھا،یہ لفظ فرانسیسی سے زبان سے مشتق ہے۔عربوں کے بنائے ہوئے میناروں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اوپر سے پتلے اور نیچے سے دبے ہوئے ہوتے ہیں۔ اندلسی مسلمانوں کے ہاں تعمیرات کا یہ سلسلہ رائج تھا کہ مربع حجروں اور گول چھتوں کی درمیانی جگہ کو بھرنے کے لیے طاق بنا دیا کرتے تھے۔انکی شکل مثلث کی سی ہوتی، انہیں اصطلاح میں آویزہ کہتے تھے۔اندلسیوں نے ان طاقوں کے اضلاع کو مقعر بنا دیا تھا۔

  نسخی گلکاریاں، کتبے اور رنگین آرائیشیں :

 نسخی گلکاریاں عربوں کا خاص ذوق تھا۔یہ ایسی خصوصیت ہے کہ جو کسی اور قوم کے طرز تعمیر میں نہیں ملتی۔اندلسی مسلمانوں کی تعمیرات پر کتبے ملتے ہیں جن پر قرآنی آیات،معمار کا نام اور بعض اوقات خلیفہ کا نام بھی ملتا ہے۔یونانی لوگ اپنی عمارات پر رنگ استعمال نہیں کرتے تھے جبکہ عرب اپنے ذوق جمال میں رنگوں کے دلدادہ تھے چنانچہ اکثر عمارات پر رنگ برنگی گلکاریاں اور قسم قسم کے رنگین پتھر نظر آتے ہیں۔

غرض کہ اندلس میں  مسلمانوں کی بنائی ہوئی عمارات یگانہ روزگار ہیں اور اپنی مضبوطی، پائداری اور حسن و جمال میں دنیا بھر میں ممتاز ہیں۔ صدیوں پر صدیاں گزر گئیں مگر وہ عمارتیں آج بھی سینہ تانے کھڑی ہیں  ان پر دہر اور انقلابات عالم نے کوئی اثر نہیں کیا۔انہوں نے فرڈیننڈ کے توپ خانوں کی مار کھائی، کلیسا کے کلہاڑے اپنے جسم پر سہے اور تعصب کی آنکھ سے نکلنے والے زہر میں بجھے تیر کھائے مگر اپنی جگہ کھڑی فاتحین کی بربریت کا مذاق اڑاتی رہیں۔

حسن زیبائی

موسیقی:

اہل اندلس  گانے بجانے کے مشتاق تھے۔عبدالرحمن (اول)کے دربار میں ایک مغنیہ "افزا”ہوتی تھی جو اپنی گائکی اور سریلی آواز میں اپنا ثانی نہ رکھتی تھی۔اکثر مشہور موسیقاروں کو مشرق سے اندلس میں مدعو کیا جاتا۔اندلس میں ایک مدرسہ بھی تھا جہاں گانے بجانے اور موسیقی کی تربیت دی جاتی تھی۔خلافت کے اختتام تک یہ مدرسہ قائم رہا۔اندلسی مسلمان ذوق موسیقی میں ایرانیوں سے دو چند تھے۔یہاں آلات موسیقی کی بہت بڑی صنعت تھی جہاں سے دوسرے ممالک کو بھی یہ آلات برآمد کیے جاتے تھے۔موسیقی کے شوق میں عام و خواص سب یکساں تھے۔استاد زریاب جیسا مغنی اور موسیقار جو تاریخی شہرت کا حامل ہے،امیر عبدالرحمن(اوسط) کا درباری تھا،ننگے سر رہنا،ٹیڑھی مانگ نکالنا اور تنگ پائجامہ(پتلوں )پہننا سب سے پہلے استاد ذریاب نے ہی شروع کیا تھا۔

سنگ تراشی،مصوری اور مرصع کاری:

عربوں نے سنگ تراشی اور تصویر کشی میں بھی دوسری قوموں کو مات کیا۔قصرالحمرا اور قصرالزاہرا اپنی عمدہ تصاویراور نہایت خوشنما تراشی ہوئی مورتیوں سے آراستہ وپیراستہ تھے۔الحمرا میں آج بھی ایک فوارہ موجود ہے جس کے سرے پر پتھر کی بنی ہوئی شیروں کی بارہ مورتیاں  قائم ہیں۔ اسی طرح ظروف پر کندہ کیے ہوئے نقش و نگار، دستکاری کی عمدہ دلیل تھے۔مرصع کاری یعنی جواہر نگاری بھی کیا خوب تھی۔جبرونہ کے ایک گرجا گھر کی بلند قربان گاہ پرایک مرصع یادگار اب بھی باقی ہے جس پر چاروں طرف سے چاندی کا ملمع اور آبدار موتی ضواہرات نصب کیے گئے ہیں۔ تلواروں کے قبضوں کو مرصع بنانے میں بے حد تکلف کیا جاتا تھا،دیہات کی کنجیاں تک سادہ نہ تھیں بلکہ ان پر بھی نقش و نگار تھے۔

خطاطی:

 خطاطی اور خوش نویسی میں بھی مسلمانان اندلس نے کمال حاصل کیا۔خطاطی میں استعمال ہونے والے رنگ اور سیاہیاں دیرپا ہوتے۔محلات کی دیواروں پر بنے خطاطی کے نمونے آج بھی زندہ ہیں۔ کتب خانوں میں کاتب حضرات کو کتابوں کی نقول کاکام سونپا جاتا،یہ کاتبین اس قدر سرعت سے کام کرتے کہ ضخیم سے ضخیم کتاب بھی چند دنوں میں تیار کر دیتے۔اور چند سو صفحوں کی کتاب تو اگلی نماز کے بعد تیار ملتی تھی کیونکہ ہر کاتب کے پاس بیسیوں کی تعداد میں شاگرد ہوتے تھے اور مسافر جس نے شام کے جہاز سے بغداد روانہ ہونا ہوتا تھا وہ اپنی کتاب نقل کے لیے کاتب کو دیتا اور خود نماز کے لیے روانہ ہو جاتا۔کاتب اس کتاب کی جلد کھول کر اسکے اوراق اپنے شاگردوں میں بانٹ دیتا،آج کے طالب علم اتنی تیزی سے پڑھ نہیں سکتے جتنی رفتار سے اس کاتب کے شاگرد کتابت کر لیتے تھے۔چنانچہ نماز سے واپسی پر اس مسافر کو کتاب کی نقل اور اصل مجلد صورت میں تیار ملتی تھیں۔

بلاد اندلس

  یہ اندلسی مسلمانوں کا ذوق لطیف تھا کہ نہ صرف یہ کہ انہوں نے رومیوں کے قدیم شہروں کو نئے سرے سے آباد کیا بلکہ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ خود سے نئے شہر بھی آباد کیے۔شہروں کے احوال اور نقشوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے آبادکاری میں نکاس آب سے لے کر ماحول اور آب و ہوا تک کو پیش نظر رکھا۔

قرطبہ:

   "قرطبہ بلاد اندلس میں بمنزلہ عروس کے ہے،دنیا کی مذاق چشم اور نظر فریب خوبیاں اس میں موجود ہیں۔ اس کے نامور سلاطین کادراز سلسلہ گویا اس کا زریں تاج ہے۔اس تاج میں جڑے ہیرے قرطبہ کے نازک خیال شاعروں نے بحر معانی سے جمع کر کے سلک نظم میں منسلک کیے ہیں، اور اسکی مالا جپتے ہیں۔ اس شہر کی قیمتی پوشاک وہ علوم درخشاں ہیں جواسکے متبحر علما کے سوزن قلم کے نتائج ہیں اور جملہ ارباب صنعت و تجارت  اس کی پوشاک کے ہانسے اور سخارف ہیں۔ قرطبہ ایک قلعہ بند اور عالیشان  سنگین دیواروں میں محفوظ شہر ہے،اسکے کوچہ بازار نہایت خوشنما اور نفیس ہیں، یہاں کے باشندے اخلاق حمیدہ، فراست ودانائی،ملبوسات،اکل و شرب اور گھوڑوں کی پسند میں اعلی مذاق رکھنے کے سبب شہرہ آفاق ہیں۔ اس شہر میں ہر فن کے کاملین موجود ہیں "۔(ترجمہ)

  قرطبہ،جنوبی اندلس کے صوبے اوراسکے صدر مقام کا نام تھا۔لفظ "قرطبہ”کا ماخذ "قرطبہ طبیب”ہے۔اس شہر میں اکیس محلے تھے۔ہر محلے میں مساجد،حمام اور بازاروہاں کے رہنے والوں کی ضرورت کو کافی تھے۔شہر قرطبہ کے ساٹھ دروازے تھے۔شہر میں داخل ہونے سے پہلے۔ وادی کبیر کے پل سے گزرنا پڑتا تھاجو اپنی نظیر آپ تھا۔قرطبہ میں ایک قصر شاہی بھی تھا،شہر کے دیگر محلات  و باغات بھی اکثر شاہی استعمال میں رہتے تھے۔قرطبہ میں دو لاکھ ستر ہزار مکانات،اسی ہزار دکانیں، نو سو حمام اور سات سو مساجد تھیں۔ بے شمار مدارس و جامعات اور سرکاری و نیم سرکاری نجی کتب خانے بھی تھے۔

جامع مسجد قرطبہ:

 جامع مسجد قرطبہ مغرب میں مسلمانوں کی عظیم تہذیب کی امین ہے۔یہ مسجد اپنے اندر عظمت کی ناقابل یقین داستان لیے ہوئے اپنے سرخ آنسوؤں سے مظلومیت کا عرصہ گن رہی ہے۔مسجد قرطبہ اسلامی تاریخ کے روزن ابواب سے بھرپورایک بند کتاب ہے جوصاحب نظر اور عم و فن کے قدردان لوگوں کے لیے اپنی آغوش وا کرنے کی منتظر ہے۔مسجد قرطبہ کے مینار اپنے ہی دیس میں اجنبی ہونے کے باوجود کلیسا کے آگے سرنگوں نہیں ہوئے،اسکے ممبرومحراب قرون اولی جیسے روشن جبیں مسلمانوں کی راہ تک رہے ہیں۔ جامع مسجد قرطبہ کی خوبصورتی کا احاطہ الفاظ کر سکتے ہیں نہ ہی فنی اصطلاحات۔اس کا حسن و جمال دیکھ کر خیال گزرتا ہے کہ شاید حضرت انسان ایسی کوئی اور عمارت تعمیر نہ کر سکے۔

یہ مسجد اندلس کی تہذیبی یادگاروں میں سے ایک ہے۔عبدالرحمن الداخل کا یہ کارنامہ تاریخ چاہے بھی تو نہیں بھلا سکتی۔الداخل کے جانشینوں نے دو سو سال تک اس پر محنت کی، جیسے جیسے مسلمانوں کی آبادی بڑھتی گئی مسجد کی منزلوں میں اضافہ ہوتا گیا۔الداخل مزدوروں کی طرح اس کی تعمیر میں شریک رہا، خود اینٹیں اٹھاتا اور ذوق  و شوق کی تصویر بنے خدا کے اس گھر کو دیکھتا رہتا۔اپنی زندگی میں وہ اسکی تکمیل تو نہ کر سکا تاہم اس نے اس مسجد میں نماز پڑھی اور خطبہ دیا۔اس مسجد پر ہر آنے والے حکمران نے توجہ کی اورہر دور کے بعد یہ خوبصورت تر ہوتی چلی گئی۔شروع میں یہ مسجد225گز لمبی اور205گز چوڑی تھی۔امیرالمومنین حکم ثانی نے اسے 330گز لمبا کر دیا،المنصور نے اسکی لمبائی میں 80گز کا مزید اضافہ کیا،اس طرح اسکی چوڑائی 300گز تک پہنچ گئی۔مسجد کا صحن 128گز لمبا اور105گز چوڑا تھا۔مسجد کے نو دروازے تھے۔صحن میں تین دروازے،مشرق و مغرب سے ایک ایک دروازہ، ایک وسط میں اور چار دروازے برآمدوں میں کھلتے تھے جبکہ دو دروازے صرف عورتوں کے لیے مخصوص تھے۔مسجد میں سنگ مرمر سے بنائے گئے1293ستون تھے،رفام سے بنائے گئے یہ ستون بہت خوشنماتھے۔مسجد کے مقصورہ کا دروازہ اور محراب سونے کی بنی تھی اور اس میں چاندی کی تختیاں نصب تھیں۔ مسجد کی دیواریں اٹھارہ اٹھارہ گز بلند تھیں جن کو سونے اور چاندی کی تاروں سے منقش کیا گیا تھا۔مذکورہ تمام عناصر مسجد کے حسن کو دوبالا کرتے تھے۔ایک ہی مینار تھا جو 54گز اونچا تھا جب کہ سید علی بلگرامی کی تحقیق کے مطابق71گز بلند تھا۔مسجد میں ثریات ( جلنے والے چراغوں کے لیے مخصوص مقامات)280 تھے،جن میں 7425چراغ جلتے تھے،ہر چراغ پر سونے کی پتری چڑھی تھی۔ان چراغوں کو زیتون کے تیل سے روشن کیا جاتا تھا۔ایک سال میں تقریبا پانچ سو من زیتون کا تیل ان میں جلتا تھا۔ایک شمع جو امام کے سامنے جلتی تھی اسکا وزن 50رطل تھا۔ہر جمعرات کو رات کے وقت مسجد میں ایک رطل عود اور چوتھائی رطل عنبر جلایا جاتا تھا۔مسجد کی سب سے بڑی ثریا کا دور پچاس بشر تھا جس میں 1084چراغ بیک وقت جل سکتے تھے۔

مسجد میں چار وضوگاہیں تھیں، جن میں سے دو خواتین کے لیے مخصوص تھیں۔ جبل قرطبہ سے ٹھنڈا  اور صاف پانی زیر زمین سے لایا جاتاتھا۔مسجد کے دو دروازوں کے بیرونی جانب دو سبیلیں بھی تھیں، جن میں پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاتاتھا۔مسجد کے دو بڑے دروازوں کے دونوں جانب غربا اور مساکین اور مسافروں کے لیے بہت سے کمرے تھے،ان کمروں میں قیام کرنے والوں کے جملہ اخراجات حکومت کے ذمہ تھے۔مسجد کے ممبرومحراب اپنی خوبصورتی کی مثال آپ تھے،محراب سنگ مرمر کی صرف ایک سل سے بنائی گئی تھی،پندرہ فٹ کی یہ سل کسی بڑے ٹکڑے سے نہایت مہارت سے کاٹی گئی تھی۔اس میں طرح طرح کے نقش و نگار اور مناظر بنائے گئے تھے۔بیل بوٹے بناتے وقت قدرتی تنظیم و ترتیب  ملحوظ رکھی گئی۔محراب کی چھت چار ستونوں پر کھڑی کی گئی تھی جن میں سے دو سبز رنگ کے تھے اور دو لاجوردی رنگ کے۔محراب کی طرح ممبر بھی عجائبات روزگار میں سے تھا۔اعلی درجے کے ماہرین صناع سات سال تک اسے تیار کرتے رہے،ہر صناع کو روزانہ 8مثقال سونا اجرت دی جاتی تھی۔صرف اس ممبر پر دس ہزار مثقال سونا صرف ہوا۔اصل ممبر لکڑی کا تھا اور یہ لکڑی خوشبودار اور بہت قیمتی تھی،ممبر کی لکڑی پر جوڑ سونے اور چاندی کے تھے۔عبدالرحمن الناصر نے مسجد کا مینار نئے سرے سے تعمیر کروایا،اس کے لیے اتنی گہری بنیادیں کھودی گئیں کہ پانی نکل آیا۔ماذنہ تک اسکی بلندی 54گز تھی،ماذنہ مزید17گز بلند تھا۔گنبد کی چھت سونے چاندی اور جواہرات سے منڈھی ہوئی تھی۔حسن و خوبصورتی میں اسکا کوئی ثانی نہ تھا۔المنصور کے دور میں جب آبادی بہت بڑھ گئی تو اس نے بڑے پیمانے پر مسجد کی توسیع کا بیڑا اٹھایا،مسجد سے ملحق تمام مکانات خرید لیے۔المنصور نے پچاس لڑائیاں لڑیں اور ہر لڑائی کا مال غنیمت اس مسجد پر صرف کیا۔اس کے دور میں مسجد ایک دلہن کا نظارہ پیش کرتی تھی۔سنگ مرمر،سنگ سرخ اور سنگ موس مسجد کے چپے چپے کی زینت تھا۔

اے مسجد قرطبہ مسلمانوں کے ہاتھ ایک بار پھر کلیسا کے گریبان تک پہنچنے والے ہیں، تیری تنہائی کا عرصہ ختم ہوا چاہتا ہے،اکیسویں صدی کا سورج تیری اقبال مندی کی نوید لیے طلوع ہوچکا،تیرے دامن میں موجود بت پاش پاش کر دیے جائیں گے،تیرے میناروں سے بلالی صدائیں ایک بار پھر فرزندان توحید کو اپنی طرف بلانے والی ہیں، تیرا صحن رب واحد کے سامنے سربسجود ہونے والوں سے آباد ہو گا،تیرے ممبرو محراب اور درودیوار ایک بار پھر قال قال اﷲ تعالی اور قال قال رسول اﷲ ﷺ کی گونج سے آباد ہونگے:

آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش

اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی

پھر دلوں کو یاد آجائے گا پیغام سجود

پھر جبیں خاک حرم سے آشنا ہو جائے گی

شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے

یہ چمن معمور ہو گا نغمہ توحید سے

                                                                                انشاء اﷲ تعالی

  "سقوط قرطبہ کے بعد اہل کلیسا نے قلب نخلستان کو صاف کر کے وہاں گرجا و قربان گاہ کھڑے کر دیے۔کلیسا کے پہلو میں فرڈی ننڈ اور الفانسو کے مدفن بنے،دائیں بائیں اور دیوار قبلہ کے ساتھ ساتھ درجنوں چھوٹے چھوٹے گرجا گھر بنا کر یسوع،ان کی والدہ اور انکے پیاروں کے سپرد کر دیے گئے۔دیوار قبلہ میں  صرف کمرہ محراب بچا۔اب اس کمرے کے سامنے آہنی زنجیر لگا دی گئی ہے۔اہل کلیسا نے محراب کو مسجد تسلیم کر لیا ہے اور اس میں جوتوں سمیت داخلے کی اجازت نہیں۔ دولت اسلامی سے سرشار عربوں نے اندلس کو دارالاسلام بنایا، دولت سیا سے سرشار عربوں نے مسجد قرطبہ کے محراب کو مسجد تسلیم کرایا۔”(اقتباس)

  اشبیلیہ:

 اندلس کا دوسرا بڑا شہر اشبیلیہ تھا۔یہ شہر صنعت و حرفت اور جہاز سازی کا مرکز تھا۔دریائے وادی کبیر کے کنارے ہونے کی وجہ سے بڑے بڑے جہازشہر تک آجاتے تھے۔آلات حرب تیار کرنے کی یہاں بہت بڑی صنعت تھی۔باشندے خوش پوش اور نفاست پسند تھے،فن تعمیر اور باغبانی میں ماہر سمجھے جاتے تھے۔مٹی کے برتن بہت خوبصورت بناتے تھے اورموسیقی کے شوقین تھے۔ اس شہر پر ساڑھے پانچ سو سال مسلمانوں کا اقتدار قائم رہا۔

 طلیطلہ:

  یہاں کی تلواریں اندلس میں بالخصوص اور دنیا میں العموم بہت مشہور تھیں۔ زعفران یہاں وسیع پیمانے پر کاشت ہوتا تھا۔آب و ہوا کی وجہ سے ایک عرصہ تک غلہ یہاں محفوظ رہ سکتا تھا۔

 بنسیہ:

باغوں کی کثرت کی وجہ سے اس شہر کو خوشبوؤں کا شہر کہا جاتا تھا۔یہاں ریشمی کپڑے تیار کیے جاتے اور روغنی اینٹیں بھی تیار کی جاتیں۔ کاغذ سازی کا بہت بڑا مرکز تھا۔یہاں کے باشندے دینداری،حسن خلق اور مہمان نوازی میں مشہور تھے۔

 مالقہ:

   یہ اندلس کی مشہور بندرگاہ تھی۔اسکے باسیوں کا پیشہ تجارت تھا۔یہاں کی شراب بہت مشہور تھی۔مسلمانوں نے اس شہر پر آٹھ سو سال حکومت کی۔ یہان کا ریشمی کپڑا،زربفت دنیا بھر میں مشہور تھا اور شیشے کے برتن نہایت مہارت سے تیار کیے جاتے تھے۔

 ان شہروں کے علاوہ کتب تاریخ میں ایسے بے شمار شہروں کا ذکر ملتا ہے جو صنعت و حرفت کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ تہذیب و ثقافت کا کی بھی آماجگاہ تھے۔ان شہروں میں المریہ(الماریہ)،بالہ،کوٹکہ،رملہ،دانیہ،اشبونہ اورلچلیوس بھی شامل ہیں۔

 سقوط غرناطہ پر آج تک فرزندان توحید کے آنسو خشک نہیں ہوئے۔تہذیب و تمدن کے اس گہوارے کو پیروان تثلیث نے اس بری طرح تاراج کیا کہ آج یہ گلستان صرف ماضی کے صفحات کی رونق بن کر رہ گیا ہے۔کتنے ہی ہنستے بستے شہر صفحہ ہستی سے مٹے،خون کی ندیاں رواں ہوئیں اور علم و آگہی کے مراکز نذر آتش ہوگئے۔مذاہب کی تبدیلی پر مجبور کیا گیا۔ہزاروں روپوں کی ادائگی پر عربی لباس پہننے کی اجازت میسر آتی اور نیا آنے والا

حکمران اس اجازت کو بھی منسوخ کر دیتا۔ظلم و جبر اورقہر و جور کی اتنی طویل داستان رقم کی گئی کہ مسلمان اہل قلم تو کیا مسیحی مورخین بھی اس سے صرف نظر نہ کر سکے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی پاکستان کے نامور کالم نگارہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close