آئینۂ عالمآج کا کالم

انٹر پول: بین الاقوامی پولیس

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

 انٹر پول،انٹر نیشنل کریمنل پولیس آرگنائزیشن‘‘ بین الاقوامی پولیس پرمبنی ایک ادارہ ہے۔اسکی تاریخ کا آغاز 1914سے ہوتا ہے جب ’’موکو‘‘میں 14ملکوں کے نمائندے ’’کانگریس آف انٹرنیشنل کیمنل پولیس‘‘کے تحت جمع ہوئے۔اس اجتماع میں کوئی بہت زیادہ پیش رفت نہ ہوسکی ،تاہم بین الاقوامی طور پر بڑھتے ہوئے جرائم پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا،یہ جرائم دراصل یورپی تہذیب کے مکروہ شعائر اور غیر فطری طرز زندگی کا انسانی ردعمل تھے،خاص طور پر جب اس تہذیب نے اپنے پنجے ناجائز طور پر استعمار اور استبداد کی صورت میں ایشیائی ممالک میں گاڑھنے شروع کر دیے تھے۔دوسروں کے گھروں میں لگائی جانے والی آگ جب اپنے گھر کی طرف بڑھنے لگی تواس سامراجی قوتوں کو اپنے داخلی دفاع کی فکر لاحق ہو گئی۔ان مقاصد کے تحت دوسرا اجتماع1923میں ’’ویانا‘‘کے اندر منعقد ہوا اور اس بار بیس ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی باقائدہ سے تنظیم سازی کر کے تو’’انٹر نیشنل کرمنل پولیس کمشن(ICPC)‘‘بنالیا۔یہ ایک تاریخ ساز پیش رفت تھی جس نے بعد میں آنے والے حالات کے لیے بنیادکاکام کیا۔’’ویانا‘‘ میں ہی اس تنظیم کا صدر دفترقائم کردیاگیااور ’’ویانا‘‘کا ہی پولیس کا سربراہ اس تنظیم کا پہلا صدر نشین مقررہوگیا۔1938تک تنظیم کام کرتی رہی لیکن جنگ کے بادل منڈلاتے ہی تنظیم کی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں اور طبل جنگ بجنے کے بعد یہ تنظیم معطل ہوکر رہ گئی۔میزبان ملک پر جرمنوں کے قبضے کے بعد فاتحین نے اس تنظیم کا ریکارڈ بھی ضبط کرکے تو برلن منتقل کر دیا۔

 دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد جب یورپ ابھی اپنے زخم چاٹ رہاتھا کہ فرانس نے اس تنظیم کے تناظر میں ایک بہت ہی قابل قدر پیشکش کر دی۔فرانس نے صدر دفتر کے لیے اپنا شہر پیرس اور ابتدائی طور پر تنظیم چلانے کے لیے اپنی پولیس کے تجربہ کار افسران بھی پیش کر دیے۔اس طرح آئی سی پی سی کی تاسیس نوہوئی اور گزشتہ ریکارڈ نہ ہونے کے باعث اسکے جملہ قوائد و ضوابط بھی نئے سرے سے تشکیل دینے پڑے۔1949میں اقوام متحدہ جیسے ادارے نے بھی اسے اپنی متصلہ تنظیم کی حیثیت دے دی جو کہ اس تنظیم کی عالمی افق پر بہت بڑی کامیابی تھی۔شاید اس تنظیم کی اس حیثیت کی وجہ سے 1955تک اس کے رکن ممالک کی تعداد19سے 55تک بڑھ گئی اور اس طرح پہلے سے تین گنازائد ممالک کا ساتھ واعتماد وتعاون اس تنظیم ’’انٹر نیشنل کرمنل پولیس کمشن(ICPC)‘‘کو حاصل ہوگیا۔1956ء مین اس تنظیم کے دستور پر نظر ثانی کی گئی اور بہت سے اضافے کیے گئے اور بہت سی شقوں کو حذف بھی کر دیاگیا اورایک طرح سے نیا دستور بناکر اس تنظیم کا نیانام منظور کیاگیا جو کہ اب دنیا میں ’’انٹر نیشنل کریمنل پولیس آرگنائزیشن INTERPOL‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔

1989ء میں انٹرپول کاصدر دفتر پیرس سے ’’لیون‘‘ میں منتقل کردیاگیا۔انٹرپول ابتدامیں ایک یورپی یورپی تنظیم تھی اور اسے اقوام متحدہ کا جزوی تعاون حاصل تھا لیکن اس کا دائرہ بڑھتاگیااورگزشتہ صدی میں اسی کی دہائی کے دوران اس کے رکن ممالک کی تعداد 125تک پہنچ گئی اور اکیسویں صدی کے آغاز تک اس تنظیم میں شامل ممالک کی تعداد180سے تجاوز کررہی تھی۔اس طرح دنیاکے تمام ممالک جوآزادانہ خارجہ پالیسی رکھتے ہیں وہ اس تنظیم کے رکن بن چکے ہیں ۔

 انٹرپول اپنے رکن ممالک کی پولیس کے درمیان جرائم کی بیخ کنی کے لیے تعاون بڑھانے کا ذمہ دار ہے۔اس طرح انٹرپول کے دو مقاصد واضع ہوتے ہیں کہ رکن ممالک کے اندر داخلی انتشار میں بیرونی مداخلت کے ذمہ داروں کو متعلقہ پولیس کے حوالے کرنا اور بین الاقوامی جرائم کو روکنا۔پوری دنیامیں پولیس کے اداروں کے درمیان باہمی تعاون کی یہ واحدتنظیم ہے۔اس تنظیم کے اندر تین بڑے بڑے ادارے ہیں جن کے تحت اسکی کاروائیاں عمل میں لائی جاتی ہیں اور وہ ادارے اس تنظیم کی کارکردگی پر نظر رکھتے ہیں ،ضروری راہنمائی فراہم کرتے ہیں اور اسکے جملہ معاملات کی نگرانی بھی کرتے ہیں ۔روزبرور کی کاروائی کے لیے جنرل سیکٹریٹ ہے جو ایک جنرل سیکٹری کی نگرانی میں کام کرتا ہے ،جنرل سیکرٹری پانچ سال کی مدت کے لیے تعینات کیاجاتا ہے۔دوسرابڑا ادارہ جنرل اسمبلی ہے ،جس میں ہر رکن ملک کانمائندہ موجود ہوتاہے،جنرل سیکریٹری کی تقرری یہی ادارہ کرتاہے۔

جنرل اسمبلی انٹرپول کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ بااختیار ادارہ ہے،بڑے اقدامات اوربڑے بڑے فیصلے اور یہیں پر کیے جاتے ہیں جنرل اسمبلی میں قرارداد پیش کی جاتی ہے اور کثرت رائے یا اتفاق رائے سے منظور یا مسترد کر دی جاتی ہے۔انٹرپول کی ایک ’’ایگزیکٹوکمیٹی‘‘بھی ہے جو تیرہ اراکین پر مشتمل ہے۔انٹرپول کے تحت دنیاکو تیرہ بڑے بڑے حصوں میں تقسیم کردیاگیاہے،اس کمیٹی میں ہر حصے کی نمائندگی موجود ہوتی ہے اور کم از کم ایک نمائندہ اپنے حصے کی نمائندگی کرتاہے،جنرل اسمبلی اپنے سالانہ اجلاس میں ان تیرہ نمائدوں کی منظوری دیتی ہے۔جنرل اسمبلی کااجلاس تو سال بھرمیں ایک بار ہی ہوتا ہے لیکن ایگزیکٹوکمیٹی ساراسال اجتماعات منعقد کرتی رہتی ہے اورجنرل اسمبلی میں ہونے والے فیصلوں کونافذ کرنے کے لیے جنرل سیکٹریٹ کو ہدایات جاری کرتی ہے اور پھر اسکی نگرانی بھی کرتی ہے اور کسی کمی بیشی کی صورت میں اسکا تدارک بھی اسی کمیٹی کی ذمہ داری ہے یہاں تک کہ جنرل اسمبلی کے اگلے سال کے اجلاس کا وقت آن پہنچتاہے۔

 ہر رکن ملک پابند ہے کہ وہ اپنے ملک میں ’’نیشنل سنٹرل بیوروNCB‘‘قائم کرے،یہ مقامی ادارہ انٹرپول سے اور انٹرپول کے دیگر رکن ممالک سے رابطے میں رہتاہے۔انٹرپول نے ،باہمی رابطوں ،معلومات کے حصول اور انکے ذخیرہ لے لیے اپناایک الگ سے مکمل نظام ترتیب دیاہواہے۔ہرسال انٹرپول کا عملہ ہزاروں نہیں لاکھوں کی تعداد میں معلومات وصول کرتاہے اور انہیں کارآمد بنانے کے لیے کئی درجوں میں تقسیم کرتا ہے۔حصول معلومات کے لیے انٹرپول کے کچھ خفیہ کارندے بھی دنیابھر میں سرگرم رہتے ہیں ۔انٹرپول کا نظام دنیاکی چار بڑی بڑی زبانوں انگریزی،فرانسیسی،اسپینش اور عربی میں کام کرتاہے۔1992سے متعلقہ تمام مواد کواس طرح کمپیوٹر میں ترتیب دے دیاگیاہے کہ کسی بھی جزو تک رسائی کرنا بہت سرعت کے ساتھ ممکن ہوجاتاہے۔

  2003میں اس نظام میں مزید جدیدترین تبدیلیاں کر کے تو اسے اور موثر کردیاگیاہے اور اب یہ مواد ان چار میں سے جس زبان میں چاہیں حاصل کیاجاسکتاہے۔اس مواد میں  مجرموں کے انگلیوں کے نقوش،ڈی این اے ٹسٹ کے نتائج،دیگر جملہ معلومات،چوری شدہ مواد کی تفصیلات اور جرائم کے اوقات،جائے وقوعہ وغیرہ شامل ہوتے ہیں ۔گیارہ ستمبر امریکہ میں حملوں کے واقعات کے بعد انٹرپول میں کے نظام میں بھی معمولی سی تبدیلیاں کی گئیں اور 2001سے سمندرپار کے ملکوں کے لیے پولیس ڈائکٹرزکی اضافی تقرریاں عمل میں لائی گئیں تاکہ دہشت گردی پر خاطر خواہ قابو پایاجاسکے،جبکہ لاکھوں لوگوں کے مار دیے جانے کے باوجود ابھی تک ’’دہشت گردی‘‘کی تعریف ہی نہیں جاسکی جو کہ ہنوزاقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے ۔

’’انٹرپول ‘‘رکن ممالک کے داخلی قوانین کا احترام کرتا ہے اور مجرموں کی گرفتاری کے لیے براہ راست اپنے کارندے متعلقہ ملکوں میں روانہ نہیں کرتا کیونکہ اس طرح ممالک کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت سے انکی قومی خودمختاری متاثر ہوتی ہے ،جس کی کہ انٹرپول کے قوانین میں اجازت نہیں ہے۔اس کی بجائے متاثرہ ملک کی درخواست پر انٹرپول ’’ریڈنوٹس‘‘دوسرے متعلقہ ملک کو ارسال کردیتاہے جہاں پہلے ملک کا مطلوب ملزم روپوش ہوتاہے۔اسی طرح ’’ییلونوٹس‘‘گم شدہ افراد کی تلاش میں معاونت کے لیے جاری کیاجاتاہے،’’بلیونوٹس‘‘شناخت پریڈ کے لیے اورغیرقانونی محرکات کی پہچان کے لیے ،’’بلیک نوٹس‘‘مطلوبہ افراد کی حوالگی کے لیے ، ’’گرین نوٹس‘‘ملکی ایجنسیوں کو خبردار کرنے کے لیے کہ وہ کسی دوسرے رکن ملک کے خلاف ناپسندیدہ سرگرمیاں ترک کردیں اور ’’اورینج نوٹس‘‘قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بم دھماکے وغیرہ کی اطلاع کے لیے جاری کیے جاتے ہیں ۔انکوائری،گرفتاری اورتفتیش سب ہی متعلقہ ملک خود ہی کرتا ہے اسکے بعد اگر دونوں ملکوں کے درمیان مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ ہو تو یہ عمل بھی دہرایاجاتا ہے بصورت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کاروائی کر لی جاتی ہے۔

 انٹرپول پوری دنیا کی پولیس ہونے کا دعوی کرتا ہے لیکن اس کی دفتری زبانوں میں صرف عربی ایک ایسی زبان ہے جو غیریورپی علاقے سے تعلق رکھتی ہے اور اسکی وجہ بھی بآسانی سمجھ آ سکتی ہے کہ عرب حکمرانوں سے رقم اینٹھنے کے لیے اورامت مسلمہ کے خلاف انہیں اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے خوش کرنا مقصود ہے۔اپنی اقوام کے لیے یہ ادارہ کل وسائل واختیارات بروئے عمل لاتا ہے. لیکن افریقہ اور ایشیا سمیت یورپ کے علاوہ پوری دنیامیں دو ٹانگوں پر چلنے والے انہیں انسان نظر نہیں آتے بلکہ وہ انہیں ایسا جانور گردانتے ہیں جن کے حقوق ان کے کتوں اور بلیوں سے بھی کہیں کم ہیں ۔کل انسانیت کے لیے انٹرپول کاکیاکردارہے؟؟یہ سوالیہ نشان یورپ کے ماتھے پر ہمیشہ کلنک کاداغ بنارہے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

ڈاکٹر ساجد خاکوانی پاکستان کے نامور کالم نگارہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Back to top button
Close